Tags » Punjab

Toronto woman accused of arranging hit on estranged husband in India

TORONTO — A Toronto woman is sought in India after police there allege she paid four men – including her two lovers – to kill her estranged husband. 337 more words

Crime

Study in Singapore

Singapore is a city-state and made up of 63 islands. Singapore has incredible way of life, economy, attractions, expressions and games scenes. Singapore offers understudy an exceptional learning background as they get a flawless mix of social, social and instructive blend. 455 more words

پنجاب یونیورسٹی کی شان و شوکت برقرار رہنی چاہئے

اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ہماری صوبائی حکومت صوبے کے دوسرے حصوں میں ترقیاتی کام کرانے کے ساتھ ساتھ لاہور میں خصوصی توجہ دے رہی ہے۔ حکومت کی خصوصی کاوشوں کا نتیجہ ہے کہ پچھلے چند برسوں میں شہر کا نقشہ ہی بدل چکا ہے۔ آج مَیں حکام کی توجہ ایک اور اہم معاملے کی طرف دلانے کا خواست گار ہوں۔ اس کا تعلق لاہور کی خوبصورتی اور اس شہر کے باسیوں کے ساتھ ہے۔

کسی شاعر کا بڑا خوبصورت کلام ہے:

اُچے برج لاہور دے، جتھے بلدے چار مثال

ایتھے میاں میر دی بستی ایتھے شاہ جمال

اک پاسے دا داتا وارث، اک دا مادھو لال

اگر برجوں کو عمارتوں اور اداروں سے تشبیہ دی جائے تو لاہور کا ایک بہت بڑا برج پنجاب یونیورسٹی ہے۔ لاہور کو اگر انگوٹھی سے تشبیہ دی جائے تو پنجاب یونیورسٹی کی حیثیت اس میں جڑے ہوئے نگینے کی ہے۔ اس کے سبزہ زار، روشیں، عمارات، خاصی بڑی تعداد میں اُگے ہوئے درخت اور ان درختوں کی وجہ سے اُبھرنے والا ہریالی کا مجموعی تاثر کیمپس نہر کے کناروں پر بنائی گئی سڑکوں پر سے گزرتے ہوئے شہریوں کو اپنے سحر میں مبتلا کر دیتا ہے۔ لاکھوں طالبان علم نے علم وفضل کے اِس بہتے دریا سے اپنی پیاس بجھائی اور اب وہ مختلف شعبوں میں مادرِ وطن کی تعمیر و ترقی میں اپنے حصے کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ یہ لوگ بھی جب کبھی لاہور آتے ہیں یا اگر وہ لاہور میں رہتے ہیں تو یونیورسٹی کے بیچوں بیچ کیمپس نہر سے گزرتے ہوئے اپنے زمانے کو یاد کرتے اور اس مادر علمی کو دور سے سلام کرتے ہوں گے۔ میری اپنی بہت سی یادیں اِسی تعلیمی ادارے سے وابستہ ہیں۔ کافی عرصہ مَیں اس کے حلیم درختوں کی نرم چھاؤں کا لطف لیتا رہا یہاں سے تعلیم حاصل کرتا رہا۔

لیکن افسوس کہ مستقبل میں وہ ایسا نظارہ نہیں کر سکیں گے، کیونکہ یونیورسٹی کے گرد قد آدم سے اونچی دیوار بنائی جا رہی ہے، جس نے یونیورسٹی کی خوبصورتی کو مکمل طور پر اپنے اندر چھپا لیا ہے اور ایک طرح سے ختم ہی کر دیا ہے۔یہ سارا علاقہ مُلک کا معتبر تعلیمی ادارہ نہیں، بلکہ ایک فیکٹری کا منظر پیش کر رہا ہے۔ کسی زمانے میں سر سبز نظر آنے والی یونیورسٹی اب اینٹوں کا قلعہ بنتی جا رہی ہے۔ مَیں اس حقیقت سے واقف اور آگاہ ہوں کہ یونیورسٹی کے گرد دیوار بنانے کا منصوبہ طالبان علم کو دہشت گردوں سے محفوظ رکھنے کے لئے بنایا گیا ہے، لیکن مَیں یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ آپریشن ضربِ عضب کے نتیجے میں دہشت گردوں کی کمر ٹوٹ چکی ہے اور امید کی کرن روشن ہوئی ہے کہ جلد ہی ہمارا مُلک امن کا گہوارہ بن جائے گا، اس لئے دیوار بنانے سے پہلے کچھ عرصہ مزید انتظار کر لیا جاتا۔

یا اگر دیوار بنانا ناگزیر تھا تو ایسا ڈیزائن تیار کیا جاتا کہ سیکیورٹی کے تقاضے بھی پورے ہو جاتے اور یونیورسٹی کا مجموعی حسن اور کشش بھی برقرار رہتی۔ یہ بات تو سبھی تسلیم کریں گے کہ پنجاب یونیورسٹی کے بغیر لاہور کا حسن نکھرتا نہیں ہے، تو اس حسن کو برقرار رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ اردگرد کی سڑکوں پر سے گزرنے والوں کو اس کی جھلک نظر آتی رہے۔ میری وزیراعظم محمد نواز شریف، گورنر پنجاب رفیق رجوانہ، وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف سے گزارش ہے کہ پنجاب یونیورسٹی کی چار دیواری میں ایسی تبدیلیاں کریں کہ یونیورسٹی کے حسن اور شان و شوکت کا مجموعی تاثر برقرار رہے۔

محمد معاذ قیریشی

Lahore

کلرکہار : اسلام آباد کے قریب خوب صورت سیاحتی مقام

ضلع چکوال کا قصبہ تحصیل اور ایک خوبصورت تفریحی مقام ۔ چکوال سے سرگودھا جانے والی سڑک پر ۲۶ کلو میٹر کے فاصلے پر پہاڑوں کے سنگم میں لاہور اسلام آباد موٹروے کے اُوپر واقع ہے۔ کلّر کہار ایک ایسے مقام پر واقع ہے، جس کی عسکری اہمیت زمانہ قدیم سے مُسلّمہ رہی ہے۔ شمال مغربی سرحدی صوبہ کے درّوں سے جتنی قومیں اور حملہ آور آئے ان کا گزر مارگلہ سے براستہ ڈھوک پٹھان سلسلۂ کوہستان نمک کے زیرِ سایہ ہی ہوتا۔ ان کا اولین ہدف کلر کہار، بھیرہ کا خوش حال اور قدیم شہر اور نندنہ کا مضبوط قلعہ ہوتا۔ تاریخ کی گواہی کے مطابق یہ حملہ آور سب سے پہلے کلرکہار ہی پہنچے۔

اِس کی قدامت کا اندازہ اس روایت سے بھی لگایا جا سکتا ہے جس کے مطابق راجہ داہر کے ایک بیٹے جے سنگھ نے محمد بن قاسم سے شکست کھا نے کے بعد کشمیر کے راجہ کے پاس پناہ حاصل کر لی تھی۔ راجہ نے اس کی گزر اوقات کے لیے اپنی ریاست کی جنوبی سرحد پر کچھ جاگیر عطا کر دی جس کا صدر مقام کلّر کہار تھا۔ جے سنگھ نے اس جاگیر کے انتظام کے لئے ایک باغی عرب حمیم بن سامہ کو اپنا مختار کل مقرر کیا چنانچہ حمیم نے یہاں وسیع پیمانے پر شجرکاری کی اور بعض مساجد تعمیر کیں ۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ حمیم کا کلر کہار موجودہ کلرکہار سے کچھ دُور اس مقام پر آباد تھا جو تباہی کے بعد اب بھال کے آثار کی صورت میں باقی رہ گیا ہے۔

جنرل کننگھم کے بقول کلر کہار کا پُرانا نام’’شاکلہا‘‘ تھا۔ اس جگہ کا نام کلوکہّر بھی بتایا گیا ہے، لیکن ۱۵۱۹ء میں برصغیر میں مغل سلطنت کا بانی ظہیر الدین بابر بھیرہ فتح کر نے کے بعد کلر کہار آیا اور یہاں قیام کیا تو اس نے اپنی خودنوشت سوانح عمری ’’تزک بابری‘‘ میں اس کا نام ’’کلدہ کنارـ‘‘ لکھا۔ بابر نے یہاں ایک باغ تیار کرایا جس کا نام باغ صُفار کھا۔ یہ باغ صاف اور ہوادار جگہ پر بنا۔ کلرکہار سطح سمندرسے چار ہزار فٹ کی بلندی پر ہے۔ روایت ہے کہ بابر کے کلرکہار میں قیام کے دوران فوج نے ایک چٹان تراش کر اس کے لیے تخت بنایا تھا جواب بھی تخت بابری کے نام سے موجود ہے۔ یہیں پہاڑ کی چوٹی پر ایک مزارہے، جس کا سبز گنبد ہر آتے جاتے کو اپنی جانب متوجہ کرتاہے۔ یہاں حضرت غوث ملوک کے دوپوتے حضرت محمد اسحق اور حضرت محمد یعقوب دفن ہیں، جو مقامی مسلمانوں کی مدد کے لیے اس علاقے میں آئے تھے اور شہادت حاصل کی۔

یہاں ایک خوبصورت جھیل بھی ہے ،جو سیاحوں کی تفریح کا بہترین مقام ہے ۔اس کے اردگرد ہوٹل اور ریسٹ ہائوسز موجود ہیں۔ کلرکہار میں مختلف اقسام کے پھل اور پھول کثرت سے ہوتے ہیں۔ ان میں لوکاٹ اور گلاب خاص طور پر قابل ذکرہیں۔ یہاں کا عرق گلاب، چوعرقہ اور گلقند مشہور ہیں۔ یہاں عصر کے بعد مور آزادانہ گھومتے نظر آتے ہیں، اور اذان مغرب سے پہلے جنگل میں روپوش ہو جاتے ہیں۔ کلرکہار سے قریباً ۹ میل کے فاصلے پر سلسلہ کوہستان نمک میں قلعہ ملوٹ کے آثار ہیں، جس کی بلندی سطح سمندر سے تقریباً تین ہزار فٹ ہے۔ جنرل کننگھم کے اندازے کے مطابق قصبہ ملوٹ اور قلعہ ملوٹ اپنے زمانہ عروج میں اڑھائی میل کے گھیرے میں لیے ہوئے تھے۔ ایک روایت کے مطابق جنجوعوں راجپوتوں کے ایک مورث اعلیٰ کا نام مل دیویاملوتھا اسی کی نسبت سے اس کا نام ملوٹ پڑا۔

جنرل ایبٹ اس کا نام شاہ گڑھ یا شاہی گڑھ بتاتا ہے لیکن جنجوعہ روایات کے مطابق اس کا نام راج گڑھ تھا۔ اس کی تعمیر ۹۸۰ء میں ہوئی۔ یہاں دوقدیم مندر بھی ہیں جو قدیم کشمیری طرز تعمیر کا نمونہ ہیں۔ ان کا تعلق کوہستان نمک کے ہندو شاہیہ سے ہے۔ بابر بادشاہ نے دولت خاں لودھی سے یہیں پر ہتھیار ڈلوائے۔ مہاراجہ رنجیت سنگھ کے باپ مہان سنگھ نے بھی یہاں ایک چھوٹا سا قلعہ تعمیر کروایا تھا۔ اسے پکی سڑک کے ذریعے کلر کہار چوآسیدن شاہ سڑک کے ساتھ براستہ چھوٹی سڑک ملا دیا گیا ہے۔ ملوٹ سے مشرق کی طرف تقریباً ۳ میل کے فاصلے پر سب گنگا کے مقام پر بودھوں کا ایک مندرہے۔اس جگہ پر میجر ایبٹ کو سکندراعظم کا تراشا ہوا ایک سرملاتھا۔ اس کے ساتھ ایک چھوٹا ساہندو مندر بھی ہے۔ آجکل اس علاقے کو ملکانہ کہتے ہیں۔

(اسد سلیم شیخ کی تصنیف ’’نگر نگر پنجاب:شہروں اور قصبات کا جغرافیائی، تاریخی، ثقافتی اور ادبی انسائیکلوپیڈیا‘‘ سے مقتبس)

Pakistan

Vehari, Pakistan: Three brothers killed in unmanned crossing collision

Three brothers were killed when the motorcycle on which they were travelling was hit by a train on an unmanned level crossing in Pakki More, Vehari District, Punjab. 14 more words

Fatal Accident

*Trending* Good News For Visitors-Free Internet Access For Visiting Devotees At Golden Temple

Devotees visiting Punjab’s Golden Temple will now have free Wi-Fi internet access within the temple complex and its peripheral area. 102 more words

Free Internet