Tags » Punjab

Rana seems to be leader ot MQM Punjab: Anees

Rana seems to be leader ot MQM Punjab: Anees

Your Browser Do not Support Iframe

Rana seems to be leader ot MQM Punjab: Anees Rana seems to be leader ot MQM- Punjab: Anees

Zemtvs

Punjab seeks probe into AAP funding by radicals

Chandigarh, Aug 28, 2016: Punjab seeks probe into AAP funding by radicals. The stand-off between Punjab’s ruling Shiromani Akali Dal and new challenger AAP intensified on Sunday with Deputy Chief Minister Sukhbir Singh Badal asking Union Home Minister Rajnath Singh to analyze all worldwide…

Rupi Kaur

A few months ago, I wrote a post about slam poems that I loved. I still like to listen to slam poems that I come across, but recently I discovered Rupi Kaur. 104 more words

Rose Colored Wanderess

To Be Punjab...

To be rich

Is to drink
from the cupped palms of the Himalayas
molten snow,
five treasures as blue as the sky above,
poured with love. 142 more words

Punjab

Harmandir Sahib – The Golden Temple, Amritsar

It is known as the ‘the pool of immortality’. Harmandir Sahib, considered the holiest shrine in Sikhism, is located in Amritsar in Punjab, a city that boasts a number of historical and religious places. 285 more words

Amritsar

میرا لاہور واپس دلا دیں

جب میں یہ سطور لکھ رہا ہوں، آسمان پر ساون کی گھنگھور گھٹائیں چھا گئی ہیں، لاہور میں کہیں بوندا باندی اور کہیں بارش ٹوٹ کر برس رہی ہے، مست کر دینے والی ٹھنڈی ہوائیں چل رہی ہیں، ایسے موسم میں کون ظالم سیاست اور دہشت گردی کے بکھیڑوں میں اپنے قلم کی سیاہی ضایع کرے گا۔ ساون کا موسم جب جھوم کر آتا ہے تو گرمی اور حبس کے مارے انسانوں اور حیوانوں پر مستی چھا جاتی ہے، نان پکوڑے، آلو والے پراٹھے کھانے اور دودھ پتی پینے کا مزہ اس موسم میں کچھ اور ہی ہے۔ ساون رت میں پیدا ہونے والے احساسات کو چراغ حسن حسرت نے ماہیے کی زبان میں بیان کیا ہے، ماہیا خالصتاً پنجابی شاعری کی صنف ہے لیکن چراغ حسن حسرت نے اسے اردو میں لکھا اور استاد برکت علی خان نے اسے گا کر امر کر دیا، یقیناً آپ نے بھی سنا ہو گا لیکن یاد دلانے میں کیا حرج ہے۔ کلاسیک گیت، غزل اور ماہیے جب بھی سنیں لطف دیتے ہیں۔

باغوں میں پڑے جھولے

تم بھول گئے ہم کو،ہم تم کو نہیں بھولے

یہ رقص ستاروں کا

سن لوکبھی افسانہ تقدیر کے ماروں کا

ساون کا مہینہ ہے

ساجن سے جدا رہ کر جینا کوئی جینا ہے

راوی کا کنارا ہو ، ہر موج کے ہونٹوں پر

افسانہ ہمارا ہو

خیالات اور احساسات کا جوار بھاٹا مجھے کبھی ماضی میں لے جاتا ہے اور کبھی حال دھکیل دیتا ہے۔ ماضی بھی کیا خوبصورت اور رومانی ہوتا ہے اور حال جس میں ہم زندہ ہوتے ہیں، ناکامیاں اور کامیابیاں ساتھ لے کر چلتا ہے، کامیابی اور ناکامی بھی سوال ہوتا ہے، جس کا جواب مرنے کے بعد ملتا ہے کہ کوئی کامیاب تھا یا ناکام۔ مجھے بچپن کا ساون بڑا رومینٹک، حسین اور چلبلا نظر آتا ہے جب کہ آج کا ساون سہما سہما اور خوفزدہ یا پھر جذبات اور احساسات سے عاری۔ بارش ہو جائے تو سب سے پہلا خیال یہ آتا ہے، یار سڑکوں پر پانی کھڑا ہو جائے گا، گھر کیسے پہنچوں گا اور اگر گھر میں موجود ہیں تو یہ فکر کھائے جاتی ہے کہ دفتر کیسے پہنچوں گا؟

ستر کی دہائی کا لاہور میرے بچپن کا زمانہ ہے، مجھے اچھی طرح یاد ہے، اس زمانے میں گھروں میں پھل دار درخت ہوا کرتے تھے، ساون کے مہینے میں جامن اور امرودوں کی بہار ہوتی تھی، بچے بارش میں نہاتے تھے اور لوگوں کے گھروں میں لگے جامن کے پیڑوں سے زمین پر گرنے والے جامن اٹھا کر کھاتے تھے، کسی کے بھی گھر میں گھس جائیں، کوئی کچھ نہیں کہتا تھا۔ لاہور کے ملتان روڈ جہاں فلم اسٹوڈیوز ہیں، کے ارد گرد درختوں کا جنگل تھا اور ہرے بھرے کھیت۔ شام کے وقت آسمان پر پرندوں کے غول ایسے امڈتے کہ شام رات میں ڈھل جاتی، ہر طرف پرندوں کی چہکار اور آوازیں جلترنگ کا احساس پیدا کرتی تھیں۔ رنگ رنگ کے پرندے جنھیں دیکھنے کو آنکھیں ترس گئی ہیں۔

لاہور کا مال روڈ ناصر باغ سے اسمبلی ہال تک یورپ کے کسی ترقی یافتہ ملک کی شاہراہ کا منظر پیش کرتا تھا، جب میں اسکول میں داخل ہوا تو اپنے والد کے ہمراہ یونیفارم خریدنے انار کلی بازار آیا کرتا تھا، میں والد کی انگلی پکڑے انار کلی بازار اور مال روڈ پر چلتا تھا، اس زمانے میں مال روڈ پر گورے سیاح عام نظر آتے تھے، سنہرے اور سرخ بالوں والی گوریاں جنھیں اکثر نوجوان روک کر ہیلو ہائے کرتے نظر آتے تھے، میرا بھی بڑا دل چاہتا تھا کہ کسی گوری سے ہاتھ ملاؤں اور کہوں “How do youdo” کیونکہ انگریزی کا بس یہی جملہ مجھے زبانی یاد تھا لیکن والد کے ڈر سے ایسا نہ کر سکا البتہ جب میں کالج پہنچ گیا تو مال روڈ پر ہی بچپن کی یہ خواہش پوری کر لی، اب سوچتا ہوں تو ہونٹوں پر مسکراہٹ پھیل جاتی ہے، کیا سنہرے دن تھے، کاش وہ واپس آ جائیں لیکن افسوس ایسا نہیں ہو سکتا، زندگی کو صرف آگے بڑھنا ہے اور آخر میں اس کا اختتام ہونا ہے۔

یہ وہ لاہور تھا جب یہاں جرائم نہ ہونے کے برابر تھے، دہشت گردی کا نام و نشان نہیں تھا، اسمبلی ہال کے عین سامنے چیئرنگ کراس سے متصل باغیچے میں ملکہ وکٹوریہ کا مجسمہ نصب تھا، اس وقت تک یہاں بت اکھاڑنے کی مہم شروع نہیں ہوئی تھی اور لارنس گارڈن جسے ہم نے جناح باغ کا نام دیا، اس کے ارد گرد لوہے کے بلند جنگلے نہیں لگے تھے، زندگی سے بھرپور یہ باغ دن رات کھلا رہتا تھا کیونکہ اس کا کوئی دروازہ ہی نہیں تھا، پورے باغ کی چار دیواری پودوں کی باڑ سے کی گئی تھی اور راہداریاں دن رات کھلی تھیں، مزدور، ہوٹلوں کے چھوٹے ملازم جو دوسرے شہروں سے آتے تھے اور ان کے پاس رہائش نہیں تھی، وہ اس باغ میں سوتے تھے۔ گردوغبار کا نام و نشان نہیں تھا، اس باغ میں قطار اندر قطار جامن کے بلند و بالا درخت لگے تھے، ساون میں راہداریاں درختوں سے گرنے والے جامنوں سے اٹ جاتی تھیں، آج بھی چند درخت باقی ہیں، دیکھیں کب تک۔ برگد، پیپل اور ٹاہلی کے بلند و بالا درختوں نے مال روڈ کو ڈھانپ رکھا تھا، مال روڈ کیسا تھا، اس کی ایک جھلک غلام عباس کے مشہور افسانے اوور کوٹ میں نظر آتی ہے۔

اس زمانے میں یہ کالجوں اور باغوں کا شہر کہلاتا تھا، زندگی میں ڈسپلن تھا، ٹھہراؤ تھا اور سرکاری عمال کی لوٹ مار ابھی پانچ دس روپے یا زیادہ سے سو ڈیڑھ سو روپے رشوت تک محدود تھی، لیکن معاشرے کو زہر آلود بنانے کا کام شروع ہو چکا تھا، اس کا احساس اب جا کر ہوا ہے کہ پاکستان کو مذہبی، نسلی اور لسانی نفرتوں، عصبیتوں کے زہریلے انجکشن لگانے کا آغاز تو تقسیم کے فوراً بعد ہی ہو گیا تھا، پہلا انجکشن تو زمینوں کی الاٹمنٹوں کی صورت میں لگایا گیا۔ دلچسپ بات ہے کہ پاکستان کے پہلے وزیراعظم اس علاقے سے تقسیم سے قبل منتخب ہوئے تھے جو ہندوستان میں رہ گیا، پہلی قانون ساز اسمبلی کی پوزیشن بھی ایسی ہی تھی۔

ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ تقسیم کے فوراً بعد ایک نگران عبوری سیٹ اپ قائم کیا جاتا جس میں پاکستان میں شامل ہونے والے علاقوں اور ہندوستان سے آنے والے مہاجرین میں سے ان کی آبادی کے تناسب سے ٹیکنو کریٹس اور دیگر غیر سیاسی شخصیات کو نمایندگی دی جاتی۔ یہ نگران سیٹ اپ ملک میں آئین ساز اسمبلی کے لیے عام انتخابات کراتا، یہ منتخب اسمبلی نئے ملک کے لیے آئین تیار کرتی لیکن یہاں الٹ ہوا۔ قرارداد مقاصد تیار کرانے والے کون تھے اور ان کے مقاصد کیا تھے، کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں۔ تقسیم کے وقت سارے برصغیر کا نظام سیکولر بنیادوں پر اٹھایا گیا لہٰذا سب سے پہلے اس نظام کو توڑنے کے عمل کا آغاز کیا گیا، متروکہ املاک کی بندر بانٹ کے لیے قواعد و ضوابط سے روگردانی کا آغاز ہوا، پھر بتدریج سسٹم زوال پذیر ہونا شروع ہوا، قانونی شکنی تعزیر اور عدالت کی گرفت سے آزاد ہو گئی تو معاشرہ انتشار کا شکار ہو گیا، دیدہ دلیری سے سرکاری زمینوں پر قبضے ہونے لگے، زمینوں پر قبضے کے لیے مساجد کا استعمال کیا جانے لگا، کہیں قبریں اور مزار بنا کر زمینوں پر قبضے کر لیے گئے، انتظامیہ کرپٹ ہو گئی، آج ہم اس کی بھیانک شکل دیکھ رہے ہیں۔

میں نے آغاز میں جس لاہور کا ذکر کیا، وہ دراصل انگریز کے قائم کردہ سیکولر نظام کی باقیات کا نظارہ تھا، اس وقت یہ نظام ٹوٹ رہا تھا لیکن عام آدمی کو احساس نہیں تھا، میرے جیسے بچے کو بھلا کیسے ہو سکتا تھا، اس لیے مجھے اپنے بچپن کا لاہور جنت نظر آتا ہے کیونکہ ورثے میں ملا سیکولر نظام گرتا پڑتا چل رہا تھا لیکن دیدہ وروں کو اس وقت بھی نظر آ رہا تھا کہ اس جنت کو جہنم میں تبدیل کرنے کے مشن کا آغاز ہو چکا تھا۔ ہم نے اپنی جنت کو اپنے ہاتھوں سے تباہ کیا، کسی سے کیا گلہ شکوہ۔ آج ہم اس گم شدہ جنت کی تلاش میں ہیں۔ چند روز پہلے یوم آزادی پر ایکسپریس میڈیا گروپ کے سیمینار سے خطاب کے دوران بزرگ قانون دان ایس ایم ظفر نے میاں شہباز شریف کو مخاطب کرتے ہوئے بڑی دلسوزی سے التجا کی کہ مجھے میرا لاہورواپس دلادیں، وہ لاہور جہاں ساون کی مست گھٹائیں جھوم جھوم کر برستی تھیں۔ میں نے جب یہ سنا تو میری آنکھوں میں پانی کی لہر تیرنے لگی اور میں چند ساعتوں میں اس لاہور میں پہنچ گیا جہاں ساون جھوم جھوم کر برس رہا تھا ، پتہ نہیں جناب شہباز شریف جو خود بھی لاہوریے ہیں ، اس برسات میں نہائے یا نہیں۔

لطیف چوہدری

Lahore

پنجاب میں بچوں کا اغوا

پنجاب میں بالعموم اور لاہور میں بالخصوص بچوں کے اغوا اور گمشدگی کی بڑھی ہوئی شکایات ابھی تک ایک معمہ بنی ہوئی ہیں۔ پولیس اس سلسلے میں والدین کے دعووں اور میڈیا میں آنے والی خبروں کو حقائق سے دور ہونے کا دعویٰ کرتی ہے۔ پنجاب میں بچوں کے اغوا اور گمشدگی کے پے در پے واقعات کا میڈیا میں رپورٹ ہونے کا نوٹس لیتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے محکمہ داخلہ پنجاب، پولیس اور انٹیلی جنس اداروں کے ذریعے جو تحقیقات کروائی ، اس کی رپورٹ سامنے آئی ہے۔ مختلف اداروں نے بازیاب ہونے والے 1808 بچوں سے حاصل ہونے والی معلومات کی روشنی میں یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ پنجاب میں بچوں کے اغوا یا گمشدگی کے واقعات میں کوئی منظم مافیا یا ’’گینگ‘‘ ملوث نہیں ، تاہم وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف کی ہدایت پر پنجاب حکومت نے وزیراعلیٰ کے مشیر اور سابق آئی جی پولیس رانا مقبول احمد کی سربراہی میں سٹیئرنگ کمیٹی قائم کر دی ہے جو جائزہ لے گی کہ گذشتہ پانچ سال کے دوران جو بچے بازیاب نہیں ہو سکے ان کی تلاش میں کیا کارروائی ہوئی۔ سٹیئرنگ کمیٹی دیکھے گی کہ یہ بچے کیوں نہیں ملے۔

وزیر قانون پنجاب رانا ثنااللہ نے سینئر صحافیوں، اینکر پرسنز سے ملاقات میں اس مسئلہ پر روشنی ڈالی۔ اس موقع پر ہوم سیکرٹری پنجاب میجر (ر) عظیم سلیمان، ایڈیشنل آئی جی پولیس آپریشن کیپٹن (ر) عارف نواز، سی سی پی او لاہور کیپٹن (ر) امین وینس، چائلڈ پروٹیکشن بیورو کی چیئرپرسن صبا صادق ایم پی اے اور ڈائریکٹر جنرل فاطمہ سمیت دیگر حکام موجود تھے۔ صبا صادق نے چائلڈ پروٹیکشن بیورو کی کارکردگی پر روشنی ڈالتے ہوئے کوہاٹ، پشاور اور چیچہ وطنی سے بھاگ کر لاہور آنے والے تین بچے بھی میڈیا کے سامنے پیش کیے ۔ جو چائلڈ پروٹیکشن بیورو کی تحویل میں ہیں۔ صبا صادق نے مزید انکشاف کیا کہ افغانستان سے لائے گئے 11 بچے پولیس نے شاہدرہ کے ایک مدرسے سے برآمد کر کے چائلڈ پروٹیکشن بیورو کے حوالے کئے جنہیں افغانستان حکومت سے بات چیت کر کے افغانستان کے حوالے کر دیا گیا۔ ہوم سیکرٹری اور پولیس حکام کی بریفنگ کے مطابق بچوں کے اغوا کے واقعات کے مقابلے میں گمشدگی کے واقعات زیادہ ہیں۔ گمشدہ بچوں کی اکثریت پولیس کی مختلف بیان کردہ وجوہات کے تحت گھروں سے بھاگ نکلتی ہے۔ اغوا کے واقعات میں خاندانی دشمنی بھی ایک اہم عنصر ہے۔

رانا ثنااللہ نے کہا کہ میڈیا نے جب یہ معاملہ اٹھایا کہ اغوا کی وارداتوں کو کوئی بڑا اغوا کرنے والا گینگ آپریٹ کر رہا ہے۔ ہم نے ڈیٹا اکٹھا کروایا اور اب تک کی شہادتوں کے مطابق ایسی بات نہیں نکلی۔ پنجاب کے اداروں نے بڑی ایکسرسائز کی جس کے نتیجہ میں معلوم ہوا ہے کہ کوئی ’’گینگ‘‘ یا ’’مافیا‘‘ نہیں ہے۔ اغوا کر کے اعضا نکالنے کی بات درست ثابت نہیں ہوئی۔ اگر کسی کا دعویٰ ہے کہ ایسا ہے تو ثبوت پیش کرے۔ پنجاب کے چوٹی کے ڈاکٹروں کا اجلاس بلایا گیا، جس میں ڈاکٹروں نے کہا کہ ایسا ممکن نہیں کسی ایک فرد کا گردہ دوسرے شخص کو لگانے کے لئے ٹشو میچنگ ضروری ہوتی ہے۔ 5 سال سے کم عمر کے بچے کا گردہ کسی کو لگایا ہی نہیں جا سکتا۔

ڈی آئی جی آپریشن لاہور ڈاکٹر حیدر اشرف نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’حالیہ ایک دو ہفتوں کے دوران عام لوگوں کی طرف سے 13 افراد کو اغوا کار سمجھ کر پولیس کے حوالے کیا گیا یا شہریوں کی طرف سے نشاندہی کے بعد انہیں گرفتار کیا گیا لیکن ان میں سے ایک بھی اغوا کار ثابت نہیں ہوا بلکہ لوگوں نے محض اپنے شک یا اندازے کی بنیاد پر انہیں اغوا کار قرار دیا تھا۔ پولیس حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ عمومی طور پر پائے جانے والے اس تاثر کی بھی تصدیق نہیں ہوئی کہ مغوی بچوں کو فاٹا کے علاقے میں لے جایا جارہا ہے نہ مقامی طور پر موجود افغان بستیوں سے ایسی وارداتوں کا کوئی تعلق ثابت ہوا ہے۔

پولیس نے بچوں کے گم‘ لاپتہ یا غائب ہونے کی وجوہات میں سے سب سے اہم وجہ والدین کا رویہ بتایا ہے، جبکہ 111 کیسز ا یسے ہیں جن میں والد یا والدہ ہی اپنے بچوں کے اغوا کار نکلے۔ اسی طرح پولیس کا دعویٰ ہے کہ رواں سال کے دوران اب تک اغوا برائے تاوان کے چار واقعات سامنے آئے ہیں اور پولیس ان چاروں مغوی بچوں کو بازیاب کرانے میں کامیاب رہی ہے، تاہم پولیس اس بارے میں معلومات ’’شیئر‘‘ کرنے کو ان بچوں اور ان کے خاندانوں کے لئے خطرناک سمجھتی ہے۔ چاروں بازیاب کرائے جانے والے بچوں کا تعلق ایلیٹ کلاس سے ہے اور وہ پوش علاقوں کے رہائشی ہیں۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ شہر کی غریب بستیوں سے بچوں کے اغوا میں اضافہ کی اطلاعات مبالغہ آمیز ہیں کیونکہ اگر کسی نے بچوں کو اغوا ہی کرنا ہو تو اس کے لئے پوش آبادیوں کی اہمیت زیادہ ہوسکتی ہیں۔ اس دعوے کے باوجود پولیس کی اپنی مرتب کردہ رپورٹ میں یہ تسلیم کیا گیا ہے کہ اب تک بازیاب نہ کئے جانے والے 139 بچوں میں سب سے زیادہ، یعنی 44 بچوں کا لاہور سے تعلق ہے، جبکہ راولپنڈی سے تعلق رکھنے والے 18 بچے ہیں۔ تیسرے نمبر پر ضلع شیخوپورہ ہے، جہاں کے 8 بچے تاحال بازیاب نہیں ہوسکے ہیں، جبکہ باقی 69 بچوں کا تعلق پنجاب کے مختلف شہروں سے ہے۔

ریاض احمد چودھری

Lahore