Tags » Upbringing

The Poverty of Jesus Christ’s Birth and Upbringing

Luke 2:7; 12; 16; 22-24 (NKJV)

7 And she brought forth her firstborn Son, and wrapped Him in swaddling cloths, and laid Him in a manger, because there was no room for them in the inn. 390 more words

Jesus

To Cry or Decry

The upbringing you blindly condemn,

you inadvertently mimic,

issuing from your inner self

that you struggle to escape.

An upbringing with hurts and joys,

a disarray of jigsaw pieces… 75 more words

Poetry

Kunya - The Simple Sunnah

Do you know:

Abdullah ibn Abi Quhafah

Abdur Rahman ibn Sakhr

Nu’man ibn Thabit

If you do, then read further. If not then try revising your knowledge of the Seerah and Islamic history. 1,891 more words

The Heroes Legacy

Coming to Terms with Being Your Own Person. 

Our upbringing is something which shapes us and is, to some extent, responsible for many of our traits. It contributes to the way we view and react to situations in life. 1,405 more words

Parents are the life enabler for the child

Parents are the life enabler and mentors for the child – they have lived here longer, and introduce the child to society and nurture the child’s INHERENT potentials. 257 more words

Insight

بچوں کی تربیت - ایک نقطہ نظر

آج کل بچوں کی تربیت پر بہت سی کتب اور مقالہ جات لکھے جا رہے ہیں. کچھ عرصہ پہلے کی بات ہے کہ مجھے ایک واقعہ سننے کو ملا کہ ایک شخص ایک بزرگ کے پاس اپنا ٥ سال کا بیٹا لے کر گیا اور ان سے کہا کہ آپ اس کی تربیت کر دیں. تو بزرگ نے پوچھا کہ آپ کے بیٹے کی کیا عمر ہے. تو آدمی نے جواب دیا کہ یہ ٥ سال کا ہو گیا ہے. تو بزرگ نے کہا کہ اب مجھے کیا کرنا ہے اب تو اس کی تربیت ہو چکی ہے اب تم اس کو واپس لے جاؤ. اس وقت تو میں نے اس واقعہ پر بہت سبحان الله اور ماشااللہ کہا. لیکن قرآن کی طرف رجوع کرنے کے بعد کچھ سوالات اس واقعہ کے متعلق ا گئے ہیں جو اس مضمون میں زیر بحث لانے کی کوشش ہے.

قرآن کا اگر ایک اہم مقصد انسانوں کی تربیت ہے کہ وہ شیطان کے راستے سے نکل کر خدا کے راستے پر چل پڑیں. اگر انسان کی تربیت پانچ یا چھ سال تک ہو جاتی ہے اور اس کے بعد کچھ ہو نہیں سکتا تو پھر بچوں کی تربیت پر قرآن میں کچھ سیر حاصل گفتگو ہونی چاہیے تھی. قرآن کا جو تھوڑا بہت مطالعہ کیا تو اس میں بچوں کی تربیت کے حوالے سے کچھ خاص مواد ملا نہیں.

قرآن کے کچھ مقامات جہاں پر الله کے نیک لوگوں نے اپنی اولاد کو کوئی نصیحت کی ہے وہاں بھی ایسا لگتا ہے کہ وہ اولاد اچھی خاصی بالغ اور سمجھدار ہو چکی ہے.

وَوَصَّىٰ بِهَا إِبْرَاهِيمُ بَنِيهِ وَيَعْقُوبُ يَا بَنِيَّ إِنَّ اللَّهَ اصْطَفَىٰ لَكُمُ الدِّينَ فَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنتُم مُّسْلِمُونَ

(سوره بقرہ آیت ١٣٢)

أَمْ كُنتُمْ شُهَدَاءَ إِذْ حَضَرَ يَعْقُوبَ الْمَوْتُ إِذْ قَالَ لِبَنِيهِ مَا تَعْبُدُونَ مِن بَعْدِي قَالُوا نَعْبُدُ إِلَٰهَكَ وَإِلَٰهَ آبَائِكَ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ إِلَٰهًا وَاحِدًا وَنَحْنُ لَهُ مُسْلِمُونَ  (سوره بقرہ آیت ١٣٣)

اور اسی بات کی ابراھیم اور یعقوب نے بھی اپنے بیٹوں کو وصیت کی کہ اے میرے بیٹو بے شک الله نےتمہارے لیے یہ دین چن لیا سو تم ہر گز نہ مرنا مگر درآنحالیکہ تم مسلمان ہو

کیا تم حاضر تھے جب یعقوب کو موت آئی تب اس نے اپنے بیٹوں سے کہا تم میرے بعد کس کی عبادت کرو گے انہوں نے کہا ہم آپ کے اور آپ کے باپ دادا ابراھیم اور اسماعیل اور اسحاق کے معبود کی عبادت کریں گے جو ایک معبود ہے اور ہم اسی کے فرمانبردار ہیں

وَإِذْ قَالَ لُقْمَانُ لِابْنِهِ وَهُوَ يَعِظُهُ يَا بُنَيَّ لَا تُشْرِكْ بِاللَّهِ إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ

اور (یاد کیجئے) جب لقمان نے اپنے بیٹے سے کہا اور وہ اسے نصیحت کر رہا تھا: اے میرے فرزند! اﷲ کے ساتھ شرک نہ کرنا، بیشک شِرک بہت بڑا ظلم ہے

ایک مسلمان کے طور پر میرے لئے رہنمائی کا دوسرا شرچشمہ سنہ ہے. تو میں نے سنہ کی طرف رجوع کیا تو جو پہلی بات معلوم ہوئی کہ اسلام میں صحابی وہی ہے جس نے بلوغت کے بعد اسلام کی حالت میں نبی کو دیکھ لیا یا مل لیا. اور ایک ادنیٰ سے صحابی کا بھی رتبہ بعد کے افضل سے افضل عابد زاہد سے اوپر ہے. لیکن اگر ایک شخص کی تربیت ٥ سال تک مکمل ہو گئی ہوتی ہے تو پھر صحابی تو اس کو ہونا چاہیے تھا جس نے نبی کی تربیت ٥ سال سے پہلے حاصل کی ہو نہ کہ جو ملا ہی نبی کو ٥٠ سال کے بعد ہو. یا کم از کم ایسے لوگوں کو تو صحابی سمجھنا چاہیے جو نبی کی حیات میں تو ٥ سال سے کم تھے لیکن ان کی بلوغت سے پہلے ہی نبی کا انتقال ہو گیا. لیکن ایسا بھی نہیں ہے.

دوسری بات یہ کہ یقیناً بچوں کی تربیت ایک اہم ذمہداری ہے جس پر غفلت نہیں برتی جانی چاہیے لیکن والدین کی یہ تربیت ساری زندگی چلتی رہنی چاہیے. اور جیسے جیسے بچے بڑھے ہوتے ہیں ویسے ویسے ان کے سوالات بڑھتے جاتے ہیں ویسے ویسے ان کا حلقہ احباب وسیع ہوتا جاتا ہے اور ویسے ویسے ہی تربیت کی اہمیت اور ضرورت زیادہ ہوتی جاتی ہے.

ہم اپنی زندگی میں اپنے ارد گرد دیکھتے رہتے ہیں کہ بچپن میں کچھ بچے بہت زہین اور اول آنے والے ہوتے ہیں اور میٹرک کے بعد ایک ڈیم سے ان کی کارکردگی خراب ہو جاتی ہے. کچھ شروع میں بمشکل پاس ہونے والے ہوتے ہیں اور بعد میں ایک دم سے وہ کلاس میں صف اول کے بچوں میں شامل ہو جاتے ہیں اور یہ پڑھائی ہی نہیں ہر معاملہ میں دیکھا جا سکتا ہے. کچھ بچپن میں بلکل بھی نمازی نہیں ہوتے اور جوانی میں تہجد گزار ہو جاتے ہیں اور کچھ بچپن میں تبلیغ کرنے والے بعد میں غلط کاموں میں پر جاتے ہیں.

اس لئے میری خیال سے بچوں کی تربیت اہم ضرور ہے لیکن ہم نے اس کو اتنا اہم بنا دیا ہے کہ بعد کی عمر کی تربیت اور رہنمائی جو بچپن کی تربیت سے بہت زیادہ اہم ہے اس کو اہمیت ہی دینا چھوڑ دیا ہے. جب ایک بچہ جو جوانی کی دہلیز پر پہنچتا ہے اور اس عقائد، عبادات (نماز، روزہ، حج، زکات وغیرہ کے مسائل) اور اسلام کی روح سمجھانے کی ضرورت ہوتی ہے تب والدین اس کام کو بلکل چھوڑ دیتے ہیں اور یہ چیزیں وہ معاشرے یا اپنی حلقہ احباب سے سیکھتا ہے جو کہ خود سیکھ رہے ہوتے ہیں اور ایک کشمکش سے گزر رہے ہوتے ہیں.

TidBits

Stupid is that stupid does

Is it so that mankind, to survive, continues to lure herself that life follows a progressive path? Because it clearly doesn’t and, what is worse, I get surprised… 163 more words

Me