Tags » Russian Army

CM:BS "Platoon House Alexandra"

Scenario: “Platoon House Alexandra”
Time: 55 Minutes
Level: Veteran
Opponent: CPU
Game Type: Scenario
Game: Combat Mission Black Sea
Developer: Battlefront
Website: http://www.battlefront.com
Date Played: 13 more words

Let's Plays

Russian Forces Withdrawing From Major Syrian Military Installations

By Bijan Razzaghi

Syrian and Russian forces have conducted a major withdraw from major military installations as a precaution in the wake of the possible allied air operation. 196 more words

Hot Spots

CM:BS "An August Morning"

Scenario: “An August Morning”
Time: 40 Minutes
Level: Veteran
Opponent: CPU
Game Type: Scenario
Game: Combat Mission Black Sea
Developer: Battlefront
Website: http://www.battlefront.com
Date Played: 14 more words

Let's Plays

Little Bit of Research

Doing research for the Brannigan’s Blackhearts series can get interesting.  Since most of my experience has been in the Middle East, sometimes I’ve got to dig to figure stuff out for other regions.  144 more words

Action Adventure

BREAKING! Russia will retaliate if attacked! Are Washington and London maniacs trying to start WWIII or is it bluff?

DARK STATE NEVER SLEEPS and NEVER RESTS – the TARGET IS ALWAYS DESTROYING RUSSIA!

Are the maniacs and idiots in Washington and London really trying to start WWIII? 391 more words

Russia

GREAT BALANCER WEEKLY: How Russian Spetsnaz (Special Operations Forces) Works in Syria

GREAT BALANCER WEEKLY

The legendary Russian Spetsnaz is participating in some key Syrian ops. Spetznaz is Russian abbreviation for ‘Special Forces.’ Syria ops demo:

EXCLUSIVE: Report On Russian Spetsnaz (Special Operations Forces) In Action: 201 more words

Russia

روسی ’کرائے کے قاتل‘ شام میں کیا کر رہے تھے؟

شام میں امریکی اتحادیوں کے فضائی حملوں میں درجنوں روسی شہریوں کی ہلاکت کی خبر آئے دو ہفتے گزر چکے ہیں۔ لیکن ان روسی ’کرائے کے قاتلوں‘ کے اہل خانہ اب تک لاشوں کے منتظر ہیں۔ سات فروری کے روز شامی شہر دیر الزور میں امریکی قیادت میں عالمی اتحاد کی فضائی کارروائیوں میں ‘واگنر گروپ‘ نامی روسی پیرا ملٹری تنظیم کے کتنے ’کرائے کے قاتل‘ ہلاک ہوئے تھے، اس بارے میں ابھی تک کوئی واضح اعداد و شمار دستیاب نہیں ہیں۔ ایک روسی اخبار کے مطابق ان حملوں میں کم از کم پچاس روسی ہلاک جب کہ ستر سے زائد زخمی ہوئے تھے۔

اب تک ان حملوں میں ہلاک ہونے والے روسی شہریوں میں سے صرف نو افراد کے نام معلوم ہیں۔ روسی وزارت خارجہ نے ابتدائی طور پر پانچ روسی شہریوں کی ہلاکت کی تصدیق کی تھی تاہم بعد ازاں ’کئی درجن‘ روسی اور سوویت یونین کی ریاستوں کے شہریوں کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی تھی۔

روسی ’کرائے کے قاتل‘ شام میں کیا کر رہے تھے؟
روسی حکام کے دعووں کے مطابق واگنر گروپ سے تعلق رکھنے والے یہ روسی شہری شام میں ’رضاکارانہ‘ طور پر گئے تھے اور وہاں مختلف حیثیتوں میں خدمات سرانجام دے رہے تھے۔ واگنر گروپ سے تعلق رکھنے والے ان افراد کو ’کرائے کے قاتل‘ بھی کہا جاتا ہے اور یوکرائن کے ’ڈونباس‘ ریجن میں بھی ان میں سے کئی روسیوں کو تعینات کیا گیا تھا۔ روسی سپیشل فورسز سے ریٹائر ہونے والے افراد کی ایک تنظیم کے سربراہ ولادیمیر یفیموف کا کہنا ہے کہ ’کرائے کے قاتل‘ عام طور پر روسی فوج کے سابق افسران اور سپاہی ہوتے ہیں۔ ان میں سے کچھ افراد روسی وزارت دفاع کے ساتھ معاہدے کے بعد شام بھیجے گئے تھے۔

ولادیمیر یفیموف کا کہنا ہے کہ شام بھیجے گئے بیس روسیوں کو ذاتی طور پر جانتے تھے۔ شام جانے سے قبل ان افراد نے اپنے اہلِ خانہ کو زیادہ تفصیل نہیں بتائی تھی کیوں کہ وزارت دفاع کے ساتھ معاہدے میں رازداری کی شرط بھی تھی۔
یفیموف کا کہنا ہے کہ سن 2017 میں بھی بڑی تعداد میں روسی فوج کے سابق اہلکار چھ مہینوں کے لیے شام گئے تھے۔ ان میں سے کچھ زخمی بھی ہوئے لیکن سبھی زندہ واپس لوٹ آئے تھے۔ یفیموف کہتے ہیں کہ یہ افراد ’’شام سے امیر بن کر لوٹے تھے اور انہوں نے روس میں اپنے قرضے بھی چکا دیے تھے۔‘‘

روسی ’کرائے کے قاتلوں‘ کی لاشیں کہاں گئیں؟

’کرائے کے قاتلوں‘ کے اہل خانہ ان کی ہلاکت کی صورت میں وزارت دفاع سے رابطہ نہیں کر سکتے کیوں کہ یہ لوگ باقاعدہ فوج کا حصہ نہیں ہوتے۔ علاوہ ازیں پرائیویٹ کنٹریکٹر کے طور پر کام کرنے کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔ یفیموف کے مطابق زیادہ تر ایسے جنگجو غریب خاندانوں سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کے اہل خانہ بھی ان کی ہلاکت پر اس لیے خاموشی اختیار کیے رکھتے ہیں کیوں کہ انہیں یہ خوف ہوتا ہے کہ نجی کمپنی کہیں انہیں ہرجانہ ادا کرنے سے روک نہ دے۔ ڈی ڈبلیو کی تحقیق کے مطابق اب تک شام میں ہلاک ہونے والے کسی ایک روسی شہری کی لاش بھی اس کے ورثا کے حوالے نہیں کی گئی ہے۔

انسانی حقوق کے لیے سرگرم روسی کارکنوں کو خدشہ ہے کہ ان روسیوں کی لاشیں ’روستوف آن ڈان‘ نامی سرد خانے پہنچائی گئی ہیں جہاں ڈی این اے ٹیسٹ بھی کیے جا سکتے ہیں۔ روس میں ہلاک ہونے والے فوجیوں کی ماؤں کی ایک تنظیم کے سربراہ ویلینٹینا میلنیکوفا کا کہنا ہے کہ بیرون ملک ہلاک ہونے والے روسی شہریوں کے بارے میں وزارت داخلہ اور ان ممالک میں روسی سفارت خانوں سے معلومات ملتی ہیں۔ انہیں خدشہ ہے کہ شام میں ہلاک ہونے والے روسیوں کی لاشیں شاید وہاں سے واپس روس لائی ہی نہیں گئیں اور ممکنہ طور پر انہیں شام ہی میں دفن کر دیا گیا ہے۔

بشکریہ DW اردو

World