Tags » Qawwali

Watch 9XM’s Humorous Musical Satire before this Gets Banned Too!

First the AIB Roast, then the infamous beef ban in Maharashtra – things seem to be getting banned all around!

This 9XM Ban Qawwali… 50 more words

What's Happenin'

The Man from Uncle: Rahat Fateh Ali Khan

There is really nothing to I can say about this recording that is more important than what Rahat himself says by way of introduction. “We are here to honour Ustad Nusrat Fateh Ali Khan by singing some of his beloved compositions, as well as some untold stories. 93 more words

Pakistan

156

I never watched too many Bollywood films. When I was a child, it was because my parents disapproved of me watching anything but children’s films. By the time I was old enough, I had ‘caught intellect’ and ended up watching what my friends watched – mostly Hollywood and European cinema. 333 more words

A.R. Rahman

The Lawyer, The Mystic & The Persian Rug

Chamak tujhse paate hain, sub paane waale

Mera dil bhi chamka de, chamkaane waale

“All those who attain brightness attain it from You

Brighten my heart also, O You who Brightens” 576 more words

Philosophy

Aziz Mian Qawwal عزیز میاں قوال

عزیز میاں قوال

’’اللہ ہی جانے کون بشر ہے، یانبی یانبی، تیری صورت، شرابی میں شرابی اور 115 منٹ کی طویل قوالی حشر کے روز یہ پوچھوں گا‘‘ جیسی عالمی شہرت یافتہ قوالیوں کے خالق، پرائیڈ آف پرفارمنس، عالمی شہرت یافتہ پاکستان کے مشہور قوال عزیز میاں قوال 17 اپریل 1942 کو دہلی میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام عبدالعزیز تھا اور ’’میاں‘‘ ان کا تکیہ کلام تھا جو بعد میں ان کے نام کا حصہ بن گیا اور عزیز میاں قوال کے نام سے مشہور ہوئے۔ قیام پاکستان کے بعد وہ ہجرت کرکے پاکستان آئے اور لاہور میں سکونت اختیار کی۔ استاد عبدالوحید سے فن قوالی سیکھنے کے بعد عزیز میاں نے پنجاب یونیورسٹی لاہور سے فارسی، اردو اور عربی میں ایم اے کی ڈگری حاصل کی اور قوالی کے شعبے کا چناؤ کیا۔ عزیز میاں کو یہ اعزاز بھی حاصل تھا کہ انہوں نے اپنی گائی گئی زیادہ تر قوالیوں کی شاعری خود تخلیق کی۔ اس کے علاوہ انہوں نے علامہ اقبال، صادق اور قتیل شفائی کا کلام بھی بارہا گایا۔ عزیز میاں اپنے منفرد بھاری بھرکم بارعب انداز گائیکی کے باعث پاکستان سمیت دنیا بھر کے کئی دیگر ممالک میں انتہائی عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھے اور جانے پہچانے جاتے تھے۔ ان کا شمار قدرے روایتی قوالوں میں ہوتا تھا، ان کی آواز بارعب اور طاقتور تھی لیکن ان کی کامیابی کا راز صرف ان کی آواز نہیں تھی، وہ نہ صرف عظیم قوال تھے بلکہ ایک عظیم فلسفی بھی تھے۔ اپنے ابتدائی دور میں انہیں فوجی قوال کا لقب ملا کیونکہ ان کی شروع کی بیشتر قوالیاں فوجی بیرکوں میں فوجی جوانوں کے لئے تھیں۔ عزیز میاں کو شاعری پڑھنے میں کچھ ایسی مہارت حاصل تھی جو سامعین پر گہرا اثر چھوڑ جاتی تھی۔ ان کی بیشتر قوالیاں دینی رنگ لئے ہوئے تھیں گوکہ انہوں نے رومانی رنگ میں بھی کامیابی حاصل کی تھی۔ حکومت پاکستان نے عزیز میاں قوال کو1989 میں پرائیڈ آف پرفارمنس سے بھی نوازا۔ 1966 میں شاہ ایران رضا شاہ پہلوی کے سامنے یادگار پرفارمنس پر انعام و اکرام اور گولڈ میڈل سے نوازا گیا۔

عزیز میاں کا انتقال6 دسمبر 2000 کو ایران کے دارالحکومت تہران میں یرقان کے باعث ہوا۔ انہیں حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی برسی کے موقع پر ایرانی حکومت نے قوالی کے لئے مدعو کیا تھا۔ ان کی تدفین آبائی قبرستان ملتان میں کی گئی۔

دیگر شعرا کے بارے میں جانیئے

Poet

Kadmon mein shama ke parwaane kabhi hanste hain kabhi rote hain

This article is meant to be posted in atulsongaday.me. If this article appears in sites like lyricstrans.com and ibollywoodsongs.com etc then it is piracy of the copyright content of atulsongaday.me and is a punishable offence under the existing laws. 764 more words

Duet

Nagore Boys

An inspirational Sufi song from the Nagore Boys – Abdul Ghani, Ajah Maideen and the late Saburmaideen Babha Sabeer.

Find out more at http://www.indiearth.com/ and http://www.earthsync.com/

Inspirational Music