Tags » Political

قومی ایونٹس اور پھپھے کٹنیاں

کچھ عرصے سے فیس بکی دانشوروں نے اپنے ملک اور ملکی اداروں کو مشقِ ستم بنانے کا ایک نیا سلسلہ شروع کیا ہوا ہے۔ جب کوئی خوشی کا دن، نیشنل پرایئڈ کا کوئی لمحہ اور اہم ملکی ایونٹ آٰیا، تاک میں بیٹھی یہ “پُھپھیاں” تلواریں بے نیام کر کے حملہ آور ہو جاتی ہیں۔ اعتراض تنقید پہ نہیں، خود احتسابی کی کوشش و خواہش بھی جائز، لیکن ہمارے ان ملامتی صوفیوں کا انداز اتنا استھزایہ اور تمسخرانہ ہوتا ہے جس سے لگتا ہے ان کا مقصد تنقید برائے اصلاح سے زیادہ فریقِ مخالف کو اشتعال دلانا ہے۔

Political

BREAKING NEWS: NASA announces Fascism has been discovered on Mars

This week, NASA has made a groundbreaking discovery that is sure to shake the worlds of both science and geopolitics. Early on Monday, the Curiosity Mars Rover captured images of what from a distance appeared to be a distinctly Benito Mussolini-shaped rock formation, but upon closer inspection was in fact a distinctly Benito Mussolini-shaped sculpture of Benito Mussolini. 582 more words

Curiosity Rover

میاں صاحب، پاکستان کا جمہوری چہرہ ،عمران ، فوجی پٹھو"

پاکستانی سیاست میں فوج کا عمل دخل ہمیشہ سے رہا ہے اب بھی ہے۔ ایک بہت بڑے طبقے کے اندر یہ احساس پیدا کرنا کہ عمران محض فوجی کارندہ ہے ن لیگی پروپیگنڈے کا کمال ہے. ۔ حیرت ہوتی ہے لوگ یہ دعویٰ کرتے ہوئے کچھ بنیادی حقیقتیں فراموش کر دیتے ہیں فوج کو ہمیشہ ایسی لیڈر شپ کی ضرورت رہی جس میں دو صفات کا موجود ہونا نہایت ضروری ہے
.
1-ایک ایسا لیڈر جس کی کوئی پبلک سپورٹ نہ ہو.
.
2- کمزور شخصیت کا مالک ہو تا کہ آسانی سے اس کی کلائی مروڑی جا سکے
.
عمران کے بارے دونوں باتیں دیکھیں جایئں تو حقیقت کچھ اور نظر آتی ہے۔ اگر فرض کرتے ہیں اکتوبر کا جلسہ پاشا نے کرایا تو اس کے بعد بھی عمران کے جتنے ریکارڈ ساز جلسے ہوئے وہ سارے ایسٹبلشمنٹ نے کرائے؟ سوشل میڈیا ہو یا مین سٹڑیم میڈیا ، ایک طرف مخالفین روتے ہیں کہ تحریکِ انصاف والے بڑے حساس ہیں فوری ری ایکٹ کرتے ہیں اگر وہ فوری رد عمل دیتے ہیں اس کا مطلب ہے سپورٹ موجود ہے پھر اسی لمحے 180 ڈگری الٹ مؤقف اپناتے ہوئے سب کچھ ایسٹبلشمنٹ کے کھاتے میں ڈالتے ہیں ۔
.
ایسٹبلشمنٹ کو قادری ،چوہدری جمالی ٹائپ بندے سوٹ کرتے ہیں۔ اس میں دونوں فریقوں کا فائدہ ہے۔ اجہاں ایسے لوگوں کی موجودگی میں یسٹیبلشمنٹ اپنی مرضی کے فیصلے کرنے میں آزاد ہوتا ہے وہاں ایسے لوگ بغیر کسی پبلک سپورٹ کے راتوں رات اقتدار کی راہداریوں میں داخل ہونے پر مطمئن ہو جاتے ہیں۔
.
عمران کی شخصیت کو جتنے لوگ جانتے ہیں سب یہی کہتے ہیں کہ کسی کی پرواہ نہیں کرتے یاد رہے اس وقت اس عادت کے اچھے یا برے ہونے کی بات نہیں ہو رہی صرف یہ بتانا مقصود ہے کہ عمران ایک مضبوط شخصیت کے مالک ہیں بقول حسن نثار وہ ایک ایسا گھوڑا ہیں کسی کھائی کھڈے میں تو گر سکتے ہیں لیکن کسی کو اپنے اوپر سواری نہیں کرنے دیتے .عمران نے جب بھی کوئی فیصلہ کرنا چاہا کر لیا اس بات کی پروا نہیں کی کہ کوئی کیا کہتا ہے۔
.
1۔ 2013 کی جنرل الیکشن سے پہلے انٹرا پارٹی الیکشن کرانا۔ کتنے قریبی لوگوں نے منع کیا کہ یہ وقت مناسب نہیں لیکن جب اس نے کہا الیکشن ہر حال میں ہونے ہیں تو کر کے دکھائے حالانکہ اس فیصلے کا جنرل الیکشن میں اسے نقصان ہی ہوا کہ ان کے انعقاد میں کافی ٹائم لگا اور پارٹی کے اندر کافی دھڑے بندی ہو گئی
.
2.ہمارے ہاں خاندان ذات برادری کتنا اہم ہے بتانے کی ضرورت نہیں۔ بہنوئی کو ٹکٹ کے لیئے ناراض کیا اور اب روز اپنے کالموں میں عمران کے خلاف آگ اگلتا ہے کیا یہ چھوٹی بات ہے یا آسان فیصلہ تھا۔ اگر ٹکٹ دینا بھی چاہتا تو عمران کی کونسی مجبوری تھی یا عمران کو کس نے روکنا تھا لیکن اس نےفیصلہ کیا کہ ٹکٹ نہیں دینا تو نہیں دیا۔ ایسے شخص کو کمزور شخص قرار دینا کیمرے کی صفائی تو ہو سکتی ہے ، حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہو سکتا۔
۔ .
حماقتیں اس کی اپنی جگہ لیکن وہ کوئی ایسا ریلو کٹا بھی نہیں جیسے مخالفین پیش کرتے ہیں۔ شخصیت مضبوط ہے پبلک سپورٹ موجود ہے۔ لیکن حاضر پیچھے امام کے چلنے والے شوقیہ فنکاروں سے یہ بات ہضم نہیں ہوتی کیونکہ انہیں یہی ” ہمدرد کی گھٹی” پلائی گئی کہ عمران فوجی پٹھو ہے۔
.
میں مزید کچھ حقائق آپ کے سامنے رکھتا ہوں تا کہ آپ کے سامنے اس پروپیگنڈے کی حقیقت بہتر طریقے سے واضح ہو۔
.
ایسٹیبلشمنٹ کی جان جس طوطے میں بند ہے اس کا نام ہے ہندوستان اور کشمیر پالیسی۔ عمران خان کی شروع دن سے آج تک تسلسل کے ساتھ یہ رائے رہی کہ ہمیں ہندوستان کے ساتھ بہتر تعلق رکھنے کی ضرورت ہے ایسٹیبلشمنٹ کے عقاب اس معاملے میں جارحانہ پالیسی کے حآمی ہیں عمران نے ہمیشہ کہا ہم نے لڑ کر دیکھ لیا اب ہمیں امن چاہیئے میں جب حکومت میں آؤنگا تو اپنی فوج کو بھی قائل کرونگا کہ ہمیں تعلیم اور صحت پہ خرچ کرنے کی ضرورت ہے.عمران نے بارہا یہ باتیں پاکستان میں بھی کیں ہندوستان میں بھی کیں لیکن عمران کے اس مؤقف کو کہیں جگہ نہیں ملتی کیونکہ اس کو ہائی لائٹ کرنے سے اس پروپیگنڈے کی حقیقت کھل جاتی ہے جس میں سچ جھوٹ ملا کر عمران کو فوجی پٹھو ثابت کرنا مقصود ہوتا ہے.
.
ابھی حال ہی میں یمن ایشو کے ہنگام جب سعودیہ نے پاکستان سے فوج بھیجنے کی درخواست کی تو خان صاحب نے پارلیمینٹ کے اندر اور باہر کھل کر اپنا مؤقف پیش کیا کہ ہمیں عربوں اور ایرانیوں کے معاملات میہں فریق بننے کی ضرورت نہیں اور ہمیں ہر گز یمن فوج بھیجنے کی ضرورت نہیں ۔ جنہیں ہماری ملٹری ایسٹیبلشمنٹ کی پسند (عربوں اور ایرانیوں کے مقابلے) بارے کوئی شک ہے وہ صرف کلبھوشن یادیو کا معاملہ ہی دیکھ لیں جسے ہماری ملٹری ایسٹیبلشمنٹ نے اسی وقت میڈیا کے سامنے پیش کیا جب ایرانی صدر پاکستان کے دورے پر آئے حالانکہ یہ بات کسی اور طریقے سے بھی پہنچائی جا سکتی تھی صرف یہی نہیں بلکہ ایک قدم آگے جا کر جب ایرانی صدر نے یہ بیان دیا کہ پاکستانی آرمی چیف سے اس معاملے پر کوئی بات نہیں ہوئی آئی ایس پی آر نے باقاعدہ ایرانی صدر کے بیان کو غلط کہا کہ آرمی چیف نے یہ معاملہ صدر کے سامنے اٹھایا۔
.
ایسے میں حیرت انگیز طور پر ایسٹبلشمنٹ کا ایک پٹھو پارلیمنٹ آ کر ایسٹیبلشمنٹ کی رائے کے بر عکس مؤقف اپناتا ہے .
.
حامد میر کا ایک پروگرام ڈرون ایشو پہ ہوا عمران بھی اس پروگرام میں شامل تھے۔ حامد میر نے اس پروگرام میں ایک لیفٹینینٹ جرنل کی گفتگو سنائی تو خان صاحب نے اسی لایئو پروگرام میں جرنیل کو بے غیرت کہہ دیا کیا کوئی فوجی پٹھو, کوئی کمزور شخصیت کا مالک اتنی جرات کا مالک ہو سکتا ہے؟؟

ہمارے جمہوریت پسند ضرور عمران کے بارے یہ پروپیگنڈہ چلایئں اور اس میں کافی حد تک کامیاب بھی ہیں لیکن ان حقائق کی موجودگی میں ہم ان کی خدمت میں یہی عرض کریں گے کہ
.
گر نبیند به روز شپّره چشم
چشمه آفتاب را چه گناه
.
یہ وہ آرگیومنٹس ہیں جو اس تاثر کو تقویت دیتے ہیں کہ عمران مضبوط شخصیت کا مالک اپنی مرضی کرنے والا بندہ ہے لیکن عمران کے مخالفین اپنی مرضی کے بیانات اٹھا کر اور ان کی من مانی تشریح کر کے یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں جیسے عمران ایسا ریلو کٹا ہے جو کسی حوالدار یا صوبیدار کی منشا سے بروئے کار آتا ہے۔ ایمپائر کی انگلی والی بات کو اس شدت سے دہرایا گیا گویا عمران اتنا احمق ہے کہ جلسہ عام میں آ کر پوری قوم کے سامنے یہ بتا رہے ہوں کہ آرمی چیف عمران کی منشا کے مطابق اب مارشل لا لگا دیں گے۔
.
پچھلے دنوں مٹھائی بٹنے کے حوالے سے عمران کا ایک بیان آیا ایک عام بچے کو بھی یہ بات سمجھ میں آ سکتی ہے کہ عمران اس بات پہ ہمارے حکمرانوں کو لعن طعن کر رہے ہیں کہ وہ ڈیلور کرنے میں ناکام رہے نہ کہ مارشل لا کو دعوت دے رہے ہیں۔ اس ایک ٹکڑے سے مارشل کی حمایت کشید کرنا ہمارے جمہوریت پسندوں کی منطق کا کمال ہے۔
.
عمران نے بھنگ پیا ہوا ہے جو 20 سال سٹرگل کی حال ہی میں 2013 کے الیکشن میں تقریبا 80 لاکھ ووٹ لیئے وہ سب کچھ اس لیئے تا کہ وہ عوام کو قائل کر سکیں کہ جب فوج آئے تو مٹھائی تقسیم کریں۔ قرآن کی بھی ایک آیت ہے کہ نمازوں کو نہ جاؤ لیکن یہ پوری بات نہیں جو پوری بات ہے کہ جب نشے کی حالت میں ہوں۔ اب اس بات سے کوئی یہ دلیل ڈھونڈ کر نکالے کہ قرآن میں بھی نماز کی ممانعت ہے تو اس سے بڑھ کر فکری بد دیانتی کیا ہو سکتی ہے؟؟
.
دوسری طرف میاں صاحب نے کمال مہارت سے اپنی اینٹی ایسٹبلشمنٹ سٹانس کی مشہوری کرائی ہوئی ہے۔ جہاں اس تاثر کے فائدہ سمیٹنے کا وقت آتا ہے اس کا ڈھنڈورہ پیٹتے ہیں جب ضرورت سے زیادہ کمزوری ہو تو آرمی سے معاملات طے کرنے کے لیئے شہباز اور نثار رکھے ہوئے ہیں۔ آپ کو یاد ہو گا پی پی دور میں جب چوہدری نثار اور شہباز شریف کی کیانی کے ساتھ میڈیا میں 6 خفیہ ملاقاتوں کا چرچا ہوا تو میاں صاحب نے اپنے کاکے منے بھائی اور سکول گوئینگ چوہدری نثار کو ڈانٹا کہ آپ نے کیوں خفیہ ملاقاتیں کیں لیکن ہمارے ہاں کے جمہورت پسندوں کی نظر میں یہ سب کچھ میاں صاحب کی زلف تک پہنچ کر جمہوریت کا حسن بن جاتا ہے ۔ اب بھی جی ایچ کیو میں پوری کی پوری کابینہ صف بستہ آرمی چیف کے سامنے بیٹھی ہوئی ہوتی ہے تب بھی اینٹی ایسٹبلشمنٹ سٹانس کے حقوق انہی کے نام محفوظ ہیں۔
.
میاں صاحب کی مختلف شخصیتوں کے ساتھ لڑایئاں ضرور ہویئں، وہ کوئی اصول نہیں اقتدار کی جنگ تھی وہ چاہے لغاری ہو، سجاد علی شاہ یا جہانگیر کرامت اور مشرف ہوں لیکن میاں کو پاکستان کا جمہوری چہرہ بنا کر پیش کرنا کم از کم ہم سے ہضم نہیں ہوتی نہ حقائق اس کو سپورٹ کرتے ہیں.

POLITICAL: Never trust a Democrat with your gun rights.

https://bearingarms.com/tom-k/2018/01/15/gun-control-tops-new-virginia-governors-agenda/

Gun Control Tops New Virginia Governor’s Agenda
Posted at 12:00 pm on January 15, 2018 by Tom Knighton

*** begin quote ***

If you’re shocked by this, you shouldn’t be. 67 more words

Political

අහසින් වැටුණු අදහස් : ආත්මීය ප්‍රශ්න

අනන්ත එදිරිසූරියගේ තුන්වැනි සටහන් පොතේ එන පහත සටහන හමු වන්නේ 2017 වසරේ දෙසැම්බර් 3 වැනි දිනය යටතේ ය. එම නිසා මෙය අප මෙහි පළ කළ සටහනට (එම සටහන …

Political

(Operation Online Exodus 2018 In Progress)

2018 represents the year of Fruitfullness and Increase according to Genesis 9:7 As for you, be fruitful and increase in number; multiply on the earth and increase upon it. 173 more words

Community