Tags » Panjab

Karmwal- a small village surrounded by mighty Margalla Hills East as well as Northern side and Tanks factory on Western side mostly comprising population with construction laborers   as well as low paid employees of local defense industries was not known to the people of the area until a five feet man raised in the area and formed his gang known as “Karamwali gang“ comprising his two brothers, friends and some natives of same village with same mindset.  671 more words

PAKISTAN

ٹیکسلا پولیس کی بخل میں ڈکیتوں کی من موجیاں جاری ۔ پولیس ششدر ،اقدام سے قاصر۔

ٹیکسلا ( بیورو رپورٹ)جمیل آباد سٹاپ پر ڈکیتی کی واردات۔ نوجوان 25 ہزار روپے نقدی اور قیمتی موبائل سے محروم۔ڈاکو سادہ کپڑوں میں پولیس والا ظاہر کر کے لوٹنے کے بعد فرار۔اہل علاقہ میں خوف و ہراس کی فضا قائم ۔تفصیلات کے مطابق عبداللہ ولد عزیز اللہ جو کہ ٹمبر مارکیٹ کا رہائشی ہے نے میڈیا کو بتایا کہ وہ کریانہ کی دکان چلاتا ہے جمیل آباد سٹاپ پر خریداری کی غرض سے مارکیٹ جا رہا تھا کہ گاڑی نمبر JS107 پر سوار سادہ کپڑوں میں ملبوس 2 ڈاکو جنھوں نے خود کو پولیس والا ظاہر کیااور ہاتھوں میں اسلحہ اور ہتھکڑیاں بھی پکڑ رکھی تھیں عبد اللہ کو روکا اور تلاشی کی مد میں اس کی جیب سے 25 ہزار روپے نقد اور ایک عدد قیمتی موبائل لے کر گاڑی میں بٹھایا اور کچھ دور جا کر اسے گاڑی سے اتار دیا اور فرار ہو گئے جب اس بابت تھانہ ٹیکسلا سے رابطہ کیا گیا تو ایس ایچ او نے ان کے بارے میں ں لا علمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پولیس کا کوئی ملازم ایسا نہیں ہے یہ نوسربازی کی واردات کر ہے تھانہ ٹیکسلا میں درخواست جمع کر دی گئی ہے ۔تاکہ ڈکیتوں کے وبال سے جان چڑائی جاسکے۔ یاد رہے کہ تھانہ ٹیکسلا پہلے ڈکیتوں کے ناسور سے جان چڑانے میں ناکام ہے۔ دن دہاڑے کی یہ وارداتیں یہ ثابت کرتی ہیں کہ پولیس یا نااہل ہوچکی ہے یا اس پورے سلسلے کا حصہ ہے ایسے کیسے ہوسکتا ہے کہ پولیس کی بخل میں ڈکیٹ من موجیاں مارتے پھریں اور پولیس صرف یہ کہہ کر جان چڑا لے کہ قانونی کاروائی ہوگی ۔ یہ قانون کاروائی ان افسران کے خلاف ہونی چاہیے جن یہ ذمیداری ہے کہ وہ امن کو قائم رکھیں ۔

تھانہ ٹیکسلاسمیت پورے سرکل میں تبدیلی متوقع ۔ ذرائع۔ ڈکیتوں کی یلغار نے ٹیکسلا کے شہریوں کی نیندیں حرام کر دیں ہیں۔ تھانہ کے عملے سمیت پورے انفراسٹریکچر کی تبدیلی کی ضرورت ہے عوامی رائے ۔

ٹیکسلا (تو قیر خان سے ) پولیس ٹیکسلا واہ سرکل میں پورے اسٹریکچر میں تبدیلی متوقع ۔ذرائع کے مطابق تھانہ واہ صدر ،تھانہ ٹیکسلا اور ٹیکسلا سرکل کے بنیادی عہدوں میں تبدیلی پر غور و خوض ۔ ٹیکسلا میں ہونے والی خونی واردات جس میں تھانہ ٹیکسلا کی حدو د میں نوجوان کی اندوناک ہلاکت کے غم نےپورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا ۔اس واقعے کی گونج اعلی ایوانوں میں بھی سنائی گئی جس کا ردعمل یہ آیا کہ فورا تھانہ ٹیکسلا اور متعلقہ چوکی کے ذمیداران کو ان کے عہدوں سے ہٹا دیا گیا۔ لیکن اس کاروائی سے حالات سنبھلنے کے بجائے ابتر صورت ا ختیار کر چکے ہیں قاتل ڈکیتوں کی دلیری دیکھیں ایک نوجوان کی جان لینے کے بعد بھی اپنی کاروائیوں سے باز نہیں آئے اور ڈکیتیوں کا سلسلہ تاحال جاری رکھا ہوا۔ ذرائع کا کہنا کہ اس وقت ایس ایچ او ٹیکسلا کی تعیناتی ایک مشکل ترین فیصلہ بن چکی ہے کہ تھانہ ٹیکسلا کے مشکل حالات کو سنبھالنے کے لیے یہ ذمیداری کس کو دی جائے۔ اعلی افسران سر جوڑ کر بیٹھے لیکن حتمی فیصلے تک نہ پہنچ سکے اس وقت یہ بات زبان زد عام ہے کہ ایس ایچ او ٹیکسلا کی تعیناتی میں دیر سمجھ سے بالاتر ہے ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بات ایس ایچ او سے بھی آگے نکل چکی ہے اور اب ہ پورے ٹیکسلا سرکل کو ری شیڈول کیا جارہا ہے ۔ تاکہ عوام کے غصے اور بد امنی کی صورت حال پر جلد از جلد قابو پایا جاسکے۔ موجودہ صورت حال میں ٹیکسلا پولیس کے ہاتھ پاوں سوجن کا شکا ر ہوچکے ہیں اور انکے پا س مسائل کے حل کا کوئی راستہ نہیں ۔ عوامی حلقوں کی شدید احتجاج کو سامنے رکھتے ہوئے اعلی سطحی فیصلے سامنے آنے کی نوید سنائی جارہی ہے ۔ ذرائع نے یہ واضع کیا ہے کہ ٹیکسلا سرکل میں فرض شناس افسران کی تعیناتی کے لیے مختلف ناموں پر غور غوض شروع ہے جس کا فیصلہ چند دنوں میں سامنے آجائے گا۔ اور ٹیکسلا کی عوام کے دیرینہ مطالبہ( پر امن ٹیکسلا ) کو جلد بحال کر دیا جائے گا۔ اس سلسلے میں موجودہ مقامی قیادت بھرپور کوششوں میں ہیں کہ وہ اس حلقے کی سیکورٹی کی ذمیداری اچھی شہرت کے عامل افسران کے ہاتھ میں دیں۔تاکہ قاتل ڈکیتوں کو قانوں کے کٹہرے میں لایا جاسکے۔ اس سلسلے میں سی پی اوآفس،پنجاب ہاوس، اور مقامی قیادت مکمل رابطے میں ہیں۔ تاکہ افسران کی تقرری میں کوئی قدغن نہ چوڑی جاسکے۔ اس ضمن میں یہ رائے بھی سامنے آ رہی ہے کہ موجودہ پولیس انفرانسٹریکچر ،عملے کی تعداد سمیت پولیسنگ کے حوالے سے بنیادی ضروریات جس میں جدید آلات سے لیس اسلحہ ،پولیسنگ کے لیے گاڑیوں سمیت تمام بنیادی ضروریات پر بھی غور کیا جائے چوکیوں میں عملہ نہ ہونے کے برابر ہے ۔ یہ ہی بنیادی وجہ ہے جس سے امن وامان کو قائم کرنا مشکل ہے ۔ نفری کی کمی کی وجہ سے چوکیاں اپنی حدود کی پولیسنگ کرنے سے قاصر ہیں ۔ ان تمام پہلوں پر نظرثانی ہونی چاہیے ۔ تاکہ سیکورٹی کی ناقص صورت حال کو جلد از جلد بہتر کیا جاسکے ۔

TAXILA: A police officer in Hassanabdal has made a video where he threatens to shoot himself in protest because he has been denied a promotion for 24 years. 310 more words

PAKISTAN

People demands to protect the citizen form robbers.

Taxila: Robbery  report in routine to all surrounding of the Taxila City. People of the City wants to prevent before the  lose. 212 more words

PAKISTAN

ਔਰਤ ਤੇ ਮਰਦ

Jo ethe likh rahi haan oh bas ik pehlu ae, saara sach ni, jehda thoda sohna sach da tukda ae, bas oh ethe likh rahi haan.. 30 more words

ਸ਼ਾਮ ਦੇ ਰੰਗ

ਹੋਰ ਵੀ ਗੂੜੇ ਹੋ ਜਾਂਦੇ ਨੇ ਤੇਰੇ ਖ਼ਿਆਲ
ਜਦ ਸ਼ਾਮ ਪੈਂਦੀ ਐ
ਤੇ ਪੰਛੀ ਆਲਣਿਆਂ ਨੂੰ ਮੁੜਣ ਲਗਦੇ ਨੇ
ਜਿਵੇਂ ਸੂਰਜ ਦੇ ਜਾਣ ਲੱਗਿਆਂ
ਗੂੜੇ ਰੰਗਾਂ ਨਾਲ਼
ਅੰਬਰ ਅਜੀਬ ਜਿਹਾ ਅਮੀਰ ਲੱਗਣ ਲੱਗ ਪੈਂਦਾ ਐ
ਓਹੋ ਜਿਹੀ ਅਮੀਰ ਹੋ ਜਾਂਦੀ ਹਾਂ ਮੈਂ
ਤਿਰਕਾਲਾਂ ਨੂੰ ਤੇਰੀਆਂ ਯਾਦਾਂ ਦੇ ਖ਼ੁਸ਼ਨੁਮਾ ਰੰਗਾਂ ਨਾਲ਼