Tags » Urdu Article

اِک گھسی پٹی کہانی

تحریر: امام بخش

 آج ہماری خواہش تھی کہ دنیا کی بہترین آرمی یعنی وطنِ عزیز کی  مایۂ نازفوج پر لکھاجائے۔ اِرادہ ہمارا یہ  تھا کہ  اِس پُروقار ادارے کی  زبردست  کارکردگی پر خراج تحسین پیش کیا جائے۔ لیکن ناجانے کیوں  ذہن ایک پرانی اور گھسی پٹی کہانی پر اٹک گیا ہے۔ یہ کہانی آپ نے بھی ضرور سنی یا پڑھی ہو گی۔ مگر  ہم پھر بھی آپ کو  سُنانے پر بضدہیں۔ آپ بھی دل کڑا کرکے ایک بار پھرسے پڑھ لیجیئے۔

 ایک دفعہ کا ذکرہے کہ ایک سخت گیربادشاہ عقلِ کُل اور  لاثانی ہونے کے خبط میں بُری طرح  مبتلا تھا۔  ایک بار اُس نے حکم جاری کیا کہ جو مجھے ایسا پُروقار اور عظیم الشان  لباس لا کر دے گا جو دنیا میں کسی کے پاس نہ ہو تو میں اُسے مالا مال کر دوں گا۔ بادشاہ کے ذوقِ لطیف کو سمجھتے ہوئے  ٹھگوں کا ایک ٹولہ بادشاہ سلامت کے دربار میں حاضر ہوا۔ “حضور ہم آپ کے لئے ایک خاص لباس تیار کریں گے، جواس سے پہلے تاریخ میں کسی نے دیکھا نہ سُنا، اِس لباس کی باکمال خصوصیت یہ ہوگی کہ اِسے پہننے سے آپ  پُر وقار لگیں گے اور آپ کی قوت و طاقت، دانائی و بہادری اور دہشت و وحشت  مزید بڑھ جائے گی۔ اس لباس کے بارے میں راز کی یہ بات بھی ہے کہ اِس کی شان وشوکت اور خُود یہ  (لباس) صرف اُنھی لوگوں کو دکھائی دے گا، جو صِرف محبِ وطن ہونے کے ساتھ ساتھ عقل و دانش اور فہم وفراست رکھتے  ہیں۔ سلطنتِ عزیز کے غدار، احمق اور عقل سے پیدل لوگ یہ عظیم الشان لباس دیکھنے کی سعادت سے محروم رہیں گے۔ مزید برآں اس لباس کو پہننے سےآپ کو اپنے عقل مند مشیر اور وزیر چننے میں بھی آسانی ہو گی”۔

 بادشاہ ظاہری طور پرصاحبِ تدبیر اور راست باز مگر باطنی طور پرٹھگوں   کی باکمال پریزنٹیشن سے متاثر ہُوا اور اُنھیں حیرت انگیز لباس کی فوری تیاری کا حکم جاری کردیا۔ ٹھگوں کوعوام کے خون پسینے سے کمائے گئے ٹیکسوں سے بھاری مراعات کے ساتھ ساتھ محل میں ایک  بہت بڑا ہا ل عطا کردیا گیا۔ وہ اپنی مشینری لے آئے اور ان کے آدمی مشینوں پردِن رات مصروف ہو گئے۔ کچھ دنوں کے بعد ٹھگوں نے بادشاہ کو بتایا کہ لباس تیار ہو گیا ہے۔ بادشاہ مشاہدہ کرنے گیا تو ٹھگوں نے تخیلاتی لباس کی اِشاراتی نمائش پیش کی۔ بادشاہ کو  کچھ بھی نظر نہ آیا لیکن مکھن مسکہ ٹھگوں نے اپنی متاثرکن باتوں سے بادشاہ کو پورا یقین دلا دیا کہ  شان وشکوہ  والا لباس وجود رکھتا ہے۔ بادشاہ یہ سوچ کر کہ وہ کہیں بیوقوف نہ کہلائے، لباس کی تعریف کر کے آ گیا۔ دوسرے دن دربار میں اعلان کیا گیا کہ اگلے روز بادشاہ سلامت عظیم الشان جلوس کی قیادت کریں گے ۔وہ ایک ایسا لباس پہن کر آئیں گے، جو صرف عقلمندوں  اور محبِ وطن لوگوں کو نظر آتا ہے۔

 دوسرے روز جلوس میں  جانے سے قبل بادشاہ کو بڑے اہتمام سے ٹھگوں نےغیر مرئی “باوقار اورعظیم الشان لباس” پہنایاتو  بادشاہ کو اِس بار بھی   کچھ نظر آیا اور نہ ہی اُسےکچھ محسوس ہوا، بلکہ وہ اپنے آپ کو واضح طور پر بے لباس محسوس کر رہا تھا۔ مگران ٹھگوں اور چاپلوس درباریوں کے سامنے خود مابدولت کو احمق، عقل سے پیدل اوربادشاہی منصب کے لیے نااہل ثابت کرنا  ہرگزقبول نہیں تھا۔دوسرا  یہ کہ  لن ترانی میں بے مِثل ٹھگوں کی طرف سے کی گئی برین واشنگ سے  بادشاہ کو  اپنی بے لباسی ہی میں شان و شوکت، طاقت و قوت اور اپنی اہلیت سب نظر آنے لگی۔ وہ پُورے اعتماد سے ننگ دھڑنگ ہی جلوس کی قیادت کرنے کے لیے  باہر نکل آیا۔

 عزت مآب نے ایک نظر عوام پر ڈالی جو وحشت انگیز سُناٹے میں ہکا بکا کھڑے تھے۔ زبان کو تالو سے  چپکائے سہمے ہوئے عوام میں سے کسی کویہ سچ بولنے کی ہمت نہ ہوئی کہ وہ اظہار کرسکے کہ بادشاہ تو الف ننگا ہے۔ اور  ویسے بھی بھلا کون یہ کہہ کراپنے آپ کوسزا کا حقدار،  غدارِ وطن، احمق، عقل سے پیدل اور اپنے شاہی منصب کے لیے نااہل قرار دلواتا؟ قصیدہ گو خوشامدیوں کا ایک جمِ غفیر تھا، جس نے بادشاہ کے لباس کی شان وشوکت اور قوت و طاقت کے قصیدے پڑھ کر زمین و آسمان کے قلابے ملا دیئے۔

 “ارے واہ! اس پُروقار لباس کی کیاشان ہے”۔

“سبحان اﷲ! کیا بہادر انہ انداز ہے”۔

“ماشاءاللہ! حضور کو لباسِ فاخرہ کیاخوب جچ رہا  ہے”۔ 

“الحمداللہ! ہمارا بادشاہ عوام کاخیرخواہ  اور عظیم ہے”-

“واہ واہ! کیاہیبت ہے، کیا شوکت ہے”۔

“اُف! کیارعب ہے، کیاطنطنہ ہے، کیا طاقت ہے، کیا لیاقت ہے”۔

“اللہ رے! کیا زور ہے، کیا قوت ہے”۔

“میرا ماہی چَھیل چَھبیلا، میں تو ناچوں گی” (ایک سُریلی  نسوانی آواز گونجی) –

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 المختصر  قاضیِ وقت نے بھی اِس  ننگی مطلق العنانی کے طمطراق کو  برحق مان کر عدالتی مہر ثبت کردی  اور “کن فیکونی” اختیا رات کو بھی جائز قراردے دیا۔

 بادشاہ نے انعام کے طور پر “عظیم الشان” لباس کے کاریگروں  اور قصیدہ نگاروں کو  اپنے وزیر، مشیر، سفیر، نمایندگان خصوصی، گورنر اور ممبر پارلیمنٹ بنالیا،   کچھ کوسرکاری اداروں میں بھاری تنخواہوں پرعہدے دیئے ، کچھ میں کرنسی سے بھرے بڑے سائز کے لفافے بانٹے  اور دھڑادھڑ قیمتی پلاٹ، کنسٹرکشن ٹھیکے اور سرکاری اثاثوں کی سستے ترین ریٹ پر  لیز عطا کی ۔

 روز مرّہ کے معمول  کے مطابق ہرروز نئے انداز میں  قصیدے پڑھے جاتے اور اخبارات میں جلی سُرخیوں کے ساتھ چھپتے۔ گفتار کے غازی قلمی منشی اور ماہر  پراکسی قلمکار اپنے تجزیوں اور کالموں کے ذریعے اپنے وظائف حلال کرتے۔

 کہتے ہیں بادشاہ سلامت چھ عشروں سے زیادہ اسی لباس میں عوامی جلوس کی قیادت فرماتے رہے۔ جلوس میں شامل  سب ناچتے تھے، کسی کو جُھوٹےکیسز  کا خوف نچاتا تھا تو کسی کو خاندانی مجبوری، کسی کو پیٹ نچاتا تھا تو کسی کو سٹیٹس، کسی کو کرسی تو کسی کو فیشن، سب کے سب ٹھمکے پے ٹھمکا لگانے میں مگن۔ اور ساتھ میں  تکرار کے ساتھ نعرے بھی گونجتے کہ ہم ہی  تو سیانے  اور  محبِ وطن ہیں،  ہمارا بادشاہ عظیم ہے۔ اگر سلطنت کا کوئی  شہری ناچنے سے انکاری  ہوتا یا   بادشاہ سلامت کے وقار، شان وشوکت، قوت و طاقت اور  دانائی و بہادری کے بارے میں  اُس کی  نیت پر ذرا سابھی شک گذرتا،  تو غدارِ سلطنت  کاٹھپہ جھٹ سے لگا دیا جاتا، غائب کردیا جاتا ، بدنام کردیا جاتا، اُس کا کاروبار تباہ کردیاجاتا یا  پھر وہ  بے روزگاری، جیل ، پھانسی،  گولی یا خُودکُش دھماکےکی نظرہوجاتا۔  یعنی جو ناچے وہ سکندر، جو نہ ناچے وہ بندر۔

 بادشاہ نے اپنی دھرتی کے سادہ لوح نوجوانوں کو (جوجہاد کےنظریئے کےساتھ فوج میں بھرتی ہوئے تھے) کرائے پر غیرملکی جنگوں میں دھکیل دیا، جس کی وجہ سے بادشاہ کی فوج  کےڈنکے چار دانگِ عالم میں بجنے لگے کہ اپنے ملک کی سرحدوں کی حفاظت کرنے کی بجائے یہ توصرف  کرائے  پر کام کرنے والی فوج ہے۔بادشاہ سلامت کو اندرونی و بیرونی  ذِلت آمیز شکستوں پر شکستیں ہوئیں۔  سلطنت کے اندر ہرقلعے کی اینٹ سے اینٹ بجا دی گئی، دشمن ملک نے آدھی سلطنت تک چھین لی۔  مزید برآں میرٹ کا کھلے عام قتل کیا گیا۔ اقربا پروری نےنئی رفعتوں کو چُھوا۔ فرقہ واریت، نشے اور اسلحے کے کلچر کو دانستہ طور پر  عام کیا گیا۔ بادشاہ کے پالے ہوئے غنڈوں اور دہشت گردوں نے عوام کا جینا دوبھر کردیا، جس سے پوری سلطنت دہشت زدہ ہوگئی اور دہشت گردی نے مُستقل ڈیرے ڈال دیئے۔  امن وامان برباد ہوگیا۔ خون میں نہائی لاشیں روز کا معمول بن گئیں۔ خود سپردگی ، بزدلی،بے غیرتی اور بے حمیتی قوم کا خاصہ بن گئیں، پڑھے لکھے لوگ اور سرمایہ دار ہجرت کرگئے۔ مگر پھر بھی دُشمن ملکوں کے سامنے ہمیشہ سر جھکانے والا ڈرپوک بادشاہ اپنی عوام پر ہیبت کے ساتھ مسلط رہا اور بے پناہ ظلم وستم ڈھاتا رہا۔ بندوق کے زور پر اپنے آپ کو پُروقار  منوانے کی تکرار کرتا رہا۔

 ہرچیز روزِروشن کی طرح واضح ہونے کے باوجود خُصیے سہلانے کے ماہر بوزنے، بونے ، بالشتیئے،  دیہاڑی باز، کمیشن خور، اور ہوس اقتدار کے مریضدرباریوں نے بادشاہ  کی عوامی خیرخواہی،  قوت و طاقت اور دانائی  و بہادری کےجُھوٹے قصیدے  جاری وساری رکھے۔ اور جنتُ الحُمقاء کے ہم زانُو بادشاہ نے بھی ایک پل کے لیےنہ سوچا کہ ایک دن  وہ تاریخ کے کُوڑے دان میں ڈال دیا جائے گا اور آنے والی نسلیں اُس  پر تھوکنا بھی گوارانہیں کریں گی۔

 ایک روز کا ذِکر ہے  کہ ننگے بادشاہ کا جلوس شان وشوکت سے چلا جارہا تھا۔مفلوک الحال عوام میں سے  کوئی یہ کہنے کی ہمت نہیں  کرپارہاتھا کہ اُسے کوئی شان وشوکت نظر آرہی ہے ،نہ طاقت و قوت اور  نہ بادشاہ کے تن پر کوئی لباس۔ ایک پاگل دیوانہ بھی گُھومتا پھرتا بادشاہ کے جلوس میں آ نکلا۔ دیوانے نے جب بادشاہ اور تعریفی نعرے لگاتے اُس کے حواریوں کو دیکھا، تو زوردارقہقہہ لگایا،بادشاہ کی طرف اُنگلی سے اشارہ کیا اور کلمۂ حق بلند کیا:

 “عقل کے اندھو!۔۔۔ ہمارا بادشاہ تو بالکل ننگا ہے۔”

یہ سنتے ہی جلوس میں سُناٹا چھا گیا اور تھوڑی دیر بعد کچھ پُھس پُھساوَٹ کے ساتھ مکھیاں سی بھنبھنانے لگیں:

“ہیں جی۔۔۔۔ کچھ کچھ شک تو مجھے بھی پڑتا ہے”!

“ہاں جی ۔۔۔۔ ذرا دیکھوتو سہی”!

“۔۔۔۔ ننگا تو مجھے بھی لگ رہاہے”!

“اِس کے بدن پر ایک اِنچ کپڑا بھی نہیں”!

” ہاں واقعی، دیوانہ توبالکل ٹھیک کہہ رہا ہے!”

اس کے بعد تو پورا جلوس بلند آواز سے نعرہ زن ہوگیا:

“بادشاہ ننگا ہے ۔۔۔۔۔بادشاہ ننگا ہے ۔۔۔۔۔ بادشاہ ننگاہے”۔

 اس ذلت آمیز صورتحال میں ظالم بادشاہ کے اوسان خطا ہوگئے، سارا  خودساختہ  وقار، طنطنہ  اور رعونت کافور ہوگئے،  صورتحال ایسی ہوگئی کہ کاٹو تو بدن میں لہو نہیں۔  بس نہیں چلتا تھا کہ وہ اپنے ننگے بدن پر آگے پیچھے ہاتھ رکھے، زمین پھٹے اور وہ زمین میں زندہ دفن ہوجائے۔ ساری کی ساری ڈھنگوسلہ بازی چشمِ زدن میں دھڑام سے گر گئی۔ بدبخت بادشاہ کو یہ بھی   دیکھناپڑا کہ “باوقار اور عظیم الشان لباس” بنانے والے ابن الوقت ٹھگوں کا ٹولہ بھی اُس کی انتہادرجے کی بے وقوفی کے ٹھٹھے اُڑانے میں مصروف تھا۔ بدلتی ہوا کا رُخ دیکھ کر سب کے ساتھ ٹھگ بھی جوش وخروش سے نعرے بازی  میں شریک ہوگئے کہ:

 “بادشاہ ننگا ہے! ۔۔۔۔۔بادشاہ ننگا ہے !۔۔۔۔۔ بادشاہ ننگاہے!”

(نوٹ:یہ کوئی الف لیلوی داستاں ہے نہ گُل و بُلبل کا قصہ کہ پڑھا ، مزہ لیا اور  سوچےسمجھے بغیر بھلا دیا۔)

Urdu Article

ذوالفقار علی بھٹو…معمار وطن تو زندہ ہے .. سید خورشید احمد شاہ کی خصوصی تحریر

ذوالفقار علی بھٹو شہید ایک زیرک سیاستدان ، مدبر رہنما اور کرشمہ ساز شخصیت تھے ۔ انہوں نے سیاست کو سرمایہ داروں کے ڈرائینگ روموں سے نکال کر غریبوں کی دہلیزوں پر لاکھڑا کیا۔ اس تبدیلی کی بدولت بے زبان عوام کو زبان ملی اور انہیں اپنے حق کیلئے لڑنے کا سلیقہ آیا۔ آج کا نظام بھٹو شہید کی عطا ہے جنہو ںنے نہ صرف جمہوری سیاست کی بنیاد رکھی بلکہ اسے ایک قابل عمل اور قابل تقلید  نظام بنادیا ۔ ماضی قریب کے ورق الٹ کر دیکھیں تو معلوم ہوگا کہ اس ملک میں مفاد پرستوں نے آمروں کے ساتھ مل کر بھٹو شہید کے فلسفے اور نظام   کوآئین سے نکال باہر کرنے میں کوئی کسرباقی نہ چھوڑی۔ مگر آج  بھی اگر ملک کے مسائل کا  درست  اورسب کیلئے قابل قبول کوئی حل موجود ہے تو وہ   صرف  1973   کیجمہوری آئین کی بدولت ہے ۔ جسے بھٹو شہید نے اپنے پیچھے چھوڑا ہے۔ بھٹو کی سیاست کا مقصد عوامی نمائندگی کا حق وڈیروں سرمایہ داروں اور صنعت کاروں کی مٹھی سے نکال عوام کی جھولی میں ڈالنا تھا۔ اسی مقصد کے تحت انہوں نے سرزمین بے آئین کو 1973میں متفقہ آئین دیا ۔ پسے ہوئے طبقات کو شعور دیا، عوام کو عزت نفس اور خود اعتمادی دی۔ بھٹو شہید جانتے تھے کہ عوام کے حق میں مثبت اور پائیدار تبدیلی محض نعروں سے نہیں آ سکتی۔  انہوں نے ایک طرف خلیجی ممالک میں پاکستانی عوام کیلئے روزگار کے بے پناہ مواقع مہیا کئے، تو دوسری جانب پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے کی بنیاد رکھی، سٹیل مل کا منصوبہ پایہ تکمیل تک پہنچایا، کامرہ ایروناٹیکل کمپلیکس کی تکمیل کی ۔ بھٹو نے جاگیرداری نظام کا خاتمہ کیا  ، غریبوں کیلئے مفت تعلیم کے دروازے کھولے اور سب سے بڑھ کے تیسری دنیا اور اسلامی دنیا کے اتحاد کے لئے عظیم تر جدوجہد کی بنیاد رکھی۔ بھٹو  پاک چین دوستی کے معمار  تھے اور  1974 کی اسلامی سربراہی کانفرنس اسلامی دنیا سے ہمارے تعلقات کے ضمن میں ایک سنہرا باب ہے۔ بھٹو نے  ملک کو حقیقی جمہوری فلاحی مملکت بنایا۔ بھٹو نے  آئین اور قانون میں  محمد عربی کے خاتم الرسل  ہونے کا اقرار کر کے دین  اسلام کے ایک عاجز خدمتگار کا ثبوت دیا۔ بھارت سے 90 ہزار جنگی قیدی رہا کروائے مگر بھٹو کے ساتھ کیا ہوا ؟ ایک آمر ضیاالحق نے یہ درخشندہ چراغ گل کر دیا، ضیاالحق اسلام کا نام لیوا تھا مگر اس آمر کا اسلام سے کچھ لینا دینا نہیں تھا بلکہ بیرونی اور استعماری قوتوں کے ایجنڈے کی تکمیل  ہی  اس کا مشن تھا۔  جس کی تکمیل کے لئے  اس نے    ناجائز  اقتدار کو طول دے کر بیرونی آقائوں کی جنبش ابرو پر پر ایسے ایسے  اقدامات کئے  کہ ملک میں دہشت گردی، لاقانونیت، منشیات فروشی، اسلحہ کی سمگلنگ اور عدم استحکام کو پنپنے کا  موقع مل سکے۔ کیا  ایک سچا مسلمان دوسروں کے اشاروں پر ایسا کر سکتا ہے، حکمرانی  ضیاء الحق کا حق نہیں تھا مگر اس نے اقتدار پر ناجائز قبضہ کیا۔ 90 دن میں انتخابات کا وعدہ کیا اور بلاوجہ وعدہ توڑا۔ اقتدار کو طول دینے کیلئے قوم سے ریفرنڈم کی صورت میں تاریخی جھوٹ اور منافقت کا سہارا لیا۔ ضیاء الحق نے اپنے دور آمریت کے ابتدائی حصہ میں اسلام کا لبادہ اوڑھ کر پیپلزپارٹی کے کارکنوں رہنمائوں اور عام لوگوں پر کوڑے برسائے اور تاثر دیا کہ ــ”اسلامی دورـ”  میںـ ” اسلامی سزائوں” کا اجراء ہوگیا ہے۔ مگر بھٹو شہید کو ناحق پھانسی پر چڑھانے کے بعد اور اس اطمینان کے بعد کہ بھٹو ایسی عظیم شخصیت کو راستے سے ہٹا کر اس کے اقتدار کو کوئی خطرہ نہیں رہا اس آمر نے کوڑوں کی سزا موقوف کردی۔ میں پوچھتا ہوں کہ نعوذبااللہ کیا ضیاالحق  کو کوئی الہام ہوا تھا کہ اس نے کچھ عرصہ کوڑوں کی سزا دی اور پھر اسے  ہمیشہ کیلئے ترک کردیا۔ اگر اسلام میں کوڑے تھے تو اس نے اپنے تمام دور میں اس سزا کو کیوں  رائج نہ رکھا ؟ اس کا جواب بہت آسان  ہے  ایسا اس نے صرف بھٹو کی مقبولیت کو طاقت سے کچلنے  کیلئے کیا تاکہ اس کے اقتدار پر منڈلاتے حظرات دور ہوسکیں ۔ بھٹو شہید کی پھانسی کے بعد اور” افغان جہاد کے آغاز کے بعد جب اسے مغربی آقائوں کی آشیر باد حاصل ہوگئی تو اس کو اسلامی سزائوں کا  کبھی بھول کر بھی خیال نہ آیا۔   درحقیقت وہ اسلام نہیں تھا بلکہ ضیا کا اسلام تھا جس میں سیاسی کا رکنوں کو کوڑے مارے گئے مگر مجرموں سے رعایت برتی گئی۔ اسے یہ اختیار کس نے دیا  اس کا  وہ کبھی جواب نہ دے سکے ۔

وقت سب سے بڑا منصف ہے اور وقت کا انصاف ہم نے دیکھ لیا کہ بھٹو شہید نے عوام اور ملک سے اپنی سچی لگن کی بدولت قبر سے بھی ملک اور عوام کے دلوں پر حکومت کی اور  ضیاء الحق آج تک محر وم و تنہا ہے۔  عوام بھٹو شہید کے نظریات، عمل اور قربانی کو ہمیشہ یاد رکھیں گے کہ اس نے قتل گاہوں سے خوف کھا کر سچائی کا راستہ نہیں چھوڑا بھٹو نے جو کہا وہ کر دکھایا ” میرا جینا مرنا عوام کے ساتھ ہے۔  میں مسلمان ہوں اور مسلمان کی تقدیر خدا کے ہاتھ میں ہوتی ہے   اور میں اپنے شفاف ضمیر کے ساتھ اپنے  رب کا سامنا کر سکتا ہوں۔  بھٹو نے کہا اور  پھرایسا ہی کیا۔  یہی وجہ ہے کہ آج ان کی شہادت کے 35 سال بعد بھی بھٹو زندہ ہے اور عوام کے دلوں کی دھڑکن ہے۔ یہ جناب ذوالفقار علی بھٹو کی عظیم جدوجہد اور قربانی کا ثمر ہے کہ آج جمہوریت پھل پھول رہی ہے اورــ ” ظلمت کو ضیائ” کہنے والا اب کوئی نہیں۔ 4 اپریل 1979 کو جناب ذوالفقار علی بھٹو نے قائداعظم سے کیا گیا اپنا وعدہ سچ کردکھایا اور غریبوں اور محروموں کو عزت نفس اور توقیر دینے والا اپنی خود داری اور انا کا سودا کئے بغیر پھانسی کے تختہ پر جھول گیا۔ 1945میں بھٹو شہید نے قائداعظم کو ایک خط تحریر کیا جبکہ وہ اس وقت سکول کے طالب علم تھے انہوںنے لکھا ” ہماری تقدیر پاکستان ہے ہماری منزل پاکستان ہے اور ہمیں کوئی نہیں روک سکتا۔ آپ نے ہم کوانسپائر کیا اور ہمیں آپ پر فخر ہے۔ ابھی میں سکول میں ہوں اور اپنی مقدس سرزمین کے حل و عقد کی کوئی مدد نہیں کرسکتا ۔ لیکن ایک وقت آئے گا جب میںپاکستان کیلئے اپنی جان بھی قربان کردوں گا ” بھٹو نے یہ کر دکھایا اور اس کی قربانی بہت عظیم تھی ۔ اسی لئے مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ جس طرح سقراط زندہ ہے مگر اس کے قاتل مٹ چکے ہیں۔ اسی طرح بھٹو زندہ رہے گا اور اس کے قاتل بے نام و نشان ہو کر تاریخ کے اوراق میں گم ہوجائیں گے۔

Urdu Article

جیل کی دہشت، کھوکھلے سُورمے اور مردِحُر

تحریر: امام بخش

imamism@gmail.com

 ایک زمانہ تھا کہ ہمارے کمانڈو پرویزمشرف نے اپنی بہادری کی دھاک پوری قوم پر بٹھائی ہوئی تھی کہ وہ کسی سے ڈرتے ورتے نہیں ہیں۔ وردی میں سوا چھ لاکھ فوج کے بل بوتے پر بڑھکیں مارنا اور بات بات پر مُکے دکھانا اُن کی فطرت ِ ثانیہ بن گئی تھی۔ ان کے دلیر چہرے سے نقاب بیچ چوراہے تب اُترا، جب غداری کیس میں خصوصی عدالت نے اُنھیں ذاتی طور پر پیش ہونے کا حکم دیا ۔ اور بہادر کمانڈو خود ساختہ حیلے بہانوں کے بعد ہزاروں سکیورٹی اہلکاروں کےجلوس میں، عدالت کی طرف جاتے ہوئے راستے میں ہی  ‘کثرتِ شُجاعَت’ کا شکارہونے کے بعد اب ایک فوجی ہاسپٹل میں قلعہ بند ہیں۔ 14 more words

Urdu Article