Tags » Turkish Food

Vagina interest, standard date night and omgyes


Multiple people asking to see my vagina print. At the same time.

Date night with Jonny. The classic Turkish food at Petek, beer at the Fullback and ping pong and dance machine at Rowan’s. 14 more words

Autumn, food and my necklace


The trees outside my window have changed colour, seemingly overnight.

The huge Turkish meal we had exploring a new bit of London. And the very friendly staff. 14 more words

The Best Hummus in New York City

I love New York. I always go every November to join my fiancé on his business trip, and luckily for us, New York City is a Michelin town. 315 more words

Food

Delicious Food From Turkey

Turki adalah kota yang memiliki perpaduan budaya barat dan timur. Berada di antara kedua kutub budaya tidak hanya menjadikannya negara yang kaya akan tradisi, tapi juga kaya akan kuliner lezat. 1,251 more words

Turkish Food

Lahm Bi'ajeen

I never ate lahmacun when I lived in Turkey. It always looked delicious, sold from street carts – flat bread spread with a smidgen of lamb and then rolled up with herbs and/or salad. 747 more words

Recipes

Soframiz by Ana Sortun & Maura Kilpatrick


Book Genre: Cookbook, Non-Fiction

Book Series: N/A

Released:10/11/16 by Ten Speed Press

Pages:272  Price: $35 Hardcover

Links:  Goodreads,

Source: I received a copy of this book from the publisher through Blogging for Book(B.F.B) for an honest review. 574 more words

Book Review

آٹمن کوزین ۔۔پاکستانی خوش خوراکی کےلیے نیاجہاں

ترکوں نے قریباً 621سال دنیاکےایک بہت بڑے حصےپہ حکومت کی ہے ۔۔ ایک وقت میں ترک سلطنت یورپ سےایشیا،افریقہ تک پھیلی ہوئی تھی ۔۔ ترک بہادرہونے کے ساتھ ساتھ دنیاکی خوش خوراک قوموں میں سے بھی ایک ہیں ۔۔ بلاشبہ کھانوں کی ہزاروں ورائٹیاں اور ایک ملک رہتے ہوئے ایک ڈش کی مختلف اقسام کے معاملے میں ترک قوم سب سے آگے ہے ۔ترک کوزین،جسے آٹمن کوزین کے نام سے جانا جاتا ہے ،اپنے اندر دنیاکےسارے خطوں کےنمایاں کھانوں کو سموئے ہوئے ہے ۔۔ اس میں تازہ ترین اضافہ یورپی فاسٹ فوڈ کلچر کاہےتاہم یہ ابھی زیادہ پسند نہیں کیاگیا۔۔۔مختلف خطوں پرقابض ہونے کےباوجود ترکوں نےاپنی ثقافت وزبان کو دوسری ثقافتوں سے ’’دست و باہم ‘‘ ہونے سے بچارکھاتاہم کھانے کےمعاملے میں ان کا حساب الٹارہا اور انہوں نے ایشیا،یورپ،افریقہ،مشرق وسطی،بلقان سمیت زیرقبضہ ہرخطےسے کھانوں کواپنے ہاں نہ صرف جگہ دی بلکہ اپنی روایات اور اپنی پسندکےسانچے میں ڈھالنے کی حتی المقدور کوشش بھی کی ۔ترک کھانے میں گوشت سےبنی ڈشززیادہ کھاتے ہیں جبکہ چاول ان کی دوسری پسندیدہ ڈش ہے جس کودرجنوں مختلف طریقوں سے پکایاجاتا ہے ۔۔
مٹھائی کے معاملےمیں بھی ترک بکلاوا اور لوکما کا کوئی جوڑ نہیں ۔۔حوادث زمانہ نے ترکوں کو عالمی طاقت کے منصب سے پسپا کیا تو وہ محض ساڑھے سات لاکھ مربع کلومیٹر رقبہ زمین پر واقع اپنے ملک تک محدود رہ گئے ۔۔۔ تاہم اپنی دھرتی، زبان اورثقافت کے ساتھ ساتھ ترکوں نے اپنے کھانوں کو بھی ہرقسم کی دست بردسےبچاکررکھااور وقتاً فوقتاً اس میں مزیدنکھار لائے ۔۔۔۔۔
یہ محض تمہیدتھی،،اب اصل بات کی طرف آتےہیں ۔۔۔
ستر اسی سال کی سیاسی،معاشی اور ثقافتی جدوجہدکےبعدترک قوم اب ایک مرتبہ پھراقوام عالم میں اپنامقام دوبارہ حاصل کرنے کےلیے تیارہے ۔۔ تعمیرات،ٹیکنالوجی،سروسزاورمشینری کے شعبہ میں ترکی اب اقوام عالم کو اپنی حاصل کردہ مہارت برآمدکررہاہے ۔۔۔۔ ترکوں کی ایک مہارت ان کے کھانےبھی ہیں ۔۔۔پوری دنیاسے کھانوں کوجمع کرکےاپنی روایات اورپسندکےسانچے میں ڈھالنے کے بعد،اب ترک قوم یہی کھانے دنیاکوکھلانے کےلیے نکل پڑی ہے ۔۔۔ترکوں نے یورپ کے بعد ایشیاکارخ کیا ۔۔ چائنہ میں اپناذائقہ منوانے کے بعد اب وہ ایک نئے چیلنج کےلیے تیار ہیں
اور وہ چیلنج ہے ان ہی کی طرح خوش خوراک اور ذائقوں کی دلدادہ قوم پاکستانیوں کےدل جیتنے کی۔۔۔
اس سلسلے میں پہلاقدم ترکش ریسٹورنٹس کے نام سے لاہورمیں اٹھایاگیاہےجہاں ‘‘آٹمن کوزین ’’اب روایتی ترک انداز میں پیش کیے جاتے ہیں ۔۔لاہورکے معروف علاقے گلبرگ میں جدید فوڈسٹریٹ ایم ایم عالم روڈجسے بلاشبہ پاکستان کاکچن کہنازیادہ بہتررہےگا،پرپہلے باقاعدہ ترکش ریسٹورنٹ کاقیام عمل میں آگیا ہے جہاں کے مالکان سے لیکر شیف تک سب ترک ہیں اور وہ بطورخاص اپنےبرادرملک کےباسیوں کو اپنا گرویدہ بنانے کاعزم لیکر آئے ہیں ۔۔۔
ترکوں کی روایتی مہمان نوازی کی عکاسی ریسٹورانٹ میں داخلے کےوقت ہنستے مسکراتےچہروں سے ہی ہوجاتی ہے جبکہ کھانے کی میزسے لیکرپروسنےتک کے روایتی اندازبلاشبہ ہرآنےوالے کومسلسل مسحورکیے رکھتے ہیں ۔۔۔
کھانوں کے ذائقے تو بعد کی بات ہے ۔۔ پاکستانی شہری یقیناً کھانوں کی ورائٹی دیکھ ہی حیرت میں پڑسکتے ہیں کہ کیاکھائیں اور کیاچھوڑیں ۔۔۔ گوشت،چاول،سبزی،عربی اوریورپی ڈشزکی متنوع ورائٹی انتخاب کرنا مشکل بنادیتی ہے ۔۔۔
چلیے انتخاب ہوگیا ۔۔۔ اب مرحلہ ہے انتظار کا۔۔۔ تو اس مرحلے میں بھی ترک اپنے مہمانوں کو بوریت کااحساس نہ ہونے دینے کی روایت برقراررکھےہیں ۔۔ ۔ انتظار کے مرحلے کےدوران سٹارٹر کے ساتھ ساتھ لائیوکچن سہولت کے تحت اپناکھانا بنتے دیکھ سکتے ہیں ۔۔ بلاشبہ یہ مارکیٹنگ کی بہترین تیکنیک بھی ہے ۔۔
سٹارٹرمیں بھی کافی وارئٹی ہے تاہم سری پائے اوربونگ کے شوقین لاہوریوں کےلیے پاچہ سوپ جبکہ قدرے نفیس مزاج رکھنے والوں کےلیے دال کاسوپ موجود ہے جو یقیناحیران کن حدتک مزیدارہے۔۔۔
کھانا پروسنےکاروایتی انداز اور روایتی ترک برتن بھی لبھانے کےلیے کافی ہیں لیکن اصل چیز کھانوں کاذائقہ ہے جو بلاشبہ بہترین ہے ۔۔۔
کھانے کے بعد بات ہومشروب کی توترک آپ کو ‘‘آئرن ’’ہی تجویز کرینگے۔۔۔باقی مشروب اپنی جگہ ،مگرخوش خوراک ترک ہاضمےکوبہتربنانےاورکھانے کےجلدانہضام کے لیے صرف ‘‘آئرن’’کااستعمال کرتے ہیں ۔۔ یہ دراصل دہی کی لسی ہی ہے مگر ترکش ترکیب کے ساتھ۔۔۔۔
کھانا ختم ہوا۔۔اور اب ہے وقت رخصت کا ۔۔مگر جاتے وقت ترک مہمان نوازی کی آخری کڑی ۔۔خصوصی قہوہ پینا مت بھولیے گا۔۔۔ اوروہ بھی بلامعاوضہ۔۔کیوں کہ ترک اپنے خلوص کے پیسے نہیں لیتے

نوٹ:ڈیلی سٹی پریس پہ شائع شدہ

http://www.dailycitypress.com/blog-taimoor-hassan/

اردوتحریر