Tags » Tariq Jameel

معاشی دہشت گردی کی وجہ سے ہی ملک میں مسلح دہشت گردی پروان چڑھی ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ ملک سے معاشی دہشت گردی کا خاتمہ ہوجائے تو مسلح دہشت گردی خود بخود ختم ہوجائیگی ۔ سینیٹر سراج الحق کا جماعت اسلامی کی سیاسی کمیٹی کے اجلاس سے خطاب

لاہور 18اگست2016ء

امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے ہم پانامہ لیکس کے معاملے کو 22اگست کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے جارہے ہیں اورگلی کوچوں اور چوراہوں میں عوامی احتجاج کے ساتھ ساتھ کرپشن کے خلاف جماعت اسلامی نے قانونی جنگ کا آغاز بھی کردیا ہے ۔ اس قانونی جنگ کے نتیجے میں آنے والے وقت میں ملکی سیاست میں معاشی دہشت گردوں کیلئے کوئی جگہ نہیں رہے گی ۔ جماعت اسلامی آئندہ انتخابات میں بھر پور حصہ لے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منصورہ میں منعقدہ سیاسی کمیٹی کے اجلاس سے خطاب اور بعد ازاں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔اجلاس میں نائب امراءمیاں محمد اسلم ،سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ ،میاں مقصود احمد ،ڈاکٹر وسیم اختر و دیگر نے شرکت کی ۔

سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ ہماری جنگ کسی فردکے خلاف نہیں یہ جنگ ملک میں جاری کرپشن کے ناسور کے خلاف ہے یہی کرپشن ہے جس کی وجہ سے ملک کا بچہ بچہ مقروض ہے ،اسی کرپشن کی وجہ سے ملکی خزانے کے 375ارب ڈالر بیرونی ممالک میں پڑے ہیں اور ہمارا ملک ورلڈ بنک کے ذلت آمیز شرائط پر لئے گئے قرضوں پر چل رہا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ 22اگست سے کرپشن کے خلاف شروع ہونے والی عدالتی جنگ معاشی دہشت گردوں کو منطقی انجام تک پہنچائے گی اور ملک سے لوٹی ہوئی دولت قومی خزانے میں واپس لانے میں مددگار ہوگی۔انہوں نے کہا کہ یہی قانونی جنگ کرپشن کی روک تھام کیلئے دیرپااور بنیادی قانون سازی کیلئے اہم کردار ادا کرے گی ۔

سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ کرپٹ سیاستدانوں نے مختلف سیاسی جماعتوں میںپناہ لے رکھی ہے اور پارٹی قیادت بھی محض اسمبلیوں میں تعداد بڑھانے کیلئے قومی چوروں کا سہارا لے رہی ہے ،یہ المیہ ہے کہ جن لوگوں کو جیل میں ہونا چاہئے تھا کرپشن کے انہی بتوں کو پوجا جارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ الیکشن ریفارمز کے بغیر انتخابات سیاستدانوں کا کھیل ہونگے ۔عوام پہلے لٹیروں کو ووٹ دیتے اور پھر پانچ سال تک روتے رہتے ہیں ۔ معاشی دہشت گردی مسلح دہشت گردی سے زیادہ خطرناک ہے، معاشی دہشت گردی کی وجہ سے ہی ملک میں مسلح دہشت گردی پروان چڑھی ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ ملک سے معاشی دہشت گردی کا خاتمہ ہوجائے تو مسلح دہشت گردی خود بخود ختم ہوجائیگی ۔انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی نے ان معاشی دہشت گردوں کے خلاف کرپشن فری پاکستان تحریک شروع کی جس کے نتیجے میں قوم میں بیداری پیدا ہوئی،کرپشن کے خلاف ہماری تحریک اب عوامی تحریک بن چکی ہے اور یہ تحریک انشااللہ اپنے مقاصد ضرور حاصل کرے گی۔ 

  سینیٹر سراج الحق نے پنجاب میں بچوں کے اغوا ءکی بڑھتی ہوئی وارداتوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آئے روز اغواءکے واقعات نے والدین کی نیندےں حرام کردی ہے ،مائیں اپنے بچوں کو سکول بھیجنے سے ڈرتی ہیں اور پورے معاشرے کے اندر خوف کا پہرا ہے مگر حکمران آئے روز گڈ گورننس کے دعوے کرتے نہیں تھکتے ۔انہوں نے کہا کہ والدین بچوں کی حفاظت کیلئے سارا دن تو سکول نہیں بیٹھ سکتے ،عوام کو جان و مال اور عزت کا تحفظ دینا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے اور یہ ذمہ داری ریاست ہی کو نبھانا پڑے گی عام آدمی جو مشکل سے دووقت کی روٹی کماتا ہے وہ اپنی حفاظت کیلئے گارڈتو نہیں رکھ سکتا۔لوگوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے جسے پورا کرنے میں حکمران بری طرح ناکام ہوئے ہیں۔ 

ڈاکٹر طاہر القادری کی شخصیت ،کردار و افکار کا تجزیہ :ثاقب ملک

میں فخر سے کہہ سکتا ہوں کہ پاکستان دنیا کی تاریخ کے تین عظیم ترین اداکاروں کا مسکن ہے اور ماضی میں بھی رہا ہے .پہلے نمبر پر شہنشائے “ڈرامیات ” جناب مد ظلہ حضرت الطاف حسین ،لندنوی ہیں .

Saqib Malik

پروفیسر احمد رفیق اختر کی شخصیت ،اور خیالات و نظریات کا تجزیہ :ثاقب ملک

پروفیسر احمد رفیق اختر شاید پہلی نظر کا حسین دھوکہ ہیں .اگر میں ہارون الرشید کے انکے کالموں میں لکھے ہوئے جملوں درویش،عارف ،فقیر کو ذہن میں رکھوں تو میرا تصور تو یہی بنے گا کہ ایک بوڑھا سا آدمی ہے،لمبی سفید داڑھی ہے،تسبیح پر سر جھکاے بیٹھا رہتا ہے بس کبھی کبھار کسی سوال پر سر اٹھا کر ذہن کے دریچے کھولنے والا جواب دیتا ہے . مگر حقیقت میں ایسا ہرگز نہیں ہے .یہ تو ایک روشن شخصیت والا،جوان جوان سا پر کشش بوڑھا شخص ہے .

Saqib Malik

جاوید احمد غامدی کے افکار،نظریات اور شخصیت کا تجزیہ :ثاقب ملک

ایک ہی بات ذہن میں بار بار گونجتی ہے ،جب بھی غامدی صاحب کو سنو یا پڑھو اور وہ لفظ انکی شخصیت پر چھایا ہویا ہے . وہ لفظ ہے “ریشنل””..منطقی آدمی ہیں .

Saqib Malik

سید بلال قطب کی شخصیت ،سوچ ،انداز اور فکر کا تجزیہ :ثاقب ملک

بلال قطب ڈاکٹر اسرار احمد مرحوم اور پروفیسر احمد رفیق اختر کی کمبائنڈ علمی ‘ڈسٹارشن ‘ ہیں .کچھ خوبیاں انہوں نے اپنے ان دونوں استادوں سے حاصل کیں اور کچھ اپنی خامیوں کو مزید جلا بخشی ہے .

Saqib Malik