Tags » Rationality » Page 2

Examining the sunk cost

The concept of sunk cost is one which is introduced to economics students pretty early on.  Sunk costs are costs that have already been incurred and… 911 more words

Economics

The drowning stranger illustration challenges atheistic morality

This is by Matt from Well Spent Journey blog.

Excerpt:

Here’s a thought experiment.

_____

Imagine that you’re a healthy, athletic, 20-year-old male. It’s the morning after a thunderstorm, and you’re standing on the banks of a flooded, violently churning river.

664 more words
Commentary

Do irrational idiots exist?

Rational expectations — only for Gods and idiots

In a laboratory experiment run by James Andreoni and Tymofiy Mylovanov — presented here — the researchers induced common probability priors, and then told all participants of the actions taken by the others. 94 more words

Behavioral Economics

The Grasshopper and the Ant - a story of economic rationality

We must be vigilant when we use the word ‘rational’ in an economic sense. There are orthodox definitions for all economic terms and ‘rationality’ is no exception. 1,426 more words

Economics

A Brief Analysis of Deism

In this article, I am going to briefly analyze the rational and irrational aspects of Deism.

Deism, derived from the Latin word deus meaning “god”) combines the rejection of revelation and authority as a source of religious knowledge with the conclusion that reason and observation of the natural world are sufficient to determine the existence of a single creator of the universe. 573 more words

Belief

انسانی تہذیب کا ارتقاء

بنی نوع انسان کا ارتقاء جنگلوں سے شروع ہوا اور اب وہ کثیرالمنزلہ عمارتوں میں رہائش پذیر ہے۔ ۔ان میں سے بعض زمین کی بجائے اب خلا میں قیام پذیر ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ زمین کی حدوں کو نہ صرف عبور کر گئے ہیں بلکہ آسمانوں پر بسیرا کیے ہوئے ہے۔کہاں کبھی انکی گزر بسر شکار اور گھوم پھر کر ہوتی تھی۔ پھر چھوٹے چھوٹے شکاریوں کے گروہ بنے اورجنگلوں سے شروع ہونے والے اس ارتقا ءمیں انسان نے جنگلوں میں رہائش ترک کر کے آبادیاں بسائیں جو آگے چل کر قبائل کا روپ دھار گئی۔ یہ قبائل ملکر ایک قوم بنے اور قوموں کے بطن سے ملک وجود میں آئے۔ ابتدائی گروہوں اور قبائل میں کوئی ادارہ نہیں تھا۔ یہ آبادیاں وحشی، جنگلی اور غیر مہذب تھی جن کے وجود کا انحصار انتقام، لڑایوں اور لوٹ مار پر تھا۔ یہ بس زندہ رہنے کی ایک جستجو تھی جس میں انسان نے دو ٹانگوں چلنا تو سکھ لیا تھا مگر ابھی دماغی طور پر نابالغ تھا ۔ آنکھ کے بدلے آنکھ، جان کے بدلے جان ان کا سماجی انصاف کا نظام تھا۔ اپنی نسل اور قبیلے پر تفاخر عام تھا اور دیگر نسلوں اور قبائل کو کمتر سمجھا جاتا تھا۔انسانی غلامی عام تھی اور غلاموں کی خریدوفروخت کا مقصد دوسروں کو شرمندہ کرنا اور گھٹیا ہونے کا احساس دلانا تھا ۔عورتوں کو مردوں کی جائیداد سمجھا جاتا تھا، گھر میں زیادہ عورتوں اور بیویوں کا ہونا بہادری کی علامت اور مردانہ خوبی تھی۔ آہستہ آہستہ قبائلی نظم و ضبط کے لیے ایک ادارے کی ضرورت محسوس ہوئی اور یوں قبیلہ کے بعد مذہب کا ایک ادارہ تشکیل پایا جو کہ شائد پہلا منظم ادارہ ہے انسانی تاریخ میں ۔ جس کا مقصد معاشرے میں امن اور کچھ مشترک اخلاقی اور قانونی روایات کا بنانا تھا ۔اس طرح مذہب قوائد و ضوابط کا یک مجموعہ بن کر سامنے آیا ۔ یہ ادارہ بھی غیر مہذب اور انتقامی اقدار پر مبنی تھا کیونکہ اس کا مقصد تو قبائلی معاشرے کو منظم کرنا تھا ،جس میں بدلہ کو انصاف کا نام دیا گیا اور ووہی آنکھ کے بدلے آنکھ کو قانونی حیثیت دے دی گئی . اس ادارے نے بربریت پر مبنی تمام اقدار مثلاً غلامی، لوٹ مار اور کثیرالازواج کو قانوناً جائز قرار دیا ۔آہستہ آہستہ یہ ادارہ بھی ارتقا کے عمل سے گزرا اور اس ادارے نے لوگوں کو یہ سکھایا گیا کہ کیسے غلاموں اور عورتوں سے کچھ بہتر سلوک کرنا ہے ۔ مگر کوئی بھی مذہب ان قبائلی روایات کو غلط نہیں کہ پایا ۔نہ اس نتیجہ پرپہنچ سکا کہ یہ سب برائیاں ہیں اور تمام انسان، خواہ وہ کسی بھی دوسرے مذہب، جنس، نسل یا معاشرے سے تعلق رکھتے ہوں ، برابر ہیں۔ مذہب کا ایک مثبت پہلو تھا خود احتسابی سکھانا۔ اداروں کی غیرموجودگی میں خود احتسابی ایک اچھی حکمت عملی تھی ۔اور انسانی ضروریات کے تحت بننے والا یہ ادارہ آہستہ آہستہ پورے معاشرے پر ہاوی ہو گیا۔ اخلاقیات سے لے کر قوانین اور بنیادی نظریات سے لیکر سیاست تک ہر جگہ اسکی طوطی بولتی۔اور یہ ادارہ آہستہ آہستہ نہ صرف طاقت کا منبع بنا بلکہ ایک استحصالی طاقت اور جمود کی علامت بن کر سامنے آیا۔ روز اول سے انسانی معاشروں میں سوچ بچار کرنے والے ۔ سوال کرنے والے اور اجتماعی سوچ رکھنے والے لوگ موجود رہے ہیں ۔ وہ لوگ بھی جنہوں نے مذہب کا ادارہ بنایا اور اسکو اگے بڑھایا اور وہ بھی جو مختلف سوچ رکھتے تھے ۔ہمیشہ سے آزاد سوچ کے مفکر اور متضاد سوچ کے حامل دنیا زیر عتاب رہے ہیں، ایک وقت ایسا آئیا جب ان میں سے کچھ بہادر انسان اس ادارے کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئےاور دنیا کو یوں بدلنے کی ٹھانی کہ اس بدلی دنیا میں عقل و دلیل اور دماغ کا استعمال سب سے افضل ہو گیا۔ یہ سب لوگ اُس پرتشدد وحشی معاشرے کی گھٹیا وحشیانہ قبائلی اقدار کے سخت مخالف تھے۔ انہوں نے اس سارے غیر مہذب اور ناانصافی پر مبنی معاشرے کی اعلانیہ ملامت کی اور ان تمام وحشی اقدار کو مسترد کر دیا۔ اور انسان کو صرف انسان سمجھنے پر زور دیا ۔نسلی، قبائلی اور سب تفاخر رد کر دئے گئے اور یوں جدید تہذیب کی طرف انسان نے قدم بڑھایا۔ آہستہ آہستہ بنی نوع انسان نے، معاشرے کی بہتری کے لیے مزید اچھے اور بہتر راستے تلاش کر لیے. عقل پرستوں کو دنیا میں حکومت ملی اور ترقی کا ایک نیا دور کھلا ۔ ماضی کے آزاد سوچ کے مفکروں کو بھی اپنایا اور سراہا گیا۔دیکھا جائے تو یہ تمام انسانی ارتقاء، حیاتیاتی یعنی بیالوجیکل ارتقاء کی طرح ہی ہے۔ بیالوجیکل ارتقا میں یک خلوی سے کثیر خلوی جاندار اور افعال کو سرانجام دینے کی مخصوصیت(ڈویژن آف لیبر)کی طرح انسانوں نے ماڈرن اور جدید معاشرے تشکیل دیے جس میں بہت سے ادارے تھے جو اپنے افعال اور فرائض میں مخصوص تھے۔اب ہمارے پاس حکومت کا ادارہ الگ ہے اور قانون ساز، فوجی، نظم و ضبط کو یقینی بنانے کے ادارے ، معاشرتی و ثقافتی ادارے ہیں۔اس ارتقا کے نتیجے میں جو ‘ ڈویژن آف لیبر’ معاشرے میں ارتقا پذیر ہوئی اس کے نتیجہ میں مذہب بھی معاشرے کا ایک ادارہ بن گیا ہے جس کا کردار پہلے کی نسبت بہت مخصوص ہے، جبکہ ماضی میں یہی ایک واحد مرکزی ادارہ تھا جو حکومتی، انتظامی ، اخلاقی اور ہر ادارے کا کام کرتا تھا۔

جنگلوں سے شروع ہونیوالا ارتقاء جو اب کثیرالجہتی معاشرے میں تبدیل ہو چکا ہے اور انسان اب جھونپڑی سے نکل کر میٹروپولٹن میں رہتا ہے، سننے میں انسان کو بہت محظوظ کرتا ہے۔ ہم نے صفر سے سب کچھ شروع کیا اور اب ارض وسماء کوتسخیر کر چکےہیں۔بہت سے مذاہب نے گرزتے وقت کے تقاضوں کو مد نظر رکھتےہوئے اس تبدیلی کو تسلیم کر لیا ہے اور خود کو اس تبدیلی کے مطابق ڈھال لیا ہے۔اب یہ مذاہب معاشرے کاصرف ایک ادارہ بن گئے ہیں۔ لیکن مذہب اسلام اس معاملے میں کوئی لچک دکھانے کو تیار نہیں ہوا اور ابھی بھی اپنی متروک شدہ روایات پر ڈٹا ہوا ہے۔ امام غزالی نے مذہب کے علم برداروں کو دلیل و استدلال کا فن دیا ہے۔ اس کے دیے ہوئے دلائل استعمال کرتے ہوئے مذہب کے یہ علم بردار نہ صرف انسانی تہذیب کے ارتقاء کو جھٹلاتے ہیں بلکہ اس کے متوازی نام نہاد اسلامی تہذیب کا ڈھول بھی پیٹتے ہیں۔ جو سننے میں تو بہت متاثر کن ہے لیکن حقیقت سے اس کا دور دور تک کوئی واسطہ نہیں۔ یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ آہستہ آہستہ یہ ایک اپنی طرز کی شدت پسندی پر مبنی تھیوری بنتی جا رہی ہے۔ مزید براں یہ بھی دیکھنے میں آئیا ہے کہ توجیہات کے استعمال سے ماضی کی بربریت اور کٹھور پن پر مشتمل ان روایات کو قانونی شکل دینے اور اخلاقی اعتبار سے قابل قبول بنانے کی لا حاصل سعی بھی کی جا رہی ہے جسے انسانی تہذیب نے اپنے ارتقاء کے دوران بہت پہلے رد کر دیا تھا۔ اسلامی تہذیب کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے کے لیے اسلام نے بطور ایک ادارہ اپنا دائرۂ کار بہت وسیع کر لیا ہے۔ بہت سا مواد اور کتب لکھی گئی جس میں اسلامی کلچر، اسلامی حکومت، اسلامی سیاست، اسلامی روایات، اسلامی معاشرتی نمونہ ، اسلامی حقوق نسواں ، اسلامی معاشی ماڈل ، اور اسلامی معاشرتی اقدار جیسی نئی نئی اصلاحات متعارف کروائی گئی۔ ان لوگوں نے اسلام کو ہر معاشرے ، ازم اور فلسفے کے بطور ایک متبادل کے طور پر لا کھڑا کیا۔ جس کے نتیجے میں اسلام بتدریج اسلام ازم میں بدل گیا۔ اگر یہ اصلاحات اپنے لفظی مطلب کی طرح معتدل ہوتی ہوں یقیناً ایک عمدہ نعم البدل ہوتی لیکن حقیقت کا اس سے دور دور تک بھی واسطہ نہیں۔ اس طرح اسلام کا ایک رجعت پسند ، ماضی میں ڈوبا ہوا ایسا چہرہ سامنے آیا جو آج بھی گزرے ماضی کے ظلم و جبر اور وحشیانہ طرزفکر کو پناہ دیے ہوئے ہے۔غزالی کے دیے ہوئے استدلال کو اس ناانصافی کو انصاف قرار دینے پر محنت ہو رہی ہے ۔ ایک لاطینی فلاسفر کا قول ہے، “انسان کائینات میں ہر شے کی عقلی توجیہ پیش کر سکتا ہے”۔ باوجود اس کے کہ آج کا انسان اکیسویں صدی میں جی رہا ہے لیکن اسلامسٹوں (اسلام پسندوں) نے نہ صرف تہذیب کی ارتقاء میں بڑھتے ہوئے ہر قدم کی مخالفت کا بیڑہ اٹھا لیا ہےبلکہ عرب قبائلی اور بدوؤی تہذیب جو کہ ڈیڑھ ہزار سال پرانی ہے کو اپنی اخلاقیات کےلیےسر چشمہ بنا لیا ہے اور اسی کو سب سے اعلیٰ و افضل گردانے کی رٹ لگائے ماضی کے سراب میں کھویا ہوا ہے۔ اس کوشش میں مسلمان دنیا سے مسلح لڑائی کرنے میں دریغ نہیں کرتے۔ طالبان، القاعدہ، حزب التحریر اور ان جیسے بہت سے دیگر گروہ علیٰ لاعلان ان کو نافذ کرنے کے لیے سرگرم بھی ہیں۔ وہ اعلانیہ اس بات کا برملا اظہار بھی کرتے ہیں کہ ماضی کا وہ متروک دور واپس آ کر رہے گا اور اس مقصد کے لیے وہ جان قربان کرنے کو بھی تیار ہیں۔ ان کے لیے یہی متروک نظام ہی بقا کا واحد زریعہ ہے جس کا ایک اہم جز بربریت ، قتل و غارت اور تشدد ہے جبکہ دوسرے انسان ان نام نہاد خوبیوں کو صدیوں پہلے ترک کر چکے ہیں۔ مسلمان نہ صرف انکو سینے سے لگائے ہوئے ہیں بلکہ اس پر فخر محسوس کرتے اور اتراتے بھی ہیں۔ انسان جنگلوں میں چار پاؤں پپر بھاگتے بھاگتے کھڑا ہوا ، دو پاؤں پر بھاگنے لگا ، ساتھی چوپایوں پر سواری کرنے لگا اور پرندوں کو دیکھ کر ہوا میں اڑنے کی خواہش کرنے لگا۔ ایک وقت آیا جب انسان نے ہوا میں اڑنا شروع کر دیا اور پھر اڑتے اڑتے زمین کے مدار سے باہر آسمانوں کی سیر کرنے لگا۔ ایسے میں اگر کوئی اسے آ کر یہ بتائے کہ یہ سب جو تم نے کیا ہے سراب ہے اور اصلی زندگی ساتویں صدی کی تھی، یہ سب چھوڑو اور او بدوانہ طرزمعاش اپنا لو۔رہن سہن ، اخلاقیات سب وہی اعلی ہیں اور وقت وہی اچھا تھا جب ہم گھوڑوں پر پھرتے تھے اور کچے گھروں میں رہتے تھے جب کہ اندازہ ہے کہ اٹھاسی فی صد بچے اپنی پہلی سالگرہ نہیں دیکھ سکتے تھے تو اس وحشی کا بندہ کیا کرے جو آج سے خوش نہیں اور ماضی کو آئیڈیل مانتا ہے؟

Allah