Tags » Malik Riaz

بحریہ ٹاؤن کے خلاف تحقیقات کا باقاعدہ آغاز

پاکستان کے قومی احتساب بیورو (نیب) نے کراچی، لاہور اور راولپنڈی میں بحریہ ٹاؤن کے منصوبوں کے خلاف باقاعدہ تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ نیب کی جانب سے جاری کیے جانے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ تحقیقات ادارے کے چیئرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال کے احکامات پر شروع کی گئی ہیں۔ بیان کے مطابق چیئرمین نیب نے متعلقہ ڈائریکٹر جنرلز کو ہدایات دی ہیں کہ وہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں بحریہ ٹاؤن کے خلاف تفتیش کو تین ماہ میں قانون کے مطابق منطقی انجام تک پہنچائیں۔

بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ چیئرمین نیب نے یہ ہدایت بھی کی ہے کہ عدالتی فیصلے پر من و عن عمل کیا جائے اور اس سلسلے میں کوئی کوتاہی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔ خیال رہے کہ چار مئی کو سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے اپنے اکثریتی فیصلے میں کراچی میں بحریہ ٹاؤن کی اراضی سے متعلق درخواستوں پر فیصلہ سناتے ہوئے بحریہ ٹاؤن کو سرکاری زمین کی الاٹمنٹ کو غیر قانونی قرار دے دیا تھا۔

عدالت نے اپنے اس فیصلے میں معاملہ نیب کو بھیجنے اور تین ماہ میں تحقیقات مکمل کر کے ذمہ داران کے خلاف ریفرنسز دائر کرنے کا حکم دیا تھا۔ عدالت نے بحریہ ٹاؤن کراچی میں رہائشی، کمرشل پلاٹوں اور عمارتوں کی فروخت کا عمل بھی روکنے کا حکم دیا تھا۔ سپریم کورٹ کی جانب سے فیصلے میں ملیر ڈیویلپمنٹ اتھارٹی کی زمین کی غیر قانونی الاٹمنٹ کی تحقیقات کا بھی حکم دیا گیا تھا۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ بھی کہا تھا کہ بحریہ ٹاؤن کے ساتھ زمین کا تبادلہ قانوناً ممکن ہے لیکن تبادلے کی شرائط اور قیمت کا تعین عدالت کا عمل درآمد بینچ کرے گا۔

Pakistan

کیا عدالت کا بحریہ ٹاؤن کے خلاف فیصلہ تاریخ ساز ہے؟

زمین کی زبردست لوٹ مار کا معاملہ، کسی حد تک ملک کی سب سے بڑی عدالت میں ظاہر کیا گیا ہے۔ سپریم کورٹ کی 3 رکنی بینچ نے الگ الگ فیصلے سنائے، اکثیریتی فیصلے کے مطابق ریئل اسٹیٹ ڈیولپرز میں بڑا نام رکھنے والے بحریہ ٹاؤن نے غیرقانونی طور پر زمینیں حاصل کیں اور فیصلے میں اُن کی منتقلیوں کو کالعدم قرار دیا گیا ہے۔ بحریہ ٹاؤن کراچی کے کیس پر عدالتی فیصلے کے مطابق ’پلاٹ، عمارت، اپارٹمنٹ وغیرہ‘ کی خرید و فروخت پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ریئل اسٹیٹ کی یہ زبردست اسکیم اب تک 30 ہزار ایکڑ تک پھیلی ہے۔ ایک دوسرے فیصلے میں عدالت نے بحریہ ٹاؤن اور محکمہ جنگلات کے درمیان ہونے والی ڈیل کو غیر قانونی ٹھہرایا، جس کے نتیجے میں اسلام آباد کی تقریباً 2 ہزار کنال جنگل کی زمین پر قبضہ کیا گیا۔ اسی طرح، عدالت عالیہ کے فیصلے کے مطابق نیو مری ڈیولپمنٹ اسکیم کے لیے حاصل کی گئی زمین کو قانون کے منافی بتایا گیا۔

اس فیصلے میں ان سرکاری محکموں کی سرزنش کی گئی ہے جن محکموں نے خاموشی کے ساتھ بحریہ کو بڑے بڑے فوائد دیکھ کر سرکاری زمین کو تھوک کے حساب سے ناجائز طور پر فراہم کرنے میں سہولت فراہم کی۔ بحریہ ٹاؤن کراچی کیس میں، ملیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے کردار کی مذمت کی گئی اور کہا گیا کہ ’ریاست اور عوام کے اعتماد کو انتہائی ٹھیس پہنچایا‘ جبکہ حکومت سندھ کو اس سب میں ’مددگار‘ قرار دیا۔ منافع بخش بحریہ کو کم قیمت والی ہاؤسنگ اسکیم کی قیمت کے برابر جس قدر کم ترین داموں میں سرکاری زمین فروخت کی گئی ہے اسے دیکھ کر اسکینڈل میں شامل افراد کی رشوت خوری کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔

دوسری طرف بحریہ ٹاؤن کراچی کیس میں جن کئی اہم نکات پر بات کی گئی ہے، ان میں سے چند تشویش کا باعث ہیں۔ اربوں روپے کے اس تعمیراتی منصوبے نے اس زمین پر واقع چھوٹے چھوٹے گاؤں میں نسلوں سے آباد لوگوں کی زندگی عذاب کر دی ہے۔ اس ظلم میں شریک اسٹیبلشمنٹ، سیاسی اشرافیہ اور سرکاری افسران میں شامل بااثر افراد نے پہلے سے دیوار سے لگے حقیقی رہائیشیوں کو ان کی جگہوں سے جبری طور پر ہٹانے کے لیے اپنے ریاستی جابرانہ اختیارات کو استعمال کیا۔

تاہم مقامی لوگوں کے ساتھ ہونے والی اس ناانصافی میں شامل افراد کے خلاف کارروائی کے لیے نیب کو حکم تو دیا گیا ہے، مگر اس کے ساتھ فیصلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ، بحریہ ٹاؤن کراچی میں پیدا ہونے والے تھرڈ پارٹی انٹرسٹ کو تسلیم کرتے ہوئے، کوئی ایسا راستہ نکالا جائے جس سے سرمایہ کاری کرنے والوں کا تحفظ ممکن ہو سکے۔ اس طرح غیر قانونی طریقوں پر محیط منصوبے کو قانونی صورت مل جائے گی۔ یہ سوال بھی کیا جا سکتا ہے کہ اگر یہ اقدام پہلے سے طے کر دیا گیا تو ان مقامی رہائشیوں کو کیا ریلیف ملے گا جن کا زمین پر پہلا حق ہے؟ اس کے علاوہ اس معاملے پر نیب کا خراب ٹریک ریکارڈ بھی تشویش کا باعث ہے، مگر اس کے باوجود ایک بار پھر اس معاملے پر تحقیقات کا کام اسی ادارے کو سونپا گیا ہے۔ آخری لیکن اہم، اس پورے معاملے پر میڈیا کے کردار کی بات ہے، جنہوں نے اپنا فرض نبھانے اور عوامی مفاد کا محافظ بننے کے بجائے ملک کے زیادہ تر میڈیا ادارے ایک بزنس ٹائیکون کی دشمنی سے بچنے کے لیے اس پورے معاملے پر خاموش تماشائی بنے رہے۔ انہوں نے بھی عملی طور پر عوامی اعتماد کو ٹھیس پہنچائی ہے۔

یہ اداریہ 6 مئی 2018ء کو ڈان اخبار میں شائع ہوا۔

Pakistan

بحریہ ٹاؤن کو فراہم کی گئی زمینوں کی خرید وفروخت کالعدم

پاکستان کی عدالت عظمیٰ نے نجی ہاؤسنگ اسکیموں کے ایک بڑے ادارے ‘بحریہ ٹاؤن’ کے خلاف زمینوں کی خرید وفروخت سے متعلق تین مختلف مقدمات کا فیصلہ سناتے ہوئے ادارے کی طرف سے زمینوں کی خرید وفروخت کو کالعدم قرار دے دیا ہے۔ جسٹس اعجاز افضل خان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے ان مقدمات کا فیصلے جاری کیے۔ عدالت عظمیٰ نے ادارے کو بحریہ ٹاؤن کراچی منصوبے میں زمینوں کی فروخت یا الاٹمنٹ سے اس بنا پر روک دیا کہ یہ زمین سندھ حکومت سے غیر قانونی طریقے سے حاصل کی گئی تھی۔

فیصلے میں کہا گیا کہ “سرکاری زمین حکومت کے پاس واپس جائے گی اور جس زمین کے بدلے بحریہ ٹاؤن کو یہ زمین دی گئی تھی وہ بحریہ ٹاؤن کو واپس کی جائے۔” جن لوگوں کو بحریہ ٹاؤن پہلے ہی یہاں زمین فروخت کر چکا ہے اس بابت عدالت عظمیٰ کے فیصلے میں کہا گیا کہ چونکہ یہاں بحریہ ٹاؤن کی طرف سے قابل ذکر ترقیاتی کام کیا جا چکا ہے اور سیکڑوں لگوں کو الاٹمنٹ ہو چکی ہے لہذا یہ ادارے کو فراہم کرنے کے لیے بورڈ آف ریونیو قانون کے مطابق نئے سرے سے اجازت دے۔ بینچ نے اس مقصد کے لیے چیف جسٹس آف پاکستان سے درخواست کی کہ وہ ایک بینچ تشکیل دے کر اس فیصلے کے نفاذ کو یقینی بنائیں۔
مزید برآں احتساب کے قومی ادارے “نیب” کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اس معاملے میں ملوث افراد کے خلاف چھان بین کر کے کارروائی کرے۔

بینچ نے فیصلے میں کہا کہ عدالت کو یہ بھی بتایا گیا کہ سرکاری اراضی ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی سمیت مختلف ہاؤسنگ سوسائیٹیوں کو بحریہ ٹاؤن کی نسبت زیادہ کم نرخ پر فروخت کی گئیں، لہذا اگر یہ درست ہے “تو ہم چیف جسٹس سے درخواست کرتے ہیں کہ اس کا از خود نوٹس لیا جائے۔” اسی طرح بحریہ ٹاؤن کو اسلام آباد کے قریب واقع ایک علاقے میں محکمہ جنگلات کی زمین پر تجاوزات کا ذمہ دار بھی قرار دیا گیا اور عدالت عظمیٰ کے بینچ نے زمین کے اس تبادلے کو غیرقانونی قرار دے دیا۔ اس معاملے میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ بحریہ ٹاؤن نے اپنی ملکیت میں موجود 765 کنال اراضی محکمہ جنگلات کو دی تھی اور محکمے کی ایک ہزار کنال سے زائد زمین حاصل کی تھی۔ بینچ نے محکمہ جنگلات، محکمہ محصولات اور سروے آف پاکستان کو علاقے کی از سر نو حد بندی کرنے کا حکم بھی دیا۔ بینچ نے ایک تیسرے مقدمے میں نیو مری ڈویلپمنٹ پراجیکٹ پر بھی کام بند کرنے کا حکم دیا۔ اس منصوبے سے پر ماحولیات کے تحفظ کے لیے کام کرنے والوں کی طرف سے بھی کڑی تنقید دیکھنے میں آ چکی ہے۔

بشکریہ وائس آف امریکہ

Pakistan

Gwadar Golf City Project Revealed

Gwadar Golf City CEO & Grandson of Malik Riaz held a mega event for media to reveal their project in Gwadar. The event was organized at DHA Golf Club, where senior personalities from media, Real Estate, and Business Community were invited. 153 more words

Mubasher Lucman - 2nd most influential person according to Brands Magazine

I started following Mubasher Lucman when I was in my first year, back in 2013. He did this show on the academic syllabus of private schools and after following the whole case, I became one of the fans of Mubasher Lucman. 322 more words

Top 6 Pakistani companies

Here are some of top Pakistani companies :

Dawood Group: A Company founded in early 20th century .Hussian Dawood founded the firm which now is one of the most diversified  Companies in Pakistan they own from Computer business to Food companies like Gourmet Bakers which is considered as one of the best food baker in Pakistan and Market leader in lahore Pakistan. 414 more words

Pakistan