Tags » Qur'an

Review—Living Creatures in the Holy Qur’an by Shahada Sharelle Haqq

When Tughra Books approached me about a new children’s book about animals in the Quran, I was excited by the concept. They were kind enough to send me a copy of… 576 more words

Picture Books

Dangers of Bid'aa (بدعة) - Innovation in Islam

Dear Viewers, اسلام وعليكم ورحمة الله و بركاته

Quran

Urdu Video: Was Miraj of Prophet Muhammad (saw) Physical?

Was Miraj of Prophet Muhammad (saw) Physical or it was Spiritual? A beautiful explanation of Miraj by Hadhrat Mirza Tahir Ahmad – the previous Head of Ahmadiyya movement in Islam. 52 more words

The Muslim Times

Do non-Muslims deserve justice? The Quran says 'Yes'

Recently a non-Muslim on Twitter raised an objection that I didn’t produce verses which call on Muslims to do justice. After a very short search, I found over 10 verses. 686 more words

Islam

ذٰلِكَ الْكِتٰبُ لَا رَيْبَ ۛ فِيْهِ ۛ ھُدًى لِّلْمُتَّقِيْنَ البقرہ 2

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

ذٰلِكَ الْكِتٰبُ لَا رَيْبَ ۛ فِيْهِ ۛ ھُدًى لِّلْمُتَّقِيْنَ

وہ عظیم الشان کتاب ہے جس (کے کلام اللہ ہونے) میں کسی شک کی گنجائش نہیں ہے ‘ یہ ان متقین کے لیے ہدایت ہے

 

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (یہ) وہ عظیم الشان کتاب ہے جس (کے کلام اللہ ہونے) میں کسی شک کی گنجائش نہیں ہے (البقرہ : ٢)

سورة فاتحہ کے بعد سورة بقرہ لانے کی مناسبت یہ ہے کہ سورة فاتحہ میں اللہ کے بندوں نے اللہ سے صراط مستقیم کی ہدایت کا سوال کیا تھا جو انعام یافتہ لوگوں کا راستہ ہو ‘ گمراہ اور مغضوب لوگوں کا راستہ نہ ہو تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا : جس ہدایت کا تم نے سوال کیا ہے وہ اس کتاب میں ہے اور اس میں انعام یافتہ لوگوں کی صفات بیان کیں کہ وہ اللہ سے ڈرنے والے ہیں ‘ غیب پر ایمان لاتے ہیں ‘ نماز قائم رکھتے ہیں ‘ اللہ تعالیٰ کے دیئے ہوئے مال سے خرچ کرتے ہیں اے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ پر جو کتاب نازل کی گئی اور آپ سے پہلے جو کتابیں نازل کی گئیں ان سب پر یقین رکھتے ہیں اور یہی لوگ دنیا میں ہدایت یافتہ ہیں اور آخرت میں فوز و فلاح پانے والے ہیں ‘ پھر گمراہ اور مغضوب لوگوں کی نشانیاں بیان کیں کہ ان لوگوں پر تبلیغ دین کا کوئی اثر نہیں ہوتا ‘ یہ ایمان لانے والے نہیں ہیں ‘ یہ کلمہ حق کو سننے کے لیے بہرے ہیں ‘ اعتراف حق کے لیے گونگے ہیں ‘ آیات اللہ کو بہ غوردیکھنے سے اندھے ہیں ‘ ان کی آنکھوں پر بغض اور عناد کی پٹی بندھی ہوئی ہے اور حق و صداقت کی طرف رجوع نہیں کریں گے۔

عربی قواعد کے مطابق ” ذالک “ کسی بعید چیز کی طرف اشارہ کرنے کے لیے آتا ہے اور یہاں کتاب کی طرف اشارہ ہے جو قریب ہے لیکن یہاں بعد رتبہ کو بعد مسافت کے قائم مقام کیا گیا ہے ‘ اس لیے اس کا معنی ہے : وہ عظیم الشان کتاب :

کتاب کا لغوی اور اصطلاحی معنی :

علامہ راغب اصفہانی لکھتے ہیں :

کتب کا معنی ہے چمڑے کے دو ٹکڑوں کو سی کر ایک دوسرے کے ساتھ ملا دینا ‘ اور عرف میں اس کا معنی ہے : بعض حروف کو لکھ کر بعض دوسرے حروف کے ساتھ ملانا ‘ اور کبھی صرف ان ملائے ہوئے حروف پر بھی کتاب کا اطلاق ہوتا ہے اسی اعتبار سے اللہ کے کلام کو کتاب کہا جاتا ہے اگرچہ وہ لکھا ہوا نہیں ہے ‘ قرآن مجید میں ہے : (آیت) ” الم ذالک الکتاب “ کتاب اصل میں مصدر ہے ‘ پھر مکتوب کا نام کتاب رکھ دیا گیا ‘ نیز کتاب اصل میں لکھے ہوئے صحیفہ کا نام ہے ‘ قرآن مجید میں ہے :

(آیت) ” یسئلک اھل الکتب ان تنزل علیہم کتبا من السمآء : (النساء : ١٥٣) (ترجمہ) اھل کتاب آپ سے یہ سوال کرتے ہیں کہ آپ ان پر آسمان سے کوئی صحیفہ نازل کردیں۔

فرض اور تقدیر کے معنی میں کتاب کا لفظ مستعمل ہے ‘ قرآن مجید میں ہے :

(آیت) ” یایھا الذین امنوا کتب علیکم الصیام کماکتب علی الذین من قبلکم ‘(البقرہ : ١٨٣) اے ایمان والو ! تم پر روزہ رکھنا فرض کیا گیا ہے جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیا گیا تھا۔

(آیت) ” قل لن یصیبنا الا ما کتب اللہ لنا “ (التوبہ : ٥١) (ترجمہ) آپ کہیے : ہمیں صرف وہی چیز پہنچے گی ‘ جو ہمارے لیے اللہ نے مقدر کردی ہے۔

کتاب کا لفظ بنانے اور شمار کرنے کے معنی میں بھی آتا ہے ‘ قرآن مجید میں ہے :

(آیت) ” فاکتبنا مع الشھدین (آل عمران : ٥٣) (ترجمہ) سو گواہی دینے والوں کے ساتھ ہمارا شمار کرلے

اللہ کی طرف سے حجت ثابتہ کے معنی میں بھی کتاب کا لفظ مستعمل ہے ‘ قرآن کریم میں ہے :

(آیت) ” ام اتینہم کتبا من قبلہ “۔ (الزخرف : ٢١) (ترجمہ) کیا ہم نے اس (قرآن) سے پہلے انہیں کوئی حجت ثابتہ دی ہے ؟

(آیت) ” فاتوا بکتبکم ان کنتم صدقین (الصافات : ١٥٧) تم اپنی حجت ثابۃ لے آؤ اگر تم سچے ہو

کتاب کا لفظ حکم کے معنی میں بھی وارد ہے ‘ قرآن مجید میں ہے :

(آیت) ” لولا کتب من اللہ سبق لمسکم فیما اخذتم عذاب عظیم (الانفال : ٦٨) (ترجمہ) اگر پہلے (معاف کردینے کا) حکم ‘ اللہ کی طرف سے نہ ہوتا تو (کافروں سے) جو (فدیہ کا مال) تم نے لیا تھا ‘ تمہیں اس میں ضرور بڑا عذاب پہنچتا

قرآن مجید میں جہاں اہل کتاب کا لفظ آتا ہے تو اس کتاب سے تورات ‘ انجیل یا یہ دونوں کتابیں مراد ہوتی ہیں۔ (المفردات ص ٤٢٥۔ ٤٢٣‘ مطبوعہ المکتبۃ المرتضویہ ‘ ایران ‘ ١٣٤٢ ھ)

کتاب کا اصطلاحی معنی یہ ہے : وہ صحیفہ جو ایسے متعدد مسائل جامع ہو جو جنسا متحد ہوں اور نوعا اور صنفا مختلف ہوں اور وہ صحیفہ ابواب اور فصول پر منقسم ہو ‘ جیسے کتاب الطہارۃ ‘ کتاب الزکوۃ وغیرہ۔

اس آیت میں کتاب سے مراد آسمانی صحیفہ ہے یعنی قرآن مجید۔

” ریب “ کا معنی :

علامہ زیبدی (رح) لکھتے ہیں :

” ریب “ کا معنی حاجت ہے ‘ حدیث میں ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس سے کچھ یہودی گزرے ‘ بعض نے کہا : ان سے سوال کرو ‘ اور بعض نے کہا : ” مارابکم الیہ “ تمہیں ان سے سوال کی کیا حاجت ہے ؟ اور ریب کا معنی شک اور تہمت بھی ہے ‘ ابن الاثیر (رح) نے کہا ہے کہ ریب اس شک کو کہتے ہیں جس میں تہمت کا عنصر شامل ہو ‘ حدیث میں ہے : جس چیز میں ریب ہو اس کو چھوڑ دو اور اس کو اختیار کرو جس میں ریب نہ ہو ‘ حضرت ابوبکر (رض) نے حضرت عمر (رض) کو وصیت کی : ” علیک بالرائب من الامور “ جس چیز میں بالکل شبہ نہ ہو اس کو لازم کرلو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت فاطمہ (رض) کے بارے میں فرمایا ” یریبنی مایریبھا “ جو چیز (حضرت) فاطمہ (رض) کو بےقرار کرتی ہے ‘ وہ مجھے بےقرار کرتی ہے اور ” تہذیب “ میں ہے : شک مع تہمت کو ” ریب “ کہتے ہیں۔ (تاج العروس ج ١ ص ٢٨٣۔ ٢٨٢‘ مطبوعہ المطبعۃ الخیریہ ‘ مصر ‘ ١٣٠٦ ھ)

قرآن مجید میں ” ریب “ کی نفی اور اثبات کا محمل :

شک کی حقیقت ہے : کسی چیز کا دل میں کھٹکنا اور دل کا مضطرب ہونا، شک کی ضد طمانیت ہے ‘ آیت کا معنی یہ ہے کہ اس کتاب کے منزل من اللہ ہونے میں ‘ اس کی ہدایت اور ارشاد میں ‘ فصاحت اور بلاغت کے لحاظ سے اس کے معجز اور بےمثال ہونے میں کسی قسم کے شک وشبہ کی گنجائش نہیں ہے۔ قرآن مجید میں ہے :

(آیت) ” وان کنتم فی ریب ممانزلنا علی عبدنا فاتوا بسورۃ من مثلہ “ (البقرہ ؛ ٢٣) (ترجمہ) اور جو کلام ہم نے اپنے عبد (مقدس) پر نازل کیا ہے ‘ اگر تم کو اس (کے منزل من اللہ ہونے) میں شک ہے تو اس جیسی کوئی سورت (بنا کر) لے آؤ۔

اس آیت سے یہ ظاہر معلوم ہوتا ہے کہ مشرکین کو اس میں شک تھا، اور پہلی آیت میں یہ فرمایا ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں ہے ‘ اس کا جواب یہ کہ فی نفسہ قرآن مجید فصاحت و بلاغت کے ایسے مرتبہ پر ہے کہ اس کے منزل من اللہ ہونے میں کوئی تردد نہیں ہے، اور جو شخص بھی کھلے ہوئے ذہن اور بصیرت کی آنکھوں سے اس کو پڑھے گا یابہ غور اس کلام کو سنے گا اس کو اس کے کلام اللہ ہونے میں کوئی شک اور شبہ نہیں ہوگا ‘ اس آیت کا یہ مطلب نہیں ہے کہ کوئی شخص اس میں شک نہیں کرتا بلکہ اس آیت کا مطب یہ ہے کہ اپنے واضح اور روشن دلائل کی وجہ سے یہ شک کا محل نہیں ہے اور اس میں تردو کی کوئی گنجائش نہیں ہے، اس کے باوجود اگر کفار اور مشرکین اس میں شک کرتے ہیں تو اس کی وجہ ان کی بصیرت سے محرومی ہے ‘ خواہش نفس کی اتباع ‘ تکبر اور ہٹ دھرمی ہے ‘ اور اپنے اباء و اجداد کی اندھی تقلید ہے ‘ انہوں نے اپنے دماغ کے دریچے بند کرلیے ہیں اور وہ کسی نئی فکر کو اپنے ذہن میں آنے نہیں دیتے۔ اس کا دوسرا جواب یہ ہے کہ ” فیہ “ ” ریب “ کی صفت ہے اور ” للمتقین “ اس کی خبر ہے اور معنی اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : یہ (کتاب) متقین کے لیے ہدایت ہے (البقرہ : ٢)

آیا قرآن مجید تمام انسانوں کے لیے ہدایت ہے یا صرف متقین کے لیے ؟:

اس جگہ فرمایا کہ قرآن مجید متقین کے لیے ہدایت ہے ‘ اور ایک اور جگہ فرمایا ہے کہ یہ تمام لوگوں کے لیے ہدایت ہے :

(آیت) ” شھر رمضان الذی انزل فیہ القران ھدی للناس “۔ (البقرہ : ١٨٥) (ترجمہ) رمضان کے مہینہ میں قرآن کو نازل کیا گیا ہے درآں حالیکہ وہ تمام لوگوں کے لیے ہدایت ہے :

قرآن مجید کی صراط مستقیم پر دلالت ہے اور متقین کو قرآن مجید کے احکام پر عمل کی توفیق بھی نصیب ہوتی ہے وہ قرآن مجید کے انوار سے مستنیر اور مستفید ہوتے ہیں اور قرآن مجید میں تدبر اور تفکر کرنے سے ان کے دماغ کی گرہیں کھلتی چلی جاتی ہیں اور غیر متقین کیلیے بھی قرآن کریم ہدایت ہے، نیکی اور دنیا کی خیر کی طرف رہنمائی ہے، اگرچہ وہ اس کی ہدایت کو قبول نہیں کرتے اور اس کیا حکام پر عمل کرکے اپنی دنیا اور آخرت کو روشن نہیں کرتے ‘ اور جن کفار اور مشرکین نے قران مجید کی ہدایت کو قبول نہیں کیا ‘ اس سے قرآن مجید کے ہدایت ہونے میں کوئی فرق نہیں پڑتا ‘ اگر اندھا آفتاب کو نہ دیکھے تو اس سے آفتاب کے روشن ہونے میں کیا فرق پڑتا ہے اور صفراوی مزاج والا اگر شہد کی شیرینی محسوس نہ کرے تو اس سے شہد کی مٹھاس میں کیا کمی ہوتی ہے۔

قرآن مجید میں جہاں فرمایا ہے کہ یہ تمام انسانوں کے لیے ہدایت ہے اس سے مراد یہ ہے کہ فی نفسہ قرآن مجید کی ہدایت تمام انسانوں کے لیے ہے اور یہاں جو فرمایا ہے کہ یہ متقین کے لیے ہدایت ہے اس سے مراد یہ ہے کہ نتیجہ اور مال کار یہ متقین ہی کے لیے ہدایت ہے کیونکہ اس ہدایت سے وہی فیضیاب ہوتے ہیں ‘ دوسرا جواب یہ ہے کہ ان دونوں آیتوں میں تعارض نہیں ہیں کیونکہ حقیقت میں انسان وہی ہیں جو متقی ہیں اور رہے غیر متقی تو وہ اس آیت کا مصداق ہیں :

(آیت) ” ولقد ذرانا لجھنم کثیرا من الجن والانس لہم قلوب الیفقھون بھا ولھم اعین لا یبصرون بھا ولھم اذان لایسمعون بھا اولئک الانعام بل ھم اضل اولئک ھم الغفلون (الاعراف : ١٧٩) (ترجمہ) اور بیشک ہم نے دوزخ کے لیے بہت سے جن اور انسان پیدا کیے ‘ ان کے دل ہیں جن سے وہ سمجھتے نہیں، ان کی آنکھیں ہیں جن سے وہ دیکھتے ہیں اور ان کے کان ہیں جن سے وہ سنتے نہیں وہ چوپایوں کی طرح ہیں بلکہ ان سے (بھی) زیادہ گمراہ ہیں وہی غافل ہیں

اس کا تیسرا جواب یہ ہے کہ ہرچند کہ قرآن تمام انسانوں کے لیے ہدایت ہے لیکن چونکہ متقی انسانوں کے اعلی افراد ہیں ‘ اس لیے ان ہی کا تشریفا اور تکریما ذکر کیا گیا ہے۔

تقوی کا صیغہ اور اس کا لغوی معنی :

علامہ زیبدی حنفی (رح) لکھتے ہیں :

ابن سیدہ نے کہا ہے کہ ” تقوی “ اصل میں ” وقوی “ تھا یہ فعلی کے وزن پر اسم (حاصل بالمصدر) ہے اور وقیت “ سے بنا ہے واؤ کو تا سے بدل دیا ‘ یہ ” تقوی “ ہوگیا اسی طرح ” تقاۃ “ اصل میں ” وقاۃ “ ہے اور ” تجاہ “ اور ” تراث “ اصل میں ” وجاہ “ اور ” وراث “ ہیں ” وقاہ یقیہ “ کا معنی ہے : کسی چیز کو اذیت سے محفوظ رکھنا اور اس کی حمایت اور حفاظت کرنا ‘ قرآن مجید میں ہے : (آیت) ” سالھم من اللہ من واق “ (الرعد : ٣٤) ” انہیں اللہ سے بچانے والا کوئی نہیں ہے : (تاج العروس ج ١٠ ص ٣٩٦‘ مطبوعہ المطبعۃ الخیریہ ‘ مصر ‘ ١٣٠٦ ھ)

علامہ راغب اصفہانی (رح) لکھتے ہیں :

تقوی کا معنی ہے : کسی ڈرانے والی چیز سے نفس کو بچانا اور اس کی حفاظت کرنا ‘ اور کبھی خوف کو بھی تقوی کہتے ہیں اور اس کا شرعی معنی ہے : گناہ کی آلودگی سے نفس کی حفاظت کرنا ‘ اور یہ ممنوعہ کاموں کے ترک سے حاصل ہوتا ہے ‘ اور کامل تقوی تب حاصل ہوتا ہے جب بعض مباحات کو بھی ترک کردیا جائے جیسا کہ حدیث میں ہے : حلال ظاہر ہے اور حرام ظاہر ہے اور ان کے درمیان کچھ مشتبہات ہیں جن کو بہت سے لوگ نہیں جانتے ‘ سو جو شخص مشتبہات سے بچ گیا اس نے اپنے دین اور اپنی عزت کو محفوظ کرلیا ‘ الحدیث۔ (صحیح بخاری ج ١ ص ١٣، طبع کراچی) تقوی کے کئی مراتب ہیں جو حسب ذیل آیات سے ظاہر ہوتے ہیں :

(آیت) ” فمن اتقی واصلح فلاخوف علیہم ولا ھم یحزنون (الاعراف : ٣٥)

(ترجمہ) پس جو لوگ گناہوں سے باز رہے اور انہوں نے نیکیاں کیں تو ان پر کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے

(آیت) ” اتقوا اللہ حق تقتہ، (آل عمران : ١٠٢)

(ترجمہ) اور اللہ سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے۔

(آیت) ” وسیق الذین اتقوا ربہم الی الجنۃ زمرا “۔ (الزمر : ٧٣)

(ترجمہ) اور جو لوگ اپنے رب سے ڈرتے تھے وہ جنت کی طرف گروہ در گروہ بھیجے جائیں گے۔ (المفردات ص ٥٣١۔ ٥٣٠‘ مطبوعہ المکتبۃ المرتضویہ ‘ ایران ‘ ١٣٤٢ ھ)

تقوی کا اصلاحی معنی :

علامہ میر سید شریف نے تقوی کی حسب ذیل تعریفات لکھی ہیں :

اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرکے نفس کو عدم اطاعت کے عذاب سے بچانا تقوی ہے اللہ تعالیٰ کی معصیت کے عذاب سے نفس و بچانا تقوی ہے اللہ تعالیٰ کے ماوسوا سے خود کو محفوظ کرنا تقوی ہے ‘ آداب شریعت کی حفاظت کرنا تقوی ہے ‘ ہر وہ کام جو تم کو اللہ سے دور کر دے اس سے خود کو باز رکھنا تقوی ہے ‘ حظوظ نفسانیہ کو ترک کرنا اور ممنوعات سے دور رہنا تقوی ہے ‘ تم اپنے نفس میں اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو نہ دیکھو یہ تقوی ہے ‘ تم اپنے آپ کو کسی سے بہتر گمان نہ کرو یہ تقوی ہے ماسوی اللہ کو ترک کرنا تقوی ہے اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قولا اور فعلا اقتداء کرنا تقوی ہے۔ (کتاب التعریفات ص ٣٩‘ مطبوعہ المطبعۃ الخیریہ ‘ مصر ٦، ١٣ ھ)

علامہ قرطبی (رح) لکھتے ہیں :

تقوی کا معنی ہے : کسی ناپسندیدہ چیز سے خود کو بچانے کے لیے اپنے اور اس چیز کے درمیان کوئی آڑ بنا لینا ‘ اور متقی وہ شخص ہے جو اپنے نیک اعمال اور پرخلوص دعاؤں سے اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے عذاب بچا لے ‘ زربن جیش کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) نے ایک دن فرمایا : لوگ بہت ہیں لیکن ان میں بہتر وہ ہیں جو تائب ہوں یامتقی ہوں ‘ پھر ایک دن کہا : لوگ بہت ہیں لیکن ان میں بہتر وہ ہیں جو عالم ہوں یا متعلم ہوں ‘ ابویزید بسطامی (رح) نے کہا : متقی وہ ہے جس کا ہر قول اور ہر عمل اللہ کے لیے ہو ابوسلیمان دارانی (رح) نے کہا : متقی وہ ہے جس کے دل سے شہوات کی محبت نکال لی گئی ہو ‘ ایک قول یہ ہے کہ متقی وہ ہے جو شرک سے بچے اور نفاق سے بری ہو ‘ ابن عطیہ نے کہا : یہ غلط ہے کیونک فاسق بھی اسی طرح ہوتا ہے ‘ حضرت عمر بن الخطاب (رض) نے حضرت ابی بن کعب (رض) سے تقوی کے متعلق سوال کیا ‘ انہوں نے کہا : کیا آپ نے کانٹوں ولا راستہ دیکھا ہے ؟ حضرت عمر (رض) نے کہا : ہاں پوچھا : پھر آپ نے کیا کہا ؟ حضرت عمر (رض) نے کہا : میں نے پائچے اوپر اٹھائے اور ان سے بچ کر نکلا ‘ حضرت ابی بن کعب (رض) نے کہا : یہی تقوی ہے ‘ حضرت ابودرداء (رض) نے کہا : تقوی ہر قسم کی خیر کا جامع ہے اور یہ وہ چیز ہے جس کی اللہ تعالیٰ نے اولین اور آخرین کی وصیت کی ہے۔ (الجامع الاحکام القرآن ج ١ ص ١٦٢۔ ١٦١ مطبوعہ انتشارات ناصر خسرو ایران ٗ ١٣٨٧ ھ)

امام رازی (رح) لکھتے ہیں :

متقی وہ شخص ہے جو عبادات کو انجام دے اور ممنوعات سے بچے اس میں اختلاف ہے کہ گناہ صغیرہ سے بچنا بھی تقوی میں داخل ہے یا نہیں، حدیث میں ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کوئی بندہ اس وقت تک متقین کے درجہ کو نہیں پاسکتا جب تک ان چیزوں کو ترک نہ کر دے جن میں حرج نہ ہو اس خوف سے کہ شاید ان میں حرج ہو ‘ حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : متقی وہ لوگ ہیں جو عذاب سے بچنے کے لیے خواہش نفس پر عمل نہیں کرتے اور اللہ تعالیٰ سے رحمت کی امید رکھتے ہیں۔

امام رازی (رح) فرماتے ہیں : یہاں تقوی سے مراد خوف خدا ہے ‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے سورة نساء اور سورة حج کی ابتداء میں فرمایا :

(آیت) ” یایھا الناس اتقوا ربکم “ (النساء : الحج : ١)

ترجمہ : اے لوگو ! اپنے رب سے ڈرو۔

حسب ذیل آیات میں بھی تقوی سے مراد خوف خدا ہے :

(آیت) ” اذ قال لہم اخوھم نوح الا تتقون (الشعراء : ١٠٦)

ترجمہ : جب ان کے ہم قوم نوح (علیہ السلام) نے ان سے کہا :

(آیت) ” اذ قال لہم اخوھم ھود الا تتقون (الشعراء : ١٢٤)

ترجمہ : جب ان کے ہم قوم ھودعلیہ السلام نے ان سے کہا : کیا تم خدا سے نہیں ڈرتے ؟

(آیت) ” اذ قال لہم اخوھم صلح الا تتقون (الشعراء : ١٤٢)

ترجمہ : جب ان کے ہم قوم صالح (علیہ السلام) نے ان سے کہا : کیا تم خدا سے نہیں ڈرتے ؟

(آیت) ” اذ قال لہم اخوھم لوط الا تتقون (الشعراء : ١٦١)

ترجمہ : جب ان کے ہم قوم لوط (علیہ السلام) نے ان سے کہا : کیا تم خدا سے نہیں ڈرتے ؟

(آیت) ” اذ قال لہم اخوھم شعیب الا تتقون (الشعراء : ١٧٧)

ترجمہ : جب شعیب (علیہ السلام) نے ان سے کہا : کیا تم خدا سے نہیں ڈرتے ؟

(آیت) ” وابرھیم اذ قال لقومہ اعبدوا اللہ واتقوہ (النکبوت : ٦١)

ترجمہ : اور ابرہیم نے جب اپنی قوم سے کہا : اللہ کی عبادت کرو اور اس سے ڈرو۔

(آیت) ” اتقوا اللہ حق تقتہ۔ (آل عمران : ١٠٢)

ترجمہ : اور اللہ نے انہیں کلمہ توحید پر مستحکم کردیا۔

(آیت) ” ولوان اھل القری امنوا واتقوا (الاعراف : ٩٦)

ترجمہ : اور اگر بستیوں والے ایمان لے آتے اور توبہ کرتے۔

(آیت) ” ان انذروا انہ لا الہ الا انا فاتقون (النحل : ٢)

ترجمہ : لوگوں کو ڈراؤ کہ میرے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ‘ سو میری اطاعت کرو

(آیت) ” واتوالبیوت من ابوابھا، واتقواللہ (البقرہ : ١٨٩)

ترجمہ : اور گھروں میں ان کے دروازوں سے داخل ہو اور اللہ کی نافرمانی نہ کرو۔

(آیت) ” ومن یعظم شعآئر اللہ فانھا من تقوی القلوب (الحج : ٣٢)

ترجمہ : اور جس نے اللہ تعالیٰ کی نشانیوں کی تعظیم کی تو یہ دلوں کے اخلاص سے ہے

تقوی کا مقام بہت عظیم اور بلند ہے کیونک اللہ تعالیٰ نے فرمایا :

(آیت) ” ان اللہ مع الذین اتقوا (النحل : ١٢٨)

ترجمہ : بیشک اللہ متقین کے ساتھ ہے۔

(آیت) ” ان اکرمکم عنداللہ اتقکم “ (الحجرات : ١٣)

ترجمہ : بیشک اللہ کے نزدیک تم میں سے سب سے مکرم وہ ہے جو سب سے زیادہ متقی ہے۔

حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو شخص یہ چاہتا ہو کہ وہ لوگوں میں سب سے زیادہ مکرم ہو وہ اللہ سے ڈرئے اور حضرت علی بن ابی طالب (رض) نے فرمایا : معصیت پر اصرار نہ کرنا ‘ اور عبادت پر مغرور نہ ہونا ‘ تقوی ہے ‘ ابراہیم بن ادھم (رح) نے کہا : تقوی یہ ہے کہ تمہاری زبان پر مخلوق کا عیب نہ ہو ‘ فرشتے تمہارے افعال میں عیب نہ پائیں اور اللہ تعالیٰ تمہارے دل میں کوئی عیب نہ دیکھے ‘ علامہ واقدی (رح) نے کہا : تقوی یہ ہے کہ جس طرح تم اپنے ظاہر کو مخلوق کیلیے مزین کرتے ہو ‘ اس طرح اپنے باطن کو اللہ کے لیے مزین کرو ‘ ایک قول یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ تم کو وہاں نہ دیکھے جہاں اس نے منع کیا ہے اور ایک قول یہ ہے کہ جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سیرت کو اپنائے اور دنیا کو پس پشت ڈال دے، اپنے نفس کو اخلاص اور وفا کا پابند کرے اور حرام اور جفا سے اجتناب کرے وہی متقی ہے اور اگر ” ……….“ کے سوا متقین کی فضیلت میں اور کوئی آیت نہ ہوتی تو یہی آیت کافی تھی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے یا ”…………“ فرمایا ہے اور اس کے ”…….“ فرمایا جس کا نتیجہ یہ ہے کہ حقیقت میں انسان وہی ہے جو متقی ہو۔ (تفسیر کبیر ج ١ ص ١٦٢۔ ١٦١ مطبوعہ دارالفکر بیروت ‘ ١٣٩٨ ھ)

تقوی اور متقین کے متعلق احادیث :

امام ترمذی (رح) روایت کرتے ہیں :

حضرت عطیہ سعدی (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کوئی بندہ اس وقت تک متقین میں سے شمار نہیں ہوگا جب تک کہ وہ بےضرر چیز کو اس خوف سے نہ چھوڑ دے کہ شاید اس میں ضرر ہو۔ یہ حدیث حسن غریب ہے۔ (جامع ترمذی ص ٣٥٤‘ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب ‘ کراچی)

امام مسلم (رح) روایت کرتے ہیں :

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ایک دوسرے سے حسد نہ کرو ‘ تناجش (کسی کو پھنسانے کے لیے زیادہ قیمت لگانا) نہ کرو ‘ ایک دوسرے سے بعض نہ رکھو ‘ ایک دوسرے سے روگردانی نہ کرو ‘ کسی کی بیع پر بیع نہ کرو ‘ اللہ کے بندے بھائی بھائی بن جاؤ ‘ مسلمان ‘ مسلمان کا بھائی ہے ‘ اس پر ظلم نہ کرے ‘ اس کو رسوا نہ کرے ‘ اس کو حقیر نہ جانے ‘ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے سینے کی طرف اشارہ کرکے تین بار فرمایا : تقوی یہاں ہے ‘ کسی شخص کے برے ہونے کے لیے یہ کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو براجانے ‘ ایک مسلمان دوسرے مسلمان پر مکمل حرام ہے ‘ اس کا خون اس کا مال اور اس کی عزت۔ (صحیح مسلم ج ٢ ص ‘ ٣١٧ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٧٥ ھ)

امام ترمذی (رح) روایت کرتے ہیں :

حضرت ابی بن کعب (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ”………“ کی تفسیر میں فرمایا ”………“۔ (جامع ترمذی ص ٤٧٠‘ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب ‘ کراچی)

امام دارمی (رح) روایت کرتے ہیں :

حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تمہارا رب یہ فرماتا ہے کہ میں ہی اس بات کا مستحق ہوں کہ مجھے سے ڈرا جائے سو جو شخص مجھ سے ڈرے گا تو میری شان یہ ہے کہ میں اس کو بخش دوں۔ (سنن دارمی ج ٢ ص ٢١٢‘ مطبوعہ نشر السنۃ ‘ ملتان)

حضرت ابوذر (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مجھے ایک ایسی آیت کا علم ہے کہ اگر لوگ صرف اسی آیت پر عمل کرلیں تو وہ ان کے لیے کافی ہوگی ‘ جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لیے مشکلات سے نکلنے کا راستہ بنا دیتا ہے۔ (سنن دارمی ج ٢ ص ٢١٣‘ مطبوعہ نشر السنۃ ‘ ملتان)

امام احمد روایت کرتے ہیں :

ابونضرہ بیان کرتے ہیں کہ جس شخص نے ایام تشریق کے وسط میں رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے خطبہ سنا اس نے یہ حدیث بیان کی ‘ آپ نے فرمایا : اے لوگو ! سنو تمہارا رب ایک ہے ‘ تمہارا باپ ایک ہے ‘ سنو ! کسی عربی کو عجمی پر فضیلت نہیں ہے ‘ نہ عجمی کو عربی پر فضیلت ہے ‘ نہ گورے کو کالے پر فضیلت ہے ‘ نہ کالے کو گورے پر فضیلت ہے ‘ مگر فضیلت صرف تقوی سے ہے (مسند احمد ج ٥ ص ٤١١ مطبوعہ مکتب اسلامی ‘ بیروت)

حضرت معاذ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : شاید اس سال کے بعد تم مجھ سے ملاقات نہیں کرو گے ‘ حضرت معاذ (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے فراق کے صدمہ میں رونے لگے ‘ پھر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا : میرے سب سے زیادہ قریب متقی ہوں گے خواہ وہ کوئی ہوں اور کہیں ہوں (مسند احمد ج ٥ ص ‘ ٢٣٥ مطبوعہ مکتب اسلامی ‘ بیروت)

تقوی کے مراتب :

اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ قرآن مجید کا متقین کے لیے ہدایت ہونا تحصیل حاصل ہے کیونکہ متقین تو خود ہدایت یافتہ ہیں ‘ اس کے کئی جواب ہیں ‘ پہلا جواب یہ ہے کہ متقین سے مراد یہ ہے کہ جو لوگ تقوی حاصل کرنے کا ارادہ کریں سو یہ کتاب ان کے لیے ہدایت ہے ‘ دوسرا جواب یہ ہے کہ ہدایت سے مراد ہدایت پر دوام اور ثبات ہے یعنی اس کتاب کے مطالعہ اور اس پر عمل کرنے سے متقین کو ہدایت پر دوام اور ثبات حاصل ہوگا ‘ تیسرا جواب یہ ہے کہ تقوی کے کئی مراتب ہیں : (١) نفس کی کفر اور شرک سے حفاظت کرنا ‘ (ب) نفس کی گناہ کبیرہ سے حفاظت کرنا (ج) نفس کی گناہ صغیرہ سے حفاظت کرنا (د) نفس کی خلاف سنت سے حفاظت کرنا (ھ) نفس کی خلاف اولیٰ سے حفاظت کرنا (و) نفس کی ماسوی اللہ سے حفاظت کرنا ‘ سو جو شخص تقوی کے کسی ایک مرتبہ پر فائزہو یہ کتاب اس کے لیے تقوی کے اگلے مرتبہ کے لیے ہدایت ہے۔

Tibyan Ul Quran

"7 Habits" yang Lain

Sebagian kita akrab dengan buku The 7 Habits of Highly Effective People karya Stephen R. Covey. Buku motivasi personal yang terbit pada 1989 ini sudah dicetak hingga 5 juta eksemplar. 850 more words

Deen