Tags » News Paper

*Censored* With Half A Story

This week’s title is a little odd but I think once I explain it, it’ll suddenly become clear. I wanted to talk about the media. Not just Social Media but media in general, like the news and Tv programs. 460 more words

kp adopt culture

پشاور( رپورٹ و تصاویر ۔شہزادہ فہد )
خیبرپختو نخوا کے باسی شادی بیاہ کے دوران جہا ں اپنے اپنے ریت و رواج کے مطابق رسوما ت ادا کر تے ہیں وہا ں ایک ایسی رسم بھی ہے جو کہ ہر قوم و نسل کے

لوگوں میں یکساں پا ئی جا تی ہے ۔ شادی بیاد کے مواقع پر دولہے کو دوست و اقارب کی جانب سے سہرا پہنایاایک معمول ہے اس رسم 1971 میں جدت آئی جب خیبر پختو نخوا کے لو گوں نے پنجاب میں سہرا بندی کے دوران نو ٹوں سے مزئین ہار پہنا نے کا رواج اپنا یا ۔ اس نئی رسم نے خیبر پختو نخوا میں جلد ی مقبو لت اختیار کرلی ۔ نو ٹوں کے سہر ے میں آ تے ہی مقا می دکا نداروں نے نت نئے تجربات شروع کر دئیے 1990 میں خیبر پختونخوا کے جنو بی اضلاع سہرے میں گھڑیا ں کا رواج عام ہوا اور تا حال یہ رواج قائم ہے ۔ شادی بیا ہ کے تقاریب میں نو ٹوں کے سہروں کے رواج کو بڑھتی ہو ئی مہنگا ئی نے ہضم کر لیا ۔ حکومت پاکستان کی جانب سے ایک روپے ، دو روپے اور پانچ روپے کرنسی نو ٹوں کے خاتمے کے ساتھ ہی سہرا بند ی میں نو ٹوں کا رواج زوال پذیر ہو ا ۔ شہرے میں کرنسی نو ٹوں کی ضرورت ہو تی ہے اور حکومت کی جانب چھو ٹے کاغذی نو ٹوں کے خاتمے کے بعد دس روپے کے نوٹ سے سہرے بنانے میں کمی واقع ہو ئی ہے شہریوں کے مطابق مہگا ئی اور بے روزگا ری کی وجہ سے دس روپے والے سہروں کو خرید نے سے قاصر ہیں ۔ صوبے بھر میں قدیمی روایت نو ٹوں والے سہروں کی جگہ چا ئینہ ڈیکوریشن تحائف نے لے لی ہے شادی بیاہ میں نو ٹوں کے رواج کے ختم ہو نے ہی شہریوں اپنے دوستو ں ، رشتہ داروں کو نقدی یا ڈیکوریشن والے تحائف دینےلگےہیں ۔ نو ٹوں والے سہروں کی ما نگ میں کمی کے بعد دکا نداروں نے ڈیکوریشن تحائف کے ساتھ کپڑے والے سہروں کو متعارف کر وایا ہے یہنو ٹوں سہرے کی نسبت انتہا ئی کم قیمت پر فروخت کئے جا تے ہیں نو ٹوں والے سہروں کی قیمت 1500 سے شروع ہو تی ہے اور اپنی مرضی کے ہزارو ں روپے اس میں لگا سکتے ہیں جبکہ کپڑے والے سہرے 30 سے 90 روپوں کے درمیان فروخت کئے جا تے ہیں اسی لئے زیا دہ تر شہریوں قو ت خرید کو مدنظر رکھتے ہوئے کپڑے والے سہروں کو ترجیح دیتے ہیں

سہروں میں ڈالر ، دینا ر، درہم لگا نے کا نیا رواج ۔۔
مہنگا ئی کی وجہ سے جہاں نو ٹوں والے سہروں کا رواج ختم ہو رہا ہے وہا ں بعض افراد سہرے میں پاکستانی کر نسی کے ساتھ دیگر ممالک کے کرنسی نو ٹوں کو سہرے میں لگا کر اپنے عزیزوں اور دستوں کو شادی بیاہ پر پہناتے ہیں ۔ دیگر ممالک کے کرنسی نو ٹوں میں ڈالر ، دینا ر ، ریا ل ، درہم اور دیگر نو ٹوں کے سہرے دولہا کے عزیز، دوست و اقاراب شو آف کے طورپر پہنا نے کا نیا رواج قائم ہو رہا ہے
دکا ندروں کے مطابق دیگر کر نسی نو ٹوں کی مانگ میں اضا فہ ہو رہا ہے

تقسیم پاکستان سے قبل قصہ خوانی میں ” کو چہ گل فروشان “
خیبر پختو نخوا میں نو ٹوں والے سہروں کے رواج سے قبل پھو لو ں کا ہار پہنایا جا تا تھا پھولوں کے بار ے میں کہا جا تا ہے کہ یہ واحد چیز ہے جو غم اور خوشی میں انسان کے ساتھ ہو تی ہے ۔ شاد ی بیاہ میں دولہے دلہن کے گھروالوں کو پھو لو ں کے سہرے پہنانے کا رواج آج بھی قائم ہے ۔ تقسیم پاکستان نے قبل پشاور کے تاریخی بازار قصہ خوا نی ایک مخصوص گلی جسے ”کو چہ گل فروشان “ کہتے تھے تا حال مو جود ہے پشاور کے دورے پر آنے والے سیا ح کو چہ گل فروشان ضرور دیکھتے لیکن شادی بیاہ میں شادی شادی ہا لوں کے رواج نے جہا ں بہت سے دیگر رسومات کو ختم کر دیا ہے وہا ں پھو لو ں کے کا روبار کر نے والے کو مشکل میں ڈال دیا ہے ۔ پھو لو ں کے سہروں میں کمی کی وجہ سے زیا دہ تر دکا ندار یہ پیشہ چھوڑ چکے ہیں ۔ پھو لو ں کا شادی بیا ہ ، فریضہ حج کی ادئیگی کے ساتھ فوتگی کے موقع پر بھی استعمال کیا جاتا ہے ۔ مہگا ئی کی وجہ سے پھو لو ں کے نرخوں میں اضافہ کے ساتھ سہروں کے نرخ بھی بڑھ گئے ہیں اور ابھی شادی بیا ہ کے موقع ہر شازر و نادر اس کا استعمال کیا جا تا ہے

پشاور میں تا حال پھولوں کے باغات ۔۔
پھو لو ں کا شہر کہلا نے والے پشاور شہر میں جہا ں باغات کی بھتا ت تھی وہا ں گلبر گ ، چارخانہ ، لنڈی ارباب میں کسان پھو لو ں کی کاشت کےلئے زمینیں اجا رہ پر لیتے تھے جو کہ ایک بڑ ی امد ن کا زریعہ ہو تا ہے۔ آباد ی میں اضافے کےساتھ پھو لو ں کے باغات کے خاتمے کے ساتھ اس کی کا شت بھی متاثر ہو ئی ہے ۔ پشاور کے نو احی علا قوں بازید خیل ، شہا ب خیل ، شیخ محمدی میں تا حال پھو لو ں کے باغات قائم ہیں ان علا قو ں کا پھول پشاور سیمت پو رے صوبے میں سپلا ئی کیا جا تا ہے پشاور میں پھو لو ں کی منڈ ی رامداس بازار میں لگا ئی جا تی ہے ۔ مضا فاتی علاقوں میں کاشت کئے جا نے والے پھو لو ںمیں گلا ب کے پھول کے ساتھ گیندے کا پھول جس میں سفید اور زرد پھو ل ہو تا ہے ، اور شبو کا پھو ل قابل ذکر ہیں یہ پھو ل شادہ بیاہ اور فوتگی میں سہروں میں پیروئے جا تے ہیں اور یہاں کے پھول پو رے صو بے میں گل فروشوں کو بھجوائے جا تے ہیں

Peshawar

A Home Away From Home Vacation

When you think about traveling the first thing comes to mind is where are you going to stay, right? What type of accommodations  will suit you and your family’s needs. 606 more words

I do not accept plastic carry bags

I was happy when the vegetable seller gave me vegetables packed in news paper. Most sellers in the area now know that I do not accept plastic carry bags.

Bipasha Breathes Fire On Telugu Paper..!

Bipasha Breathes Fire On Telugu Paper..!

Actually dusky hottie Bipasha Basu is preparing herself for her first ever Mega wedding with TV serials actor Karan Singh Grover on April 30th. 40 more words

REWATI TOPI (QARAQULI)

رپورٹ و تصاویر ۔شہزادہ فہد
عزت و احترام کی نشانی اور تاریخی اہمیت کی حامل قراقلی شب و روز کی گردش ایام کا نشانہ بنتے ہو ئے ما ضی کا حصہ بن گئی جو کہ بھولے سے یاد نہیں آتی رہی سہی کسر اس کے بنا ئے جا نے کی حقیقت نے پو ری کر دی۔ پشاور میں بنا ئے جا نے والی قراقلی دنیا بھر میں مشہور ہو نے کے ساتھ تاریخی اہمیت کی حامل ہے ۔ تین دہا ئی قبل پشاور میں قراقلی کی پچاس سے زائد دکانوں میں صرف دو دکا نیں با قی ہیں جبکہ اس پیشے سے منسلک سیکڑوں گا ریکر کا م نہ ہو نے کی وجہ سے پیشہ تبدیل کر چکے ہیں ۔ قراقلی کی قیمتوں میں اضافہ کے باعث شہر یوں نے اپنی روایات کا خیر آباد کہہ دیا ہے ۔ تین دہا ئی قبل جو قراقلی تین سو سے سات سو روپے میں میں ملتی تھی آج اس کی قیمت آٹھ ہزار سے با رہ ہزار روپے ہو گئی ہے ۔ قراقلی کے تا جر وں کے مطابق اس کو بنا ئے جا نے میں استعمال ہو نے والی کھال انتہا ئی مہنگی ہو گئی ہے جس کے باعث اس کے نرخوں میں اضافہ ہوا ہے ۔ قراقلی مو جود ہ حالات میں صرف شادی بیا ہ کے موقع پر پہنی جا رہی ہے جبکہ مو جود ہ حالا ت میں یہ روایات بھی دم توڑنے لگی ہیں ۔ مقامی دکانداروں کے مطابق مہینوں تک قراقلی کا کو ئی گا ہک نہیں آتا جس کے باعث دکاندار اور کا ریگروں کا مشکلات درپیش ہیں ۔ قراقلی بھیڑ کے کم سن بچے کی کھال سے بنا ئی جا تی ہے یہ بھیڑیں ایک خاص نسل کی ہو تی ہیں جو کہ افغانستان میں پا ئی جا تی ہیں ۔ مقامی دکاندروں نے بتایا کہ اس خاص نسل کو دیگر علاقوں میں افزائش نسل کےلئے لا نے کے تجربات کئے گئے ہیں تاہم تمام تجربات ناکام ہو ئے ہیں ۔ کم سن بچے کو ذبع کر نے کے بعد اس کی کھال کو نمک لگا کر رکھ دیا جا تا ہے اور پھر اسے کا رخانے دار پر فروخت کر دیتے ہیں جو کہ صفائی کے بعد اس کو بیوپاریوں کے ہا تھوں فروخت کر دیتے ہیں ۔قصہ خوا نی قراقلی کی صرف دو دکانیں با قی رہ گئی ہیں دہشت گر دی سے متاثر پشاورکے متعدد تا جر دیگر شہریوں کو منتقل ہو گئے ہیں وہاں قراقلی کے کا روبار کی تنزلی کے باوجود اس کا روبار سے منسلک تا جر ثقافت کے زندہ امین ہیں جن کا صلہ انھیں ملنا چا ئیے ۔

قراقلی کو ” جنا ح کیپ “ بھی کہا جا تا ہے جس کو با نی پاکستان قائد اعظم محمد علی جنا ح کے نام سے منسوب کیا جا تا ہے ۔ قراقلی کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ پا کستانی کر نسی میں محمد علی جناح کی تصویر میں نمایا ں دیکھی جا سکتی ہے پاکستا نی کر نسی میں ایک روپے کے سکے سے پا نچ ہزار کے نو ٹ تک تمام تصاویر میں قراقلی واضح ہے ۔ قراقلی کی مختلف اقسام ہیں جن میں تلے والی ، سلیٹی ، کا لی اور بادامی قراقلی مشہور ہیں ۔ قراقلی کو سرکا ری ملازمین پہنتے تھے جس کی روایات بھی ختم ہو چکی ہے ۔ پا کستان پیپلز پارٹی کے بانی زولفقار علی بھٹو ، جزل ایوب خان ، جزل فضل حق اور دیگر معروف شخصیات بھی قراقلی شوق سے پہنا کر تے تھے ۔ مقامی دکانداروں نے بتا یا کہ ان تمام شخصیات کےلئے پشاور کے کاریگر اسپیشل قراقلی بناتے تھے ۔

پشاور میں بنا ئی جانے والی قراقلی امریکہ ،جاپا ن، لندن اور دیگر ممالک میں رہنے والے افراد کےلئے خصوصی آڈر پر تیار کی جا تی ہے ۔ قراقلی کی روایات کشمیری رہنما وں میں تاحال مقبول ہے ۔ حکومت کی جانب سے تاریخی اہمیت کی حامل اور پاکستانی رویات کی امین قراقلی کے فروغ کےلئے اقدامات نہ ہو نے کے برابر ہیں ۔جس جے باعث آنے والے نسلوں کو شاید قراقلی کا نام بھی یاد نہ رہے ۔ ایک وقت تھا کہ یہ رویات عام تھیں کہ ہر گھر میں بزرگوں اور خاندان کے بڑوںکے پاس قراقلی ہو تی تھی اور شاد ی بیاہ کے موقعہ پر اسے پہنا جا تا تھا

قراقلی جما عت اسلامی کے امراءباقاعدگی سے پہنتے تھے جبکہ مو جود ہ امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے یہ رویات ختم کر دی ہے۔ جما عت اسلامی کے بانی ابو اعلی مو دودی ، میاں محمد طفیل ، قاضی حسین احمد ، سید منور حسن قراقلی باقاعدہ پہنتے تھے جماعت اسلامی میں قراقلی کا رواج تا حال قائم ہے مو جود ہ امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق اپنی علاقائی روایا تی ٹوپی استعمال کر تے ہیں جس کی وجہ قراقلی کی روایات ختم ہو گئی ہے ۔

Peshawar

The Truth In The Matter Of Bahamian Politics.

The truth in the matter of Bahamian politics is that there is too much cloak and dagger episodes.

In every Administration that has led this country; and those who aspired to gain leadership, there have been controversial situations surrounding them while in political foray. 1,036 more words