Tags » Ming Dynasty

Ancient Wonders: The Great Wall of China

Three years ago, I visited Beijing and by far the best thing I did there was visit the Great Wall of China. The scale of the Wall and the amount of time it has lasted, as well as the huge number of visitors it attracts every year are all reasons that I decided this should be the next place in my Ancient Wonders series. 1,449 more words

景山思思宗

穿過端門,前面就是午門。我們常看電視劇聽到的午門斬首,就是指這個地方了。事實上,午門是皇宮的正門,不少節慶、儀式都會用到這道門,所以對皇宮極之重要,皇帝怎可能會在如此重要的地方作為斬頭的刑場呢? 一切其實都只是民間傳說罷了。

進入午門要門票,我們到了端門旁邊的售票處排隊。「故宮博物院要用實名登記售票。」

「幹!!!門票也要證件? 我的回鄉證在家呢…」我不禁抓狂了。「其他的門票不是也不需要證件的嗎?」馬上回家拿證件再出來似乎也已經太晚了。

這一天似乎和故宮緣慳一面,心情有點失落的。

我們逼於無奈,也只得從旁邊的城門到城牆外,沿城牆繼續走到紫禁城的後方。

紫禁城後面是景山公園。景山山腰有五個亭,最高的是壽皇殿,皇帝每年也會上山到此求長壽。從壽皇殿外,可以飽覽故宮宏圍的景色,是欣賞故宮的另一絕佳地點。

我對景山全無認識,這個地方看來似乎只是一個小小的皇家後花園。穿過門口的售票亭後(門票只是兩元人民幣!!!),就有一個公園簡介。「夏曆三月十九日凌晨,崇禎皇帝登上景山,見大勢已去,在景山自縊。」我心道:「以前只聽崇禎煤山吊頸,原來煤山就是景山。」真想不到這座小山也充滿歷史。崇禎皇帝走到煤山上吊,寫下「勿傷我百姓一人。」

說起崇禎,似乎都大家都只道是亡國的昏君,而我對他的第一個印象來是金庸的<碧血劍>: 崇禎接過阿九手中那柄金蛇劍,慘然道:「孩兒, 你為什麼生在我家裡…」手起劍落,斬去阿九左臂。當然這是史實夾雜小說橋斷,但小說中描述崇禎性格上的剛愎自用,用人猜疑確是不假。

以小說評論一人,自是有欠公道,我其後再看點歷史文章,崇禎似乎又不如早幾代皇帝昏庸。他上任後,也算是勤於政事,生活節儉,又不近女色,若他不是生於內有李自成,外有滿清的局面,他還算是一個不錯的皇帝,而他性格上的的剛愎自用和猜忌心,也不會如此表露無遺。

記得中學讀到明朝滅亡時,課本中印有崇禎御筆大書:「九思」二字,但史實的他似乎一思也沒有。但或許因為他寫的「九思」,崇禎死後諡號為思宗,人們多怪他生不逢時,偏偏就在這外憂內患的時代當皇帝。

看過<碧血劍>和小說之後<袁崇煥評傳>的讀者,想必對崇禎皇帝痛恨得咬牙切齒,當時袁督師和一眾廣東同鄉一邊大喊:「屌那媽」,一邊力抗滿清入侵,最後因崇禎的猜疑和兩人之間性格的衝突處以凌遲(凌遲該算是中國古代最殘酷的刑罰了),罪名是私通外敵。袁崇煥還未行刑,忿怒的百姓一擁而上,吃他的肉,飲他的血,他付出一生守護國土,卻被國民生吞活剝,死無全屍。

那是一個充滿悲劇的年代,人民是權力鬥爭下的犧牲品。當時大家都以為農民起義的李自成可以成為救星,但他同樣成為權力之下的犧牲品,「權力使人腐化,絕對的權力使人絕對的腐化。」,今天我們同樣看到腐化的權力。

生於那個時代,人人都是一個悲劇,袁崇煥是一個悲劇,崇禎亦然。

旅行篇 -Travelling

Àodàlìyǎ, the land that never was.

To celebrate NAIDOC, I thought I would share a future story of mine. It is about an alternative world where the First Fleet didn’t happen, and now in this new empire of Àodàlìyǎ, the aboriginal people are the spiritual leaders of the nation. 693 more words

Inspiration

دیوار چین کی تعمیر : چینی قوم کی محنت کی روشن دلیل

انسانی معاشرے کی تاریخ زمانہ قبل از تاریخ سے ہی خانہ بدوش حملہ آوروں اور متمدن انسانی آبادیوں کے درمیان آویزشوں اور چپقلشوں کی کہانی ہے۔ قدیم انسانی معاشرے کی ان ابتدائی چپقلشوں کا نشان، آج دنیا کے کسی ملک میں بھی اتنا واضح نہیں ہے جتنا ہمارے ہمسایہ ملک چین میں ہے۔ عظیم دیوار چین انسانی معاشرے کی انہیں قدیم آویزشوں کی علامت ہے۔ یہ عظیم عجوبہ روزگار دیوار مہذب انسانی آبادیوں کو وحشی پن اورتاتاری خانہ بدوشوں کی یورشوں سے بچانے کے لیے تیسری صدی قبل از مسیح میں تعمیر کی گئی تھی۔ یہ شمالی چین کے پہاڑوں پر سے بل کھاتی ہوئی وسطی ایشیا کے دور دراز علاقوں تک چلی جاتی ہے۔

چین میں وحشی خانہ بدوش قبائل سے متمدن انسانی آبادیوں کی حفاظت کیلئے ایسی حفاظتی دیواروں کی تعمیر کی ابتدا چوتھی صدی قبل از مسیح میں ہوئی تھی۔ بعض مؤرخین کے نزدیک حفاظتی فصیلیں تعمیر کرنے کا آغاز چین کے شہروں کے گرد حفاظتی فصیلیں تعمیر کرنے سے ہوا۔ تیسری صدی قبل مسیح میں چین کے عظیم ہَن شہنشاہ شی ہوانگ تی نے مختلف ریاستوں میں بنے ہوئے اس ملک کو اتحاد کی رسی میں پرو کر ایک مملکت میں بدل دیا۔ 221 ق م میں اسے سارے چین کا شہنشاہ تسلیم کر لیا گیا۔ اپنی مملکت کی شمالی سرحد کو وحشی اورتاتاری خانہ بدوشوں کے متواتر حملوں سے بچانے کے لیے اس نے 215 ق م میں ایک طویل دیوار تعمیر کرنے کا حکم دیا۔ اس کام کیلئے شہنشاہ نے اپنی مملکت کے ہر تیسرے شہری کوجبری طورپر اس دیوار کی تعمیر پر لگا دیا۔

کہا جاتا ہے کہ تین لاکھ سے زائد انسانوں نے مسلسل دس سال تک اس کی تعمیر میں حصہ لیا۔ اس دیوار کے متعلق حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اس کی تعمیر پر اٹھنے والے خرچ میں شہنشاہ کے خزانے کا تمام تر روپیہ صرف ہو گیا اگرچہ یہ دیوار صرف مٹی اورپتھروں اورجبری مشقت سے تعمیر کی گئی تھی اوراس دیوار کے صرف کچھ مشرقی حصے ہی اینٹوں سے تعمیرکئے گئے تھے۔ شہنشاہ شی ہوانگ تی اس دیوار کی تعمیر اور اتحاد چین کے علاوہ تانبے کا ایک نیا سکہ جاری کرنے ، ریشم کو رواج دینے، اوزان اورپیمانوں کو ایک معیار پر لانے، ایک بڑی نہر اور کئی بڑی بڑی شاہراہیں تعمیر کرنے کے لیے بھی مشہور ہے۔ اس کے عہد میں 213 ق م میں وہ فرمان جاری کیا گیا جسے کتابوں کی آتش زنی سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اس فرمان کے ذریعے شہنشاہ نے زراعت، طب اور کہانت کے علاوہ تمام علوم کے متعلق کتابیں تلف کر دینے کا حکم دیا تھا۔ ہن خاندانی بادشاہت کے بعد چین پرتھوڑی تھوڑی مدت کیلئے کئی اور حکمران خاندان برسراقتدار آئے مگر یہ سب اپنے دیگر داخلی امور میں اتنے الجھے رہے کہ اس خاندان کے کسی حکمران نے بھی اس عظیم حفاظتی دیوار کی تعمیر و مرمت پرتوجہ نہ دی اور صدیاں گزر گئیں۔

1234ء میں چن خاندانی باشاہت کو چنگیز خان نے اقتدار سے محروم کر کے چین میں منگول خاندان کی بنیاد رکھی۔ چنگیز خان کی تاتاری افواج عظیم دیوار چین ہی کو روند کر شمالی سرحد سے چین میں داخل ہوئی تھیں۔ یہ چودہ سو سال میں پہلا واقعہ تھا جب صحرائے گوبی سے آنے والے خانہ بدوشوں نے اتنے وسیع پیمانے پرمتمدن انسانی آبادیوں پراپنا اقتدار قائم کیا۔ اس کی ایک بڑی وجہ شمالی سرحد کی حفاظتی دیوار کی شکست و ریخت بھی تھی۔ 1368ء میں منگ خاندان نے تاتاریوں کو چین سے نکال دیا اورشمالی سرحد کو پھرسے مضبوط بنایا۔ 1420ء میں اسی خاندان کے شہنشاہ ینگ لو نے عظیم دیوار چین کی دوبارہ تعمیر کا حکم دیا۔ اس نو تعمیر شدہ دیوارکی بلندی 22 فٹ سے 26 فٹ (6.7سے8میٹر) رہ جاتی ہے۔

دیوار زیادہ تر پتھروں سے تعمیر کی گئی ہے اور اس کے درمیانی خلا کو مٹی اوراینٹ روڑے سے پر کیا گیا ہے۔ جس پر پھراینٹوں کا فرش بچھایا گیا ہے دیوار کی شمالی طرف گنگرہ دار مورچے رکھے گئے ہیں اورتقریباً ً590 فٹ یا 180 میٹر کے بعد نگہبانی کے لیے ایک چوکور مینار تعمیر کیا گیا ہے جس میں وقفوں کے بعد محرابی طاقچے رکھے گئے ہیں۔ انہیں میناروں کی چھتوں پرمشاہدے کے لیے بالاخانے بھی تعمیر کیے گئے ہیں۔ اہم دروں خاص طورپر پیکنگ کے شمال میں کاروانوں کی گزر گاہوں کے قریب دیوارکی دوگنا یاسہ گنا شاخیں تعمیر کی گئی ہیں جن سے یہ مقامات وحشیوں کے حملہ سے محفوظ ہو گئے ہیں۔

اپنی تمام پیچیدگیوں کے ساتھ یہ دیوارتقریباً 4 ہزار کلومیٹر طویل ہے۔ اس کی تعمیر میں تقریباً چار کروڑ 72 لاکھ کیوبک فٹ مٹی اور تقریباً ایک کروڑ 57 لاکھ کیوبک فٹ پتھر اوراینٹیں صرف ہوئی ہیں۔ تاریخ عالم میں انسانی ہاتھوں سے تعمیر ہونے والی یہ سب سے بڑی دیوار اورسب سے بڑا تعمیراتی منصوبہ ہے۔ زمین کا یہ واحد انسانی تعمیر شدہ شاہکار ہے جسے چاند اور مریخ جیسے دور دراز کے سیاروں سے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ بنیادی طورپر دیوار چین فوجی (دفاعی) مقاصد کے لیے تعمیر کیا گیا ایک شاہکار ہے مگر اس کی تعمیر کے کئی اور بھی مقاصد ہیں جیسے پہاڑی علاقوں میں رسل و رسائل کا یہ بڑا ذریعہ ہے بہ صورت دیگران پہاڑی علاقوں میں رسل و رسائل ایک مشکل کام ہے۔ ایک شاہرہ کے طور پر اس دیوار کی کشادگی اتنی ہے کہ اس پر سے پانچ یا چھ گھڑ سوار ایک ساتھ گزر سکتے ہیں۔

فوجی انجینئرنگ کے اس عظیم شاہکار میں دیگر تعمیرات عالم میں پائے جانے والے جومالیاتی پہلو یا جمالیاتی آراستگی کا بہت کم خیال رکھا گیا ہے۔ لیکن اس کے باوجود یہ اپنے خوب صورت زمینی منظر میں بڑی بھلی معلوم دیتی ہے بلکہ ایک طرح سے ایک عظیم جمالیاتی شاہکار نظرآتی ہے۔ چینیوں کے اس خیال کی ایک زندہ مثال بھی ہے کہ انسانی ہاتھوں سے تعمیر ہونے والی ہرعمارت اس خطے کے قدرتی اصولوں کی تابع ہوتی ہے جس پر وہ تعمیر کی گئی ہے۔ شاید اسی اصول کے تابع ہونے کی وجہ سے پہاڑی چوٹیوں پربل کھاتی ہوئی یہ عظیم دیوار چین کے روایتی اژدھے کا روپ دھار لیتی ہے۔

World

Chinese Kung Fu and Confucianism are not ‘Killer Apps’

A Chinese ‘tai chi’ master was defeated by a free-combat fighter in just 10 seconds in a race held in Chengdu last week.

In my Dec 2016 article “ 424 more words

China

Zheng He and the Chinese Treasure Fleet

Explorers latest episode takes a look at the legendary Chinese Treasure Fleet – and the man who commanded the fleet, Zheng He – which sailed the waters of southern Asia in the early 15th century. 163 more words

Eating habits based on Chinese traditions

In normal Chinese customs, a basic meal consist of rice and small dishes. Instead of being served from starters, main course and desert, the dishes are normally served at one time in the table and shared by every one. 353 more words

Chinese Food