Tags » Muhammad Ali Jinnah

Revealed: The real reason why Jinnah shaved his moustache

The founder of Pakistan, Muhammad Ali Jinnah had no choice but to shave off his moustache. At the age of 40, he proposed to Ruttie Petit and the only condition put forth by the bride-to-be was, “Shave your moustache.” Jinnah not just obliged to shave off his moustache, but also re-did his hair to impress the lady.

Read more

Vicky Nanjappa

قائداعظم… شخصیت اور کارنامے

نئے سال کا سورج طلوع ہو گیا۔ دکھیاروں کو یقین دلانے کے لیے کہ:

ہوگا طلوع کوہ کے پیچھے سے آفتاب

شب مستقل رہے گی، کبھی یہ نہ سوچیے

25 دسمبر کے دن قائد پیدا ہوئے تھے، اور اسی شہر کراچی کی بلڈنگ وزیر مینشن میں۔ قائد کب یاد نہیں آتے۔ خصوصاً ڈھاکہ کھو جانے کے بعد ہمارے حالات خراب سے خراب تر ہوتے چلے گئے، دشمنوں نے وہ تباہی مچائی کہ غریب کے پلے ککھ بھی نہ رہا اور ظالموں کی ہوگئی بلے بلے۔

اس وقت میرے سامنے قائد کے حوالے سے ایک کتاب پڑی ہے۔ نام ہے ’’ قائد اعظم محمد علی جناح‘ شخصیت اور کارنامے‘‘۔ اس نایاب کتاب کے مصنف ہیں حکیم عنایت اللہ نسیم سوہدروی، اور اسے ترتیب دیا ہے حکیم راحت نسیم سوہدروی نے۔ جو حکیم عنایت اللہ نسیم کے صاحبزادے ہیں اور خود بھی کئی کتابیں لکھ چکے ہیں۔ 350 صفحات پر مشتمل کتاب قائد کے افکار اور کردار پر بھرپور روشنی ڈالتی ہے۔ قائد کی پیدائش، تعلیم، بطور وکیل عملی زندگی کا آغاز، شادی، آزادی ہند کی تحریک میں شمولیت، پھر اقبال کے خواب کی حقیقی تعبیر کے لیے مسلمانوں کے آزاد، خودمختار، سب کے لیے مساوی حقوق، دنیا کے نقشے پر ابھرتا ہوا ہر لحاظ سے ایک خوبصورت ملک۔ مسلم لیگ کا قیام، پورے ہندوستان کے طوفانی دورے، قیام پاکستان کا پیغام گھر گھر پہنچایا۔

پاکستان مخالف نے کہا ’’مسلمان ہندوستان میں اقلیت ہیں‘‘ قائد نے ببانگ دہل جواب دیا ’’مسلمان ایک قوم ہیں‘‘ 1937ء کے تاریخی انتخابات اور اسی سال مسلم لیگ کا بنیادی اجلاس لکھنو، مسلم لیگ کا اجلاس پٹنہ، مسلم لیگ کا قیام پاکستان سے قبل آخری اہم اجلاس لاہور 1940ء، سندھ اسمبلی کا مطالبہ پاکستان، شملہ کانفرنس، قائداعظم کا نثری خطاب، باؤنڈری کمیشن، جوناگڑھ، نوزائیدہ مملکت کے مسائل، آخری ایام، قائداعظم کی وصیت۔ یہ چند عنوانات ہیں جن کا مختصراً اظہاریہ نقل کروں گا۔ تفصیل کے لیے تاریخ پاکستان اور قائداعظم کی شخصیت میں دلچسپی رکھنے والوں کو کتاب سے رجوع ضروری ہے۔

15 سے 18 اکتوبر 1937ء کو لکھنو میں مسلم لیگ کا سالانہ اجلاس ہوا، جو مسلم لیگ کی تاریخ میں سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ ہندوؤں نے اس اجلاس کو ناکام بنانے کے لیے پوری سعی کی۔ اس غرض سے چند مسلمانوں کو بھی تیار کیا کہ پنڈال جلا کر خاکستر کردیا جائے۔ یوپی کی کانگریس حکومت نے افواہیں پھیلائیں، خوفزدہ کیا کہ محمد علی جناح پر بم پھینکا جائے گا۔ مگر مسلمانوں کے عزم کے سامنے ان کی ایک نہ چلی۔ راجہ صاحب محمود آباد صدر مجلس استقبالیہ تھے، انھوں نے جس طرح محنت اور خلوص سے کام کیا، اس کی مثال کم ملتی ہے۔

قائداعظم کو ایک باوقار، منظم اور پرشکوہ جلوس کی صورت اجلاس میں لایا گیا۔ مسلمانوں کا ایک سمندر تھا جو چار گھنٹے میں قائداعظم کی رہائش گاہ ’’قیصر باغ‘‘ پہنچا۔ راجہ صاحب محمودآباد جلوس کے ساتھ پیدل چل رہے تھے۔ اس اجلاس میں قائداعظم نے مسلمانوں کا موقف بڑی وضاحت سے بیان کیا۔ لکھنو کے اجلاس میں بنگال کے وزیراعلیٰ اے کے فضل الحق شیر بنگال نے مسلم لیگ کے لیے اپنی خدمات پیش کیں اور پنجاب کے وزیراعلیٰ سکندر حیات نے بھی مسلم لیگ میں شمولیت کا اعلان کیا۔

آل انڈیا مسلم لیگ کا اگلا سالانہ اجلاس پٹنہ میں 26 تا 29 دسمبر 1938ء منعقد ہوا، جس میں تقریباً 50 ہزار مسلمانوں نے شرکت کی، جن میں خواتین بھی کثیر تعداد میں موجود تھیں، اس اجلاس میں سندھ نیشنل گارڈز کا ترانہ ’’مسلم ہے تو مسلم لیگ میں آ‘‘ پڑھا گیا اور یہ ترانہ قائداعظم نے بھی پڑھا۔ قائداعظم نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا ’’مجھے مولانا شوکت علی کی ملی خدمات کا اعتراف ہے۔ آپ اسلام کے نڈر سپاہی تھے‘‘ اس کے ساتھ قائد نے علامہ اقبال اور کمال اتاترک کے انتقال پر بھی اظہار تعزیت فرمایا۔

قائد نے فلسطین کے متعلق کہا کہ ’’فلسطین کے سرفروشوں کو باغی کہا جاتا ہے مگر وہ شہید اور غازی ہیں‘‘ مسلم لیگ لاہور کے رہنما میاں فیروز دین نے مسلمانان ہند کی ترجمانی کرتے ہوئے قائد کے لیے قائداعظم کا لقب تجویز کیا جو اتنا مناسب تھا اور مقبول ہوا کہ پھر ہر مسلمان کی زبان پر قائداعظم جاری ہو گیا۔

26 جولائی 1943ء کے دن قائداعظم کی رہائش گاہ بمبئی میں رفیق صابر نامی خاکسار جس کا تعلق لاہور سے تھا، نے چاقو سے قائد پر حملہ کردیا۔ قائد نے اس کی کلائی مضبوطی سے پکڑلی، قائداعظم کے سیکریٹری مطلوب الحسن سید اور ایک گارڈ نے قاتل پر قابو پا لیا۔ قاتلانہ حملے پر پورے ہندوستان میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔ اسی سال کے آغاز میں سندھ اسمبلی میں جی ایم سید صاحب نے قیام پاکستان کے حق میں قرارداد پیش کی جسے کثرت رائے سے منظور کیا گیا۔

کتاب میں درج ہے 3 جون کا دن قیام پاکستان میں اہم ترین حیثیت کا حامل ہے۔ اس دن آل انڈیا ریڈیو سے چار تقریریں نشر کی گئیں۔ سب سے پہلے برطانوی شاہی خاندان کے فرد لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے پاکستان اور ہندوستان دو علیحدہ علیحدہ ملکوں کی آزادی اور قیام کا اعلان کیا۔ پھر پنڈت جواہر لعل نہرو نے خطاب کیا، تیسرا خطاب بلدیو سنگھ کا تھا اور آخر میں قائداعظم محمد علی جناح کا خطاب نشر کیا گیا۔ ان خطابات کی تفصیل تاریخی ہے۔

لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے کہا ’’کسی بڑے علاقے کی اقلیت کو اس کی مرضی کے خلاف اکثریت کے رحم و کرم پر نہیں رکھا گیا، چنانچہ اس کا واحد حل تقسیم کے سوا کوئی اور نہ ہوسکا‘‘ پنڈت نہرو نے کہا ’’ہم نے ہندوستانی مسائل کے تصفیے کے لیے ملک معظم کی حکومت کی تجاویز قبول کرلی ہیں اور اپنی وسیع قوم سے سفارش کرتے ہیں کہ وہ بھی انھیں قبول کرلیں‘‘ پنڈت جی نے خطاب کے اختتام پر ’’جئے ہند‘‘ کا نعرہ لگایا۔ قائداعظم نے اپنے خطاب میں کہا ’’میں آل انڈیا ریڈیو دہلی کے ذریعے آپ لوگوں سے براہ راست کچھ کہنے کا موقع حاصل کرکے خوش ہوا ہوں، کیونکہ ریڈیائی تقریر بہ نسبت اخباروں کی سرد تحریروں کے زیادہ زندگی اور حرارت کی حامل ہوتی ہے۔ ہندوستانی لیڈروں کے کندھوں پر انتہائی نازک ذمے داری کا بوجھ ہے، اس لیے ہمیں اپنی تمام قوتیں مجتمع کرکے یہ دیکھنا ہے کہ اختیارات کا انتقال مکمل پرامن اور حفظ قانون کے تحت انجام پا جائے۔‘‘ قائداعظم نے اپنے خطاب کا اختتام پاکستان زندہ باد کے نعرے کے ساتھ کیا۔

حکیم عنایت اللہ نسیم سوہدروی نے کتاب ہٰذا لکھ کر بڑا کام کیا ہے۔ قیام پاکستان کی جدوجہد پر مشتمل کتب میں یہ کتاب بھی گراں قدر اضافہ ہے۔ حکیم صاحب کے صاحبزادے حکیم راحت نسیم سوہدروی نے اپنے والد محترم کی کتاب کو ترتیب دے کر شایع کیا اور تاریخ پاکستان سے دلچسپی رکھنے والوں اور تحقیق کرنے والوں کے لیے بڑا احسن کام کیا ہے۔ پاکستان کے قابل قدر محقق اور دانشور پروفیسر محمد منور سابق ڈائریکٹر اقبال اکیڈمی لاہور نے کتاب ہٰذا کا دیباچہ تحریر فرما کر، کتاب کی اہمیت میں اضافہ کیا ہے۔

پروفیسر صاحب نے یہ دیباچہ 2 مئی 1992ء کے دن تحریر کیا تھا۔ اس مختصر کالم میں اتنا ہی لکھا جاسکتا ہے، ورنہ کتاب کے بہت سے اہم مندرجات کا ذکر بھی بہت ضروری تھا۔ کتاب کے آخری صفحات میں قائداعظم کی وصیت کا اندراج ہے جو بہت اہم دستاویز ہے، کتاب کے حصول کے لیے حکیم راحت نسیم سوہدروی سے اس نمبر پر رابطہ کیا جاسکتا ہے (0300-4896184)۔

سعید پرویز

Founder Of Pakistan

قائدِ اعظم محمد علی جناح مشاہیرِعالم کی نظرمیں

مشاہیر عالم، جناح کی فہم، تدبر، عظمت اور تدبیر کے نہ صرف قائل تھے بلکہ دل سے ان کے مداح بھی تھے۔ کوہِ وقار اور بطلِ عظیم قائدِاعظم محمد علی جناح نہ صرف پاک و ہند بلکہ دنیا بھر کے ایک عظیم مدبر اور رہنما تھے۔ آج ان کی 140 ویں برسی پر ہم اُن کے عہد کے مشاہیر عالم کے الفاظ کو دہرائیں گے جو قائدِاعظم محمد علی جناح کی فہم و فراست، تدبر، عظمت اور تدبیر کے نہ صرف قائل تھے بلکہ دل سے ان کے مداح بھی تھے۔

اسٹینلے والپرٹ

’جناح آف پاکستان‘ کے مصنف ممتاز دانشور اور لکھاری اسٹینلے والپرٹ زندگی بھر ایک جانب تو لارڈ ماؤنٹ بیٹن کے شدید نقاد رہے تو دوسری جانب انہوں نے ’جناح کو آزادی پسند، صاحبِ عزم اور بہادر قائد‘ قرار دیا۔ تاہم قائدِاعظم کے بارے میں اُن کا یہ قول آبِ زر سے لکھنے کے لائق ہے۔ ’’کچھ لوگ تاریخ کے دھارے کو تبدیل کردیتے ہیں، جبکہ ان میں سے بھی کچھ دنیا کے نقشے کو بدل دیتے ہیں۔ ان میں بہت کم لوگ ہی نئی قومیت پر ملک تعمیر کرتے ہیں، اور جناح نے یہ تینوں کام کر دکھائے‘‘۔ واضح رہے کہ اسٹینلے والپرٹ جب قائدِاعظم محمد علی جناح پر کتاب لکھ رہے تھے تو اُن کی شخصیت میں اصول پرستی، وقت کی پابندی اور سختی میں اضافہ ہو گیا۔ جب اُن سے اِس کی وجہ پوچھی گئی تو والپرٹ نے کہا کہ یہ باتیں میں نے محمد علی جناح کی زندگی سے سیکھی ہیں۔

وجے لکشمی پنڈت

وجے لکشمی پنڈت جواہر لعل نہرو کی بہن اور سیاستدان گزری ہیں۔ وہ روس میں ہندوستان کی سفیر بھی رہیں۔ قائدِاعظم محمد علی جناح کے بارے میں ان کا ایک قول بہت مشہور ہے۔ ’’اگر مسلم لیگ کے پاس 100 گاندھی 200 ابولکلام آزاد ہوتے لیکن کانگریس کے پاس ایک جناح ہوتے تو ہندوستان کبھی تقسیم نہ ہوتا‘‘۔

بھارتی صدر فخرالدین علی احمد

’’میں قائداعظم محمد علی جناح کو جنگ آزادی کا عظیم سپاہی قرار دیتا ہوں‘‘۔

مہاتما گاندھی

’’میں سمجھتا ہوں کہ جناح کو کوئی قوت نہیں خرید سکتی‘‘۔

پنڈت نانک چن

’’جناح کے فیصلے کسی چٹان کی طرح ہوتے تھے‘‘۔

جواہر لعل نہرو

’’اچھا کردار اور اچھی سیاست ہی جناح کے وہ راز ہیں جس سے انہوں نے کامیابی حاصل کی‘‘

اسی طرح نہرو کا ایک اور قول بہت مقبول ہے،

’’جناح تاریخ کے ایک غیرمعمولی کردار ہیں‘‘۔

سر آغا خان سوئم

’’میں نے زندگی میں اگر کسی عظیم رہنما سے ملاقات کی ہے تو وہ محمد علی جناح ہی ہیں‘‘۔

سارت چندرا بوس

سبھاش چندرا بوس کے بڑے بھائی اور تحریک آزادی کے ممتاز رہنما اور کانگریسی عہدیدار سارت چندر بوش قائدِاعظم کے بارے میں کہتے ہیں،

’’جناح صاحب قانون دان کی حیثیت میں عظیم ہیں، کانگریسی رہنما کی حیثیت سے عظیم تر، اور مسلمانوں کے عظیم ترین لیڈر ہیں۔ وہ عالمی سطح کے لیڈر اور باعمل انسان ہیں۔ اُن کی رحلت سے پاکستان ایک عظیم رہنما سے محروم ہوگیا کیونکہ وہ زندگی دینے والے، فلسفی اور قائد تھے‘‘۔ اِس بات کا ذکر فاطمہ جناح نے اپنی کتاب میرے بھائی میں بھی کیا ہے۔

ہیری ایس ٹرومین

امریکی صدر ہیری ایس ٹرومین نے قائدِاعظم محمد علی جناح کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا،

’’جناح کو جو وفاداری اور انسیت نصیب ہوئی وہ شاید ہی کسی انسان کے حصے میں آتی ہیں‘‘۔

لارڈ ویول

1943ء سے 1947ء تک ہندوستان کے وائسرائے رہنے والے لارڈ ویول جناح کے بارے میں کہتے ہیں.

’’جناح ان میں انتہائی خوبرو شخص تھے جن سے میں اب تک ملا ہوں۔ وہ مغربی وضع قطع اور مشرقی عظمت اور تحریک کے حامل تھے‘‘۔

سر ونسٹن چرچل

’’میں اپنے دل سے اس عظیم لیڈر کی یاد نہیں مٹا سکتا۔‘‘

لارڈ ماؤنٹ بیٹن

’’جناح نے کبھی بھی کسی کے سامنے جھک کر معاہدہ نہیں کیا مگر برابری کی بنیاد پر‘‘۔

برٹرینڈ رسل

’’ہندوستان کی تاریخ میں کوئی شخص ایسا نہیں گزرا جسے محمد علی جناح جیسی محبت ملی ہو‘‘

عبدالرحمان عظام پاشا

’’عالم اسلام کے عظیم ترین رہنماؤں میں سے ایک محمد علی جناح تھے‘‘۔

واضح رہے کہ عبدالرحمان عظام پاشا عرب لیگ کے سیکریٹری جنرل گزرے ہیں۔

نیلسن منڈیلا

نیلسن منڈیلا بھی قائدِاعظم محمد علی جناح کے ایک بڑے مداح گزرے ہیں اور انہوں نے قائدِاعظم کو کچھ اِس طرح سے خراج تحسین پیش کیا ہے

’’محمد علی جناح ہر اُس شخص کے لئے ایک احساس کا درجہ رکھتے ہیں جو نسلی اور گروہی امتیاز کے خلاف برسرِ پیکار ہیں‘‘۔

سہیل یوسف

Founder Of Pakistan

قائداعظم کا ویژن اور ہمارا پاکستان

25 دسمبر بانی پاکستان قائداعظم کا یوم ولادت ہے اور اسی روز دنیا بھر کے مسیحی کرسمس مناتے ہیں۔ قائداعظم محمد علی جناح نے برصغیر کے مسلمانوں کے لیے الگ وطن کے قیام کے خواب کو شرمندہ تعبیر کیا‘ اس مقصد کے حصول کے لیے انھوں نے اپنی صحت کی پروا کیے بغیر دن رات کام کیا‘ پاکستانی قوم آج بانی پاکستان کا یوم ولادت تزک و احتشام سے منا رہی ہے‘ بلاشبہ زندہ قومیں اپنے اسلاف کے کارناموں کو یاد رکھتی ہیں لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ زندہ قومیں جہاں اپنے اسلاف کے کارناموں کو یاد رکھتی ہیں‘ وہاں ان کے کردار و عمل کو سامنے رکھ کر اپنا لائحہ عمل بھی بناتی ہیں۔

بدقسمتی سے اگر پاکستان کے حوالے سے دیکھا جائے تو یہ کہنے میں کوئی حرج نہیں ہے کہ ہمارے ہاں برسراقتدار آنے والی مختلف حکومتوں نے قائداعظم کے ویژن کو سامنے رکھ کر اپنی پالیسیاں تشکیل نہیں دیں‘ جس کی وجہ سے پاکستان آج بے شمار مسائل کا شکار ہے۔ قائداعظم پاکستان کو ایک ایسا ملک بنانا چاہتے تھے جہاں کسی قسم کا نسلی یا مذہبی تعصب نہ ہو۔ ان کا اپنا کردار اور ان کی سیاست اسی اصول پر قائم تھی۔ بدقسمتی سے قیام پاکستان کے کچھ عرصہ بعد ان کا انتقال ہو گیا اور پھران کے بعد آنے والی حکومتوں نے مصلحت اندیشی یا کم فہمی کی بنا پر ایسی پالیسیاں تشکیل دیں جن کے نتیجے میں پاکستان میں انتہا پسندی کو فروغ حاصل ہوا۔

یہی نہیں بلکہ یکے بعد دیگرے آنے والی حکومتوں نے پاکستان میں ایسے اقدامات کیے جس کے نتیجے میں ادارہ جاتی زوال کا آغاز ہوا اور کرپشن کو بڑھاوا ملا۔ انھی نااہلیوں کا نتیجہ یہ ہے کہ آج پاکستان کا کوئی بھی ادارہ درست کام نہیں کر رہا۔ قائداعظم کا یوم ولادت درحقیقت پاکستان کے حکمرانوں کے لیے یوم احتساب بھی ہے۔ پاکستان کے حکمرانوں کو خود احتسابی سے عمل سے گزرتے ہوئے اس عمل کا جائزہ لینا چاہیے کہ کیا پاکستان میں جو کچھ ہو رہا ہے یہی قائداعظم کا ویژن تھا۔ قائداعظم قانون کی عملداری کے زبردست داعی تھے۔ وہ قانون دان تھے اس لیے قانون کی حکمرانی کے نظریے کے قائل تھے۔ جمہوریت کو وہ بہترین نظام حکومت سمجھتے تھے کیونکہ قیام پاکستان کی جدوجہد بھی انھوں نے جمہوری دائرے میں رہ کر ہی کی تھی ۔ وہ سیاست میں تشدد کے قائل نہیں تھے اسی لیے انھوں نے مسلم لیگ کے کارکنوں کو کبھی ہتھیار اٹھانے کی ہدایت نہیں کی اور نہ ہی کسی تقریر میں کوئی ایسا اشارہ دیا جس سے تشدد کا کوئی راستہ نکلے۔

اقلیتوں کے حوالے سے بھی ان کا ویژن سب کے سامنے ہے۔ وہ پاکستان میں بسنے والے تمام لوگوں کو برابر کاشہری تصور کرتے تھے۔ پہلی قانون ساز اسمبلی میں انھوں نے جو تقریر کی ‘وہی دراصل پاکستان کا آئین تھی لیکن بعد میں ان کے اس ویژن کو پس پشت ڈال دیا گیا۔ جس کے نتیجے میں ملک دو لخت ہوا اور آج پاکستان دہشت گردی اور انتہا پسندی جیسے عفریت کا شکار ہے۔پاکستان کو جدیدیت کی راہ پر ڈالنے کے لیے قائد کے ویژن پر عمل کرنا ہو گا۔

ایڈیٹوریل روزنامہ ایکسپریس

Founder Of Pakistan