Tags » Point To Ponder

مولویوں کی تنخواہ آج ہمارے معاشرے میں سب سے کم کیوں؟؟؟؟؟؟

*ﻣﻮﻟﻮﯼ ﮐﯽ ﺑﯿﭩﯿﺎﮞ*

5 ﺫﯼ ﺍﻟﺤﺞ ﮐﻮ ﺑﮍﯼ ﺑﯿﭩﯽ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﺑﺎﺑﺎ ﻋﯿﺪ ﻣﯿﮟ ﭘﺎﻧﭻ ﺩﻥ ﺭﮦ ﮔﺌﮯ ﮨﯿﮟ ﮨﻢ ﻧﮯ ﮐﭽﮫ ﺑﮭﯽ ﺧﺮﯾﺪﺍﺭﯼ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯽ
ﻣﻮﻟﻮﯼ ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﺍﭼﮭﺎ ﻣﯿﺮﺍ ﭘﺘﺮ !!!
ﺍﺑﮭﯽ ﺑﮩﺖ ﺩﻥ ﮨﯿﮟ ﺧﺮﯾﺪ ﻟﯿﮟ ﮔﮯ ﭼﺎﻧﺪ ﺭﺍﺕ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﻗﺒﻞ ﺳﺐ ﮐﭽﮫ ﻟﮯ ﻟﯿﮟ ﮔﮯ
ﻣﻮﻟﻮﯼ ﺻﺎﺣﺐ ﯾﮧ ﺑﺎﺕ ﮐﺮﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ﮐﮧ ﺁﺫﺍﻥ ﺳﻨﺎﺋﯽ ﺩﯼ ﻣﻮﻟﻮﯼ ﺻﺎﺣﺐ ﺟﻮ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﺑﯿﭩﯽ ﮐﻮ ﺟﮭﻮﭨﯽ ﺗﺴﻠﯽ ﺩﯾﻨﮯ ﭘﺮ ﺷﺮﻣﻨﺪﮔﯽ ﺳﮯ ﺟﮭﮑﺎﺋﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻧﮑﻮ ﻣﻮﻗﻊ ﻣﻞ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﺴﺠﺪ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﭼﻞ ﺩﺋﮯ
ﻋﯿﺪ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﻗﺒﻞ ﺟﺐ ﻣﻮﻟﻮﯼ ﺻﺎﺣﺐ ﮨﺮ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ ﻧﺎﺍﻣﯿﺪ ﮨﻮﮔﺌﮯ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﻣﺎﻧﮕﻨﮯ ﺳﮯ ﻋﺰﺕ ﻧﻔﺲ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻗﺮﺽ ﻟﯿﻨﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﻭﺍﭘﺴﯽ ﮐﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﻣﻤﮑﻦ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺩ ﺳﮯ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﺗﻮﻓﯿﻖ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺋﯽ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﻣﻮﻟﻮﯼ ﺻﺎﺣﺐ ﮐﮯ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﮯ ﮐﻮﻧﺴﮯ ﺩﻝ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﻣﭽﻠﺘﮯ ﮨﻮﮞ ﺍﻧﮑﮯ ﮐﻮﻧﺴﮯ ﺍﺣﺴﺎﺳﺎﺕ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﻭﮦ ﮐﻮﻧﺴﺎ ﻓﯿﻠﻨﮓ ﺭﮐﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﮐﻮﻧﺴﺎ ﺑﺎﮨﺮ ﻧﮑﻠﻨﺎ ﮨﮯ
ﺗﻮ ﻣﻮﻟﻮﯼ ﺻﺎﺣﺐ ﺟﻮ ﮐﮧ ﺗﺎﻭﯾﻠﻮﮞ ﮐﮯ ﺑﮯ ﺗﺎﺝ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺗﮭﮯ ﺩﻟﯿﻞ ﺗﻮ ﺍﻧﮑﮯ ﮔﮭﺮ ﮐﯽ ﻟﻮﻧﮉﯼ ﺗﮭﯽ ﺳﻤﺠﮭﺎﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﺗﻮ ﻣﺎﮨﺮ ﺗﮭﮯ ﺟﺐ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﻧﺘﻈﺎﻡ ﻧﮧ ﮨﻮﺍ ﺗﻮ ﺳﻮﭼﺎ ﺁﺝ ﺟﺘﻨﯽ ﻣﻨﻄﻖ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﺘﻘﺮﺍﺀ ﻗﯿﺎﺱ ﭘﮍﮬﺎ ﮨﮯ ﺳﺐ ﮐﻮ ﺑﺮﻭﺋﮯ ﮐﺎﺭ ﻻﮐﺮ ﺑﯿﭩﯽ ﮐﻮ ﻗﺎﺋﻞ ﮐﺮﻭﮞ ﮔﺎ ﮐﮧ ﺑﯿﭩﺎ ﺑﮍﯼ ﻋﯿﺪ ﭘﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﮐﭙﮍﮮ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﮩﻨﺘﺎ ﯾﮧ ﺗﻮ ﻗﺮﺑﺎﻧﯽ ﮐﯽ ﻋﯿﺪ ﮨﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﺩﮬﮍﮐﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺑﯿﭩﯽ ﺑﮭﯽ ﺗﻮ ﻣﻮﻟﻮﯼ ﮐﯽ ﮨﮯ ﯾﮧ ﮐﮩﮧ ﺩﯾﺎ ﮐﮧ ﻗﺮﺑﺎﻧﯽ ﺑﮭﯽ ﺗﻮ ﺁﭖ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺭﮨﮯ
ﺧﯿﺮ ﺳﺎﺭﺍ ﻋﻠﻢ ﻣﺴﺘﺤﻀﺮ ﮐﺮﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﮔﯿﺎ ﺗﻮ ﺑﯿﭩﯿﺎﮞ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﭘﺮﭼﯿﺎﮞ ﻟﯿﮑﺮ ﻣﻨﺘﻈﺮ ﺗﮭﯿﮟ ﮐﮧ ﺑﺎﺑﺎﺟﺎﻥ ﻧﮯ ﺁﺝ ﮐﺎ ﻭﻋﺪﮦ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﮨﻤﯿﮟ ﻣﻄﻠﻮﺑﮧ ﭼﯿﺰﯾﮟ ﻻﺩﯾﮟ ﮔﮯ
ﺟﯿﺴﮯ ﻣﻮﻟﻮﯼ ﺻﺎﺣﺐ ﮐﮭﻨﮕﻮﺭﺍ ﻣﺎﺭﺗﮯ ﺩﺍﺧﻞ ﮨﻮﺋﮯ ﺗﻮ ﻣﻮﻟﻮﻥ ﺳﻤﺠﮫ ﭼﮑﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﺑﯿﭩﻮﮞ ﮐﮯ ﺩﻝ ﭨﻮﭨﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺟﻠﺪﯼ ﺳﮯ ﮔﺌﯽ ﭘﯿﺎﺯ ﻟﮯ ﺁﺋﯽ ﮐﮧ ﭘﯿﺎﺯ ﮐﺎﭨﻨﮯ ﮐﮯ ﺑﮩﺎﻧﮯ ﺁﻧﺴﻮ ﺑﮩﺎ ﻟﮯ ﮔﯽ
ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﻣﺎﮞ ﺗﻮ ﻣﺎﮞ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ﺍﺳﮑﮯ ﺁﻧﺴﻮ ﺍﻭﻻﺩ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺗﻮ ﭘﻠﮑﻮﮞ ﮐﯽ ﻣﻨﮉﯾﺮ ﭘﺮ ﮨﯽ ﺑﺴﯿﺮﺍ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﻟﯿﮑﻦ ﻭﮦ ﺑﯿﭩﯿﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺷﻮﮨﺮ ﮐﻮ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﭖ ﺑﯿﭩﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﭨﻮﭨﺘﺎ ﻧﮧ ﺩﯾﮑﮫ ﺳﮑﮯ
ﻣﻮﻟﻮﯼ ﺻﺎﺣﺐ ﺑﯿﭩﮭﮯ ﺗﻮ ﭼﮭﻮﭨﯽ ﺁﻧﮯ ﻟﮕﯽ ﮐﮧ ﭘﺮﭼﯽ ﺗﮭﻤﺎﻭﻭﮞ
ﻣﻮﻟﻮﯼ ﺻﺎﺣﺐ ﻧﻈﺮﯾﮟ ﺟﮭﮑﺎﺋﮯ ﺟﺮﺍﺑﯿﮟ ﺍﺗﺎﺭﻧﮯ ﻟﮕﮯ ﺍﻭﺭ ﭨﻮﭘﯽ ﻟﭙﯿﭧ ﮐﮯ ﺭﮐﮭﯽ ﺟﻮ ﮐﮧ ﻋﻼﻣﺖ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﺍﺳﮑﮯ ﺑﻌﺪ ﺑﺎﮨﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺎﻧﺎ ﮐﮧ ﺍﭼﺎﻧﮏ ﭼﮭﻮﭨﯽ ﮐﻮ ﺑﮍﯼ ﺑﯿﭩﯽ ﺑﺎﺯﻭ ﺳﮯ ﭘﮑﮍﺗﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮯ ﺍﺷﺎﺭﮮ ﺳﮯ ﺭﻭﮐﺘﯽ ﮨﮯ ﺍﺳﮑﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﺳﮯ ﭘﺮﭼﯽ ﻟﯿﮑﺮ ﺍﭘﻨﯽ ﭘﺮﭼﯽ ﻣﯿﮟ ﺭﮐﮫ ﮐﺮ ﭼﭙﮑﮯ ﺳﮯ ﭼﭩﺎﺋﯽ ﮐﮯ ﻧﯿﭽﮯ ﭼﮭﭙﺎﺗﯽ ﮨﮯ
ﯾﮧ ﺳﺐ ﻣﻮﻟﻮﯼ ﺻﺎﺣﺐ ﮐﻦ ﺍﮐﮭﯿﻮﮞ ﺳﮯ ﺩﯾﮑﮫ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﻧﮧ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﮐﯽ ﮐﻤﺎﻝ ﻓﻨﮑﺎﺭﯼ ﮐﺮﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ﻣﻮﻟﻮﻥ ﮐﮯ ﺁﻧﺴﻮ ﭘﯿﺎﺯ ﮐﮯ ﺑﮩﺎﻧﮯ ﺳﯿﻞ ﺭﻭﺍﮞ ﺑﻨﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺗﮭﮯ ﻣﻮﻟﻮﯼ ﺻﺎﺣﺐ ﮐﺎ ﺳﺎﺭﺍ ﻋﻠﻢ ﺯﯾﺮﻭ ﮨﻮﮔﯿﺎ ﺍﺳﮯ ﻟﮕﺎ ﺟﯿﺴﮯ ﻭﮦ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺟﺎﮨﻞ ﺍﺟﮉ ﺍﻭﺭ ﮔﻨﻮﺍﺭ ﮨﮯ
ﺍﺱ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﮐﮧ ﻣﻮﻟﻮﯼ ﺻﺎﺣﺐ ﮐﭽﮫ ﮐﮩﺘﮯ ﺗﻮ ﺑﯿﭩﯽ ﺑﻮﻟﯽ ﺑﺎﺑﺎ ﺟﺎﻥ ﮐﻞ ﮨﻢ ﻧﮯ ﻧﺌﮯ ﮐﭙﮍﮮ ﻧﮩﯿﮟ ﻟﯿﻨﮯ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺑﮍﯼ ﻋﯿﺪ ﺗﻮ ﻗﺮﺑﺎﻧﯽ ﮐﯽ ﻋﯿﺪ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﻞ ﺁﭖ ﻧﮯ ﭼﺎﭼﻮ ﮐﮯ ﺩﻭ ﺑﯿﮍﮮ ‏( ﺑﭽﮭﮍﮮ ‏) ﺑﮭﯽ ﺗﻮ ﮐﺮﻧﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﮨﻢ ﻧﮯ ﻭﮨﺎﮞ ﺁﭘﮑﻮ ﺑﯿﮍﮮ ﮐﺮﺗﮯ ﺩﯾﮑﮭﻨﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺳﺎﺭﺍ ﺩﻥ ﺗﻮ ﻗﺮﺑﺎﻧﯽ ﻣﯿﮟ ﻟﮓ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ ﮨﻢ ﮐﭙﮍﮮ ﮐﺲ ﻭﻗﺖ ﭘﮩﻨﯿﮟ ﮔﮯ ؟؟؟
ﭼﮭﻮﭨﯽ ﻋﯿﺪ ﮐﮯ ﭘﮍﮮ ﮨﻮﺋﮯ ﮨﯿﮟ ﻭﮨﯽ ﭘﮩﻦ ﻟﯿﮟ ﮔﮯ ﻭﮦ ﺳﺎﺭﮮ ﺩﻻﺋﻞ ﺟﯿﺴﮯ ﮐﺎﭘﯽ ﭘﯿﺴﭧ ﮐﺌﮯ ﮨﻮﮞ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﯽ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻋﺎﻟﻢ ﻓﺎﺿﻞ ﺍﻭﺭ ﺳﻤﺠﮭﺪﺍﺭ ﺑﯿﭩﯽ ﮨﯽ ﻟﮕﯽ
ﺑﯿﭩﯽ ﮐﯽ ﯾﮧ ﺑﺎﺕ ﺳﻦ ﮐﺮ ﻣﻮﻟﻮﯼ ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﻧﻈﺮﯾﮟ ﺍﭨﮭﺎﺋﯽ ﺍﯾﮏ ﻧﻈﺮ ﺑﯿﭩﯽ ﮐﮯ ﭼﮩﺮﮮ ﭘﺮ ﮈﺍﻟﯽ ﮐﭽﮫ ﺩﯾﺮ ﮐﻮ ﮔﺮﺩﻥ ﻓﺨﺮ ﺳﮯ ﺗﻦ ﮔﺌﯽ ﺍﭘﻨﯽ ﭘﮓ ﮐﺎ ﺷﻤﻠﮧ ﺍﻭﻧﭽﺎ ﺑﮩﺖ ﺍﻭﻧﭽﺎ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮨﻮﺍ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﮔﻠﮯ ﻟﻤﺤﮯ ﮨﯽ ﺑﭽﯿﻮﮞ ﮐﯽ ﻣﻌﺼﻮﻣﺎﻧﮧ ﺧﻮﺍﮨﺸﺎﺕ ﮐﺎ ﯾﻮﮞ ﺧﻮﺩ ﮐﺸﯽ ﮐﺮﻧﺎ ﺍﺳﮑﻮ ﺗﻮﮌ ﮔﺌﯽ ﺍﺳﮯ ﺍﭘﻨﺎ ﺁﭖ ﺑﮯ ﺗﺤﺎﺷﮧ ﻧﺎﮐﺎﻡ ﺑﺎﭖ ﺟﻮ ﻋﯿﺪ ﭘﺮ ﺑﮭﯽ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﮐﯽ ﺧﻮﺍﮨﺶ ﻧﮧ ﭘﻮﺭﯼ ﮐﺮﺳﮑﺎ ﺍﺱ ﺳﮯ ﯾﮧ ﺑﺮﺩﺍﺷﺖ ﻧﮧ ﮨﻮﺍ ﺟﻠﺪﯼ ﺳﮯ ﮐﻤﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﮐﺮ ﺳﻮﻧﮯ ﮐﺎ ﮐﮩﮧ ﮐﺮ ﺑﺴﺘﺮ ﻣﯿﮟ ﮔﮭﺲ ﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﻭﮨﺎﮞ ﮨﻮﻧﭧ ﺳﯽ ﻟﯿﺌﮯ ﻣﻨﮧ ﮐﻮ ﺑﮭﯿﻨﭽﺎ ﺍﻭﺭ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ ﺗﻢ ﺁﺯﺍﺩ ﮨﻮ ﺑﺮﺱ ﻟﻮ ﻭﺭﻧﮧ ﻏﻢ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﮐﮯ ﺳﻮﻧﺎﻣﯽ ﺳﮯ ﻣﺮ ﮨﯽ ﺟﺎﻭ ﮔﺌﮯ ۔
ﺻﺒﺢ ﺍﭨﮫ ﮐﺮ ﻣﻮﻟﻮﯼ ﺻﺎﺣﺐ ﻧﻤﺎﺯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﭼﻠﮯ ﮔﺌﮯ ﻭﺍﭘﺲ ﺁﺋﮯ ﺗﻮ ﭼﮭﻮﭨﯽ ﺑﯿﭩﯽ ﻧﮯ ﺩﺱ ﺑﯿﺲ ﭘﭽﺎﺱ ﮐﮯ ﭼﻨﺪ ﻧﻮﭦ ﭘﮑﮍﮮ ﮨﻮﺋﮯ ﺗﮭﮯ ﺑﻮﻟﯽ ﺑﺎﺑﺎ ﯾﮧ ﭘﯿﺴﮯ ﮨﯿﮟ ﺁﭖ ﺍﯾﺴﮯ ﮐﺮﯾﮟ ﮐﮧ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﮐﻮ ﮐﭙﮍﮮ ﻟﮯ ﺩﯾﮟ ﺍﺱ ﻧﮯ ﮐﻞ ﺁﭘﮑﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻣﺴﺠﺪ ﺟﺎﻧﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﭼﮭﻮﭨﺎ ﮨﮯ ﮔﻠﯽ ﻣﯿﮟ ﮐﮭﯿﻠﮯ ﮔﺎ ﺗﻮ ﺳﺐ ﮐﯿﺎ ﮐﮩﯿﮟ ﮔﮯ ﯾﮧ ﺍﯾﮏ ﺍﻭﺭ ﺩﮬﻤﺎﮐﮧ ﺗﮭﺎ
ﻟﯿﮑﻦ ﺑﮩﻦ ﮐﺎ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﭘﯿﺎﺭ ﮐﯿﺎ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺳﺐ ﺳﻤﺠﮭﺎ ﮔﯿﺎ ۔
ﮨﻤﺎﺭﮮ ﻣﻌﺎﺷﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﺍﮐﺜﺮ ﻣﻮﻟﻮﯼ ﺣﻀﺮﺍﺕ ﮐﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﮐﯽ ﮐﺸﻤﮑﺶ ﮐﯽ ﺷﮑﺎﺭ ﮨﮯ ﻭﮦ ﺷﺨﺺ ﺟﻮ ﭘﻮﺭﮮ ﻣﺤﻠﮯ ﮐﻮ ﻋﯿﺪ ﮐﯽ ﻧﻤﺎﺯ ﭘﮍﮬﺎﺗﺎ ﮨﮯ وہ مولوی ہی ہے .. ہمارے بچوں کو قرآن پاک مولوی پڑھاتا ہے…. پانچ وقت کی اذان مولوی دیتا ہے حتی کہ صبح صبح اٹھ کر اپنی نیند کو چھوڑ کر فجر کی اذان بھی مولوی دیتا ہے اور ہمیں اسلام کی باتیں بھی مولوی سکھاتا ہے…. نماز بھی مولوی کے پیچھے پڑھی جاتی ہے… نکاح بھی مولوی سے پڑھوایا جاتا ہے…زرا سی بات ہوجائے مولوی کے پاس دوڑے جاتے ہیں کہ طلاق تو واقع نہیں ہوگئی؟؟ … ہر مسئلہ کے لیے مولوی کے پاس بھاگتے ہیں… حتی کہ نماز جنازہ کے لیے بھی مولوی کے محتاج ہیں….. لیکن پھر بھی مولویوں کا مذاق بھی ہم ہی اڑاتے ہیں کیوں؟؟؟ انکی تنخواہ آج ہمارے معاشرے میں سب سے کم کیوں؟؟؟؟؟؟

Informations

حضرت اویس قرنی کو جنت کے دروازے پر کیوں روک لیاجائے گا۔

حضرت اویس قرنی کو جنت کے دروازے پر کیوں روک لیاجائے گا۔

حضوراکرم (صلی ﷲ علیہ وسلم) نے فرمایا کہ جب لوگ جنت میں جارہے ہوں تو اویس قرنی کو جنت کے دروازے پرروک لیاجائے گا۔
حضرت اویس قرنی کون ہیں ۔
اویس نام ہے عامرکے بیٹے ہیں مرادقبلہ ہے قرن انکی شاخ ہے اوریمن انکی رہائش گاہ تھی ۔
حضرت نے ماں کے حددرجہ خدمت کی ۔وہ آسمانوں تک پہنچی اویس قرنی حضورکی خدمت میں حاضرنہیں ہوسکے۔
جبرئیل آسمان سے پہنچے اورانکی بات کوحضورنے بیان کیا چونکہ حضوردیکھ رہے تھے کہ آئندہ آنیوالی نسلیں اپنی مائوں کیساتھ کیساسلوک کریں گی ایک سائل نے سوال کیا یارسول ﷲ (صلی ﷲ علیہ وسلم) قیامت کب آئے گی توآپ نے ارشاد فرمایامجھے نہیں معلوم کب آئے گی توسائل نے کہاکہ کوئی نشانی توبتادیں توآپ نے فرمایاجب اولاداپنی ماں کوذلیل کرے گی توقیامت آئے گی۔
حضور(صلی ﷲ علیہ وسلم) نے حضرت عمر(رضی ﷲ عنہ) اورحضرت علی (رضی ﷲ عنہ) سے کہاکہ تمہارے دور میں ایک شخص ہوگا جس کانام ہوگا اویس بن عامر درمیانہ قد رنگ کالا جسم پر ایک سفید داغ حضور (صلی ﷲ علیہ وسلم) نے ان کاحلیہ ایسے بیان کیاجسے سامنے دیکھ رہے ہو وہ آئے گاجب وہ آئے تو تم دونوں نے اس سے دعا کرانی ہے۔
حضرت عمر(رضی ﷲ عنہ) اور حضرت علی (رضی ﷲ عنہ)کواویس قرنی کی دعاکی ضرورت نہیں تھی۔
یہ امت کو پیغام پہنچانے کے لیے ہے کہ ماں کا کیا مقام ہےحضرت عمر (رضی ﷲ عنہ) حیران ہوگئے اور سوچنے لگے کہ حضور (صلی ﷲ علیہ وسلم) کیاکہہ رہے ہیں کہ ہم اویس سے دعا کروائیں تو حضور (صلی ﷲ علیہ وسلم) نے فرمایا عمر،علی اویس نے ماں کی خدمت اس طرح کی ہے جب وہ ہاتھ اٹھاتاہے توﷲ اس کی دعا کو خالی نہیں جانے دیتا۔
حضرت عمر(رضی ﷲ عنہ) دس سال خلیفہ رہے دس سال حج کیالیکن انہیں اویس نہ ملے ایک دن سارے حاجیوں کو اکٹھا کر لیا اور کہا کہ تمام حاجی کھڑے ہوجاو آپ کے حکم پرتمام حاجی کھڑے ہوگئے پھر کہا کہ سب بیٹھ جاو صرف یمن والے کھڑے رہو تو سب بیٹھ گئے اور یمن والے کھڑے رہے پھرکہا کہ یمن والے سارے بیٹھ جاو صر ف مراد قبیلہ کھڑا رہے پھرکہا مراد والے سب بیٹھ جاو صرف قرن والے کھڑے رہو تو مراد قبیلے والے بیٹھ گئے صرف ایک آدمی بچااور حضرت عمر نے کہا کہ تم قرنی ہو تو اس شخص نے کہاکہ ہاں میں قرنی ہوں تو حضرت عمر نے کہا کہ اویس کو جانتے ہو تو اس شخص نے کہاکہ ہاں جانتا ہوں میرے بھائی کابیٹاہے میراسگا بھتیجاہےاس کادماغ ٹھیک نہیں آپ کیوں پوچھ رہے ہیں توحضرت عمر نے کہاکہ مجھے تو تیرا دماغ صحیح نہیں لگ رہاآ پ نے پوچھا کدھر ہےتواس نے کہاکہ آیا ہوا ہے پوچھا کہاں گیا ہے تو اس نے کہا کہ وہ عرفات گیاہے اونٹ چرانے،
آپ نے حضرت علی کو ساتھ لیا اور عرفات کی دوڑ لگادی جب وہاں پہنچے تو دیکھاکہ اویس قرنی درخت کے نیچے نماز پڑھ رہے ہیں اور اونٹ چاروں طرف چررہے ہیں یہ آکربیٹھ گئے اور اویس قرنی کی نماز ختم ہونے کاانتظار کرنے لگےجب حضرت اویس نے محسوس کیاکہ دو آدمی آگئے تو انہوں نے نماز مختصرکردی ۔
سلام پھیرا توحضرت عمر نے پوچھا کون ہو بھائی توکہاجی میں مزدور ہوں اسے خبرنہیں کہ یہ کون ہیں تو حضرت عمر نے کہاکہ تیرا نام کیا ہےتو اویس قرنی نے کہ اکہ میرانام ﷲ کابندہ تو حضرت عمر نے کہا کہ سارے ہی ﷲ کے بندے ہیں تیری ماں نے تیرا نام کیارکھا ہےتو حضرت اویس نے کہاکہ آپ کون ہیں میری پوچھ گچھ کرنے والے ان کایہ کہنا تھا کہ حضرت علی نے کہاکہ اویس یہ امیرالمومنین عمربن خطاب ہیں اور میں ہوں علی بن ابی طالب حضرت اویس کا یہ سننا تھا کہ وہ کانپنے لگےکہاکہ جی میں معافی چاہتا ہوں میں تو آپ کو پہچانتا ہی نہیں تھا میں تو پہلی دفعہ آیا ہوں تو حضرت عمر نے کہاکہ تو ہی اویس ہے تو انہوں نے کہا کہ ہاں میں ہی اویس ہوں حضرت عمر نے کہاکہ ہاتھ اٹھا اور ہمارے لیے دعا کر وہ رونے لگے اور کہا کہ میں دعا کروں آپ لوگ سردار اور میں نوکرآپ کامیں آپ لوگوں کے لیے دعا کروں تو حضرت عمر نے کہاکہ ہاں ﷲ کے نبی نے فرمایاتھا۔
عمر اور علی جیسی ہستیوں کے لیے حضرت اویس کے ہاتھ اٹھوائے گئے کس لیے اس کے پیچھے جہاد نہیں،
تبلیغ نہیں،
تصوف نہیں اس کے پیچھے ماں کی خدمت ہے۔

جب لوگ جنت میں جارہے ہوں گے تو حضرت اویس قرنی بھی چلیں گے اس وقت ﷲ تعالیٰ فرمائیں گے کے باقیوں کو جانے دو اور اویس کو روک لو
اس وقت حضرت اویس قرنی پریشان ہوجائیں گےاورکہیں گے کہ اے ﷲ آپ نے مجھے دروازے پرکیوں روک لیاتو مجھ سےاس وقت ﷲ تعالی ٰ فرمائیں گے کہ پیچھے دیکھوجب پیچھے دیکھیں گے تو پیچھے کروڑوں اربوں کے تعدادمیں جہنمی کھڑے ہوں گےتواس وقت ﷲ فرمائے گاکہ اویس تیری ایک نیکی نے مجھے بہت خوش کیاہے’’ ماں کی خدمت‘‘ توانگلی کااشارہ کرجدھر جدھر تیری انگلی پھرتی جائے گی میں تیرے طفیل ان کوجنت میں داخل کردوں گا…
سبحان اللّلہ…

Informations

😭😭 ⭕ *آخری سفر*⭕😭😭 🍀 *نماز کی حالت میں آنکھیں بند کرنا مکروہ ہے کیوں کہ یہودیوں کی عبادت بند آنکھوں سے ہوتی ہںے ۔*

®

😭😭 ⭕ *آخری سفر*⭕😭😭

🍀 *نماز کی حالت میں آنکھیں بند کرنا مکروہ ہے کیوں کہ یہودیوں کی عبادت بند آنکھوں سے ہوتی ہںے ۔*

🍀 *نماز میں جب قیام میں ہوں تو نظریں سجدے کی جگہ رکھیں تاکہ احساس ہو کہ ایک دن ہمیں زمین میں دفن ہونا ہے ۔*😭😭

🍀 *جب رکوع میں جائیں تو پاؤں کی انگلیوں پر نظر ہو تاکہ یاد رہے کہ ہماری جان پاؤں سے نکلنا شروع ہوتی ہے ۔۔*😭😭

🍀 *جب سجدے میں جائیں تو ناک کی سمت میں دیکھیں کیوں کہ مرنے کے بعد سب سے پہلے ناک کے حصے میں تبدیلی آتی ہںے ۔۔*😭😭

🍀 *اور جب قاعدے میں بیٹھیں تو نظریں دامن {جھولی} کی جگہ ہونی چاہئیے تاکہ یہ بھی احساس ہوجائے کہ ہمارا دامن اب بھی خالی ہے*😭😭

📍 *تدفین کے ایک دن بعد یعنی موت کے ٹھیک 24 گھنٹے بعد ہی { آنتوں میں ایک ایسے کیڑوں کا گروہ سرگرم عمل شروع ہوجاتا ہںے جو مردے کے پاخانے کے راستے باہر کی طرف نکلنا شروع ہوتے ہیں ساتھ ہی ناقابل برداشت بدبو پھیلانا شروع کرتے ہیں جو دراصل اپنے ہم پیشہ حشرات الارض کیڑے مکوڑے اور سب سے اہںم قبر بچھو کو مردے کا گوشت کھانے کے لئے مدعو کرنے کا اعلان ہوتا ہے}*😭😭

📍 *تدفین کے تین دن بعد سب سے پہلے ناک کی حالت تبدیل ہوجاتی ہے چھ دن بعد ناخن گرنا شروع ہوجاتے ہیں ۔۔۔۔*😭😭

📍 *نو دن کے بعد بال گرنا شروع ہوجاتے ہیں اور پیٹ پھولنا شروع ہوجاتے ہیں سترہ دن بعد پیٹ پھٹ جاتے ہیں اور دیگر اجزاء باہر نکل آتے ہیں*😭😭

📍 *ساٹھ دن بعد مردے کے جسم سے سارے گوشت ختم ہوجاتے ہیں ۔۔۔۔*😭😭

📍 *نوے {90} دن کے بعد تمام ہڈیاں ایک دوسرے سے جدا ہوجاتی ہیں ۔۔۔۔*😭😭

*ایک سال بعد ہڈیاں بوسیدہ ہو جاتی ہیں اور دوسال بعد ہڈیوں کا وجود بھی ختم ہوجاتا ہے ۔۔۔۔*😭😭

⭕ *غرور، تکبر، نفرت، ،دولت کی ہوس، دشمنی، رنجشیں، کینہ کپٹ، حسد، جلن، شہرت عزت، نام ونمود عہدہ یہ سب کہاں جاتا ہے پتہ نہیں ۔۔۔شاید دنیا ہی میں رہ جاتا ہںے ۔۔*

*آگے بھی فارورڈ کریں تاکہ ہمارے دوسرے بھائی بہن یہ پڑھ کر اپنی عاقبت یعنی آخری منزل کے لئے غور وفکر کریں۔۔۔*

🍀 *اللہ سبحان تعالی ہم سب کو کہنے سننے اور پڑھنے سے زیادہ عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔۔ آمین یا رب العالمین 👏👏👏!*

Informations

📡📡خبردار📡📡 ماسٹر پَلان كے ذريعے نئى نَسل کو تَباه کِیا جا رہا ہے.

📡📡خبردار📡📡
آج عورت گوشت کی دکان لگتی ھے اور باھر کتے انتظار میں کھڑے ھین کہ۔۔۔۔

آج عورت کے پھٹے کپڑے سے اسکی غربت کا احساس نہیں ھوتا بلکہ جسم دیکھنے کی سوچ ھوتی ھے۔۔۔

اِسلام نے عَورت کو عِزَّت دِی ہے یا آج کے جَدِید و تَرَقِّى يافتہ مُعاشرے نے؟ آج اگر ایک پاؤ گوشت لیں تو شاپِنگ بیگ میں بَند کر کے لے جاتے ہیں، اور پَچاس کِلو کی عَورت بغیر پَردے کے بازاروں میں گُھومتی ہے. کیا یہی ہے آج كا جَدِيد مُعاشره کہ کھانا تو پاکِیزه ہو اور پَکانے والی چاہے جیسی بھی ہو؟

جَدِيد مُعاشرے كا عَجِيب فَلسَفہ:
لوگ اپنی گاڑیوں کو تو ڈھانپ کر رکھتے ہیں تاکہ اُنہیں دُھول مٹی سے بَچا سکیں، مگر اپنی عَورتوں کو بے پَرده گُھومنے دیتے ہیں چاہے اُن پر کِتنی ہِی گَندی نَظریں کِیوں نہ پَڑیں؟

دَورِ جَدِید کی جاہِلیَّت:
عَورت کی تَصاوِیر اِستِعمال کر کے چَھوٹى بڑی تمام کمپنِیاں اپنی تِجارت کو فَروغ دیتی ہیں، یہاں تک کہ شیوِنگ كَرِيم میں بِھی اِس کی تَصاوِير ہوتی ہیں. فَرانس و اَمرِیکہ میں جِسم فَروشی کا شُمار نَفع بَخش تِجارت کے زُمرے میں آتا ہے. اُن لوگوں نے اِسلامی مُمالِک میں بِھی ڈَورے ڈال لِئے ہيں. مُسَلمان عَورت کو بِھی جَہَنَّم کی طرف لے جا رہے ہیں. چُنانچہ مُسَلمان عَورت تَہذِیبِ جَدِید کے نام پر بے پَردہ پِھرنے لگی ہے.

ماسٹر پَلان كے ذريعے نئى نَسل کو تَباه کِیا جا رہا ہے:

غَور کِیجِئے!
ہر اِشتِہار میں لڑکا لڑکی کے عِشق کی کہانی مِلے گی.

ذرا سوچِیئے!
– سَیون اَپ کے اِشتِہار میں مَحَبَّت کا کیا کام؟
– تَرَنگ چائے کے اِشتِہار میں گَلے لگنے اور ناچنے کا کیا کام؟
– موبائِل کے اِشتِہار میں لڑکے لڑکِیوں کی مَحَبَّت کا کیا کام؟

دیکِھيئے!
آج کوئی نوجوان اِس فحاشی سے بَچ نہیں پایا. سِکھایا جا رہا ہے کہ آپ بھی شیطان کی پَیروی کریں، فحاشی کریں، مَوج کریں.

آج عَورت خُود اِتنی بے حِس ہو چُکی ہے کہ جو بھی پَردے کی بات کرے اُس کے خِلاف سَڑکوں پر نِکل آتی ہے. جبكہ ایک ایک روپے کی ٹافِیوں، جُوتوں، حَتّٰى كہ مَردوں كى شَيو كرنے كے سامان تک کے ساتھ بِکنے پر کوئی اِحتِجاج نہیں کرتی، بلکہ اِسے رَوشَن خیالِی کی عَلامَت سمجھتی ہے.

لمحۂ شَرمِندگى:
آج ہر بِکنے والی چِیز کے ساتھ عَورت کی حَیاء اور مَرد کی غَیرت بھی بِک رہی ہے.

نام نِہاد پَرده… صِرف فَيشن كيلِئے:
فِی زَمانہ بُرقَعہ اِتنا دِلكَش و دِلفَريب ہے کہ اُس کے اُوپر ايک اور بُرقَعہ اَوڑهنے کى ضُرُورت ہے.

”پَرده نَظَر کا ہوتا ہے.“
اِسی سوچ نے آدِھی قَوم کو بے پَرده کر دِیا ہے.

مَرد آنکھیں نِیچِی نہیں کرنا چاہتا، عَورت پَرده كرنے کو جہالت سمجھتی ہے… مگر دونوں کو مُعاشرے ميں عِزَّت و اِحتِرام کی تلاش ہے.

بے پَرده نَظَر آئِيں كَل جو چَند بِيبِياں…
اَكبؔر زَمِيں ميں غَيرَتِ قَومِى سے گَڑگيا.

پُوچھا جو اُن سے آپ كا پَرده وه كيا ہُوا…؟
كہنے لگِيں كہ عَقل پَہ مَردوں كى پَڑ گيا.

(اَكبؔر آلہ آبَادِى)

پَرده عَورت کے چہرے پر ہوتا ہے، اگر چہرے پر نہیں تو سمجھ لِیجِئے کہ عَقل پَہ پَڑا ہُوا ہے.

اگر جِسم کی نُمائِش کرنا ماڈَرن و تَرَقِّی یافتہ ہونے کی عَلامَت ہے تو پِھر جانور اِنسَانوں سے بہت زیاده ماڈَرن و تَرَقِّی یافتہ ہیں.

پہلے شَرم کی وجہ سے پَرده کِیا جاتا تھا اور اَب پَرده کرتے ہُوئے شَرم آتی ہے.
۔پڑھ کر اگنور کرنا ہے یا واہ واہ کرنا ہے عمل کرو گے تو لوگ کیا کہیں گے….😢😢

Informations

زندگی اور خوشی کشید کرنا کوئی بچوں سے سیکھے.

بچے بہترین استاد ،،
جی ھاں زندگی اور خوشی کشید کرنا کوئی بچوں سے سیکھے ،، ھماری خوش قسمتی ھے کہ ھم بچے پیدا ھوئے تھے اور بچپن گزار کر بڑے ھوئے ، اس لئے ہمیں بات کو سمجھنے کے لئے گوگل سرچ نہیں کرنا پڑے گا ،،

Point To Ponder.

Spread love around you. You will be remembered long times.

وہ گورنمٹ کے محکمے کا آفیسر تھا اسکی بدلی لاہور سے کراچی ہوی ۔ بزریعہ ریل گاڑی اسکو کراچی جانا تھا …

چانچہ وہ سٹیشن پہنچا اور ٹکٹ خرید لی۔ گاڑی جس لائین پہ کھڑی تھی اسکو وہاں پہنچنا تھا اس نے سامان اٹھانے کے لیے قلی کو بلایا اور کہا بھئ میرا سامان گاڑی کو پہنچا دو، قلی نے سامان اٹھایا اور صاحب کے پیچھے پیچھے ہولیا ۔ چونکہ وقت بے حد کم تھا اسلیئے صاحب تیزی سے پیلٹ فارم کی طرف چل رہا تھا ۔ پیچھے سے قلی بھی سامان اٹھا کر بھاگا وہ آدمی تیز تیز چل کر پیلٹ فارم پر بوگی کے دروازے پہ جلدی پہنچ گیا ۔ لیکن بھیڑ چونکہ زیادہ تھی اسلیئے قلی سامان سمیت بھیڑ ہی میں پھنس گیا صاحب بار بار راستے کو دیکھ رہے تھے لیکن قلی کا نام و نشان بھی نہ تھا اتنے میں گارڈ وسل دی اور ٹرین چلنی شروع ہوئی ۔ صاحب اس پہ چڑھ بھی نہیں سکتا تھا کیونکہ پیچھے اسکا سامان رہ جانا تھا ۔ بلآخر اسکو ٹرین چھوڑنی ہی پڑی ۔

Point To Ponder.