Tags » Salam

Untuk mendapatkan nilai dari pengucapan salam, tuliskan dan ucapkan Salam dengan benar.


Sahabat blog,

🌹Menyampaikan salam

Ucapan salam orang Islam, Assalamualaikum, bukanlah seperti ucapan salam biasa. Ucapan salam ini adalah ucapan doa yang diajarkan oleh Rasulullah saw. Terkandung nilai yang sangat tinggi dalam ucapan yang mengandung asma Allah ini, As Salam. 363 more words

Motivasi

Preambule

Halo, selamat datang di blog ‘lefthandwriting’.

Jadi, tentang diriku. Seperti blogger lain pada umumnya, aku suka menulis dan membaca. Klisenya sih, tulisan itu seperti gerbang ke dunia lain, tempat khayalan dimana tidak ada tekanan, tidak ada aturan, singkatnya kebebasan penuh. 183 more words

Jurnal/Journal

سلام و ملاقات کے متفرق مسائل

سلام و ملاقات کے متفرق مسائل

مسئلہ ۱۔ کسی گروہ میں بعض کی تخصیص کر کے سلام کرنا یا جواب دینا مکروہ ہے۔

۲۔عجمی(غیر عربی) زبان میں سلام کرنا جائز ہے جب کہ مخاطب سمجھے، گو عربی میں سلام کرنے پر قادر ہو اور اس سلام کا جواب فرض ہے کیوں کہ یہ بھی سلام ہی کہلائے گا۔

۳۔کسی ذمی(غیر مسلم) کو سلام کرنا حرام ہے، اگر سلام کے بعد پتہ چلا کہ وہ ذمہ ہے تو اس سے یہ کہنا مستحب ہے: میں نے اپنا سلام واپس لیا یا میرا سلام لوٹا دو۔

۴۔اگر مسلمانوں کے درمیان کوئی غیر مسلم بھی ہو تو سلام کرتے وقت دل میں اس کا استثناء کرے۔

۵۔کسی گھر میں داخل ہو تو گھر والوں کو سلام کہنا سنت ہے۔

۶۔ انسانوں سے خالی کسی جگہ داخل ہو تو یہ کہنا مستحب ہے: السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ

۷۔ بلا عذر سلام کے علاوہ کسی دوسرے الفاظ سے ابتداء نہ کرے: مثلاً صبھ بخیر، اور ان الفاظ کا جواب واجب نہیں ہے، اگر جواب میں دعا دے تو بہتر ہے البتہ اس کے سلام نہ کرنے کی وجہ سے تادیباً جواب نہ دینا بہتر ہے۔

۸۔ أَطَالَ اللَّهُ بَقَاءَكَ  (اللہ تمہیں طویل زندگی دے) کے ذریعہ کسی بزرگ،صاحبِ علم یا عادل حکمراں کے لئے دعا دینا بہتر ہے ورنہ مکروہ ہے۔

۹۔ کسی سے  ملاقات پر پشت جُھکانا مکروہ ہے، کسی کی دینی فضیلت مثلاً: زہد و تقوی وغیرہ کی وجہ سے اس کا ہاتھ چومنا (بوسہ لینا) مستحب ہے، مال و دولت اور جاہ وغیرہ کی وجہ سے مکروہ ہے، کمسن بچہ کے گال کا بوسہ لینا گو دوسرے کا بچہ ہو مستحب ہے، نیز اپنے اصول و فروع کا شفقت و رحمت سے بوسہ لینا مستحب ہے۔ تبرکاً کسی نیک میت کے چہرہ کا بوسہ لینے میں حرج نہیں۔

۱۰۔ آنے والے میں کوئی ظاہری فضیلت ہو مثلاً :علمِ، دین داری، شرف، باپ دادا وغیرہ ہونا تو اکرام و احترام کے طور پر اس کے لئے کھڑا ہونا مستحب ہے، نہ  کہ ریا و بڑائی کے طور پر۔ آنے والے کو یہ تمنّا کرنا کہ لوگ مجھے دیکھ کر کھڑے رہیں یعنی وہ بیٹھ جائے اور دیگر لوگ کھڑے رہیں جیسا کہ جابروں کی عادت ہوتی ہے، حرام ہے۔

۱۱۔ ملاقات کے وقت بشاشت کے ساتھ مصافحہ اور مغفرت وغیرہ کی دعا مستحب ہے۔

۱۲۔ کسی کے گھر جانا ہو اور دروازہ بند ہو، تو سنت طریقہ یہ ہے کہ پہلے سلام کرے، پھر اجازت چاہے اگر جواب نہ ملے تو تین مرتبہ اس عمل کو دوہرائے، اگر اجازت مل جائے تو ٹھیک ورنہ لوٹ جائے، اگر اندر سے پوچھا جائے کہ کون ہے؟ تو اپنا نام وغیرہ لے کر صراحت کرے کہ وہ پہچان سکے ، میں فلاں شیخ یا فلاں قاضی ہوں کہنا، یا اپنی کنیت بیان کرنے میں حرج نہیں جب کہ اس کے بغیر پہچانا نہ جائے۔ صرف میں ہوں یا خادم ہے وغیرہ کہنا مکروہ ہے۔

۱۳۔ نیک حضرات، پڑوسی جو کہ بدکار نہ ہوں، بھائی بند اور رشتہ داروں کی ملاقات اور ان کا اکرام کرنا مستحب ہے، اس طور پر کہ نہ اسے پریشانی ہو اور نہ انہیں۔ ان سے اپنی ملاقات کا مطالبہ بھی مستحب ہے۔ مریض کی عیادت مستحب ہے۔

۱۴۔ چھینک آئے تو ہاتھ یا کپڑا وغیرہ منہ پر رکھنا، اور حتی الامکان آواز پست کرنا مستحب ہے۔ چھینک کے بعد اَلْحَمْد ُلله  کہے، اگر نماز میں ہے تو آہستہ کہے، اگر پیشاب یا صحبت وغیرہ کر رہا ہو تو دل میں کہے۔ چھینکنے والا اَلْحَمْد ُلله کہے تو تین مرتبہ تک اسے جواب دے یعنی يَرْحَمُكَ الله(اللہ تجھ پر رحم فرمائے) کہے اور چھینکنے والا جواب میں کہے   يَهْدِيكُمْ اللَّهُ وَيُصْلِحُ بَالَكُمْ  ( اللہ تمہیں ہدایت بخشے اور تمہارے احوال درست کرے) یا کہے : يَغْفِرُ اللَّهُ لَنَا وَلَكُمْ (اللہ ہمیں اور تمہیں بخش دے) دونوں جو جمع کرنا بہتر ہے کوئی ،

حدیث: حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے نبی کریم ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی چھینکے تو چاہئے کہ وہ کہے: “الحَمْدُ لِلَّهِ” اور اس کا بھائی یا صاحب اس کو کہے(جواب دے):” يَرْحَمُكَ اللَّهُ” پس جب اس  کو  يَرْحَمُكَ اللَّهُ کہا جائے تو چاہئے کہ وہ کہے:” يَهْدِيكُمُ اللَّهُ وَيُصْلِحُ بَالَكُمْ“(صحیح بکاری 6224)

حدیث ۲: آپ ﷺ نے فرمایا : جب تم میں سے کوئی چھینکے تو چاہئے کہ وہ اللہ کی حمد بیان کرے(الحمد للہ  کہے)  راوی کہتے ہیں: پھر آپ ﷺ نے بعض محامد بیان کئے اور فرمایا اور جو اس کے پاس ہو اس کو کہنا چاہئے:” يرحمُك اللهُ” اور  یہ ان کو جواب دے”يغفرُ الله لنا ولكم“(سنن ابی داود 5031، سنن کبریٰ نسائی 9982،مستدرک حاکم)

بہت چھینکنے والے کا حکم:- کوئی مسلسل تین سے زائد مرتبہ چھینکے تو بعد میں جواب سنت نہیں، بلکہ کہے کہ آپ کو زکام ہے اور اسے عادفیت کی دعا دے۔

 جو شخص چھینکنے والے سے پہلے ہی کہے وہ دانت،پیٹ اور کان درد سے محفوظ رہے گا۔

۱۵۔جمائی نا پسندیدہ ہے حتی الامکان اسے روکنے کی کوشش کرے، نہ رکے تو ہاتھ وغیرہ سے منہ چھپائے۔ آہ کرتے ہوئے منہ کھول کے اطمینان سے جمائے لینے کی مذمت وارد ہوئی ہے اور اس ہیئت سے شیطان خوش ہوکر ہنستا ہے۔

حدیث: آپﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ چھینک کو پسند فرماتے ہیں اور جمائی کو برا سمجھتے ہیں تم میں سے جس شخص کو چھینک آئے اور وہ الحمد للہ کہے تو ہر اس مسلمان کا جو چھینک کو سنے یہ فرض ہے کہ وہ جواب میں یرحمک اللہ کہے اور جمائی شیطان کا فعل ہے تم میں سے جس کو جمائی آئے تو جس حد تک ممکن ہو اُسے روکے اس لئے کہ جب کسی شخص کو جمائی آتی ہے تو شیطان دیکھ کر ہنستا ہے۔(مشکوٰۃ از بخاری  ) اور مسلم کی ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ تم میں سے جب کوئی “ہا” کہتا ہے یعنی جمائی لیتا ہے تو شیطان ہنستا ہے۔(مشکوٰۃ  باب العطاس والتثاؤب)

۱۶۔ کسی سے اللہ کے لئے محبت ہو تو اسے اس کی اطلاع دینا مستحب ہے جو اپنے حسن ساتھ سلوک سے پیش آئے اسے دعا دے۔ جلیل القدر عالم یا بزرگ شخصیت کو اس طرح کہنے میں حرج نہیں: فِداکَ اَبی واُمِّی(میرے والدین آپ پر قربان)

(ملخصاً تحفۃ الباری ۳/۱۸۹-۱۹۰)

آداب/Aadaab

ان لوگوں کو سلام کرنا مسنون نہیں ہے

ان لوگوں کو سلام کرنا مسنون نہیں ہے

۱۔قضاء حاجت کرنے والا،

۲۔جو کھانا کھا رہا ہو،

۳۔سونے والا،

۴۔صحبت کرنے والا،

۵۔ جو حمام میں نظافت حاصل کر رہا ہو،

۶۔نمازی

۷۔سجدہ کرنے والا،

۸۔تلبیہ پڑھنے والا،

۹۔مؤذن،

۱۰۔ جو اقامت کہہ رہا ہو،

۱۱۔اونگھنے والا،

۱۲۔ خطیب،

۱۳۔جو خطبہ سن رہا ہو،

۱۴۔جو دعا میں کھویا ہوا ہو،

۱۵۔حاکم کے روبرو موجود فریقین۔

          مذکورہ افراد کو کوئی سلام کرے تو ان پر جواب واجب نہیں سوائے اس شخص کے جو خطبہ سن رہا ہو کیوں کہ اس پر جواب لازم ہے، تلبیہ پڑھنے والے کو لفظاً سلام کا جواب دینا مستحب ہے۔ مؤذن اور نمازی کو مستحب ہے کہ اشارہ سے جواب دیں ورنہ فارغ ہونے کے بعد لفظاً جواب دیں، جب کہ زیادہ دیر نہ گذری ہو۔ کھانے والا شخص لقمہ نگلنے کے بعد دوسرا لقمہ منہ رکھنے سے پہلے  اسے سلام کرنا مسنون ہے۔ اور اس صورت میں جواب واجب ہے، لقمہ چباتے یا نگلتے وقت سلام مسنون نہیں ہے۔ قضاء حاجت اور جماع کی حالت میں جواب مکروہ ہے۔

          قرآن کی تلاوت کرنے والا،مدرس اور طلبہ کو سلام کرنا مسنون اور ان کو جواب دینا واجب ہے۔ اگر کوئی شخص تلاوت میں بالکل محو اور تدبر میں مستغرق ہو تو امام اذرعیؒ کا خیال ہے کہ یہ بھی دعا میں محو شخص کی طرح ہے(یعنی اسے سلام کرنا مستحب ہے)۔

(ملخصاً تحفۃ الباری ۳/۱۸۹-۱۹۰)

آداب/Aadaab

سلام کے آداب و احکام ۲

سلام کے آداب

آپﷺ کا ارشاد ہے:” چھوٹا بڑے کو،سوار شخص چلنے والے کو،چلنے والا بیٹھے ہوئے شخص کو اور قلیل کثیر(چھوٹی جماعت بڑی جماعت) کو سلام کرے۔”(متفق علیہ)۔

حدیث کی ترتیب کے مطابق سلام کرنا مستحب ہے۔ اگر کوئی اس کے برعکس کرے تو یہ مکروہ نہیں ہے، گو خلافِ سنت ہے، مذکورہ ترتیب اس وقت ہے جب کہ راستہ میں ملاقات ہو لیکن اگر کسی بیٹھے ہوئے شخص کے پاس کوئی آئے تو آنے والا سلام کرے، خواہ چھوٹا  ہو یا بڑا، قلیل ہو یا کثیر، جو رکا ہوا ہو یا لیٹا ہوا ہو، وہ بھی بیٹھے ہوئے کی طرح ہے۔ اگر قلیل پیدل اور کثیر سواروں میں ملاقات ہو تو دونوں میں تعارض ہے۔(اور ابتدا میں دونوں برابر ہوں گے اور جو پہل کرے اسے فضیلت حاصل ہوگی)۔

غائبانہ سلام کا جواب: اگر کسی کے ذریعہ سلام کہلوائے یا خط میں سلام لکھ کر روانہ کرے تو اس کا جواب بھی لازم ہے۔ جو قاصد دوسرے کا سلام لائے جواب میں اسے بھی شامل کرنا مستحب ہے، پس اس طرح جواب دے: وَعَلَيْكَ وَعَلَيْهِ السَّلَامُ۔ کوئی شخص کسی کے سلام کو دوسرے تک پہنچانے کی ذمہ داری لے تو پہنچانا اس پر لازم ہے، کیوں کہ یہ امانت ہے۔

نمازی کا سلام: نمازی سلام پھیرتے وقت پاس موجود حضرات پر سلام کی نیت کرے تب بھی اس کا جواب لازم نہیں ہے۔

عورت اور سلام

 کسی عورت کا عورت کو یا اپنے محرم رشتہ دار کو یا آقا کو یا شوہر کو سلام کرنا مسنون ہے۔ اسی طرح غیر محرم کو بھی جب کہ عورت بوڑھی ہو اور قابلِ شہوت نہ ہو۔ ان تمام صورتوں  میں مرد کے سلام کا جواب اس پر لازم ہے۔ اگر کوئی قابلِ شہوت عورت تنہا ہو تو اسے کسی اجنبی مرد(غیر محرم) کو سلام کرنا یا اس کے سلام کا جواب دینا حرام ہے اور اس مرد پر اس عورت کو سلام کرنا یا اس کے سلام کا جواب دینا مکروہ ہے۔ اگر عورت ایک سے زائد ہوں یا مرد ایک سے زائد ہوں تو

(ملخصاً تحفۃ الباری ۳/۱۸۹-۱۹۰)

سلام کا جواب دینا فرض ہے۔

آداب/Aadaab

سلام کے آداب و احکام ۱

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

سلام کے آداب و احکام

سلام کا جواب: کوئی عاقل مسلمان (گو ممیز بچہ ہو) مکلف مسلمانوں کی جماعت کو (یعنی ایک سے زائد افراد کو) سلام کرے (اور سلام کرنا اورع جواب دینا مطلوب و مشروع ہو) تو اس صورت میں جواب دینا فرضِ کفایہ ہے،مجمع میں سے کسی ایک شخص کا جواب دینا کافی ہے۔ اگر کسی ایک شخص کو سلام کرے تو اس پر جواب دینا فرضِ عن ہے۔ کسی مسلمان کو جو فاسق و بدعتی نہ ہو سلام کرنا مسنون ہے، ابو داود کی حدیث میں سلام کی ابتداء کرنے والے کو اللہ (کی رحمت) سے زیادہ قریب بتلایا ہے۔

آیتِ قرآن:

وَإِذَا حُيِّيتُمْ بِتَحِيَّةٍ فَحَيُّوا بِأَحْسَنَ مِنْهَا أَوْ رُدُّوهَا

ترجمہ:” اور جب تمہیں سلام کیا جائے تو تم اس سے اچھا جواب دو یا انہی الفاظ کو لوٹا دو۔”(سورہ النساء : ۸۶)۔

          ایک حدیث میں ہے کہ غذرنے والے مجمع میں سے ایک شخص کا سلامکرنا اور بیٹھے ہوئے حضرات میں سے ایک کا جواب دینا کافی ہے۔(ابو داود)۔

          ایک شخص جواب دے تو ثواب صرف اسے ملے گا اور دوسروں سے گناہ و حرج ساقط ہوگا۔ صرف ممیز بچہ کے جواب دینے سے فرض ساقط نہ ہوگا۔

سلام کرنے کے الفاظ(ابتداء کے الفاظ):۔

السَّلَام عَلَيْكُمْ سَلَامُ اللَّهِ عَلَيْكَ سَلَامِي عَلَيْكُمْ سَلَامٌ عَلَيْكُمْ عَلَيْكُمُ السَّلَامُ عَلَيْكُمُ سَلَامٌ

آخری دو نوں الفاظ (یعنی عَلَيْكُمُ السَّلَامُ، عَلَيْكُمُ سَلَامٌ) مکروہ ہیں تاہم جواب دینا فرض ہے۔

          اگر تنہا شخص سلام کرے یا جواب دے تو علیکم کی جگہ صرف عَلَیکَ (تجھ پر) کہنا کافی ہے، لیکن ساتھ موجود فرشتوں کی وجہ سے جمع کا صیغہ یعنی علیکم (تم پر) کہنا مستحب ہے، مجمع کے سلام یا جواب میں صرف علیک کہنا کافی نہیں، بلکہ علیکم کہنا ضروری ہے۔

سلام کے جواب  کے الفاظ:۔

وَعَلَيْكُمْ السَّلَامُ ، عَلَيْكُمْ السَّلَامُ، السَّلَامُ عَلَيْكُمْ، وَعَلَيْكُمْ سَلَام،عَلَيْكُمْ سَلَام، سَلَامٌ عَلَيْكُمْ

جواب   میں  وعلیکم السلام کہنا (یعنی ابتداء واو کے ساتھ) افضل ہے، ابتداءً  وعلیکم السلام کہنا صحیح نہیں اور اس سلام کا جواب فرض نہیں ہے۔ سلام یا جواب میں صرف  السلام یا صرف علیکم کہنا کافی نہیں ہے، خواہ دوسرے لفط کی دل میں نیت ہو۔ اگر کوئی  السلام علی سیدنا یا  مولانا یا   السَّلَامُ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى یا السَّلَامُ عَلَى الْمُسْلِمِينَ تو جواب دینا فرض نہیں ہے کیوں کہ یہ سلام کا شرعی صیغہ نہیں ہے۔

          اگر ملاقات پر دونوں بہ یک وقت علیکم السلام کہیں، تو جو ان میں سے جواب کی نیت سے یہ نہ کہے، اسے دوسرے کا جواب دینا فرض ہے۔

          کوئی شخص آتے وقت سلام کرے یا جدا ہوتے وقت دونوں صورتوں میں جواب فرض  ہے جیسا کہ سلام کرنا سنت ہے۔

سلام اور جواب کے الفاظ میں  وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ وَمَغْفِرَتُهُ  کا اضافہ مسنون ہے، اگر سلام کرنے والا یہ اضافہ کرے جب بھی جواب میں یہ اضافہ واجب نہیں ہے۔

بہرہ کا سلام کرنا یا بہرہ کو سلام کرنا: کسی بہرہ کو سلام کرے تو الفاظ کے ساتھ اشارہ بھی کرے، تاکہ وہ سمجھے اور جواب دے۔ بہرہ کسی کو سلام کرے تو جواب میں الفاظ اور اشارہ دونوں واجب ہیں، اگر اس کے منہ پر دیکھنے کی وجہ سے مثلاً اسے اس کے جواب کا اندازہ ہوجائے تو اشارہ واجب نہیں ہے۔

گونگے کا سلام: گونگے کا اشارہ میں اسلام کرنا اور جواب دینا معتبر ہوگا۔

اتصال: سلام اور جواب میں عقد (خرید و فروخت وغیرہ) کے ایجاب و قبول کی طرح اتصال شرط ہے (یعنی زیادہ فاصلہ نہ ہو) اگر فاصلہ ہوا تو (جواب فوت ہوگیا اب) اس کی قضا نہیں۔

          کسی کو مختلف گروہ (بہ یک وقت) سلام کریں اور یہ سب کے جواب کی نیت سے ایک مرتبہ وعلیکم السلام کہے تو کافی ہے۔ اگر یکے بعد دیگرے سلام کریں، اور زیادہ افراد ہوں تو ایک جواب سب کے لئے کافی نہیں ہوگا، کیوں کہ مشروط اتصال موجود نہیں۔

پاگل،فاسق و بدعتی کو سلام کا جواب دینا: پاگل اور نشہ میں مست شخص کو جواب دینا واجب نہیں ہے، اسی طرح فاسق اور بدعتی کے سلام کا جواب بھی واجب نہیں تاکہ اس سے ان کو یا دوسروں کو زجر و تنبیہ حاصل ہو۔

غیر مسلم کے سلام کا جواب: اگر کوئی ذمی کسی مسلم کو سلام کرے تو اسے  وعلیک یا  علیک کہنا واجب ہے جیسا کہ صحیحین وغیرہ کی حدیث میں اس کا حکم موجود ہے لیکن امام بلقینیؒ، اذرعیؒ اور زرکشیؒ نے اسے مسنون قرار دیا ہے۔

اشارہ سے سلام کرنا:صرف ہاتھ وغیرہ کے اشارہ سے سلام کرنا  خلافِ اولیٰ ہے اور اس کا جواب فرض نہیں ہے کیوں کہ اس طرح سلام سے ترمذی و نسائی کی حدیث میں منع کیا گیا ہے۔ لفظ اور اشارہ کو جمع کرنا افضل ہے۔ جو نماز میں یا دور ہونے یا گونگا ہونے کی وجہ سے لفظاً جواب نہیں دے سکتا اسے اشارہ میں جواب دینا مشروع ہے۔

مسئلہ: اگر دو آدمی ایک دوسرے کو بہ یک وقت سلام کریں تو دونوں پر جواب لازم ہے اگر آگے پیچھے کریں تو دوسرے کا سلام بطورِ جواب کافی ہے البتہ وہ اس سے

(ملخصاً تحفۃ الباری ۳/۱۸۹-۱۹۰)

ابتدا کا، یا ابتدا و جواب دونوں کا قصد کرے تو جس نے پہلے سلام کیا اس پر جواب لازم ہے۔۔(جاری)۔

آداب/Aadaab

ASSALAMU'ALAIKUM

بسم الله الرحمن الرحيم

Hello! This is just my welcome to my blog introduction post.

Basically, I’m not really good in writing journals, fiction, blog, or any kind of those stuffs. 198 more words

Introduction