Tags » Shairi

وہ ایک شخص by Mohsin Naqvi

“وہ ایک شخص“

گم صم ہوا آواز کا دریا تھا جو ایک شخص
پتھر بھی نہیں اب، وہ ستارہ تھا جو ایک شخص

شاید کہ کوئ حرف دعا ڈھونڈ رہا تھا
چہروں کو بڑی غور سے پڑھتا تھا جو ایک شخص

اب تو اس نے بھی اپنا لیا دنیا کا قرینہ
سائے کی رفاقت سے بھی ڈرتا تھا جو ایک شخص

صحرا کی طرح دیر سے پیاسا تھا وہ شاید
بادل کی طرح ٹوٹ کے برسا تھا جو ایک شخص

اے تیز ہوا!!!! کوئ خبر اس کے جنون کی
تنہا سفر شوق پہ نکلا تھا جو ایک شخص

اب آخری سطروں میں نام ھے اس کا
احباب کی فہرست میں پہلا تھا جو ایک شخص

مڑ مڑ کے اسے دیکھنا چاہیں میری آنکھیں
کچھہ دور مجھے چھوڑنے آیا تھا جو ایک شخص

ہر ذہن میں نقش وفا چھوڑ گیا ھے
کہنے کو بھرے شہر میں تنہا تھا جو ایک شخص

“منکر ھے اب وہی میری پہچان کا “محس
اکثر مجھے خط خون سے لکھتا تھا جو ایک شخص

Urdu Poetry

Nilikupenda

Roho yangu nikakupa
Ila haukuridhika
Walimwengu wakakudanganya
Ukanitapeli na kunicheza
Moyo wangu ukauvunja
Kahuzunika mno rohoni
Ukaniacha pweke
Mungu kasikia kilio changu
Mpenzi mwingine kaniletea… 25 more words

Random Post

Ghazal, Mirza Assad Ullah Khan Ghalib

ستائش گر ہے زاہد اس قدر باغِ رضواں کا
وہ اک گلدستہ ہے ہم بیخودوں کے طاقِ نسیاں کا

بیاں کیا کیجیے بیدادِ کاوش ہائے مژگاں کا
کہ ہر یک قطرۂ خوں دانہ ہے تسبیح مرجاں کا

نہ آئی سطوتِ قاتل بھی مانع میرے نالوں کو
لیا دانتوں میں جو تنکا ہوا ریشہ نیستاں کا

دکھاؤں گا تماشہ‘ دی اگر فرصت زمانے نے
مرا ہر داغِ دل اک تخم ہے سردِ چراغاں کا

کیا آئینہ خانہ کا وہ نقشہ تیرے جلوہ نے
کرے جو پر تو خورشدِ عالم شنبمستاں کا

مری تعمیر میں مضمر ہے اک صورت خرابی کی
ہَیولا برقِ خرمن کا ہے خونِ گر م دہقاں کا

اُگا ہے گھر میں ہر سو سبزہ ویرانی تماشا کر
مَدار اَب کھودنے پر گھاس کے میرے درباں کا

خموشی میں نہاں خوں گشتہ لاکھوں آرزؤ میں ہیں
چراغِ مُردہ ہوں میں بے زباں گورِ غریباں کا

ہنوز اک پر تو نقش خیال یار باقی ہے
دلِ افسردہ گویا حُجرہ ہے یوسفؑ کے زنداں میں

بغل میں غیر کی آج آپ سوئے ہیں کہیں ورنہ
سبب کیا خواب میں آکر تبسم ہائے پنہاں کا

نہیں معلوم کس کس کا لہو پانی ہوا ہو گا
قیامت ہے سر شک آلودہ ہونا تیری مژگاں کا

نظر میں ہے ہماری جادۂ راہِ فنا غالبؔ
کہ یہ شیرازہ ہے عالم کے اجزائے پریشاں کا

Urdu Poetry

Kuhusu Shida na Desturi

Usikubali,
Kunyimwa desturi na,
Shida za leo.

Kuhusu Tabia Zetu

Waliposema,
Mungu anakuona,
Tulicheka tu.

ahsaas e waqt jaata raha...

aah o fugaaN e niim-shab aaj sarey shaam suniiN,
ya shor e dil itna hua ke ahsaas e waqt jaata rahaa!

wo dil hi kya jo taqlief kisi ki bina kahey na samakhey, 96 more words