Tags » Street Crime

ڈکیتی کے دوران مزاحمت، گلگتی نوجوان نے اپنی جان گنوادی

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) گلگت بلتستان سے سیر و تفریح کے لیے کراچی آنے والے گلگتی نوجوان کو قتل کیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق دیامر سے تعلق رکھنے والا نوجوان اظہر سیر و تفریح کے لیے کراچی آیا ہوا تھا۔ جسے گزشتہ دنوں نامعلوم ملزمان نے قتل کردیا۔ اظہر پیشے کے لحاظ سے استاد تھا جسے گزشتہ روز شاہ فیصل تھانے کی حدود گرین ٹاؤن ریلوے پھاٹک کے قریب رات گئے نا معلوم ملزمان کی فائرنگ قتل کردیا۔ مقتول چند روز قبل سیر و تفریح کے لیے اپنے کزن کے گھر کراچی آیا تھا۔ جبکہ چار سال پہلے ہی گلگت بلتستان میں واقع سرکاری اسکول میں ٹیچر تعنیات ہو ا تھا۔ مقتول غیر شادی شدہ اور چار بھائی بہنوں میں دوسرے نمبر پر تھا۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی مقتول کے دوست اور رشتہ دار بڑی تعداد میں جناح اسپتال پہنچ گئےاور اپنے پیارے کی لاش کو خون میں لت پت دیکھ کر ایک دوسرے سے گلے مل کر رونے لگے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی تفتیش میں واقعہ ڈکیتی کے دوران مزاحمت معلوم ہوتا ہے تاہم پولیس نے دیگر پہلوؤں سے بھی واقعہ کی تفتیش شروع کر دی ہے۔۔۔قتل ہونے والے جواں سال اظہر حسین کی لاش کو تدفین کے لیے آج اس کے آبائی گاؤں روانہ کر دیا جائے گا۔

News

Haiku, Smash And Grab Summer

“If you go to San – Francisco Be sure not to – leave things in your car”

Footsteps betray

I can tell a lot about someone by the way they walk,

how do I know?

I know because I’m an expert on footsteps, 31 more words

Poetry

Santiago: On Fitting a Square Peg in a Round Hole

I’ve been busy hanging out in my new neighbourhood of Bellas Artes. It’s working out OK. The restaurant/bar heavy areas of Bellavista and Lastarria are both very close by. 705 more words

Travel

موبائل چھن گیا۔۔۔

گزشتہ رات دوست کی گاڑی میں بیٹھے خوش گپیوں میں مصروف تھے کے کسی نے کھڑکی پر دستک دی تو سائل سمجھ کر نظر انداز کردیا لیکن کچھ دیر میں معصوم سے دکھنےوالے بچےنے گاڑی کا شیشہ اتنی زور سے بجایاکے چونکنے پر پتہ چلا کے شیشے پر رکھی چیز کچھ اورنہیں پستول ہے۔

غیر متوقع طور پر اچانک کسی ایسے حادثہ کا شکار ہونے کے بعد شہر میں بحال ہوتی امن و امان کی صورتحال کا تاثر ایک مرتبہ پھر ماند پڑ گیا۔برابر والی نشست پر بیٹھے دوست نے معجزاتی طور پر بچ جانے والی بڑی رقم کے نہ چھننے پر اللہ کا شکر اداکرتے ہوئے بتایا کےجائے مذکورہ سڑک پر اس طرح کے واقعات میں تیزی کے ساتھ اضافہ ہو نا شروع ہوگیاہے۔

باراتیوں کی آمد سے بھری سڑک پر گھبرائے ہوئے ڈکیتوں نے پہلے موبائل فون جمع کیے اور پھر فرداً فرداً جیب میں رکھے بٹووں کی  وصولی کے بعد درخواست پر باقی سامان واپس کردیا۔اچانک موبائل چھننے اور چودہ سے سولہ سال کی عمر کے بچوں کے ہاتھوں لٹنے کے بعد ان گنت سوالات ذہن میں اٹھنے لگے۔  ماضی میں پیش آنے والے ایسے ہی ان دو واقعات کی یاد بھی تازہ ہوگئی جس میں ایک مرتبہ سنسان بس اسٹاپ اور دوسری مرتبہ اپنی رہائشی بلڈنگ سے ملحقہ پارک سے مارننگ واک سے واپسی پر نہار منہ موبائل فون گنوا دیا تھا۔

روزانہ کی بنیاد پر اس طرح کے واقعات پیش آنا اب معمول کی بات بنتی جارہی ہے۔ شائد ہی شہر کا کوئی علاقہ ایسا ہو جہاں اس طرح کی کاروائی عمل میں نہ آتی ہو اور تو اور ٹریفک جام میں پھنسے افراد اور پلوں پر چلتی تیز رفتار گاڑیاں بھی اب ان سے محفوظ نہیں جہاں ایک ہی جھٹکے میں بے شمار افراد موبائل فون سمیت قیمتی اشیاء سے محروم ہو جاتے ہیں۔

اس عمر میں اس طرح کے جرائم میں ملوث ہونا خاصہ تشویشناک عمل ہے آج سے چند سال قبل اس حوالے کراچی کی جونائل جیل میں موجود پولیس آفیسر سے بچوں کے جرائم میں ملوث ہونے کی وجہ دریافت کی تو پتہ چلا کے بنیادی طور پربچوں کی گھر میں کی جانے والی تربیت، ماحول اور والدین کا رویہ اس طرح کی سرگرمیوں میں ملوث ہو نے کی بنیادی وجوہات ہیں۔حادثاتی طور پر سزا کاٹنے کیلئے جیل آنے والے اور متعدد بار مختلف جرائم میں ملوث جیل آنے والے بچوں کا طرز عمل یکسر مختلف ہوتا ہے۔

دی نیشن سے وابستہ معروف کرائم رپورٹر منصور خان کے مطابق شہر میں ہونے والے اسٹریٹ کرائم میں ملوث بڑی تعداد ایسے نوجوان لڑکوں کی ہے جنہیں دیکھ کر اس بات کا اندازہ نہیں لگا یاجاسکتا کے وہ سیکنڈوں کے اندر شہریوں کو لوٹ کر فرار ہو سکتے ہیں۔کراچی میں ایسے افراد کی تعداد بہت کم ہوتی جارہی ہے جواس ٹراما سے نہ گزرے ہوں۔اسٹریٹ کرائم میں اچانک تیزی کے ساتھ ہونے والا اضافے سے شہر میں بحال ہوتی امن وامان کی فضاکو شدید خطرہ لاحق ہے۔حال ہی میں ایکسپریس ٹریبیون میں شائع ہو نے والی ایک رپورٹ کے مطابق چوری اور رہزنی کی ہونے والی کاروائیوں کے دوران شہری بتیس ہزار موبائل فون گنوا  بیٹھے۔سی پی ایل سی کے مطابق ایک مرتبہ سی پی ایل سی یا کمپنی کی طرف سے لاک کئے گئے فون چوری ہو نے کی صورت میں انتہائی کم قیمت میں فروخت کئے جاتے ہیں۔

مضبوط قانونی گرفت کے ذریعے اس عفریت سے جلد چھٹکارا حاصل کیا جاسکتا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ معاشرہ میں جنم لیتے احساس محرومی کا خاتمہ اور بنیادی سہولتوں کی فراہمی بھی یقینی بنانا ضروری ہوگی۔

CPLC

HAIR CLUB BURNING: "FIERCE AND STRANGELY TENDER"

Guest blogger: JO MILLER

www.shadowteams.com

‘Hair Club Burning ‘is a brilliant, mesmerizing, wry and witty piece of art with a strong narrative, rich prose, detailed imagery and clever phrasing. 320 more words

Books