Tags » Malala » Page 2

Top ten Tuesday : Books I own but haven't read (and yes! I want to read them)

This is an original feature/ weekly meme created by The Broke and the Bookish , each week a new top ten list is posted and anyone can join. 308 more words

Book

ملالہ کیلئے نوبل امن انعام اور سوشل میڈیا

ملالہ کیلئے نوبل امن انعام اور سوشل میڈیا

  Posted On Friday, December 12, 2014   …..جویریہ صدیق…….
پاکستان کی بیٹی ملالہ یوسفزئی کو اوسلو میں امن کے نوبل انعام سے نواز اگیا۔ملالہ اب تک کی نوبل انعام کی تاریخ میں سب سے کم عمر ترین شخصیت ہیں ، جسے اس ایوارڈ سے نوازا گیا۔ملالہ نے امن کا نوبل انعام بھارت کے کیلاش ستیارتھی کے ساتھ مشترکہ طور پر وصول کیا۔پاکستان کی بیٹی باوقار لباس میں ملبوس اسٹیج پر آئی اور اعتماد کے ساتھ اپنا ایوارڈ وصول کیا۔جس وقت ملالہ کی آپ بیتی سنائی جارہی تھی ،اس وقت ملالہ کی آنکھیں پرنم تھیں۔نوبل انعام کی تقریب میں پاکستانی ثقافت کا رنگ نمایا ں تھا راحت فتح علی خان نے صوفیانہ کلام اللہ ہو پیش کرکے سماں باندھ دیا۔پشتو گلوکارسردار علی ٹکر نے بی بی شیرینی گا کر حاضرین کو مسحور کردیا۔ملالہ جس کی وقت تقریر کے لیے اسٹیج پر آئیں تو یہ ایک تاریخی لمحہ تھا کہ پاکستان کی سترہ سالہ لڑکی تعلیم سے اپنی محبت کی بنا پر نوبل انعام کی حقدار ٹھہری۔ملالہ نے اپنی تقریر میں کہا کہ ان کے والد کا شکریہ جنہوں نے ان کے پر نہیں کاٹے بلکے انہیں اڑنے کی آزادی دی۔ملالہ نے کہا میری خواہش ہے دنیا میں ہر بچہ تعلیم حاصل کرے انہوں نے کہا کہ ایسا کیوں ہے کہ بندوقیں بانٹنا آسان ہے اور کتابیں بانٹنا مشکل،ٹینک بنانا آسان ہے اور اسکول بنانا مشکل۔ انہوں نے کہا کہ ہم سب کو بچوں کے لیے مل کر جدوجہد کرنا ہوگی اور ہر بچے کو تعلیم ملنا اسکا بنیادی حق ہے۔ملالہ نے مزید کہا کہ وہ ہر بچی کی آواز ہیں ان چھ کروڑساتھ لاکھ لڑکیوں کی جو تعلیم نا حاصل کرسکی ۔ملالہ کا بولا ایک ایک لفظ عالمی دنیا سمیت پاکستانیوں نے پوری توجہ سے سنا اور سوشل میڈیا پر ملالہ یوسفزئی ٹرینڈ بن گیا جو چوبیس گھنٹے تک ٹویٹرپر سب سے اوپررہا۔ 29 more words

Pakistan

ملالہ کیلئے نوبل انعام اور سوشل میڈیا

ملالہ کیلئے نوبل انعام اور سوشل میڈیا

Posted On Monday, October 13, 2014  

……..جویریہ صدیق……..
ملالہ یوسف زئی خواتین اور بچیوں کو علم کے اجالے میں لا کر معاشرے کا فعال رکن بنانے کے نظریے کا نام ہے۔ گل مکئی نے اس وقت تعلیم کا نعرہ بلند کیا جب سوات طالبان کے قبضے میں تھا جو بندوق کے زور پر سب کو غلام بنانے کے خواہاں تھے۔ ان کے نزدیک بچیوں کی تعلیم جرم تھی لیکن ملالہ نے ان حالات میں بھی اپنے تعلیمی سلسلے کو جاری رکھا، ساتھ ساتھ بی بی سی کے ویب سائٹ پر ڈائری لکھ کر طالبان کو دنیا کے سامنے بے نقاب کردیا۔ سوات میں فوجی آپریشن کے بعد حالات قدرے پر امن ہوگئے اور ملالہ اس کی سہیلیوں نے دوبارہ اطمینان سے سلسلۂ تعلیم شروع کردیالیکن کسی کے یہ گمان میں بھی نہ تھا کہ نوعمر ملالہ جس کا مشن صرف تعلیم ہے طالبان کی آنکھوں میں اس قدر کھٹک رہی تھی کہ 9 اکتوبر 2012ءکو 15سالہ ملالہ کو اسکول وین میں گولی ماردی ۔ ملالہ کو فوری طور پر راولپنڈی منتقل کیا گیا لیکن وہ مسلسل بے ہوش رہی تاہم پاکستانی ڈاکٹرز کی سر توڑ کوششوں اورخوش قسمتی سے اللہ نے ملالہ کو دوسری زندگی عطا کی۔ مزید علاج اور سرجری کی غرض سےملالہ کو برطانیہ بھیج دیا گیا۔ مکمل علاج کے بعد ملالہ نے تعلیمی سرگرمیوں کا سلسلہ شروع کیا، اب وہ برطانیہ میں ہی زیر تعلیم ہے۔ اس بچی کی بہادری اور تعلیم سے محبت نے دنیا بھر میں یہ بات ثابت کردی کے پاکستانی بچیاں بھی کسی سے کم نہیں۔ ملالہ نے اپنی تعلیم کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر بچیوں کی تعلیم کے حوالے سے جدوجہد کا آغاز کردیا۔ ملالہ کو 2011ءمیں عالمی اطفال امن ایوارڈ دیا گیا۔ پاکستانی حکومت کی طرف سےستارۂ جرأت 2011ء،سو عالمی مفکرین میں نام 2012ء،ٹائم میگزین پرسن آف دی ائیر 2012ء،مدر ٹریسا میموریل ایوارڈ،گلوبل لیڈر شپ ایوارڈ 2013ء،سو اثرانداز ہونے والے افراد میں نام، پورٹریٹ آف یوسف زئی سمیت دیگر 35ایوارڈ شامل ہیں جو ملالہ یوسف زئی کو مل چکے ہیں۔ اس کے ساتھ ایک اور اعزاز جو ملالہ کے نام ہوا وہ ہے جولائی میں اقوام متحدہ دنیا بھر میں ملالہ ڈے مناتی ہے۔ پاکستان میں اس وقت خوشی کی لہر دوڑ گی جب 17سالہ ملالہ کو نوبل انعام برائے امن ملنے کی خبر آئی۔ملالہ دوسری پاکستانی ہیں جن کو نوبل انعام ملا اس پہلے ڈاکٹر عبدالسلام کو فزکس میں انعام مل چکا ہے تاہم امن میں یہ انعام پہلی بار کسی پاکستانی کو ملا ہے۔ یہ انعام ملالہ اور بھارتی سماجی کارکن کیلاش ستیارتھی کو مشترکہ طور پر ملا ہے۔ ملالہ یوسف زئی کو نوبل انعام برائے امن ملنے کی خبر نشر ہونے کےبعد سے اب تک سوشل میڈیا سب سے زیر بحث موضوع یہ ہی رہا ہے۔ 27 more words

Pakistan

The YA Review: Malala

Bruno Sanchez-Andrade Nuño

The epic trials and tribulations of Malala Yousafzai are quite rightly well-known around the world. Her battle for the rights of women everywhere to have an education is inspiring to everyone though most particularly, I reckon, to young women like her who can perhaps even more readily imagine themselves in her shoes. 499 more words

Young Adult FIction

Mothers, Girls & Heroes

I lie here in my Sunday smile

remembering yesteryears

meals, ornery children

singing what it means to be a mother

to have had one

feeling days and days and days go by… 314 more words

Creatures

1st Thursday [4]: I am Malala -- The Story of Malala Yousafzai

« My book blog for May begins with a call to lend a hand to the people of Nepal, if you can, through a trustworthy organization giving relief to those in critical need at this time. 1,449 more words

Books