Tags » Pakistan Cricket Team

Urdu Sports Blog: Pakistan Cricket Team Performance "By Chance"

پاکستان کرکٹ ٹیم پرفارمنس, بائی چانس

پاکستان کرکٹ ٹیم کے لیے یہ تاثر پایا جاتاہے کہ پاکستان ٹیم دنیا کی واحد کرکٹ ٹیم ہے جس کے لیے کچھ بھی کہنا قبل ازوقت ہے جیسے کرکٹ بائی چانس ہے ویسے ہی پاکستان کرکٹ ٹیم کی ٹیم پرفارمنس کے لیے بھی یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ ہماری ٹیم کی پرفارمنس بھی بائی چانس ہے اگر اچھا کھیلے تو بڑی سے بڑی ٹیم کو شکست دے دےدیں اور اگر نہ کھیلیں تو کسی بھی چھوٹی ٹیم سے عبرتناک شکست کھاکر سب کو حیران بھی کرسکتے ہیں .
پاکستان کرکٹ ٹیم نے دورہ اسڑیلیا 2016/17 میں 15 تا 19 دسمبر تک تین ٹیسٹ میچز کی سریز کے پہلے ٹیسٹ میں جو کھیل پیش کیا وہ قابل تعریف تھا حالانکہ پہلی اننگ میں پاکستان کرکٹ ٹیم اچھا پرفارم نہ کرسکی مگر دوسری اننگ میں لور آرڈر میں اسد شفیق اور دیگر ٹیل اینڈرز نے شائقین کرکٹ کے ہوش اڑادیے اور ایک وقت ایسا آیا کہ ایسا محسوس ہونے لگا تھا کہ پاکستان اسڑیلیا سے جیتا ہوا میچ چھین لےگا مگر جیت چند قدم دور تھی کہ ہماری ٹیم کے سارے کھلاڑی آوٹ ہوگئے.
دی گابا برسبن میں کھیلے گئے پہلے ٹیسٹ میچ کی پہلی اننگ میں اسڑیلیا نے 429 رنز اسکور کیے جس کے جواب میں پاکستان ٹیم 142 پر ڈھیر ہوگئی , اسڑیلیا نے دوسری اننگ کا آغاز 287 رنز کی برتری کے ساتھ کیا اور اپنی دوسری اننگ 202 رنز 5 کھلاڑیوں کے نقصان پر ڈیکلئیر کرکے پاکستان کو جیتنے کے لیے 490 رنز کا ہدف دیا جس کے جواب میں پاکستان ٹیم شروع میں ہی لڑکھڑا گئی اور 200 رنز سے قبل ہی آدھی ٹیم پویلین لوٹ چکی تھی ٹاپ آرڈر میں صرف اظہر علی نے مزاحمت کا مظاہرہ کیا اور 71 رنز اسکور کیے , مشکل وقت میں مڈل آرڈر پر بلے بازی کرنے والے اسد شفیق نے اپنی صلاحیتوں کا بروقت استعمال کرتے ہوے اسڑیلیا کی تیز پچ پر انکے باولرز کے چھکے چھڑادیے اور ٹیل اینڈرز کے ساتھ زمہ دارانہ اننگ کھیلتے ہوے سینچری اسکور کی جس میں انکے ساتھ محمد عامر , وہاب ریاض نے بھرپور مزاحمت کا مظاہرہ کیا , پاکستان کو جیت کے لیے 40 رنز چاہیے تھے کہ بس اسد شفیق پویلین لوٹ گئے اور یوں فتح پاکستان کے ہاتھ آتے آتے رہ گئی اور اسکے چند بالز بعد یاسر شاہ بھی وکٹ گنوا بیٹھے اور پاکستان 39 رنز سے ٹیسٹ میچ ہار گیا.
اسد شفیق نے کیرئیر کی 10 ویں اور چھٹے 6 نمبر پر کھیلتے ہوے 9ویں سینچری اسکور کرکے گیری سوبر کی 6 چھٹے نمبر پر 8 سینچری کا ریکارڈ توڑ دیا اور وہ اب پہلے نمبر پر آگئے ہیں ..

پاکستان کرکٹ ٹیم کی پہلے ٹیسٹ میچ میں پرفارمنس بہت ہی متاثر کن تھی جس میں ٹیم پرفارمنس نے شکست کے باجود ٹیم کو شاباشی دینے پر مجبور کردیا تھا, پہلے ٹیسٹ میں ہماری ٹیم ہار کر بھی قوم کا اعتماد حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئی تھی اور قوم کو ایسا لگنے لگا تھا کہ پاکستان ٹیم اس بار اسڑیلوی سرزمین پر میزبان ٹیم کو شکست دینے میں کامیاب ہو ہی جاے گی .. مگر ایسا ممکن نہ ہوسکا اور پہلے ٹیسٹ میں قوم کے ہیرو دوسرے , تیسرے ٹیسٹ میں زیرو ہوگئے..

دوسرا ٹیسٹ میچ میلبرن میں سال کے آخری ہفتے میں 26 دسمبر تا 30 دسمبر 2016 تک کھیلا گیا مگر پہلی اننگ میں اظہر علی کی ریکارڈڈبل سینچری کے باوجود میچ میں شکست پاکستان کا مقدر بنی , پاکستان ٹیم نے اپنی پہلی اننگ میں 443 رنز 9 وکٹ کے نقصان پر ڈیکلئیر کی جس میں اظہر علی کے 205 رنز اور سہیل خان کے 65 رنز , اور اسد شفیق کے 50 رنز بھی شامل ہیں, اسڑیلوی سرزمین پر ڈبل سینچری اسکور کرنے والے اظہر علی پہلے پاکستانی کرکٹر اور میلبرن کے میدان پر ڈبل سینچری اسکور کرنے والے چوتھے کھلاڑی بن گئے ہیں ,2 روز بارش کی مداخلت کے بعد باعث محسوس ہورہا تھا کہ دوسرا ٹیسٹ ڈرا ہوجاے گا مگر اسڑیلیا کی بہترین حکمت عملی اور جارحانہ کھیل نے اس کو بے نتیجہ میچ سے نتیجہ خیز میچ میں تبدیل کردیا اسڑیلیا نے دوسرے ٹیسٹ کی اپنی پہلی اننگ تیسرے روز شروع کی اور دو روز میں 624 رنز 6 کھلاڑیوں کے نقصان پر بناکر سب کو حیران کردیا جس میں کپتان اسمتھ نے 165 رنز اور وارنر نے 144 رنز اسکور کیے , پاکستان کو آخری روز اسڑیلیا کی 181 رنز کی برتری ختم کرکے پھر ٹارگیٹ دینا تھا جس سے اندازہ لگایا جارہا تھا کہ پاکستان یہ میچ باآسا نی ڈ را کردیگا مگر پہلے ٹیسٹ میچ میں سینچری بنانے والے اسد شفیق ہوں یا پھر دوسرے ٹیسٹ کی پہلی اننگ میں ڈبل سینچری اسکور کرکے ہیرو بننے والے اظہر علی ہوں اسڑیلوی بالنگ کے سامنے تمام کھلاڑی دوسرے ٹیسٹ کی دوسری اننگ میں زیرو نظر آے اسڑیلیا نے اس میچ کو نتیجہ خیز بنانے کے لیے بھرپور محنت کی اور اسڑیلیا کے بالرز نے اپنی بہترین بالنگ سے پاکستان ٹیم کو 163 رنز پر ڈھیر کرکے ایک اننگ اور 18 رنز سے شکست دےکر سریز اپنے نام کرلی ہ.دوسری اننگ میں پاکستان کی جانب سے کوئی بیٹسمین نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ نہ کرسکا سواے اظہر علی اور سرفراز احمد کے دونوں نے 43, 43 رنز اسکور کیے.

تیسرا اور آخری ٹیسٹ میچ دونوں ٹیموں کے درمیان سڈنی میں 3 جنوری سے شروع ہوا جس میں میزبان ٹیم کی جانب سے عمدہ بلے بازی کا مظاہرہ کیا گیا اور پہلی اننگ میں 8 وکٹ کے نقصان 538 رنز کا ٹوٹل بناکر اننگ ڈکلئیر کردی جس میں رین شاہ کے 184 اور وارنز کے 113 رنز شامل ہیں , پاکستان کرکٹ ٹیم نے اپنا آغاز پھر وہی ہرانے طریقے سے ہی کیا حالانکہ ٹیم میں بطور اوپنر شرجیل خان کو سمیع اسلم کی جگہ موقع دیا گیا مگر نتیجہ تبدیل نہ ہوسکا اور 6 رنز کے اسکور پر دو کھلاڑی پویلین لوٹ چکے تھے جس کے بعد اظہر علی اور یونس خان نے ٹیم کو سنبھالا اور مسلسل چار ٹیسٹ میچز میں ناکام اور بری پرفارمنس دینے والے یونس خان نے بالآخر کم بیک کیا اظہر علی اور یونس خان کے درمیان تیسری وکٹ پر 146 رنز کی شراکت داری رہی اور اظہر علی 71 رنز بناکر واپس لوٹ گئے اور اسکے بعد آنے والے کھلاڑی ریت کی دیوار ثابت ہوے اور کوئی بھی ٹک کر نہ کھیل سکا اور دوسری جانب یونس خان ڈٹے اور جمے رہے اور انکی ریکارڈ بریکنگ سینچری 175 رنز کی ناٹ آوٹ اننگ کی بدولت پاکستان کرکٹ ٹیم پہلی اننگ میں 315 رنز بناسکی .تیسرے ٹیسٹ کے چوتھے روز اسڑیلوی بلے بازوں نے 223 رنز کی برتری کے ساتھ دوسری اننگ کا آغاز کیا اور اپنی دوسری اننگ میں جارحانہ انداز میں کھیلتے ہوے 2 وکٹوں کے نقصان پر 32 آورز میں 241 رنز پر اننگ ڈکلیئر کرکے پاکستان کو جیت کے لیے 465 کا ہدف دیا , اسڑیلیا کی جانب سے عثمان خواجہ نے ناٹ آوٹ 78 رنز بناے اور اسٹیو اسمتھ نے 59 رنز اسکور کیے , ٹیسٹ میچ کے پانچویں اور آخری روز پاکستانی ٹیم 465 رنز کے ہدف کے تعاقب میں تو چل میں آیا کی طرز پر کریز پر آتے رہے اور وکٹ گنواتے رہے اور دن کے اختیتام سے قبل 244 رنز پر تمام کھلاڑی پویلین لوٹ گئے اور یوں اسڑیلیا ایک بار پھر ٹیسٹ سریز میں پاکستان کو وائٹ واش شکست دینے میں کامیاب ہوگیا اور سریز تین 3 – 0 صفر سے اپنے نام کرلی , پاکستان کی جانب سے دوسری اننگ میں سرفراز احمد نے 72 اور اظہر علی نے 40 اسکور کیے .
بہترین کاکردگی پر اسٹیو اسمتھ کو سریز کا بہترین کھلاڑی قراردیا گیا .
یونس خان نے اپنے کیرئیر کی تیز ترین 115 ٹیسٹ میچز میں 34 ویں سینچری اسکور کرکے گواسکر , برائن لارا , جئے واردینا کو پیچھے چھوڑدیا ہے اور سب سے زیادہ ٹیسٹ سینچری بنانے والے کھلاڑیوں کی فہرست میں چھٹی پوزیشن پر آگئے ہیں.پاکستان کرکٹ ٹیم اسڑیلوی سرزمین پر 21 سالوں سے شکست کا سامنا کررہی ہے آخری فتح 1996 میں حاصل کی تھی جس میں کینگروز نے پاکستان کو سریز میں 2-1 سے شکست دی تھی . پاکستان کی اسڑیلوی سرزمین پر وائٹ واش شکست پہلی نہیں اس سے قبل 2009 , 2004/5 , اور 1999میں بھی کینگروز شاہین کو وائٹ واش شکست دے چکے ہیں.
پاکستان ٹیم نے اسڑیلیا سے شکست ضرور کھائی مگر چند ایک لحاظ سے سریز میں کچھ ایسا بھی تھا جس نے مجموعی طور پر سریز کو تاریخی بنایا جو پاکستان کے لیے کافی یاد گاررہےگا جس میں اسد شفیق کی پہلے ٹیسٹ میچ کی دوسری اننگ میں 6 نمبر پر سینچری ,محمد عامر , وہاب کی بہترین بلے بازی ,
دوسرے ٹیسٹ میچ کی پہلی اننگ میں اظہر علی کی ڈبل سینچری اور سہیل خان کی جانب سے بہترین بلے بازی ,
تیسرے اور آخری ٹیسٹ میچ کی پہلی اننگ میں یونس خان کی ریکارڈ بریکنگ 34 ویں سینچری تھی .
یونس خان سڈنی میں سینچری اسکور کرکے پہلے کھلاڑی بن گئے ہیں جس نے 11 ممالک میں سینچری اسکور کی ہو , یونس خان کے اعلاوہ جئے وردینا , راہول ڈریوڈ 10,10 ممالک میں سینچریز اسکور کرچکے ہیں .
پاکستان کرکٹ ٹیم مسلسل چھ ٹیسٹ میچز ہار چکی ہے مگر شائقین کرکٹ کو یہاں مایوس ہونے کے بجاے اس ہار سے اپنی زندگی کے لیے مثبت سبق حاصل کرنا چاہیے کہ زندگی کے کسی بھی شعبہ میں کسی کڑے امتحان میں اگر ہم ہمت , حوصلہ , جرات اور بہادری کا مظاہرہ کرنے کے باوجود ناکام ہوجائیں تو دنیا ہماری ناکامی پر بھی ہمیں داد دےگی اور اگر ہم بنا کسی مقابلے کے ہی شکست سے پہلے ہی ہمت ہار جائیں گے تو دنیا ہمیں نہ صرف تنقیدکا نشانہ بناے گی کہ ہم کامیابی کے قابل نہیں ہیں بلکہ نااہل, بزدل اور کاہل بھی کہے گی کہ ہمارے اندر لڑنے کی سکت نہیں ہے.

It’s always a treat to watch Pakistan play !

Not because my forefathers hailed from Pakistan or Momina sings for Coke Studio Pakistan, I generally love to watch Pakistani Cricket team play. Also, it has got nothing to do with the fact that I love to eat Karachi naans. 541 more words

Cricket

شاہد آفریدی اور میانداد میں پھر سے دوستی

پاکستان کے سابق کپتان جاوید میانداد نے آل راؤنڈر شاہد آفریدی سے متعلق تمام الزامات واپس لے لیے ہیں جس کے بعد دونوں کے درمیان اختلافات ختم ہوگئے ہیں۔ سنیچر کے روز جاوید میانداد اور شاہد آفریدی کی ایک ویڈیو جاری کی گئی جس میں جاوید میانداد نے شاہد آفریدی کے ساتھ ہاتھ ملا کر ان سے متعلق اپنے الفاظ واپس لے لیے۔ اس موقع پر جاوید میانداد نے کہا کہ ’یہ اچھی بات ہے کہ شاہد آفریدی میرے ساتھ ہے اور یہ میرے چھوٹے بھائیوں کی طرح ہیں۔ میں نے شاہد آفریدی سے متعلق جو کچھ کہا تھا وہ غصہ میں کہا تھا لہذا میں اپنے الفاظ واپس لیتا ہوں۔‘

اس کے بعد شاہد آفریدی کا کہنا تھا کہ انھوں نے جاوید میانداد سے کبھی معافی کا مطالبہ نہیں کیا تھا کیونکہ ان کے بقول وہ ان کے سینیئر ہیں۔ تاہم شاہد آفریدی نے کہا کہ جاوید میانداد کے الفاظ سے ان کے خاندان والوں اور شائقین کو دکھ ہوا تھا لیکن اب جب جاوید میانداد نے اپنے الفاظ واپس لے لیے ہیں تو یہ ان کے چاہنے والوں اور خاندان والوں کے لیے بہت بڑی بات ہے۔ انھوں نے جاوید میانداد کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ’اگر مجھ سے کوئی غلطی ہوئی ہے اور یقیناً ہوئئ ہوگی اس پر میں معافی مانگتا ہوں۔‘ اس کے بعد دونوں نے ایک دوسرے ہاتھ ملائے اور ایک دوسرے کو میٹھائی کھلا کر اختلافات کو ختم کر دیا۔

خیال رہے کہ آل راؤنڈر شاہد آفریدی نے پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان جاوید میانداد کے خلاف عدالتی چارہ جوئی کا فیصلہ کیا تھا۔ شاہد آفریدی نے یہ فیصلہ جاوید میانداد کے ان ریمارکس کے بعد کیا تھا جن میں انھوں نے شاہد آفریدی پر مبینہ طور پر میچ فکسنگ میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا تھا۔

Pakistan

मास्टर स्ट्रोक

दोस्तों,
अभी कुछ महीने पहले की बात है जब भारतीय क्रिकेट टीम वेस्टइडींज के दौरे पे थी और पाकिस्तान टीम इंगलैंड के।
दोनों टीमों में टेस्ट क्रिकेट में न.१ बनने की होड़ थी।
भारतीय क्रिकेट प्रेमी ये मानके चल रहे थे कि टीम इडिंया आसानी से वेस्टइडींज को हरा के न.१
टीम बन जाएगी।लेकिन क्रिकेट की अनिश्चितता ने फिर कमाल किया,जहाँ भारत केवल दो ही टेस्ट जीत पाया वहीं पाकिस्तान दूसरे और तीसरे टेस्ट में मिली करारी हार के सदमे से उबर कर न केवल चौथा टेस्ट जीता अपितु सीरिज भी २–२ से ड्रा कराने में सफल हुआ।जिसके परिणाम स्वरूप पाकिस्तान भारत को पीछे छोड़कर टेस्ट क्रिकेट की शीर्ष टीम बन गयी।
किन्तु हद तो तब हो गयी जब पाकिस्तान की मीडिया ने अपने कार्टून में पाकिस्तानी कप्तान को बादशाह और विराट कोहली को वजीर के रुप में छापकर भारत का मजाक उड़ाया ।
अपने आक्रामक तेवर के लिए मशहूर विराट ने इस पर कोई प्रतिक्रिया नहीं दी अपने और टीम के गुस्से को प्रदर्शन में परिवर्तित कर दिया,और दो महीने के भीतर ही भारत ने अपनी घरेलू मैदान पे न्यूज़ीलैंड का सफ़ाया करके पाकिस्तान से न.१ का ताज छीन लिया।भारतीय टीम का शीर्ष पर पहुँचना न ही कोई इत्तफ़ाक है और न ही कोई तुक्का।ये हमारे खिलाड़ियों के कड़ी मेहनत,विराट कोहली और कोच अनिल कुम्बले की कुशल रणनीति का नतीजा है।अभी टीम इडिंया को १० टेस्ट मैच अपने ही जमीन पर खेलना है ,जिससे कि उसके ताज पर कोई विशेष खतरा नहीं है लेकिन यदि सही मायने में टीम इडिंया न.१ बनना चाहती है तो उसे विदेशों में भी मैच जीतना सीखना होगा।
इसका एक उपाय मुझे ये समझ में आता है कि जब भारत में मैच हो तो सभी मैच तेज गेंदबाजी को मदद करने वाली पिचों पर खेली जाय और जब विदेशों में मैच हो तो स्पिन गेंदबाज़ी को मदद देने वाली पिचों पर मैच हो।
इसका एक फायदा तो ये होगा कि घरुेलू टीम का लाभ कुछ कम हो जाएगा और दर्शकों का रुझान भी टेस्ट मैच में लौटेगा और मैच पूरे पाँच दिन चलेगें।

कालम पसंद आया हो तो शेयर करें।

राकेश श्रीवास्तव

Misbah gets horny

Misbah ul Haq the Pakistan test captain recently led his team to the Number 1 ranking in Test Cricket.
However, the long hours spent in the field were taking a toll on his few seconds in bed. 57 more words

Cricket

میانداد اور آفریدی آمنے سامنے

پاکستان کرکٹ میں تنازعات کوئی نئی چیز نہیں،کھلاڑیوں کے مابین اختلافات بھی ہمیشہ رہے ہیں، کبھی یہ ذاتی نوعیت کے ہوتے ہیں تو کبھی پیشہ وارانہ، پیشہ وارانہ رقابت کا تو فائدہ کھیل کے میدان میں ہوتا ہے جیسا کہ وسیم اکرم اور وقار یونس کے مابین تعلقات کشیدہ تھے تو دونوں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش میں لمبی بالنگ کرنے اور زیادہ وکٹیں لینے کی کوشش کرتے تھے اس مسابقت کا فائدہ پاکستان ٹیم کو ہوتا تھا اسی طرح سعید انور اور عامر سہیل بھی ایک دوسرے کو سپورٹ کرتے ہوئے زیادہ رنز بنانے کی کوششوں میں رہتے تھے اس مقابلہ بازی میں بھی فائدہ قومی ٹیم کا ہی ہوتا تھا۔ بعض کرکٹرز تو لمبی کرکٹ اور بہتر کاکردگی کے لیے اپنی ذات سے ہی مقابلہ کیے رکھتے تھے۔ اس فہرست میں خاصے کھلاڑی ہیں اور اس قسم کی مقابلہ بازی پر یقین رکھنے والوں نے ناصرف لمبی کرکٹ کھیلی بلکہ تاریخی کامیابیاں بھی حاصل کیں۔ حنیف محمد  فضل محمود، امتیاز احمد، اے ایچ کاردار سے شروع ہونیوالا یہ سفر آج بھی مصباح الحق اور یونس خان کی موجودگی میں جاری ہے۔

مختصر یہ کہ پیشہ وارانہ مقابلہ بازی کا فائدہ اور ذاتی اختلافات کا ہمیشہ نقصان ہوا ہے۔ ان دنوں بھی پاکستان کرکٹ میں دو کھلاڑیوں کے مابین الفاظ کی جنگ جاری ہے۔ اس مرتبہ جاوید میانداد اور شاہد آفریدی آمنے سامنے ہیں۔ ماضی کیطرح بیانات کی اس جنگ کا بھی نتیجہ کچھ نہیں نکلے گا اگر نقصان ہوا تو وہ صرف پاکستان کا ہی ہو گا۔ قومی سطح پر نفرت بڑھے گی اور بین الاقوامی سطح پر ہماری ساکھ خراب ہو گی۔ جاوید میانداد نے تو آفریدی پر میچ فکسنگ کے بھی الزامات لگائے ہیں۔ یہ الزامات بہرحال سنجیدہ نوعیت کے ہیں۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کو جاوید میانداد کے الزامات کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے اس معاملہ پر گہری نگاہ رکھنے کی ضرورت ہے۔ یہ بھی اطلاعات آ رہی ہیں کہ آفریدی نے اس معاملے پر جاوید میانداد کو قانونی نوٹس بھجوانے کا فیصلہ کیا ہے۔

گذشتہ دو روز سے سوشل میڈیا پر بھی اس حوالے سے خاصی بحث جاری ہے دونوں کھلاڑیوں کے پرستار اپنے اپنے پسندیدہ کرکٹرز کا دفاع کرتے ہوئے نظر آرہے ہیں یہ اس سے بھی زیادہ تکلیف دہ بات ہے کہ اپنے ہی ملک کے کھلاڑیوں کو اپنے ہی لوگ بڑا بھلا کہنے میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے میں کوشاں ہیں۔ دونوں کے پرستار اپنے پسندیدہ کرکٹرز کو لیجنڈ ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ دنیا بھر میں مثالی، تاریخی اور ناقابل فراموش کارکردگی کا مظاہرہ کرنیوالوں کو لیجنڈ کی حیثیت سے یاد کیا جاتا ہے۔ اس معاملے میں ٹیسٹ کرکٹ کے ریکارڈز کو ہمیشہ سے اہمیت دی جاتی رہی ہے اور دی جاتی رہے گی۔ جہاں تک کھیل کا تعلق ہے تو اس میں کوئی شک نہیں کہ جاوید میانداد حقیقی معنوں میں ایک لیجنڈ کی حیثیت رکھتے ہیں ایک روزہ اور ٹیسٹ کرکٹ میں انکے کارنامے کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں انہوں نے متعدد مواقع پر پاکستان کو تن تنہا فتح دلائی اور متعدد مواقع پر ٹیم پاکستان کو شکست سے بھی بچایا۔

انہوں نے 124 ٹیسٹ میچوں کی 189 اننگز میں 8832 رنز 57•52 کی اوسط سے سکور کیے ہیں جبکہ 233 ون ڈے میچوں کی 218 اننگز میں 7318 رنز 70•41 کی اوسط سے سکور کر رکھے ہیں۔ انکی بہت سی انفرادی اننگز یادگار اور تاریخی اہمیت کی بھی حامل ہیں۔ دنیا بھر کے ماہرین اور مبصرین انہیں ایک بہترین کرکٹر کے طور پر یاد کرتے ہیں۔ دوسری طرف شاہد آفریدی ہیں انہوں نے بھی چند ایک عالمی ریکارڈز اپنے نام کر رکھے ہیں۔ کئی ایک کامیابیاں انکی وجہ سے بھی پاکستان کو ملیں۔ 2009 کی ورلڈ ٹونٹی ٹونٹی چیمپئن شپ میں ان کی تحمل مزاجی سے بلے بازی نمایاں ہے لیکن اس ٹورنامنٹ میں کامران اکمل بھی ٹاپ سکورر رہے۔ اسکے علاوہ انفرادی طور پر محدود اوورز کی کرکٹ میں انہوں نے کئی ایک کامیابیاں تن تنہا دلائی ہیں۔ شاید آفریدی کے 27 ٹیسٹ میچوں کی 48 اننگز میں صرف 1716 رنز ہیں۔ 398 ون ڈے میچوں کی 369 اننگز میں 57•23 کی اوسط سے 8064 رنز سکور کیے ہیں اور ان میچوں میں بالنگ کرتے ہوئے 395 وکٹیں بھی حاصل کر رکھی ہیں۔

سو اس کارکردگی پر لیجنڈ قرار دیا جا سکتا ہے یا نہیں اسکا فیصلہ ہم اپنے قارئین پر چھوڑے دیتے ہیں۔ اس میں کچھ شک نہیں کہ پاکستان میں عوامی سطح پر شاہد آفریدی کی مقبولیت جاوید میانداد سے زیادہ ہے لیکن کیا عوامی مقبولیت لیجنڈ کا درجہ دینے کا پیمانہ ہے یا پھر اسکا فیصلہ کھیل کا میدان کرتا ہے۔ جہاں تک تعلق شاید آفریدی کے فئیر ویل کا ہے تو اس معاملے میں پاکستان کرکٹ بورڈ نے منصوبہ بندی کر رکھی ہے پاکستان سپر لیگ کے دوران اس حوالے سے کوئی تقریب متوقع ہے۔ شاہد آفریدی ورلڈ ٹونٹی ٹونٹی چیمپئن شپ کو اپنا آخری ٹورنامنٹ قرار دے چکے تھے پھر انہوں نے عزت سے ریٹائرمنٹ کا وہ موقع ضائع کیوں کیا۔ جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ وہ عوام کے سوا کسی کو جوابدہ نہیں۔

کیا انہیں سلیکٹ کسی عوامی سلیکشن کمیٹی نے کہا تھا، کیا وہ دنیا بھر میں کرکٹ عوام کے خرچے پر کھیلتے رہے،کیا انہیں میچوں کا معاوضہ کوئی عوامی نمائندہ دیتا رہا؟؟؟؟ یہ وہ تضادات ہیں جس وجہ سے شاہد آفریدی ایک مرتبہ پھر متنازعہ ہوئے ہیں اور انہوں نے خود ناقدین کو مختلف پہلووں پر غور کرنے اور بات کرنیکا موقع فراہم کیا ہے۔ ہماری رائے میں پاکستان کرکٹ بورڈ سے منسلک ہر کرکٹر اپنی کارکردگی کے بارے میں سب سے پہلے پی سی بی کو جوابدہ ہے کیونکہ اس بارے فیصلہ کرنیکا مجاز ادارہ وہی ہے۔ یہ تلخ حقیقت ہے کہ شاہد آفریدی ہی کیا جاوید میانداد نے بھی کھیل کے میدانوں کو قابل عزت انداز سے الوداع نہیں کہا۔ ماہرین کے مطابق جاوید میانداد نے بھی 1996 کا عالمی کپ زبردستی کھیلا۔

اگر بات کرکٹرز کے حوالے سے کی جائے تو کوئی بھی کھلاڑی کھیل سے بڑا نہیں ہوتا اور جو کچھ ان کرکٹرز نے ملک کو دیا ہے اس ملک نے ان کھلاڑیوں کو اس سے بہت بڑھکر دیا ہے۔ عزت، دولت، شہرت، نام، مقام، مرتبہ اور پرتعیش زندگی یہ سب اس ملک کی ہی دیں ہے تو کیا یہ بہتر نہیں کہ بیان بازی کرنے سے پہلے ذرا اس ملک کی عمارتوں پر یہ کچھ غور فرما لیا کریں۔ جاوید میانداد اور شاہد آفریدی کا حالیہ جھگڑا تکلیف دہ واقعات میں ایک اور اضافہ ہے۔

حافظ محمد عمران

Pakistan