پشاور( رپورٹ و تصاویر ۔شہزادہ فہد )
خیبرپختو نخوا کے باسی شادی بیاہ کے دوران جہا ں اپنے اپنے ریت و رواج کے مطابق رسوما ت ادا کر تے ہیں وہا ں ایک ایسی رسم بھی ہے جو کہ ہر قوم و نسل کے

لوگوں میں یکساں پا ئی جا تی ہے ۔ شادی بیاد کے مواقع پر دولہے کو دوست و اقارب کی جانب سے سہرا پہنایاایک معمول ہے اس رسم 1971 میں جدت آئی جب خیبر پختو نخوا کے لو گوں نے پنجاب میں سہرا بندی کے دوران نو ٹوں سے مزئین ہار پہنا نے کا رواج اپنا یا ۔ اس نئی رسم نے خیبر پختو نخوا میں جلد ی مقبو لت اختیار کرلی ۔ نو ٹوں کے سہر ے میں آ تے ہی مقا می دکا نداروں نے نت نئے تجربات شروع کر دئیے 1990 میں خیبر پختونخوا کے جنو بی اضلاع سہرے میں گھڑیا ں کا رواج عام ہوا اور تا حال یہ رواج قائم ہے ۔ شادی بیا ہ کے تقاریب میں نو ٹوں کے سہروں کے رواج کو بڑھتی ہو ئی مہنگا ئی نے ہضم کر لیا ۔ حکومت پاکستان کی جانب سے ایک روپے ، دو روپے اور پانچ روپے کرنسی نو ٹوں کے خاتمے کے ساتھ ہی سہرا بند ی میں نو ٹوں کا رواج زوال پذیر ہو ا ۔ شہرے میں کرنسی نو ٹوں کی ضرورت ہو تی ہے اور حکومت کی جانب چھو ٹے کاغذی نو ٹوں کے خاتمے کے بعد دس روپے کے نوٹ سے سہرے بنانے میں کمی واقع ہو ئی ہے شہریوں کے مطابق مہگا ئی اور بے روزگا ری کی وجہ سے دس روپے والے سہروں کو خرید نے سے قاصر ہیں ۔ صوبے بھر میں قدیمی روایت نو ٹوں والے سہروں کی جگہ چا ئینہ ڈیکوریشن تحائف نے لے لی ہے شادی بیاہ میں نو ٹوں کے رواج کے ختم ہو نے ہی شہریوں اپنے دوستو ں ، رشتہ داروں کو نقدی یا ڈیکوریشن والے تحائف دینےلگےہیں ۔ نو ٹوں والے سہروں کی ما نگ میں کمی کے بعد دکا نداروں نے ڈیکوریشن تحائف کے ساتھ کپڑے والے سہروں کو متعارف کر وایا ہے یہنو ٹوں سہرے کی نسبت انتہا ئی کم قیمت پر فروخت کئے جا تے ہیں نو ٹوں والے سہروں کی قیمت 1500 سے شروع ہو تی ہے اور اپنی مرضی کے ہزارو ں روپے اس میں لگا سکتے ہیں جبکہ کپڑے والے سہرے 30 سے 90 روپوں کے درمیان فروخت کئے جا تے ہیں اسی لئے زیا دہ تر شہریوں قو ت خرید کو مدنظر رکھتے ہوئے کپڑے والے سہروں کو ترجیح دیتے ہیں

سہروں میں ڈالر ، دینا ر، درہم لگا نے کا نیا رواج ۔۔
مہنگا ئی کی وجہ سے جہاں نو ٹوں والے سہروں کا رواج ختم ہو رہا ہے وہا ں بعض افراد سہرے میں پاکستانی کر نسی کے ساتھ دیگر ممالک کے کرنسی نو ٹوں کو سہرے میں لگا کر اپنے عزیزوں اور دستوں کو شادی بیاہ پر پہناتے ہیں ۔ دیگر ممالک کے کرنسی نو ٹوں میں ڈالر ، دینا ر ، ریا ل ، درہم اور دیگر نو ٹوں کے سہرے دولہا کے عزیز، دوست و اقاراب شو آف کے طورپر پہنا نے کا نیا رواج قائم ہو رہا ہے
دکا ندروں کے مطابق دیگر کر نسی نو ٹوں کی مانگ میں اضا فہ ہو رہا ہے

تقسیم پاکستان سے قبل قصہ خوانی میں ” کو چہ گل فروشان “
خیبر پختو نخوا میں نو ٹوں والے سہروں کے رواج سے قبل پھو لو ں کا ہار پہنایا جا تا تھا پھولوں کے بار ے میں کہا جا تا ہے کہ یہ واحد چیز ہے جو غم اور خوشی میں انسان کے ساتھ ہو تی ہے ۔ شاد ی بیاہ میں دولہے دلہن کے گھروالوں کو پھو لو ں کے سہرے پہنانے کا رواج آج بھی قائم ہے ۔ تقسیم پاکستان نے قبل پشاور کے تاریخی بازار قصہ خوا نی ایک مخصوص گلی جسے ”کو چہ گل فروشان “ کہتے تھے تا حال مو جود ہے پشاور کے دورے پر آنے والے سیا ح کو چہ گل فروشان ضرور دیکھتے لیکن شادی بیاہ میں شادی شادی ہا لوں کے رواج نے جہا ں بہت سے دیگر رسومات کو ختم کر دیا ہے وہا ں پھو لو ں کے کا روبار کر نے والے کو مشکل میں ڈال دیا ہے ۔ پھو لو ں کے سہروں میں کمی کی وجہ سے زیا دہ تر دکا ندار یہ پیشہ چھوڑ چکے ہیں ۔ پھو لو ں کا شادی بیا ہ ، فریضہ حج کی ادئیگی کے ساتھ فوتگی کے موقع پر بھی استعمال کیا جاتا ہے ۔ مہگا ئی کی وجہ سے پھو لو ں کے نرخوں میں اضافہ کے ساتھ سہروں کے نرخ بھی بڑھ گئے ہیں اور ابھی شادی بیا ہ کے موقع ہر شازر و نادر اس کا استعمال کیا جا تا ہے

پشاور میں تا حال پھولوں کے باغات ۔۔
پھو لو ں کا شہر کہلا نے والے پشاور شہر میں جہا ں باغات کی بھتا ت تھی وہا ں گلبر گ ، چارخانہ ، لنڈی ارباب میں کسان پھو لو ں کی کاشت کےلئے زمینیں اجا رہ پر لیتے تھے جو کہ ایک بڑ ی امد ن کا زریعہ ہو تا ہے۔ آباد ی میں اضافے کےساتھ پھو لو ں کے باغات کے خاتمے کے ساتھ اس کی کا شت بھی متاثر ہو ئی ہے ۔ پشاور کے نو احی علا قوں بازید خیل ، شہا ب خیل ، شیخ محمدی میں تا حال پھو لو ں کے باغات قائم ہیں ان علا قو ں کا پھول پشاور سیمت پو رے صوبے میں سپلا ئی کیا جا تا ہے پشاور میں پھو لو ں کی منڈ ی رامداس بازار میں لگا ئی جا تی ہے ۔ مضا فاتی علاقوں میں کاشت کئے جا نے والے پھو لو ںمیں گلا ب کے پھول کے ساتھ گیندے کا پھول جس میں سفید اور زرد پھو ل ہو تا ہے ، اور شبو کا پھو ل قابل ذکر ہیں یہ پھو ل شادہ بیاہ اور فوتگی میں سہروں میں پیروئے جا تے ہیں اور یہاں کے پھول پو رے صو بے میں گل فروشوں کو بھجوائے جا تے ہیں