September 08, 2015

اسلام آباد: ملک کی اعلی سول اور عسکری قیادت نےدینی مدارس کے نمائندوں سے ہونے والی ایک غیر معمولی ملاقات میں واضح کر دیا کہ حکومت ہر قیمت پرمدارس کی رجسٹریشن اور ان کے کام کرنے کے طریقے کو شفاف بنائے گی۔

پیر ہونے والے اجلاس میں موجود شرکا نے بتایا کہ وزیر اعظم نواز شریف اور آرمی چیف جنرل راحیل شریف تنظیم اتحادالمدارس کے وفد کے جائز خدشات سننے پر آمادہ نظر آئے۔تاہم، دونوں رہنماؤں نے انتہائی واضح الفاظ میں اجلاس کے شرکا کو بتایا کہ کسی قسم کی شدت پسندی یا دہشت گردی سے متعلقہ سرگرمیوں میں ملوث پائے جانے والے مدرسے کو ہرگز چھوڑا نہیں جائے گا۔
اس سے پہلے نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کے ذمہ دار وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے تنظیم اتحادالمدارس کے وفد کے ساتھ دو گھنٹے علیحدہ نشست کی، جس کے بعد مزید دو گھنٹے جاری رہنے والے دوسرے اجلاس میں نواز شریف اور آرمی سربراہ نے وفد سے گفتگو کی۔مدرسوں کی رجسٹریشن میں انتہائی فعال کردار ادا کرنے والے ایک سینئر سرکاری عہدے دار نے کہا کہ دونوں ملاقاتوں میں وزیر داخلہ، وزیر اعظم اور آرمی چیف نے انتہائی تفصیل سے واضح کیا کہ حکومت نے دہشت گردوں سے مبینہ تعلق رکھنے والے تمام مدرسوں کے خلاف بلا امتیاز آپریشن شروع کر دیا ہے۔

سرکاری افسر نے مزید بتایا کہ ایک موقع پر وزیر اعظم نے شرکا کو بتایا کہ اگر کسی کو لگتا ہے کہ حکومت پنجاب میں مدرسوں پر سختی نہیں کرے گی تو وہ بالکل غلط سوچ رہے ہیں۔اجلاس میں شریک ایک عالم صاحب زادہ عبدالمصطفی ہزاوری نے ڈان سے گفتگو میں کہاکہ ان کی تنظیم کو رجسٹریشن اور مدرسوں پر جاری ’غیر محتاط‘ چھاپوں پر تحفظات ہیں۔انہوں نے بتایا کہ وزیر اعظم اور آرمی چیف نے انہیں یقین دلایا ہے کہ مستقبل میں ایسے چھاپے نہیں مارے جائیں گے۔تاہم، ’جنرل راحیل نے دو ٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ قومی ایکشن پلان کی خلاف ورزی کے مرتکب مدارس اور ان کی انتظامیہ کو نتائج بھگتا ہوں گے‘۔

ہزاوری کے مطابق اجلاس میں شرکا کو بتایا گیا کہ صوبائی حکومتیں از خود یہ چھاپے مار رہی ہیں۔ ’ہمیں یقین دلایا گیا ہے کہ مستقبل میں اگر کسی مدرسے پر چھاپے کی ضرورت محسوس ہوئی تو وفاقی حکومت ایک کوآرڈینیٹر کا کردار ادا کرے گی‘۔اجلاس کے ایک اور شریک ڈاکٹر سید محمد نجفی نے کہا کہ جنرل پرویز مشرف اور پی پی پی حکومتوں کے برعکس، اس مرتبہ عسکری اور سول قیادت مدرسوں کی رجسٹریشن کو لے کر بہت سنجیدہ ہے۔انہوں نے بتایا کہ حکومت کا تیار کردہ پہلا سوالنامہ بہت پیچیدہ تھا اور اس میں کئی غیر مطلقہ سوالات تھے۔ ’ہماری شکایات کے جواب میں حکومت مفتی منیب الرحمان کی سربراہی میں رجسٹریشن کا عمل دوبارہ ڈیزائن کرنے پر آماد ہ ہو گئی‘۔