Tags » Panjab

RAWALPINDI: The Punjab Home Department on Wednesday directed Punjab police to take strict action against activists of Jamaat-ud-Dawa Pakistan (JuD), an organisation which is on the UN watch list and is accused by India of being involved in the 2008 Mumbai attacks. 347 more words

PAKISTAN

Bhai Baldeep Singh Proposes Revival Of The Ghadar Party

Bhai Baldeep Singh Proposes Revival Of The Hindostan Ghadar Party

Village Saidpur, Panjāb

The original flag of the Ghadar Party

ਭਾਗ 1

It has become a nationalistic fashion to say that people, especially the minorities, should not mix religion with politics. 6,078 more words

Aam Aadmi Party

A World Cup For The Rest Of The World

Every four years, 32 of the best men’s national soccer teams play in the FIFA World Cup. But what about the hundreds of internationally unrecognized nations that want to play on the world stage too? 1,145 more words

Somaliland

لوڈ شیڈنگ، رمضان اور عوام

گذشتہ دنوں سوشیل میڈیا پر ایک سن 1985 کے آخبار کی خبر پڑھی جس میں لکھا تھا 1986 کے آ خر تک لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ کردیا جائے گا۔ تو اس بات پر یقین اور پختہ ہوگیا کے یہ کام ہماری زندگیوں میں تو ہونے والا نہیں۔ یہ جھاسے عوام کو کئی سالوں سے دیئے جارہے ہیں۔ آب تو  ابھی اور کئئ سالوں تک اور دیے جائینگے ۔ اس حکومت سے پہلے یہ   حکومتی جماعت کے منشور کا حصہ تھا کے عوام کو  بجلی کی سہولت حکومت کی پہلی ترجہی ہوگئی ۔ یہ ہی نہیں بلکہ  یہ انتخابات کی مہم کا بھی حصہ رہا  گذشتہ حکومت  یعنی اُس وقت کی موجودہ حکومت عوام کو بجلی کی سہولت دینے میں ناکام رہی ہے اور اپنی حکومت آنے پر انہیں  سڑکوں پر کھینچا جائے گا ۔ انہیں  رگڑا جائے گا۔ لیکن یہ سب انتخابات کی مہم کا  ہی  حصہ رہا  ۔بات وعدوں پر ہی تھی اور ویسے ہی آگے چلی ۔حکومت نے آتے ہی پہلے ایک سال میں اس مسلئے کو ختم کرنے کےوعدے کیے پھر یہ وعدے تین سال  اور اب یہ وعدے 2018 یعنی جب یہ حکومت ختم ہوجائے گی تب تلک چلے گئے۔ یعنی یہ بات  کے وہ وعدہ ہی کیا جو وفا ہو جائے اس پر صادق آتی ہے۔

ذکر کرتے ہیں اس وعدے کا جو وفا ہوگیا   وہ  وعدہ  یہ تھا   رمضان میں سحری ، افطاری اور تراویح کے  اوقات میں بجلی نہیں جائے گی ۔ اس میں کوئی شک نہیں کے یہ وعدہ  وفا ہوگیا ۔اور ایسا وفا ہو ا کے  آج پانچ رمضان  مبارک ہے اور ایک بھی دن ایسا نہیں گزرا ہے کے سحری اور افطاری یا تراویخ کے وقت بجلی گئی ہو۔ لیکن جیسے ہی اس وعدے کے وقت کو آدھا گھنٹہ گزرنے کو آتا ہے تووعدے کی معیاد ختم ہوجاتی ہے ۔ یعنی  سحری کے آدھے گھنٹے بعد سے جو بجلی کی آنکھ مچولی شروع ہوتی ہے وہ افطار کے وقت  تک جاری رہتی ہے۔ اس درمیان کم و بیش  8 گھنٹے شہری علاقوں میں اور 10 گھنٹے دیہی علاقوں میں بجلی  موجود ہی نہیں ہوتی۔ یہ وہ وقت ہوتا ہے جب  لوگ روزے سے ہوتے ہیں اور انہیں امید ہوتی ہے کے اس قدر گرم موسم سے بچنے کے لیے پنکھے کی ہوا  ہی غنیمت ہے اگر یہ چلتا رہے تو تھوڑ ا وقت سہل طریقے سے گزر جائے گا  ۔اس کے نیچے  انہیں کچھ سکھ کا سانس مل سکے گا  وہ اپنی نمازیں یکسوئی کے ساتھ  پڑھ  سکیں گے۔ اپنی نوافل  عبادات  انجام دے سکیں گے۔قران پڑھ سکیں گے  ۔ گھر کے کام کاج میں کچھ آسانی رہے گی ۔ لیکن اس کے برخلاف  عوام پسینے سے شرابور روزہ دار واپڈا کو برے برے  القاب سے نواز اتےنظر آتے  ہیں ۔ آدمی ،خواتین  ہوں بچے یا بوڑھے جو بھی ہوں ان کے لیے اس شدید گرمی میں یہ وقت جو بغیر بجلی کے ہوتا ہے گزارنا انتہائی دشوار ہوتا جاتا  ہے ۔ روزے کی حالت میں  وہ اس ادارے کو دعائیں اور دہائیوں سے نوازتے نظر آتے ہیں تو ایسا لگتا ہے کے اگلے سو سال تک کچھ ٹھیک ہونے والا نہیں ۔ کیونکہ اگر سب لوگ ہی جہان فانی سے کوچ کر جائیں تو یہ محکمہ چلائے گا کون ؟

اگر آپ دیکھیں تو  دوکانوں میں روزے کی حالت میں کام کرتے نوجوان  ہوں یا  گھر میں کا صفائی ستھرائی ، برتن دھونے اور روز مرہ کے کام کرتی خواتین ہوں   نئے روزے دار بچے  جو اپنا وقت گزارنے کے لیے اپنے آپ کو کسی نہ کسی  مشغلے میں مصروف رکھنا چاہتے ہیں  یا بوڑھے  جو کمزور جسمانی نطام کے باوجو د بھی اس فرض عبادت کو چھوڑنے کے لیے تیار نہیں نظر نہیں آتے نیز یہ ہر کسی کا مشترکہ مسلئہ ہے ۔  بجلی نہ ہونے کی وجہ سے کام نامکمل ہیں ۔ یا ان کی اجرت کئی گنا بڑھا دی گئی ہے جس کا بوجھ بھی برائے راست عوام پر پڑھ رہا ہے۔ چاہے آپ افطار ی لینے جاہیں یا  کسی دوکان میں کپڑے ۔ دودھ لینے جاہیں یا پھر کوئی بھی چیز ہر شخص روزے کے اوقات میں بجلی نہ ہونے کا واویلہ کرتا نظر آتا ہے ۔ او ر قابل فہم بات یہ ہے کے لوگ یہ نہیں چاہتے  بجلی نہ جائےبلکہ خواہش مند ہیں کے بجلی جائے  لیکن روزے کے اوقات میں نہ جائے تاکے عوام کچھ سکون کا سانس لے سکیں ۔ اپنے روزے کو اس کی اصلی روح کے  ساتھ گزار سکیں ۔ اپنے کام سکون کے ساتھ کرسکیں۔

بس اس ہی آنکھ مچولی کے درمیان قلم اٹھایا اور سوچا کے کچھ سطریں لکھوں  ۔  ائے حکومت وقت کے دانا لوگوں عوام کو بجلی روزے کے درمیان چاہیے ۔ یعنی عوام جب  روزے کی حالت میں ہوں   تب انہیں  تھوڑی تسکین پہنچ سکے ۔انہیں گرمی  کی شدت کم سے کم محسوس ہو۔ وہ یکسوئی کے ساتھ عبادات کرسکیں اگر یہ نہیں تو چلو انہیں کوئی ایسا لوڈشیڈنگ کا  متبادل شیڈول فراہم کیا جائے کے روزے کے اوقات میں جتنا کم ہوسکے بجلی کی لوڈ شیڈنگ کی جائے۔ عوام کو سہولت فراہم کرنا اگرنصیب میں نہیں تو کم از کم جو سہولت موجود ہے اس کو صحیح استعمال میں لاکر  تو  مسائل پر قابو پایا جاسکتا ہے ۔ لیکن شاید یہ کام بھی ہمیں ہوتا نظر نہیں آتا ۔  پانچ سے تیس روزے اس ہی پریشانی میں  گزر جاہیں گے کے روزے کے اوقات میں  بجلی نہیں ہے جبکہ روزے کے بعد بجلی سحری تک  موجود ہے۔

وہ  خبر ابھی  آنکھوں سے وجھل نہیں ہوئی  کے 1986 تک لوڈشیڈنگ پر قابو پالیا جائیگا۔ اور اب موجودہ حکمرانوں کے یہ دعوئے کے 2018 تک ہم  اس مسلئے پر قابو پالیں گے۔بس ان ماہ مبارک کی وساطت سے رب کے حضور یہ دعا ہے کے لوڈشیڈنگ اور اس جیسے کئی خود ساختہ مسائل سے اللہ پاک ہماری  جان چھڑائے ۔ اور یہ فقط وعدے نہ رہیں بلکہ عملی طور پر ہمارے حکمرانوں کو عوام کے لیے آسانیا ں اور سہولتیں پیدا کرنے کی توفیق عطا فرما ،اور اس سخت گرمی میں روزے داروں کو ہمت، طاقت دے۔

  اللہ ہمیں صبر کی توفیق عطافرمائیں ۔ آمین

فہد رزاق

kp adopt culture

پشاور( رپورٹ و تصاویر ۔شہزادہ فہد )
خیبرپختو نخوا کے باسی شادی بیاہ کے دوران جہا ں اپنے اپنے ریت و رواج کے مطابق رسوما ت ادا کر تے ہیں وہا ں ایک ایسی رسم بھی ہے جو کہ ہر قوم و نسل کے

لوگوں میں یکساں پا ئی جا تی ہے ۔ شادی بیاد کے مواقع پر دولہے کو دوست و اقارب کی جانب سے سہرا پہنایاایک معمول ہے اس رسم 1971 میں جدت آئی جب خیبر پختو نخوا کے لو گوں نے پنجاب میں سہرا بندی کے دوران نو ٹوں سے مزئین ہار پہنا نے کا رواج اپنا یا ۔ اس نئی رسم نے خیبر پختو نخوا میں جلد ی مقبو لت اختیار کرلی ۔ نو ٹوں کے سہر ے میں آ تے ہی مقا می دکا نداروں نے نت نئے تجربات شروع کر دئیے 1990 میں خیبر پختونخوا کے جنو بی اضلاع سہرے میں گھڑیا ں کا رواج عام ہوا اور تا حال یہ رواج قائم ہے ۔ شادی بیا ہ کے تقاریب میں نو ٹوں کے سہروں کے رواج کو بڑھتی ہو ئی مہنگا ئی نے ہضم کر لیا ۔ حکومت پاکستان کی جانب سے ایک روپے ، دو روپے اور پانچ روپے کرنسی نو ٹوں کے خاتمے کے ساتھ ہی سہرا بند ی میں نو ٹوں کا رواج زوال پذیر ہو ا ۔ شہرے میں کرنسی نو ٹوں کی ضرورت ہو تی ہے اور حکومت کی جانب چھو ٹے کاغذی نو ٹوں کے خاتمے کے بعد دس روپے کے نوٹ سے سہرے بنانے میں کمی واقع ہو ئی ہے شہریوں کے مطابق مہگا ئی اور بے روزگا ری کی وجہ سے دس روپے والے سہروں کو خرید نے سے قاصر ہیں ۔ صوبے بھر میں قدیمی روایت نو ٹوں والے سہروں کی جگہ چا ئینہ ڈیکوریشن تحائف نے لے لی ہے شادی بیاہ میں نو ٹوں کے رواج کے ختم ہو نے ہی شہریوں اپنے دوستو ں ، رشتہ داروں کو نقدی یا ڈیکوریشن والے تحائف دینےلگےہیں ۔ نو ٹوں والے سہروں کی ما نگ میں کمی کے بعد دکا نداروں نے ڈیکوریشن تحائف کے ساتھ کپڑے والے سہروں کو متعارف کر وایا ہے یہنو ٹوں سہرے کی نسبت انتہا ئی کم قیمت پر فروخت کئے جا تے ہیں نو ٹوں والے سہروں کی قیمت 1500 سے شروع ہو تی ہے اور اپنی مرضی کے ہزارو ں روپے اس میں لگا سکتے ہیں جبکہ کپڑے والے سہرے 30 سے 90 روپوں کے درمیان فروخت کئے جا تے ہیں اسی لئے زیا دہ تر شہریوں قو ت خرید کو مدنظر رکھتے ہوئے کپڑے والے سہروں کو ترجیح دیتے ہیں

سہروں میں ڈالر ، دینا ر، درہم لگا نے کا نیا رواج ۔۔
مہنگا ئی کی وجہ سے جہاں نو ٹوں والے سہروں کا رواج ختم ہو رہا ہے وہا ں بعض افراد سہرے میں پاکستانی کر نسی کے ساتھ دیگر ممالک کے کرنسی نو ٹوں کو سہرے میں لگا کر اپنے عزیزوں اور دستوں کو شادی بیاہ پر پہناتے ہیں ۔ دیگر ممالک کے کرنسی نو ٹوں میں ڈالر ، دینا ر ، ریا ل ، درہم اور دیگر نو ٹوں کے سہرے دولہا کے عزیز، دوست و اقاراب شو آف کے طورپر پہنا نے کا نیا رواج قائم ہو رہا ہے
دکا ندروں کے مطابق دیگر کر نسی نو ٹوں کی مانگ میں اضا فہ ہو رہا ہے

تقسیم پاکستان سے قبل قصہ خوانی میں ” کو چہ گل فروشان “
خیبر پختو نخوا میں نو ٹوں والے سہروں کے رواج سے قبل پھو لو ں کا ہار پہنایا جا تا تھا پھولوں کے بار ے میں کہا جا تا ہے کہ یہ واحد چیز ہے جو غم اور خوشی میں انسان کے ساتھ ہو تی ہے ۔ شاد ی بیاہ میں دولہے دلہن کے گھروالوں کو پھو لو ں کے سہرے پہنانے کا رواج آج بھی قائم ہے ۔ تقسیم پاکستان نے قبل پشاور کے تاریخی بازار قصہ خوا نی ایک مخصوص گلی جسے ”کو چہ گل فروشان “ کہتے تھے تا حال مو جود ہے پشاور کے دورے پر آنے والے سیا ح کو چہ گل فروشان ضرور دیکھتے لیکن شادی بیاہ میں شادی شادی ہا لوں کے رواج نے جہا ں بہت سے دیگر رسومات کو ختم کر دیا ہے وہا ں پھو لو ں کے کا روبار کر نے والے کو مشکل میں ڈال دیا ہے ۔ پھو لو ں کے سہروں میں کمی کی وجہ سے زیا دہ تر دکا ندار یہ پیشہ چھوڑ چکے ہیں ۔ پھو لو ں کا شادی بیا ہ ، فریضہ حج کی ادئیگی کے ساتھ فوتگی کے موقع پر بھی استعمال کیا جاتا ہے ۔ مہگا ئی کی وجہ سے پھو لو ں کے نرخوں میں اضافہ کے ساتھ سہروں کے نرخ بھی بڑھ گئے ہیں اور ابھی شادی بیا ہ کے موقع ہر شازر و نادر اس کا استعمال کیا جا تا ہے

پشاور میں تا حال پھولوں کے باغات ۔۔
پھو لو ں کا شہر کہلا نے والے پشاور شہر میں جہا ں باغات کی بھتا ت تھی وہا ں گلبر گ ، چارخانہ ، لنڈی ارباب میں کسان پھو لو ں کی کاشت کےلئے زمینیں اجا رہ پر لیتے تھے جو کہ ایک بڑ ی امد ن کا زریعہ ہو تا ہے۔ آباد ی میں اضافے کےساتھ پھو لو ں کے باغات کے خاتمے کے ساتھ اس کی کا شت بھی متاثر ہو ئی ہے ۔ پشاور کے نو احی علا قوں بازید خیل ، شہا ب خیل ، شیخ محمدی میں تا حال پھو لو ں کے باغات قائم ہیں ان علا قو ں کا پھول پشاور سیمت پو رے صوبے میں سپلا ئی کیا جا تا ہے پشاور میں پھو لو ں کی منڈ ی رامداس بازار میں لگا ئی جا تی ہے ۔ مضا فاتی علاقوں میں کاشت کئے جا نے والے پھو لو ںمیں گلا ب کے پھول کے ساتھ گیندے کا پھول جس میں سفید اور زرد پھو ل ہو تا ہے ، اور شبو کا پھو ل قابل ذکر ہیں یہ پھو ل شادہ بیاہ اور فوتگی میں سہروں میں پیروئے جا تے ہیں اور یہاں کے پھول پو رے صو بے میں گل فروشوں کو بھجوائے جا تے ہیں

Peshawar