Tags » Shaheen

Hawaiian Vintage: Where to Find It and What to Expect

It’s absolutely no secret that I am a diehard fan of Hawaiian prints. From retro goodness to true vintage treasures, there’s absolutely nothing that parallels Hawaiian or Tiki as a summer “must-have”. 1,152 more words

Fifties

badleen ge

کبھی تو یہ حالات بدلیں گے
ھمارے بھی دن رات بدلیں گے
دشمنوں کو یہ خوش فہمی ہے
کہ اس قوم کے نظریات بدلیں گے
جواب بھی تب بدلے گا
جب آپ سوالات بدلیں گے
فقط بیدار ہونے کی ھے دیر
نظام سیاسیات و معاشیات بدلیں گے
سب بدلتا نظر آ ئے گا ـ شاہیں ـ
جب بھی اپنے خیالات بدلیں گے

Shaheen

اکثر

ضمیر اٹھاتا ہے ایسے سوالات اکثر

نہیں ملتے جن کے جوابات اکثر

محسوس کرنے کی عادت بنائو

بیان نہیں ہو پاتے جذ بات اکثر

جیت کر بھی ہارنا پڑتا ہے

کر دیتے ہیں مجبور حالات اکثر

رونق محفل ہوتے ہیں جو دن کو

تنہا گزارتے ہیں رات اکثر

وفا شرط نہیں اک روایت ہے

اور ٹوٹ جاتی ہیں روایات اکثر

وہ نہ آئیں گے لوٹ کر شاہیں

رلاتے ہیں جن کے خیالات اکثر

Shaheen

Ghazal

کی ہر اک سے وفا مسلسل
ملی  پھربھی اک سزا مسلسل
نظرسے ملا بیٹھے نظر اک بار
وہ اسی دن سے ہیں خفا مسلسل
ہے پردے میں رہنا ضد ان کی
ادھر دیدار کا تقاضا مسلسل
زلف چوم رہی ھے گلاب چہرہ
مارے جاتی ھے یہ ادا مسلسل
وہ ستم گر ڈھا ئے ستم مسلسل
ہم بھی دیئے جائیں دعا مسلسل
دل نے اسے بارہا سمجھایا مگر
اس کو دیکھتی جائے نگاہ مسلسل
مرض ہوا تو ضرور آرام آئے گا
کر رہے ہیں عشق کی دوا مسلسل
ضرور اس کی زلفیں کھلی ہوں گی
معطر ہے صبح سے ہوا مسلسل
اک ہجوم میں رہ کر بھی یوں لگا
جیسے چل رہا ہوں تنہا مسلسل
چلو اب کوئی دیپ جلا لیں
چھا رہا ھے اندھیرا مسلسل
ظلم تو آخر مٹے گا ہی ’شاہیں‘
مہلت دے رہا ہے خدا مسلسل

Shaheen

Ghazal

اٹھو! اب ظلم کی سیاہ رات مٹا دو
اک بار پھر وہی نعرہ تکبیر لگا دو
خالد کی یلغار بن کے برس جاو کفر پہ
بحرظلمات میں پھر گھوڑے دوڑا دو
اے خدا کےسیپاہیو! یہ خام خیالی کب تک
اٹھو! اور باطل کے ایوانوں میں ہلچل مچا دو
غیرت کو جگاو اے جوانان مسلم اب تو
ایوبی و غزنوی و بن قاسم کی جھلک دکھا دو
قوم کے میر جعفروں کو ابھی سے پکڑ لو
عدل سے محروم ان عدالتوں کو جلا دو
مظلوم کی آہ جسے پار نہ کر سکے
اس محل کی ہر اک دیوار گرا دو
قوم کو لوٹنے والے چوروں غداروں کو
اب کسی چوراہے میں الٹا لٹکا دو
کب تلک یوں ظلم سہتے رہو گے
شاہین
اٹھو اور اب زنجیر عدل ہلا دو

Shaheen