Tags » Muhammad Ali Jinnah

Relevance of Jinnah in Modern India. The AMU Controversy.

“…in the course of time Hindus would cease to be Hindus and Muslims would cease to be Muslims, not in the religious sense, because that is the personal faith of each individual, but in the political sense as citizens of the State.” 536 more words

Politics

Resurrecting ghosts is bad politics

One wonders whether Muhammad Ali Jinnah would have been disappointed or elated at a band of misguided, ultra-right Hindus, objecting to his portrait hanging in the students’ union office of the Aligarh Muslim University. 892 more words

India

AMU row: Tear down Jinnah's portrait, says Muslim Mahasangh chief; updates

The simmering discontent triggered by the demand for removing a portrait of Mohammad Ali Jinnah from a hall, has now blown up into a full-scale confrontation between Hindutva elements and the agitating students of the Aligarh Muslim University ( 211 more words

Nehru, Jinnah and Speeches

In year 1947, India was partitioned into two countries- the Hindu majority part retained the name India, while the Muslim majority part called itself, Pakistan, the land of pure. 784 more words

مسجد شہید گنج

۱۹۳۵ء کے مسجد شہید گنج کے المناک واقعے نے لاہور کی سیاسی فضا میں ایک زبردست ہیجان پیدا کر دیا اور لاہور میں فرقہ وار کشیدگی اپنی انتہا کو پہنچ گئی۔ مسجد شہید گنج مسلمانوں اور سکھوں کے درمیان ایک متنازع فیہ مسئلہ بنی ہوئی تھی۔ یہ مسجد ۱۶۵۳ء میں داراشکوہ کے خانِ ساماں عبداللہ خاں نے تعمیر کروائی تھی۔ پنجاب کے گورنر معین الملک نے سکھوں کی ایک برگزیدہ ہستی تارو سنگھ کو یہاں قتل کروا دیا تھا چنانچہ سکھوں نے اپنے عہد حکومت میں اس جگہ کو شہید گنج کا نام دے کر اسے ایک گردوارا میں تبدیل کر دیا اور معین الملک کا مقبرہ مسمار کر کے اس کی نعش کو ضائع کر دیا۔ جون ۱۹۳۵ء میں جب سکھوں کے جتھے لاہور آنے لگے تو یکایک یہ افواہ پھیل گئی کہ وہ مسجد کو شہید کرنا چاہتے ہیں۔

اس پر دونوں قوموں میں زبردست کشیدگی پیدا ہو گئی۔ ادھر جب سکھوں نے مسجد کو گرانا شروع کر دیا تو مسلمان بھی مسجد کا رخ کرنے لگے اور یوں پولیس سے تصادم کے نتیجے میں بہت سے مسلمان شہید ہو گئے۔ ان نازک حالات میں جب کہ دونوں قوموں کے درمیان کشیدگی اور فرقہ وار منافرت اپنی انتہا کو پہنچی ہوئی تھی، قائداعظمؒ لاہور تشریف لائے او رسکھوں اور مسلمانوں میں پیدا شدہ کشیدگی کو ختم کرانے میں بہت اہم کردار ادا کیا۔ قائداعظمؒ نے لاہور میں پنجاب کے گورنر سے ملاقات کی اور اس سے مسلمان گرفتار شدگان کی رہائی اور مسلم اخبارات کی ضمانتوں کے متعلق گفتگو کی جس میں آپؒ بالآخر کامیاب ہوئے۔

آپؒ نے سکھ لیڈروں سے ملاقاتیں کیں۔ مختلف جلسوں سے خطاب کیا۔ دہلی واپس جانے سے قبل شہید گنج مصالحتی بورڈ کے نام سے ایک کمیٹی قائم کی جس میں علامہ اقبالؒ بھی شامل تھے۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ قائداعظمؒ کی ان کوششوں کو نہ صرف پنجاب بلکہ تمام ہندوستان میں خوب سراہا گیا۔ ہندوستان کے تمام اخبارات نے قائداعظمؒ کو ان کی اس سعی پر مبارک باد دی۔ ان اخبارات میں روزنامہ الجمعیتہ (دہلی)، روزنامہ عصر جدید (کلکتہ)، روزنامہ زمیندار (لاہور) اور پیسہ اخبار (لاہور) شامل تھے۔ ادھر شہید گنج سے متعلق مقدمہ عدالت میں بھی چل رہا تھا۔ ڈسٹرکٹ جج کی عدالت سے فیصلہ مسلمانوں کے خلاف ہوا۔

چنانچہ اس فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل کی گئی۔ اس موقع پر علامہ اقبالؒ کی رائے یہ تھی کہ قائداعظمؒ ہائی کورٹ میں مسلمانوں کی طرف سے اس مقدمے کی پیروی کریں۔ چنانچہ اس سلسلے میں علامہ اقبالؒ نے قائداعظمؒ کو پنجاب مسلم لیگ کے سیکرٹری غلام رسول خان سے ایک خط لکھوایا۔ اس خط میں علامہؒ نے قائداعظمؒ سے درخواست کی کہ وہ خود لاہور تشریف لائیں تاکہ بقول اقبالؒ ’’اس عمارت کی آخری اینٹ آپ کے مضبوط ہاتھوں سے رکھی جائے۔‘‘ علامہؒ نے قائداعظمؒ کو یقین دلایا کہ ان کے پنجاب آنے سے نہ صرف پنجاب بلکہ تمام ہندوستان کے مسلمان ان کے ممنون ہوں گے۔

ساتھ ہی علامہؒ نے یہ بھی لکھوایا کہ ’’آپ کی تشریف آوری سے صوبے میں مسلم لیگ کی تحریک میں نئی جان پڑ جائے گی۔‘‘ ملک برکت علی اور عاشق حسین بٹالوی اس سلسلے میں قائداعظمؒ سے ملنے کے لیے بمبئی گئے مگر قائداعظمؒ نے انہیں مشورہ دیا کہ ان کی بجائے ایک انگریز بیرسٹر کولٹ مین کی خدمات حاصل کی جائیں۔ کیونکہ اس جھگڑے میں پہلے وہ ایک ثالث کی حیثیت سے لاہور گئے تھے اور اب ایک فریق کی حیثیت سے ان کا جانا مناسب نہیں۔بہرحال اس واقعے نے بھی دونوں زعما کو اور زیادہ قریب آنے میں مدد دی۔ بعد میں مسجد شہید گنج کے قضیہ نے ہندوستانی سیاست پر بھی اثر انداز ہونا شروع کر دیا۔ چنانچہ آل انڈیا مسلم لیگ کونسل نے اس مسئلے کی بڑھتی ہوئی اہمیت کے پیش نظر مسلم لیگ کا ایک خصوصی اجلاس منعقد کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ اس مسئلے پر غور و خوض کیا جائے۔

چنانچہ ۲ مارچ ۱۹۳۸ء کو قائداعظمؒ نے علامہ اقبالؒ کو مندرجہ ذیل خط لکھا: ہیسٹنگز روڈ نئی دہلی ڈیئر سر محمد اقبال اطلاعاً عرض ہے کہ آل انڈیا مسلم لیگ کونسل کا ایک اجلاس ماہِ رواں کی ۲۰ تاریخ کو دہلی میں منعقد ہو رہا ہے۔ ان اہم امور میں سے جن میں اس اجلاس میں غور کیا جائے گا ایک یہ بھی ہے کہ مسلم لیگ کے خاص اجلاس کے لیے مناسب مقام کا فیصلہ کیا جائے۔ اس لیے مجھے یہ معلوم کرنے کی بے حد خواہش ہے کہ آیا آپ یہ اجلاس لاہور میں بلانا پسند کرتے ہیں یا نہیں۔ اگر آپ کا جواب اثبات میں ہے تو کیا پراونشل مسلم لیگ خاص اجلاس کے لیے ضروری انتظامات کر سکے گی۔ بصورت اثبات آپ مجھے ایک رسمی دعوت نامہ ارسال فرمائیں تاکہ میں اسے کونسل کے سامنے پیش کر سکوں۔ علامہ اقبالؒ نے ۷ مارچ ۱۹۳۸ء کو اس خط کا جواب غلام رسول خاں سے لکھوا کر قائداعظمؒ کو ارسال کیا۔ علامہؒ نے اس خط میں لکھا کہ آل انڈیا مسلم لیگ کا اجلاس ایسٹر کی تعطیلات میں لاہور ہی میں منعقد کیا جائے اور اس خط کو رسمی دعوت نامہ تصور کیا جائے۔

قائداعظمؒ کو پنجاب کی سیاسی صورتِ حال سے مطلع کرتے ہوئے علامہ اقبالؒ نے لکھا کہ ’’شہید گنج کا مسئلہ اب پریوی کونسل میں پیش کیا جائے گا لیکن لوگوں کو اس سے زیادہ دلچسپی نہیں رہی کیونکہ لوگوں کا خیال ہے کہ کسی بھی برطانوی عدالت کی طرف رجوع کرنا بے سود ہے۔‘‘ قائداعظمؒ کو اس امر سے بھی مطلع کیا گیا کہ پنجاب کے مسلمان بہت بے تابی سے آل انڈیا مسلم لیگ کے اجلاس خصوصی کے منتظر ہیں اور پنجاب مسلم لیگ اجلاس خصوصی کے لیے تمام ضروری انتظامات کرنے کی ذمہ داری لینے کو تیارہے۔ لیکن پنجاب مسلم لیگ کے صدر شاہنواز خان ممدوٹ نے جو دراصل سر سکندر حیات کے آدمی تھے، قائد اعظمؒ کو ایک خط میں یہ لکھا کہ یہ بات مسلم لیگ اور شہید گنج تحریک کے مفاد میں ہو گی کہ مسلم لیگ کا اجلاس لاہور میں منعقد نہ ہو چنانچہ ایسا ہی ہوا اور علامہ اقبالؒ کی یہ آرزو پوری نہ ہو سکی۔

Pakistan

قراردادِ پاکستان کا متن

1. آل انڈیا مسلم لیگ کا یہ سیشن مسلم لیگ کی مجلس عاملہ اور شوریٰ کے اقدام کی منظوری اور توثیق کرتے ہوئے جیسا کہ ان کی قرارداد مورخہ 27 اگست‘ 17 و 18 ستمبر اور 22 اکتوبر1939ء اور 3 فروری 1940ء سے ظاہر ہے۔ آئینی قضیے میں اس امر کے اعادے پر زور دیتا ہے کہ 1935ء کے حکومت ہند ایکٹ میں تشکیل کردہ وفاق کی منصوبہ بندی ملک کے مخصوص حالات اور مسلم ہندوستان دونوں کے لیے بالکل ناقابل عمل اور غیر موزوں ہے۔

-2. یہ (سیشن) مزید براں پرزور طریقے سے باور کرانا چاہتا ہے کہ تاجِ برطانیہ کی جانب سے وائسرائے کا اعلامیہ مورخہ 18 اکتوبر1939ء‘ حکومت ہند ایکٹ 1935ء کی اساسی پالیسی اور منصوبے کے ضمن میں اس حد تک اطمینان بخش ہے‘ جس حد تک مختلف پارٹیوں‘ مفادات اور ہندوستان میں میں موجود گروہوں کی مشاورت کی روشنی میں اس پر نظر ثانی کی جائے گی۔ مسلم ہندوستان تب تک مطمئن نہیں ہو گا جب تک مکمل آئینی منصوبے پر نئے سرے سے نظرثانی نہیں کی جائے گی اور یہ کہ کوئی بھی ترمیم شدہ منصوبہ مسلمانوں کے لیے صرف تبھی قابل قبول ہو گا اگر اس کی تشکیل مسلمانوں کی مکمل منظوری اور اتفاق کے ساتھ کی جائے گی۔

-3. قرار پایا ہے کہ یہ آل انڈیا مسلم لیگ کا مسلمہ نقطئہ نظر ہے کہ اس ملک میں کوئی بھی آئینی منصوبہ تب تک قابل قبول نہیں ہو گا‘ جب تک وہ ذیل کے بنیادی اصول پر وضع نہیں کیا جائے گا‘ وہ یہ کہ جغرافیائی طور پر ملحق اکائیوں کی علاقائی حد بندی کر کے ان کی آئینی تشکیل اس طرح کی جائے کہ جن علاقوں میں مسلمان عددی طور پراکثریت میں ہیں‘ جیسا کہ ہندوستان کے شمال مغربی اور مشرقی حصے، ان کو آزاد ریاستوں میں گروہ بند کر دیا جائے اور اس طرح تشکیل پانے والی یہ اکائیاں مکمل آزاد اور خود مختار ہوں گی۔

-4. یہ کہ ان اکائیوں میں موجود خطوں کے آئین میں اقلیتوں کی مشاورت کے ساتھ ان کے مذہبی‘ ثقافتی‘ معاشی‘ سیاسی انتظامی اوردیگر حقوق مفادات کے تحفظ کے مناسب‘ موثر اور لازمی اقدامات یقینی بنائے جائیں اور ہندوستان کے دوسرے حصے جہاں مسلمان اقلیت میں ہیں‘ آئین میں ان کی مشاورت کے ساتھ ان کے مذہبی‘ ثقاتی‘ معاشی‘ سیاسی‘ انتظامی اور دیگر حقوق اور مفادات کے تحفظ کے مناسب‘ موثر اورلازمی اقدامات عمل میں لائے جائیں گے۔

-5. یہ سیشن مزید براں عاملہ کمیٹی کو ان بنیادی اصولوں کے مطابق دفاع‘ خارجہ امور‘ مواصلات‘ کسٹم اور دیگر ضروری معاملات کے لحاظ سے مفروضے کو حتمی شکل دینے کی غرض سے آئین سازی کی اسکیم وضع کرنے کا اختیار دیتا ہے۔

Pakistan

What Pakistan Day Says to the Minority Groups

While it is, and it is easy to write from the position of privilege from a very safe distance, I found myself horrified this Pakistan Day. 334 more words

Commentary