لاہور(بیورورپورٹ)لاہور ہائی کورٹ نے وزیراعظم کے مشیروں کو کام سے روکنے کی استدعا مسترد کر دی، چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس سید منصور علی شاہ نے کہا ہے کہ پہلے وفاقی حکومت کا موقف سنیں گے پھر فیصلہ کریں گے چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے وزیراعظم کے مشیروں کی تفصیلات بھی طلب کر لی ہیں۔چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ مشیر وزیر کے اختیارات استعمال نہیں کر سکتا۔ چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے خدائی خدمت گار تنظیم کی جانب سے دائر درخواست کی سماعت کی۔عدالت کو بتایا گیا کہ آئین کے تحت وزیراعظم پانچ سے زائد مشیر نہیں رکھ سکتے لیکن وزیراعظم نے لاتعداد مشیر رکھے ہوئے ہیں اور حال ہی میں سردار مہتاب عباسی کو بھی مشیر ہوا بازی کادرجہ دیا گیا ہے اور ساتھ یہ بھی کہا گیا کہ وہ وفاقی وزیر کے عہدے کا مکمل اختیار استعمال کر سکتے ہیں اس موقع پر چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ سید منصور علی شاہ نے کہا کہ وزیر اعظم آئین سے تجاوز نہیں کر سکتے یہاں یہ عدالتیں موجود ہیں آئین موجود ہے قانون موجود ہے۔چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے درخواست باقاعدہ سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے وزیراعظم سے آئندہ سماعت پر مشیروں کی تفصیلات طلب کر لیں تاہم عدالت نے وزیر اعظم کے مشیروں کو فوری طور پر کام سے روکنے کی استدعا مسترد کر دی۔عدالت نے کیس کی مزید سماعت 27 فروری تک ملتوی کر دی۔