Tags » Rehman Malik

Pak Media Virtually Blacks Out David Headley's Revelations

Editor’s NOTE: The following op-ed, penned by me, was originally published by NDTV on February 10, 2016. I’m pleased to cross-post the article on my blog from  694 more words

Cross Posted

Urdu Blog: Nothing New for MQM

ایم کیوایم کے لیے کچھ نیا نہیں ۔              ‎

پاکستان کی چوتھی اور سندھ کی دوسری بڑی سیاسی جماعت ایک بار پھر ہمارے میڈیا کی ہیڈلائینز میں ہے اور ہمیشہ کی طرح اس بار بھی میڈیا پر ایم کیوایم کو منفی طور پر عوام میں پیش کیا جارہا ہے جو شائد عوام  اور ایم کیوایم کے کارکنان کے لیے کوئی نئ بات نہیں ہے ۔  متحدہ قومی مومینٹ کے قائد کو گزشتہ 6, 7 ماہ سے میڈیا پر پابندی کا سامنا ہے ، عدالتی اور طاقتور حلقوں کی جانب سے میڈیا کو سختی سے منع ہے کہ ایم کیوایم کے قائد الطاف حسین کی تصاویر اور تقاریر کسی صورت ٹی وی چینلز پر نشر نہ کی جائے مگر افسوس یہ ہدایت دینے والے بھول گئے کہ میڈیا پر عوام دیکھنا اور سننا ہی ایم کیو ایم اور الطاف حسین کو چاہتی ہے یہ وجہ ہے کہ اکثر و بیشتر میڈیا کے نیوز چینلز سخت ہدایات کو پس پشت ڈال کر الطاف حسین کا نام ، تصاویر نشر کرہی دیتے ہیں ۔ ایم کیو ایم اور الطاف حسین کو سیاسی حلقوں میں ہی نہیں بلکہ تمام طبقات میں وہ اہمیت حاصل ہے جو کسی اور جماعت یا لیڈر کو نہیں ہے ۔ ایم کیو ایم کی بنیاد 18 مارچ 1984 کو رکھا گیا اور آج ایم کیو ایم کو 32 سال ہوگئے ہیں ان 32 سالوں میں اسٹیبلشمنٹ نے الطاف حسین کے انقلاب کو روکنے کی بہت کوشش کی ہر حربہ استعمال کیا مگر عوامی طاقت نے الطاف حسین کے انقلاب کا بھرپور دفاع کیا ، پیسوں کی چمک دکھا کر مہاجروں کے حقوق کا سودا کرنے کی کوشش کی گئی مگر الطاف حسین نے پیسوں سے بھرے بریف کیس کو ٹھوکر ماردی اور شائد یہ ہی وہ بات تھی جو اسٹیبلشمنٹ  کو بہت ناگوار گزری اور اس وقت سے ہی ایم کیو ایم پر ملک دشمنی اور را ایجنٹ ہونے کے الزامات کا آغاز کردیا گیا ۔ 

جب 90 کی دہائی میں الطاف حسین کے خلاف الزامات سے بھرپور پریس کانفرنس کروائی گئی اور ایم کیو ایم حقیقی کی بنیاد رکھی تو بہت سارے لوگوں کا خیال تھا کہ الطاف حسین کی طاقت اب کم ہوجائے گی   اور آفاق احمد مہاجروں کی قیادت کرینگے ، مگر ایسا کچھ نہ ہوا اسٹیبلشمنٹ نے بہت سے لوگوں کی زبردستی ایم کیوایم حقیقی میں شمولیت کروائی مگر پھر بھی ایم کیوایم میں ڈینٹ ڈالنے میں ناکام رہے ، 90 کی دہائی میں ایک طرف ایم کیو ایم حقیقی بنائی گئی اور دوسری طرف ایم کیو ایم پر ملک دشمنی ، را کے ایجنٹ اور جناح پور نقشے جیسے بھونڈے الزام لگا کر ریاستی ظلم و جبر کا آغاز کردیا گیا ، 19 جون 1992 کے بدترین آپریشن کے دوران بھی مہاجروں نے الطاف حسین کا دامن تھامے رکھا جس سے الطاف حسین کو مزید ہمت اور طاقت ملی ۔  ایم کیو ایم اپنے قیام سے ہی سازشوں کا سامنا کرتی آئی ہے اور ان تمام سازشوں کو بےنقاب کرنے اور ملک کی غریب محکوم عوام کے حقوق کے حصول کے لیے الطاف حسین نے 1997 میں مہاجر قومی موومنٹ کو متحدہ میں  تبدیل کردیا اور اپنی تحریک کا دائرہ مزید وسیع کرنے اور ملک کے 98 فیصد عوام کے لیے جدوجہد کا عملی آغاز کرنے کا عزم کیا ،  2002 سے 2007 کے درمیان ایم کیوایم کو سنبھلنے کا موقع ملا مگر اس میں بھی ایم کیوایم نے زاتی مفاد نہیں بلکہ عوامی خدمت کو ہر چیز پر ترجیح دی باوجود اسکے کہ ایم کیوایم اپنے شروع کے ایام سے ہی ظلم و زیادتی برداشت کرتی آرہی تھی اگر الطاف حسین چاہتے تو اپنے لیے اور اپنے خاندان کے لیے بہت کچھ کرسکتے تھے مگر ایسا نہیں کیا ، الطاف حسین کے عوامی خدمت کے پیش نظر  2005 میں ہونے والے بلدیاتی انتیخابات میں ایم کیو ایم نے بھرپور کامیابی حاصل کی  اور کراچی ، حیدرآباد میں ایم کیوایم کے ناظمین منتخب ہوئے۔  الطاف حسین نے کبھی اپنے کسی رشتہ دار کو کوئی حکومتی، انتظامی ، اور تنظیمی عہدہ دیا اور نہ کبھی اپنی کوئی ایسی خواہش ظاہر کی بلکہ شہر کراچی کے لیے ایک ایسے شخص کو نامزد کیا جو ایک ٹیلی فون آپریٹرتھا جسکی کوئی خاص شناخت  نہیں تھی مگر الطاف حسین اور ایم کیوایم نے ایسے شخص کو دنیا کے آٹھویں بڑے شہر کی نظامت دی اور الطاف حسین ایم کیوایم نے اسکی نظامت کے دوران بھرپور معاونت کی اور وہ شخص اور کوئی نہیں سید مصطفی کمال ہی ہیں جو 3 سال قبل 2013 میں شہر کراچی چھوڑ کر بیرون ملک چلے گئے  تھے اور آج 2016 میں واپس آئے ہیں تو انھیں الطاف حسین میں برائیاں نظر آرہی ہیں۔

سابق ناظم کراچی مصطفی کمال جوکہ ایم کیوایم  کے پلیٹ فارم سے 2005 تا 2010 تک  کراچی کے ناظم  رہے ہیں اور اسکے بعد انھیں رابطہ کمیٹی پاکستان میں شامل کرلیا گیا ، اور پھر 2012-13 میں انھیں سینیٹر بنادیاگیا تھا ، مصطفی کمال 3 مارچ 2016 کو انیس احمد قائمخانی کے ہمراہ کراچی پہنچے اور شام کو 3 بجے ڈیفنس میں کسی گھر سے 2 گھنٹے کی طویل پریس کانفرنس کی جس میں دونوں صاحبان موجود تھے ، پریس کانفرنس کے دوران الطاف حسین کی مرہون منت کراچی کے ناظم بننے والے مصطفی کمال نے الطاف حسین صاحب پر الزامات کے تیر برسائے، اپنی بات کو سچ ثابت کرنے کے لیے آنسووں کا بھی استعمال کیا گیا مگر ایک جگہ مار کھا گئے کہ جو الزامات جو باتیں مصطفی کمال نے اپنی پریس کانفرنس میں کیں وہ سب باتیں طاقتور حلقوں نے متعدد بار کتنے ہی لوگوں سے کہلوائ جو ماضی میں بھی جھوٹ ثابت ہوئی اور اب بھی ہونگی ، مصطفی کمال نے الطاف حسین پر را کا ایجینٹ ہونے اور بھارت سے فنڈنگ کا الزام لگایا اور موصوف یہ بھی کہہ بیٹھے کہ انھیں ان سب باتوں کا علم تھا ، مگر سوال یہ اٹھتا ہے کہ اگر مصطفیٰ کمال اور انیس قائمخانی کو ان سب باتوں کا علم تھا تو اتنے سال خاموش کیوں رہے ؟  جناب کے اس انکشاف پر تو ہمارے اداروں کو فوری طور پر انھیں گرفتار کرکے ان سے تفتیش کرنی چاہیے مگر ایسا کچھ نہیں بلکہ انکو مزید سیکیورٹی دینے کی باتیں کی جارہی ہیں جس سے مصطفیٰ کمال اور انیس قائمخانی کی پریس کانفرنس کے پیچھے چھپنے والے عناصر کا خوب اندازہ لگایا جاسکتا ہے ،  پریس کرنے والے دو افراد کو یہ نہیں بھولنا چاہیے تھا کہ آج جتنے بھی لوگ انہیں جانتے اور پہچانتے ہیں وہ ایم کیو ایم کے قائد ہی کی مہربانی ہے اور الطاف حسین ہی واحد رہنما ہیں  جس نے  عام نوجوانوں کو اعلی ایوانوں تک پہنچانے میں عملی جدوجہد کی جس کا منہ بولتا ثبوت خود پریس کانفرنس کرنے والے موصوف ہی ہیں. آج 2016 میں دنیا اس بات کو تسلیم کررہی ہےکہ انتیخابات میں عوام ووٹرز امیدوار کو نہیں الطاف حسین کو ووٹ دیتے ہیں .  اس میں کوئ شک نہیں کہ ایم کیو ایم ایک حقیقت ہے اور اسکے قائد کی سیاسی بصیرت کی تو دنیا قائل ہے , زیادہ دن نہیں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ چند ہفتوں میں ہی ان دونوں افراد کو اپنی سیاسی حیثیت کا باخوبی اندازہ ہوجاےگا.

یہاں مصطفی کمال کی پریس کانفرنس  ایک سوالیہ نشان بنتی جارہی ہے کہ آیا ہمارے ملک میں کب تک الزامات کی بنیاد پر کسی لیڈر یا جماعت کا میڈیا ٹرائل ہوتا رہےگا ؟ گزشتہ چند ماہ قبل ایک پولیس آفیسر نے ایم کیو ایم پر الزامات لگائے مگر کچھ ثابت نہ ہوا ، اس سے قبل 2015میں ڈیتھ سیل سے صولت مرزا سے ایم کیوایم کے قائد کے خلاف اسی طرح کے بیانات دلوائے گئے اور اسے عام معافی کی یقین دہانی کرائی گئی مگر جب اسکے الزامات سے کچھ نہ ہوسکا تو اسے پھانسی دے دی گئی  ، پاکستان کی تاریخ ایسے بہت سے واقعات سے بھرا پڑی ہے تاریخ شاہد ہے کہ قائداعظم کی ہمشیرہ مادرملت فاطمہ جناح پر بھی را کا ایجینٹ کا الزام لگایا گیا اور اسکے بعد  الطاف حسین مہاجروں پر کیا کیا الزامات نہیں لگائے گئے مگر آج تک ایک الزام بھی ثابت نہ ہوسکا ، اور آج 2016 میں مصطفی کمال اور انیس قئمخانی کو دبئی سے اسپیشل فلائٹ میں بلاکر پریس کانفرنس کروانا اور پھر ماضی کے الزامات کو دہرانے سے کیا فائدہ جو ماضی میں ثابت نہ ہوسکے تو کیا اب یوسکتے ہیں ؟  شہر کراچی نے تمام تر الزامات کے باوجود 23 اپریل 2015 کواین اے 246 کے ضمنی انتیخاب میں  بھی ایم کیوایم الطاف حسین کو ووٹ دیے تھے اور پھر  2015 کے  بلدیاتی انتخابات میں بھی شہری سندھ میں بھرپور کامیاب ہوئی ہے ان تمام کامیابیوں کے باوجود اس طرح سے الزام تراشی کرنے سے کچھ حاصل نہیں ہونا ہے۔ ایم کیوایم کا ووٹر  سپورٹر اور ہمدرد ایسے کمزور نہیں کہ انہیں اس طرح کی پریس کانفرنس سے بہکا دیا جائے اب ہمارے سازشی لوگوں کو کچھ اور انداز اپنانا چاہیے ، سازشی عناصر نے ایم کیوایم کا ووٹ بینک کم کرنے، مائنس الطاف حیسن فارمولے پر عمل درآمد کے لیے ریاستی آپریشن بھی کیا ، دھڑے بنانے کی کوشش کی ، خریدنے کی کوشش کی مگر سب ناکام رہی اور اب ایک بار پھر ماضی دہرانے کی کوشش کی جارہی ہے جسکا نتیجہ بھی ہمیشہ کی طرح زیرو ہی نکلےگا ۔

Separate jail for women, Rehman Malik makes suggestion in Senate committee meeting

ISLAMABAD: Chairperson of the Senate Standing Committee on Interior Rehman Malik on Monday remarked that there should be a separate jail for women in the country and their staff hired from the same gender. 196 more words

News