Tags » Reading / Books

باب33:- اللہ تعالی کی تدبیر سے بے خوف نہیں ہونا چاہیے Allah ki tadbeer se bay khauf nahin hona chaie

باب33:- اللہ تعالی کی تدبیر سے بے خوف نہیں ہونا چاہیے
ارشاد الہی ہے:
(أَفَأَمِنُوا مَكْرَ اللَّهِ فَلَا يَأْمَنُ مَكْرَ اللَّهِ إِلَّا الْقَوْمُ الْخَاسِرُونَ (سورة الأعراف7: 99))
“کیا یہ لوگ اللہ کی تدبیر سے بے خوف ہیں۔ اللہ کی تدبیر سے وہی لوگ بے خوف ہوتے ہیں جو خسارہ اٹھانے والے ہوں۔
نیز اللہ تعالی کا فرمان ہے:
(وَمَنْ يَقْنَطُ مِنْ رَحْمَةِ رَبِّهِ إِلَّا الضَّالُّونَ (سورة الحجر15: 56))
“اور گمراہ لوگ ہی اللہ کی رحمت سے مایوس ہوتے ہیں۔”(1)

ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول اللہ ﷺسے دریافت کیا گیا کہ کبیرہ گناہ کون کون سے ہیں؟ آپ ﷺنے فرمایا:
(الْإِشْرَاكُ بِاللَّهِ، ،وَالْيَأْسُ مِنْ رَوْحِ اللَّهِ، وَالْأَمْنُ مِنْ مَكْرِ اللَّهِ)(مسند البزار، ح:106 ومجمع الزوائد: 1/ 104)
“اللہ تعالی کے ساتھ شرک کرنا ، اللہ کی رحمت سے مایوس ہونا، اور اللہ کی تدبیر اور گرفت سے بے خوف ہونا۔”(2)
ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
(أَكْبَرُ الْكَبَائِرِ الْإِشْرَاكُ بِاللَّهِ، وَالْأَمْنُ مِنْ مَكْرِ اللَّهِ، وَالْقُنُوطُ مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ، وَالْيَأْسُ مِنْ رَوْحِ اللَّهِ)(مصنف عبدالرزاق:10/ 459 ومعجم الکبیر للطبرانی، ح:8783)
“سب سے بڑے گناہ یہ ہیں: اللہ تعالی کے ساتھ شرک کرنا ، اللہ کی تدبیر سے بے خوف ہونا، اللہ کی رحمت سے ناامید ہونا اور اللہ کے فضل سے مایوس ہونا۔”(3)

مسائل
1) اس باب سے سورۃ الاعراف کی آیت 99 کی تفسیر معلوم ہوئی جس میں اللہ تعالی کی تدبیر سے بے خوف رہنے والوں کو خسارہ پانے والے قرار دیاگیاہے۔
2) سورۃ الحجر کی آیت 56 کی تفسیر بھی واضح ہوئی کہ اللہ تعالی کی رحمت سے مایوس ہونے والے لوگ گم راہ ہیں۔
3) اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالی کی تدبیر سے بے خوف رہنا اور
4) اللہ تعالی کی رحمت سے مایوس ہونا بھی کبیرہ گناہ ہے۔

نوٹ:-
(1) پہلی آیت میں بیان ہے کہ مشرکین اللہ تعالی سے نہیں ڈرتے بلکہ وہ اس کی گرفت اور عذاب سے بے خوف رہتے ہیں۔ اللہ تعالی کا ڈر اور خوف ایک قلبی عبادت ہے۔ اللہ تعالی کی تدبیر کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالی بندے کے لیے تمام امور اس حد تک آسان کردے کہ وہ اس زعم میں مبتلا ہوجائے کہ اب وہ مکمل طور پر محفوظ ہے، اب اسے کچھ نہیں کہا جائے گا۔ جالانکہ یہ مہلت اس کے حق میں استدراج یعنی ڈھیل ہوتی ہے، جیسا کہ نبی ﷺکا فرمان ہے:
(إِذَا رَأَيْتَ اللهَ يُعْطِي الْعَبْدَ مِنَ الدُّنْيَا وَهُوَ مُقِيْمٌ عَلَى مَعَاصِيهِ فَاعْلَمُوا أَنَّ ذلِكَ اسْتِدْرَاجٌ )(مسند احمد: 4/ 145)
“جب تم دیکھو کہ کوئی بندہ مسلسل گناہ کیے جارہا ہو اور اللہ تعالی اسے مزید انعامات سے نواز رہا ہو تو سمجھو کہ یہ اللہ تعالی کی طرف سے استدراج یعنی مہلت اور ڈھیل ہے۔”
اور اللہ تعالی یہ تدبیر انہی لوگوں کے ساتھ کرتا ہے جو اس کے انبیاء و اولیاء اور اس کے دین کے ساتھ خفیہ تدبیریں اور مکروفریب کرتے ہیں اور یہ اللہ تعالی کی صفت کمال ہے کیونکہ وہ اپنی عزت و قدرت اور غلبہ و سلطنت کے اظہار کے لیے ایسا کرتا ہے۔
دوسری آیت میں بیان ہے کہ اللہ تعالی کی رحمت سے گمراہ لوگ ہی مایوس رہتے ہیں جبکہ اللہ تعالی سے ڈرنے والے اور ہدایت یافتہ لوگ اس کی رحمت سے مایاس نہیں ہوتے۔
عبادت الہی کے کمال کے سلسلہ میں یہ بھی لازم ہے کہ اللہ تعالی کی گرفت کا خوف اور اس کی رحمت کی امید رکھی جائے جو کہ شرعا واجب ہے۔
جو شخص تندرست مگر گناہ گار ہو اس کے دل میں رحمت کی امید کی نسبت گرفت کے خوف والا پہلو غالب ہونا چاہیے۔ اسی طرح جو بیمار موت کے کنارے پہنچ چکا ہو اس کے دل میں خوف کی نسبت امید کا پہلو غالب رہنا چاہیے اور معمول کی زندگی گزارنے والے اور نیکی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے والے کے دل میں امید اور خوف تقریبا برابر برابر ہونے چاہئیں۔
جیسا کہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے:
(إِنَّهُمْ كَانُوا يُسَارِعُونَ فِي الْخَيْرَاتِ وَيَدْعُونَنَا رَغَبًا وَرَهَبًا وَكَانُوا لَنَا خَاشِعِينَ (سورة الأنبياء21: 90))
“یہ لوگ (دنیا کی زندگی میں )بڑھ چڑھ کر نیکیاں کیا کرتے اور رغبت اور ڈر کے ملے جلے جذبات کے ساتھ ہماری عبادت کرتے اور ہم سے ڈرتے رہتے تھے۔”
(2) اللہ کی رحمت کی امید ترک کردینے کا نام مایوسی ہے اور اس کے عذاب اور گرفت سے نہ ڈرنے کا مطلب اس کی تدبیر سے بے خوف ہونا ہے۔ جبکہ دل میں ان دونوں (رحمت کی امید اور عذاب کا ڈر)کا ہونا ضروری ہے اور دونوں کے دل سے نکل جانے یا ان میں کمی واقع ہونے سے توحید میں نقص اور کمی واقع ہوجاتی ہے۔
(3) اللہ کی رحمت سے نا امیدی، اکثر لوگوں میں پائی جاتی ہے۔ لفظ رحمت، عموما اللہ کے انعامات کے حصول اور آفات سے محفوظ رہنے پر بولاجاتا ہے جبکہ روح سے اللہ کی وہ خصوصی مہربانی مراد ہے جس کے ذریعے مصائب سے چھٹکارا ملتا ہے۔

Reading Books

باب34:- اللہ تعالی کی تقدیر پر صبر کرنا ایمان باللہ کا حصہ ہے

باب34:- اللہ تعالی کی تقدیر پر صبر کرنا ایمان باللہ کا حصہ ہے(1)
اللہ تعالی کا ارشاد ہے:
(وَمَنْ يُؤْمِنْ بِاللَّهِ يَهْدِ قَلْبَهُ وَاللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ (سورة التغابن64: 11))
“اور جو شخص اللہ پر ایمان لائے، اللہ اس کے دل کو ہدایت بخشتا ہے اور وہ ہر چیز سے باخبر ہے۔”(2)
اس آیت مبارکہ کی تفسیر میں علقمہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں: اس سے مراد وہ شخص ہے جسے کوئی تکلیف پہنچے تو وہ اسے اللہ تعالی کا فیصلہ سمجھ کر اس پر راضی ہو اور دل سے اسے تسلیم کرے۔”(3)
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺنے فرمایا:
( اثْنَتَانِ فِي النَّاسِ هُمَا بِهِمْ كُفْرٌ: الطَّعْنُ فِي النَّسَبِ وَالنِّيَاحَةُ عَلَى الْمَيِّتِ)(صحيح مسلم, كِتَابُ الْإِيمَانَ, بَابُ إِطْلَاقِ اسْمِ الْكُفْرِ عَلَى الطَّعْنِ فِي النَّسَبِ وَالنِّيَاحَةِ عَلَى الْمَيِّتِ, ح: 67 ومسند احمد :2ظ 377, 441, 496)
“لوگوں میں دوکام ایسے ہیں جو کفر ہیں، ایک تو کسی کے نسب پر طعن کرنا اور دوسرے میت پر نوحہ کرنا۔”(4)
ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺنے فرمایا:
(يْسَ مِنَّا مَنْ ضَرَبَ الخُدُودَ، وَشَقَّ الجُيُوبَ، وَدَعَا بِدَعْوَى الجَاهِلِيَّةِ)(صحيح البخاري, كِتَابُ الجَنَائِزِ, بَابٌ: لَيْسَ مِنَّا مَنْ ضَرَبَ الخُدُودَ, ح:1297 وصحيح مسلم , كِتَابُ الْإِيمَانَ, بَابُ تَحْرِيمِ ضَرْبِ الْخُدُودِ وَشَقِّ الْجُيُوبِ وَالدُّعَاءِ بِدَعْوَى الْجَاهِلِيَّةِ, ح:103 ومسند احمد : 1ظ 386, 432, 442)
“جو شخص صدمے کے وقت چہرے پر دو ہتڑ مارے گریبان پھاڑے ، اور جہالت کے بول بولے، وہ ہم میں سے نہیں۔”(5)
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، رسول اللہ ﷺنے فرمایا:
(إِذَا أَرَادَ اللَّهُ بِعَبْدِهِ الخَيْرَ عَجَّلَ لَهُ العُقُوبَةَ فِي الدُّنْيَا، وَإِذَا أَرَادَ بِعَبْدِهِ الشَّرَّ أَمْسَكَ عَنْهُ بِذَنْبِهِ حَتَّى يُوَافِيَ بِهِ يَوْمَ القِيَامَةِ)(سنن الترمذى , أَبْوَابُ الزُّهْدِ, بَابُ مَا جَاءَ فِي الصَّبْرِ عَلَى البَلَاءِ, ح:2396)
“جب اللہ تعالی اپنے کسی بندے کے ساتھ خیر خواہی کرنا چاہے تو اسے اس کے گناہوں کی سزا دنیا ہی میں جلد دے دیتا ہے اور جب اللہ تعالی اپنے کسی بندے کے ساتھ سختی کرنے کا ارادہ کرے تو اس سے اس کے گناہ کی سزا کو روک لیتا ہے یہاں تک کہ قیامت کے دن اسے پوری پوری سزا دے گا۔”(6)
نبی ﷺنے مزید فرمایا ہے:
(إِنَّ عِظَمَ الجَزَاءِ مَعَ عِظَمِ البَلَاءِ، وَإِنَّ اللَّهَ إِذَا أَحَبَّ قَوْمًا ابْتَلَاهُمْ، فَمَنْ رَضِيَ فَلَهُ الرِّضَا، وَمَنْ سَخِطَ فَلَهُ السَّخَطُ)(جامع الترمذى , أَبْوَابُ الزُّهْدِ, بَابُ مَا جَاءَ فِي الصَّبْرِ عَلَى البَلَاءِ, ح:2396)
“بڑی آزمائش کی جزا بھی بڑی ہوتی ہے اور اللہ تعالی کو جن لوگوں سے محبت ہو وہ انہیں آزماتا ہے۔ جو شخص اس آزمائش پر راضی ہو، اللہ تعالی اس سے راضی ہوجاتا ہے اور جس شخص اس آزمائش پر ناخوش ہو، اللہ تعالی بھی اس سے ناخوش اور اس پرناراض ہوجاتا ہے۔”

مسائل
1) اس باب سے سورۃ التغابن کی آیت 11 کی تفسیر واضح ہوتی ہے جس میں بیان ہے کہ اللہ تعالی مومن کے دل کو ہدایت بخشتا ہے۔
2) نیز یہ معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالی کے فیصلوں یعنی تقدیر پر صبر کرنا بھی ایمان باللہ کا حصہ ہے۔
3) کسی کے نسب پر طعن کرنا مذموم اور کفریہ کام ہے۔
4) صدمہ کے وقت چہرے پر دوہتڑ مارنے ، گریبان پھاڑنے اور جہالت کے بول بولنے کی مذمت اور ایسا کرنے والوں کے بارے میں سخت وعید بیان ہوئی ہے۔
5) اللہ تعالی اپنے بندے کے ساتھ کس انداز پر کس طرح بھلائی کرتا ہے۔
6) اور اللہ تعالی اپنے کسی بندے پر سختی کا ارادہ کرے تو اس کے ساتھ کیا سلوک ہوتا ہے۔
7) اللہ تعالی کو کسی بندے سے محبت ہو تو اس کی علامت کیا ہے۔
8) اللہ تعالی کے فیصلوں پر ناخوش ہونا حرام ہے۔
9) اور اللہ تعالی کی طرف سے آنے والی آزمائشوں پر راضی ہونے کا بہت زیادہ اجرہے۔

نوٹ:-
(1) یعنی اللہ تعالی کی تقدیر پر صبر کرنا انتہائی عظیم الشان اور جلیل القدر عبادت ہے کیونکہ اللہ تعالی کے احکام پر عمل کرنا اور اس کی منہیات سے رکنا صبر ہی سے ممکن ہے۔ صبر کی تین اقسام ہیں:
زبان سے اللہ تعالی کا شکوہ نہ کرنا، قلبی طور پر ناراضی محسوس نہ کرنا اور اعضاء کے ذریعہ بے صبری کا اظہار نہ کرنا…… یہ سب صبر ہی ہے۔
(2) یعنی جو شخص اللہ پر ایمان لا کر اس کی کماحقہ تعظیم کرے ، اس کے اوامر کو بجا لائے اور اس کے نواہی سے بچ کر رہے تو اللہ اس کے دل کو عبادت ، صبر اور اس کی تقدیر پر راضی رہے پر تیار کردیتا ہے۔
(3) (تفسیر ابن جریر الطبری، رقم26496)علقمہ رحمہ اللہ کا قول نہایت درست اور صواب پر مبنی ہے۔ یاد رہے! مصائب اللہ تعالی کی تقدیر سے آتے ہیں اور تقدیر کا دارومدار اللہ تعالی کی حکمت پر ہوتا ہے اور اللہ عزوجل کی حکمت اس بات کی متقاضی ہوتی ہے کہ ہر امر کو اس کے انجام کے مناسب و موافق مقام پر رکھا جائے جس سے یہ بات واضح طور پر معلوم ہوتی ہے کہ جب بھی بندے کو مصیبت پہنچے تو اللہ کی طرف سے بندے کے لیے اسی میں خیر ہوتی ہے۔ اب اگر اس پر صبر کرے گا تو عند اللہ ماجور ہوگا اور اگر ناراضی کا اظہار اور شکوہ کرے گا تو گناہ گار ٹھہرے گا۔
(4) دو کام ایسے ہیں جو اکثر لوگوں میں موجود ہیں اور موجود رہیں گے: نسب پر طعن کرنا اور نوحہ کرنا۔ زور سے رونا پیٹنا، چیخنا اور چلانا نوحہ ہے جو کہ صبر کے خلاف ہے۔ کسی پریشانی کے موقع پر صبر کرنے کا معنی یہ ہے کہ انسان اپنے اعضاپر کنٹرول رکھے، زور زور سے نہ روئے ، چہرے پر یا جسم کے کسی حصے پر دوہتڑ نہ مارے، دامن نہ پھاڑے ، اور زبان سے اللہ تعالی کا شکوہ نہ کرے۔
ان کاموں کے کفر ہونے کا یہ مفہوم نہیں کہ جو شخص یہ کام کرے وہ کافر ہوجاتا ہے یا وہ دین اسلام سے مکمل طورپر خارج ہوجاتا ہے۔ بلکہ اس کا صحیح مفہوم یہ ہے کہ جو شخص یہ کام کرے یا جس میں یہ خصلت پائی جائے اس میں یہ خصلت کفار کی ہے۔ گویا یہ کفار کا کام ہے، مسلمانوں کا نہیں۔
(5) گویا صدمہ کے وقت بے صبری اور اللہ تعالی کے فیصلوں پر رضا مند نہ ہونا کبیرہ گناہ ہے۔ نیکی سے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے جبکہ گناہوں سے ایمان میں کمی واقع ہوجاتی ہے۔ اور ایمان میں کمزوری ، توحید میں کمزوری ہوتی ہے اس لیے بے صبری ایمان اور توحید دونوں کے منافی ہے۔
(6) اس حدیث میں اللہ تعالی کی ایک بہت بڑی حکمت بیان کی گئی ہے اور یہی حکمت جب بندے کے دل و دماغ میں راسخ ہوجاتی ہے تو وہ صبر کو ایک عظیم قلبی عبادت جانتے ہوئے اپنے آپ کو اس سے آراستہ پیراستہ کرلیتا ہے اور اللہ کی قضا و قدر پر ناراضی کا اظہار اور شکوہ نہیں کرتا ۔ اسی لیے بعض اسلاف کا معمول تھا کہ وہ بیمار نہ ہوتے یا ان پر کوئی آزمائش نہ آتی تو وہ سمجھتے کہ شاید اللہ تعالی ان سے ناراض ہے، اس لیے اس نے مبھے بھلادیا ہے۔

Reading Books

Editing...not all it's cracked up to be

As most of you know, I’m a freelance editor. One of the reasons I love the job is because I’m a perfectionist. My husband says I’m a natural at this job because I like to correct people. 555 more words

Life And Happiness

باب35:- ریاکاری ایک مذموم عمل ہے Riyaa kaari aik mazmoom amal hai

باب35:- ریاکاری ایک مذموم عمل ہے۔(1)
اللہ تعالی کا فرمان ہے:
(قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ يُوحَى إِلَيَّ أَنَّمَا إِلَهُكُمْ إِلَهٌ وَاحِدٌ فَمَنْ كَانَ يَرْجُو لِقَاءَ رَبِّهِ فَلْيَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَلَا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهِ أَحَدًا (سورة الكهف18: 110))
“(اے پیغمبر ﷺ!)لوگوں سے کہہ دیجئے کہ میں تو تم جیسا ایک انسان ہوں، البتہ میری طرف وحی کی جاتی ہے کہ تمہارا ایک ہی معبود ہے۔ پس جو کوئی اپنے رب کی ملاقات کا امید وار ہو، اسے چاہیے کہ وہ اچھے اعمال کرے اور اپنے رب کی بندگی میں کسی کو شریک نہ ٹھہرائے۔”(2)

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺنے فرمایا کہ اللہ تعالی فرماتا ہے:( أَنَا أَغْنَى الشُّرَكَاءِ عَنِ الشِّرْكِ، مَنْ عَمِلَ عَمَلًا أَشْرَكَ فِيهِ مَعِي غَيْرِي، تَرَكْتُهُ وَشِرْكَهُ )(صحيح مسلم, كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِقِ, بَابُ مَنْ أَشْرَكَ فِي عَمَلِهِ غَيْرَ اللهِ, ح:2985)
میں تمام شرکاء سے بڑھ کر شرک سے مستغنی ہوں ۔ جو شخص اپنے عمل میں میرے ساتھ غیر کو شریک کرے تو میں اسے اس کے شرک کے ساتھ چھوڑ دیتا ہوں۔”(3)
ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺنے فرمایا:
(أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِمَا هُوَ أَخْوَفُ عَلَيْكُمْ عِنْدِي مِنَ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ؟ قَالَوا: بَلَى،يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ الشِّرْكُ الْخَفِيُّ، يَقُومَ الرَّجُلُ فيُصَلِّي، فَيُزَيِّنُ صَلَاتَهُ، لِمَا يَرَى مِنْ نَظَرِ رَجُلٍ)(مسند احمد:3/30 و سنن ابن ماجۃ، الزھد، باب الریاء و السمعۃ، ح:4204)
“کیا میں تمہیں وہ بات نہ بتاؤں جس کا خوف مجھے تم پر مسیح دجال سے بھی زیادہ ہے؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ! کیوں نہیں؟ (ضرور بتلائیے) آپ نے فرمایا: وہ ہے “شرک خفی” کہ کوئی شخص نماز کے لیے کھڑا ہو اور وہ اپنی نماز کو محض اس لیے سنوار کر پڑھے کہ کوئی شخص اسے دیکھ رہا ہے۔”(4)

مسائل
1) اس باب سے سورۃ الکہف کی آیت 110 کی تفسیر معلوم ہوئی کہ جسے اللہ تعالی سے ملاقات کی امید ہے وہ نیک اعمال کے ساتھ ساتھ شرک (خفی یعنی ریاء)سے اجتناب ضرور کرے۔
2) عمل صالح میں اگر غیر اللہ کا معمولی سا بھی دخل ہو جائے تو وہ سارا عمل مردود اور ضائع ہو جاتا ہے۔
3) اور اس کا اساسی سبب یہ ہے کہ اللہ تعالی اس سے مکمل طورپر مستغنی ہے۔
4) ریا والے عمل کے ضیاع کا ایک سبب یہ ہے کہ اللہ تعالی اپنے ساتھ شریک کیے جانے والے تمام شرکاء سے اعلی اور ا‌فضل ہے۔
5) نبی ﷺکو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بارے میں بھی ریا کا اندیشہ لاحق رہتا تھا۔
6) نبی ﷺنے ریا کی تفسیر کرتے ہوئے یوں فرمایا: کوئی آدمی نماز جیسا عمل کرتے ہوئے محض اس لیے اسے عمدہ طور پر ادا کرے کہ کوئی اسے دیکھ رہا ہے۔

نوٹ:-
(1) ریاکاری یعنی دکھلاوا ایک انتہائی مذموم عمل ہے۔ یہ گناہ اور اللہ تعالی کے ساتھ شرک ہے۔ لفظ ریا “رؤية” سے ماخوذ ہے۔ جس کا معنی آنکھوں سے دیکھنے کا ہے۔ اس کی صورت یوں ہوتی ہے کہ انسان نیکی کا کوئی عمل کرتے وقت یہ ارداہ کرے کہ لوگ مجھے یہ عمل کرتے ہوئے دیکھ لیں اور میری تعریف کریں۔
ریا دو قسم کی ہے:
ایک ریا منافقین کی ہے کہ وہ لوگوں کو دکھانے کے لیے ظاہری طور پر اسلام کا دعوی کرتے اور نام لیتے ہیں۔ مگر ان کے دلوں میں کفر پوشیدہ ہوتا ہے۔ یہ ریا اور طرز عمل ، توحید کے منافی اور اللہ تعالی کے ساتھ کفر ہے۔
ریا کی دوسری صورت یہ ہے کہ کوئی مسلمان نیکی کا کوئی کام کرتے ہوئے دکھلاوے کی نیت کرے کہ لوگ اسے یہ عمل کرتے دیکھیں اور اس کی تعریف کریں ۔ یہ پوشیدہ شرک ہے اور توحید کے اعلی درجہ کے منافی ہے۔
(2) اس آیت میں ہر قسم کے شرک کی ممانعت ہے۔ ریاکاری بھی شرک کی اقسام میں سے ایک قسم ہے۔ اسی لیے علماء نے اس آیت سے ریا کے مسائل پر استدلال کیا ہے۔
(3) یہ حدیث دلیل ہے کہ ریا والا عمل اللہ تعالی کے ہاں مقبول نہیں بلکہ وہ عمل کرنے والے کی طرف لوٹا دیا جاتا ہے۔ جب کسی عبادت میں ابتداء ریا شامل ہو(یعنی وہ عبادت محض ریا اور دکھلاوے کے لیے کی جائے)تو وہ ساری عبادت باطل ہو جاتی ہے اور وہ عمل کرنے والا دکھلاوے کی وجہ سے گناہ گار اور شرک خفی کا مرتکب ہوتا ہے۔ البتہ اگر اصل عمل (عبادت)محض اللہ تعالی کے لیے ہی ہو مگر عمل کرنے والا اس میں کسی قدر ریا کو شامل کر دے مثلا اللہ کے لیے نماز پڑھتے ہوئے لوگوں کے دکھلاوے کے لیے نماز کا رکوع طویل کردے اور تسبیحات کی تعداد زیادہ کر دے تو ایسا کرنے سے وہ آدمی گناہ گار ہوگا اور اس کی اتنی عبادت ضائع ہو جائے گی جتنی اس نے ریا کے لیےکی جبکہ مالی عبادت میں ریا شامل ہونے سے ساری عبادت اکارت جاتی ہے۔
( أَشْرَكَ فِيهِ مَعِي غَيْرِي…..) “جو شخص اپنے عمل میں میرے ساتھ غیر کو بھی شامل کرے…..” اس عبارت کا مفہوم یہ ہے کہ اگر کوئی بندہ اپنے کسی عمل صالح میں اللہ کی رضا کے ساتھ ساتھ غیر اللہ کی خوشنودی کا خواہش مند بھی ہو تو اللہ تعالی ایسے شرک سے مستغنی ہے۔ وہ صرف وہی عمل قبول کرتا ہے جو محض اسی کی رضا جوئی کے لیے کیا جائے۔
(4) مسیح دجال کا معاملہ تو واضح ہے جسے نبی ﷺنے کھول کر بیان فرمادیا ہے(اور اس سے بچنا آسان ہے) لیکن ریا عام طورپر دل میں اس طرح پیدا ہوتی ہےکہ یہ انسان کو آہستہ آہستہ اللہ تعالی کی بجائے لوگوں کی طرف متوجہ کردیتی ہے (اور اس سے بچنا انتہائی مشکل ہے)۔اس لیے نبی ﷺنے اسے فتنۂ دجال سے زیادہ خوفناک اور شرک خفی قرار دیا ہے۔

Reading Books

باب36:-کسی نیک عمل سے دنیا کا طالب ہونا بھی شرک ہے kisi naik amal se dunya kaa taalib hona b shirk hai

باب36:-کسی نیک عمل سے دنیا کا طالب ہونا بھی شرک ہے
اللہ تعالی کا ارشاد ہے:
(مَنْ كَانَ يُرِيدُ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا وَزِينَتَهَا نُوَفِّ إِلَيْهِمْ أَعْمَالَهُمْ فِيهَا وَهُمْ فِيهَا لَا يُبْخَسُونَ (15) أُولَئِكَ الَّذِينَ لَيْسَ لَهُمْ فِي الْآخِرَةِ إِلَّا النَّارُ وَحَبِطَ مَا صَنَعُوا فِيهَا وَبَاطِلٌ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ (سورة هود11: 16))
“جو لوگ دنیا کی زندگی اور اس کی زینت کے طالب ہیں، ان کے اعمال کا سارا بدلہ ہم انہیں دنیا ہی میں دے دیتے ہیں اور اس میں ان کے ساتھ کوئی کمی نہیں کی جاتی۔ ان کے لیے آخرت میں آگ کےسوا کچھ نہیں۔ انہیں نے اس دنیا میں جو کچھ کیا وہ سب ضائع ہے اور جو کچھ کرتے رہے وہ سب برباد ہے۔”(1)
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺنے فرمایا:
(تَعِسَ عَبْدُ الدِّينَارِ، تَعِسَ وَعَبْدُ الدِّرْهَمِ، تَعِسَ وَعَبْدُ الخَمِيصَةِ، تَعِسَ وَعَبْدُ الخَمِيلَةِ, إِنْ أُعْطِيَ رَضِيَ، وَإِنْ لَمْ يُعْطَ سَخِطَ، تَعِسَ وَانْتَكَسَ، وَإِذَا شِيكَ فَلاَ انْتَقَشَ، طُوبَى لِعَبْدٍ آخِذٍ بِعِنَانِ فَرَسِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، أَشْعَثَ رَأْسُهُ، مُغْبَرَّةٍ قَدَمَاهُ، إِنْ كَانَ فِي الحِرَاسَةِ، كَانَ فِي الحِرَاسَةِ، وَإِنْ كَانَ فِي السَّاقَةِ كَانَ فِي السَّاقَةِ، إِنِ اسْتَأْذَنَ لَمْ يُؤْذَنْ لَهُ، وَإِنْ شَفَعَ لَمْ يُشَفَّعْ)(صحيح البخاري,كِتَابُ الجِهَادِ وَالسِّيَرِ, بَابُ الحِرَاسَةِ فِي الغَزْوِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ, ح:2887)
“درہم و دینار (روپے پیسے)کا پجاری ہلاک ہوا۔ چادر اور کمبل کا پجاری ہلاک ہوا۔ اگر یہ چیز یں اسے مل جائیں تو خوش اور اگر نہ ملیں تو نا خوش ۔ یہ برباد اور سرنگوں ہوا۔ اگر اسے کانٹا چبھے تو کوئی نہ نکالے، اور اس شخص کے لیے بہت بڑی سعادت ہے جو اللہ تعالی کی راہ میں گھوڑے کی باگ تھامے ہوئے ہو، اس کا سر (یعنی بال) پر اگندہ اور پاؤں گرد آلود ہوں، اگر اسے (اسلامی فوج کے )پہرے پر بٹھایا جائے تو پہرہ دے، اگر اسے (اسلامی لشکرکے)پچھلے حصے پر مقرر کیا جائے تو وہاں ڈیوٹی دے، اگر وہ اجازت مانگے تو اسے اجازت نہ ملے، اور اگر وہ کسی کے حق میں سفارش کرے تو اس کی سفارش قبول نہ ہو۔”(2)

مسائل
1) اس تفصیل سے واضح ہوا کہ انسان کا ، آخرت میں کام آنے والے نیک اعمال کے بدلے ، دنیا کا خاہش مند ہونا مذموم ہے۔
2) سورۂ ہود کی آیات 16،15 کی تفسیر بھی معلوم ہوئی جن میں طالب دنیا کی مذمت بیان ہوئی ہے۔
3) مسلمان آدمی کو درہم و دینار کا پجاری کہا جاسکتا ہے۔
4) اگر اس کی آرزو پوری ہو تو خوش ورنہ ناخوش ہوتا ہے۔
5) اس حدیث میں الفاظ “تَعِسَ ” اور “وَانْتَكَسَ”قابل غور ہیں۔
6) اور حدیث کے الفاظ “وَإِذَا شِيكَ فَلاَ انْتَقَشَ” بھی توجہ طلب ہیں۔
7) اس حدیث میں مذکورہ صفات کے حامل ، مجاہد کی فضیلت بھی ثابت ہوتی ہے۔

نوٹ:-
(1) دنیا کے اجر و ثواب کے حصول کے لیے کوئی نیک عمل کرنا شرک اصغر ہے اور اپنے اعمال ، قصد اور حرکات سے محض دنیا کے طالب کفار ہی ہوتے ہیں۔ یہ آیت اگرچہ انہی کے بارے میں نازل ہوئی ہے لیکن اس کے الفاظ کے تحت ہر وہ شخص آجاتا ہے جو اپنے عمل صالح کے ذریعہ دنیا کا طالب اور خواہاں ہو۔
نیک اعمال بجالاتے وقت انسان کے ذہن میں اگر دنیوی اجر و ثواب ہو تو اس کی دوقسمیں ہیں:
(الف) انسان کسی عمل صالح کو محض دنیوی اجر کے حصول کے لیے بجالائے اور آخرت کے اجر کا طالب نہ ہو جبکہ وہ عمل ہے ہی ایسا کہ شریعت نے اس کا اخروی اجر تو بتایا ہے لیکن دنیوی اجر کی کوئی ترغیب نہیں دلائی۔ مثلا نماز، روزہ اور اطاعت و فرمانبرداری کے دیگر اعمال ، ان اعمال کو بجالاتے وقت دنیو ی اجر کا طلبگار ہونا جائز نہیں بلکہ اگر کوئی ہو گا تو وہ مشرک ٹھہرے گا۔
(ب) کچھ اعمال صالحہ ایسے ہیں جن کا دنیوی اجر و ثواب شریعت نے بتایا ہے بلکہ اخروی اجر و ثواب کے ساتھ ساتھ اس دنیوی اجر کا شوق بھی دلایا ہے۔ مثلا صلہ رحمی ، والدین کے ساتھ حسن سلوک اور حسن معاشرت کے اعمال وغیرہ۔ ان اعمال کو بجالاتے وقت اگر تو انسان ، محض دنیوی اجر و ثواب کو اپنے ذہن میں رکھے تو لائق وعید ہوگا اور اس کا عمل شرک کے زمرے میں آئے گا لیکن اگر دنیوی اور اخروی دونوں ثواب اس کے ذہن میں ہوں تو کوئی مضائقہ نہیں کیونکہ شریعت نے ان اعمال پر دنیوی ثواب کا ذکر،محض ترغیب دلانے کے لیے کیا ہے۔ اس آیت مبارکہ کے تحت جہاں اور بہت سے لوگ آتے ہیں وہاں وہ لوگ بھی اس میں شامل ہیں جو سراسر دنیوی مال و دولت کی خاطر نیک اعمال کرتے ہیں۔
مثلا دینی علم پڑھانے والا مدرس اگر محض تنخواہ لینے کے لیے پڑھاتاہے اور اس کا ارادہ، جہالت کو دور کرنے ، جنت کو حاصل کرنے اور جہنم سے بچنے کا نہیں تو وہ اسی وعید میں آئے گا۔ اسی طرح وہ لوگ جو ریا اور دکھلاوے کے لیے نیک اعمال کرتے ہیں وہ بھی اس میں شامل ہیں اور وہ لوگ بھی جو نیک اعمال تو کرتے ہیں لیکن ان کے ساتھ ساتھ اسلام اور توحید کے منافی امور کے مرتکب بھی ہیں ایسے لوگ اگرچہ اپنے آپ کو مومن کہلائیں لیکن درحقیقت جھوٹے ہیں اگر یہ سچے ہوتے تو اپنے اعمال ، محض اللہ کے لیے بجالا کر اس کی توحید کو ماننے کا ثبوت دیتے اور دنیا کے اجر و ثواب کے طلبگار ہو کر شرک کے مرتکب نہ ہوتے۔
(2)اس حدیث سے درہم و دینار کی مذمت ثابت ہوتی ہے۔ جس نے درہم و دینار کے لیے عمل کیا وہ گویا درہم و دینار کی عبادت کرکے شرک کا مرتکب ہو رہا ہے۔
کیونکہ عبودیت کے درجات مختلف ہیں۔ ان میں سے ایک درجہ شرک اصغر کی عبودیت کا بھی ہے۔ جب یہ کہا جاتا ہے کہ فلاں شخص اس چیز کا پجاری ہے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ یہ چیز ہی اس کے اس عمل کی محرک او باعث ہے۔ اور یہ بات بھی یقینی ہے کہ پجاری اپنے آقا کا مطیع و فرمانبردار ہوتا ہے، اس کا آقا اس کا رخ جدھر بھی کردے وہ ادھر ہی ہولیتا ہے۔

Reading Books

America's Best Breakfasts...Who Doesn't Love Breakfast?

To be perfectly honest, I have not always been a fan of breakfast foods.  I didn’t like bacon until I became pregnant with my oldest and then I couldn’t get enough of it.   525 more words

Reading & Books

باب37:- اللہ تعالی کی حلال کردہ چیز کو حرام یا حرام کردہ چیز کو حلال سمجھنے میں علماء و امراء کی اطاعت ان کو رب کا درجہ دینا ہے Allah ki halal karda cheez ko haraam aur haraam karda cheez ko halaal samajhna khaas kar ki c aalin ki pairrwi men, shirk hai

باب37:- اللہ تعالی کی حلال کردہ چیز کو حرام یا حرام کردہ چیز کو حلال سمجھنے میں علماء و امراء کی اطاعت ان کو رب کا درجہ دینا ہے۔(1)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا:
(يُوْشِكُ أَنْ تَنْزِلَ عَلَيْكُمْ حِجَارَةٌ مِّنَ السَّمَاءِ، أَقُولُ قَالَ رَسُولُ الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَتَقُولُونَ: قَالَ أَبُوبَكْرٍ وَّعُمَرُ)(مسند احمد:1/ 337)
“(تمہارا یہی حال رہا تو) قریب ہے کہ تم پر آسمان سے پتھر برسیں، میں تمہیں رسول اللہ ﷺکا فرمان سناتا ہوں اور تم (اس کے مد مقابل) ابوبکر رضی اللہ عنہ اور عمر رضی اللہ عنہ کی بات کرتے ہو۔”(2)

امام احمد بن حنبل رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا: “مجھے ان لوگوں پر تعجب ہے جو حدیث کی سند اور اس کے صحیح ہونے کا علم ہوجانے کے بعد بھی سفیان ثوری رحمتہ اللہ علیہ کی رائے پر عمل کرتے ہیں جبکہ اللہ تعالی نے فرمایا ہے:
(فَلْيَحْذَرِ الَّذِينَ يُخَالِفُونَ عَنْ أَمْرِهِ أَنْ تُصِيبَهُمْ فِتْنَةٌ أَوْ يُصِيبَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ (سورة النور24: 63))
“رسول اللہ ﷺکے حکم کی مخالفت کرنے والوں کو ڈرناچاہیے کہ ان پر کوئی فتنہ یا سخت عذاب نہ آپڑے۔”
جانتے ہو فتنہ کیا ہے؟ اس سے مراد “شرک” ہے۔ ہو سکتا ہے کہ جو انسان رسول اللہ ﷺکی کسی بات کو چھوڑ دے تو اس کے دل میں کجی آجائے اور وہ ہلاک ہو جائے۔

حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺکو یہ آیت تلاوت کرتے ہوئے سنا:
(اتَّخَذُوا أَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللَّهِ وَالْمَسِيحَ ابْنَ مَرْيَمَ وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا إِلَهًا وَاحِدًا لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ سُبْحَانَهُ عَمَّا يُشْرِكُونَ (سورة التوبة9: 31))
“انہوں (یعنی عیسائیوں) نے اپنے علماء، بزرگوں اور مسیح ابن مریم کو اللہ کے سوا رب بنالیا، جالانکہ انہیں یہ حکم دیا گیا تھا کہ ایک اللہ تعالی کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ ان شریکوں سے پاک ہے جن کو وہ اس کے شریک ٹھہراتے ہیں”۔
(حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ، جو کہ پہلے عیسائی تھے ، کہتے ہیں) میں نے نبی کریم ﷺسے کہا: ہم ان علماء اور بزرگوں کی عبادت تو نہیں کرتے تھے۔” آپ نے فرمایا “کیا ایسا نہیں تھا کہ تم اللہ کی حلال کردہ چیزوں کو ان کے کہنے پر حرام اور اللہ کی حرام کردہ چیزوں کو ان کے کہنے پر حلال سمجھتے تھے؟ میں نے کہا: “واقعی ایسا ہی ہے۔” آپ نے فرمایا: “یہی ان کی عبادت ہے۔”(3)

مسائل
1) اس باب سے سورۂ نور کی آیت 63 کی تفسیر واضح ہوئی جس میں رسول اللہ ﷺکی نافرمانی اور حکم عدولی کے انجام سے ڈرایا گیاہے۔
2) نیز سورۃ التوبہ کی آیت 31 کی تفسیر بھی معلوم ہوئی جس میں بیان ہے کہ یہودیوں کے طرح اپنے علماء اور بزرگوں کو اپنے رب بنالیا تھا۔
3) اس بحث سے عبادت کا معنی اور مفہوم بھی واضح ہوا کہ عبادت کا صرف وہ مفہوم نہیں جو عدی رضی اللہ عنہ نے سمجھا تھا اور انہوں نے کہا تھا کہ ہم تو اپنے علماء اور بزرگوں کی عبادت نہیں کرتے تھے۔ آپ نے واضح فرمایا کہ اللہ تعالی کی حلال کردہ چیز کو علماء کے کہنے پر حرام سمجھنا اور اللہ تعالی کی حرام کردہ چیز کو علماء کے کہنے پر حلال سمجھنا بھی ان علماء کی عبادت اور ان کو اپنے معبود گرداننے کے مترادف ہے۔
4) اس باب سے یہ بھی معلوم ہوا کہ رسول اللہ ﷺکے بالمقابل کسی بھی ہستی کو پیش نہیں کیا جاسکتا خواہ اس کا مقام کتنا ہی بلند اور ارفع کیوں نہ ہو ۔ جیسا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے نام، آپ کے بالمقابل پیش کرنے پر اور امام احمد رحمتہ اللہ علیہ نے سفیان ثوری رحمتہ اللہ علیہ کا نام پیش کرنے پر ناپسندید گی کا اظہار کیا۔
5) اس بحث میں یہ تنبیہ بھی ہے کہ اب حالات اس حد تک تبدیل ہوگئے ہیں کہ اکثر لوگوں کے نزدیک بزرگوں کی عبادت، ایک افضل ترین عمل کی حیثیت اختیار کر چکی ہے۔ اب اسے ولایت کہا جاتا ہے۔ اسی طرح علم و فقہ کے نام پر اہل علم کی عبادت ہوتی ہے۔ اور پھر بعد ازاں حالات اس قدر تبدیل ہو چکے ہیں کہ اللہ کے بالمقابل ایسے لوگوں کی بھی پرستش ہو رہی ہے جو مطلقا صالح نہ تھے۔ دوسرے لفظوں میں یوں کہا جاسکتا ہے کہ ان کی بھی پرستش ہو رہی ہے جو اصحاب علم نہیں بلکہ جاہل مطلق ہیں۔

نوٹ:-
(1) مصنف رحمہ اللہ اس باب میں اور اس کے بعد کے ابواب میں توحید کے تقاضے اور کلمہء شہادت کے لوازمات بیان کررہے ہیں۔
یاد رہے! علماء دین کتاب و سنت کی نصوص کو سمجھنے کا ذریعہ اور واسطہ ہیں ان کی اطاعت، اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کے تابع سمجھ کر کی جائے گی۔ مستقل طور پر اطاعت صرف اللہ عزوجل کی ہے اس لیے کہ اطاعت بھی عبادت ہی کی ایک قسم ہے۔
البتہ وہ اجتہادی معاملات جن کے بارے میں کتاب وسنت کی کوئی نص صریح وارد نہیں ہوئی ان میں وہ قابل اطاعت ہیں کیونکہ اس کی اجازت خود اللہ تعالی نے دی ہے اور مصلحت کا تقاضا بھی یہی ہے۔ شریعت نے ان مصلحتوں کا لحاظ رکھا ہے۔
(2) امام احمد رحمہ اللہ نے صحیح سند کے ساتھ ابن عباس رضی اللہ عنہم کا یہ قول اور ان کا یہ نظریہ بیان کیا ہے کہ وہ نبی ﷺکے صریح اور واضح فرمان کے سامنے کسی دوسرے کا قول اور رائے پیش کرنے کے قائل نہ تھے، خواہ وہ قول اور رائے ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما جیسی جلیل القدر شخصیات ہی کی کیوں نہ ہو تو پھر ان سے کم مرتبہ کسی شخصیت کی بات رسول اللہ ﷺکی بات کے سامنے کیسے پیش کی جاسکتی ہے؟
(3) (جامع ترمذی، تفسیر القرآن، باب و من سورۃ التوبہ، ح 3095) علماء و امراء کی تعظیم میں غلو کرتے ہوئے ان کے کہنے پر اور ان کی اطاعت کرتے ہوئے دین کو تبدیل کر ڈالنا، جس چیز کو وہ حلال کہیں اسے حلال سمجھنا اور جس چیز کو وہ حرام کہیں اسے حرام جاننا جبکہ اس بات کا علم بھی ہو کہ یہ چیز حلال ہے یا حرام، یہ سراسرا نہیں رب اور معبود بنا لینے کے مترادف ہے اور یہ بہت بڑا کفر اور شرک اکبر ہے کیونکہ اس صورت میں اطاعت(جو کہ عبادت کی ایک قسم ہے) کا حق دار ، اللہ کو چھوڑ کر غیر اللہ کو ٹھہرایا گیا ہے۔
مصنف رحمہ اللہ نے اس مقام پر ، صوفیاء ، تصوف کے باطل طریقوں اور صوفیاء کی تعظیم میں غلو کرنے والوں کے بارے میں تنبیہ کرنا چاہتے ہیں کہ انہوں نے اپنے مشائخ اور اولیاء، جن کو وہ اپنے زعم باطل میں اورلیاء سمجھتے تھے حالانکہ وہ حقیقت میں اولیاء نہیں تھے، کی دین کو تبدیل کرنے میں اطاعت کی اور اللہ تعالی نے ان کی اسی اطاعت کے بارے میں فرمایا کہ انہوں نے ان کو رب اور معبود بنالیا تھا۔

Reading Books