Tags » Urdu Article

ظالم حسینہ

وہ پورے جلال سے چلتی ہوئی آرہی تهی. نیلے رنگ کی فٹنگ جینز جو کے پنڈلیوں سے کافی اوپر آکر پهنس گئی تهی ورنہ شاید اور بهی اوپر جاتی، ساته سفید رنگ کی آوارہ سی اٹکهکیلیاں کرتی ہوئی عجیب و غریب قسم کی جالی دار شرٹ جسے شاید کپڑا بنانے والی کمپنی نے مچهر دانی کے طور پر بنایا تها لیکن کسی ناہنجار و بے حیا قسم کے درزی نے شرٹ بنا دیا تها وہ تو شکر ہے محترمہ نے نیچے شمیز ٹائپ کوئی چیز چڑها رکهی تهی ورنہ آج کمرے سے میری لاش ہی نکالی جاتی، بالوں کو بهورا رنگ کیا ہوا تها اور تراش خراش ایسی کے سانپ بهی شرما جائیں، رنگ ایسا سفید کہ لگ رہا تها کہ خدا نے سپیشل کسی اور سیارے سے مٹی منگوا کے تراشا ہو، ایک لمحے کو مجهے شک سا گزرا کہ یہ گورا پن شاید میک اپ کا کمال ہو لیکن خدا گواہ ہے اگر وہ میکپ بهی تها تو بنانے والے کے ہاته چومنے کو دل کررہا تها.

فن

گرل فرینڈ ایک قومی مسئلہ

پارٹ ون
آج ہم آپ کا تعارف جس مسئلے سے کرانے جارہے ہیں اس کو عرف عام میں گرل فرینڈ اور عرف خاص میں “بچی” کہا جاتا ہے.

فن

کبهی اے حقیقت منتظر

قائم علی شاہ اور ہمارے رویے
کبهی کبهی اخلاقیات دانوں کو دیکهتا ہوں تو سوچتا ہوں کیا وجہ ہے کہ ان کا ہر نشتر ناکام جا بیٹهتا ہے اور کونسا معاشرتی دباو ہے جو ہمیں اخلاقیات جیسے علم عظیم کو حاصل کرنے سے روکے ہوئے ہے. پهر دیکهتا ہوں تو ایک پوسٹ پر نظر پڑتی ہے جس میں قائم علی شاہ کو ڈائنوسور، فرعون، اور بلیک ہول سے پہلے کا ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہوتی ہے.
چلیں مان لیتے ہیں ان کی زبان لڑکهڑا جاتی ہے، باتیں بهول جاتے ہیں، گر جاتے ہیں، سو جاتے ہیں

لیکن

ایک لمحے کو صرف ایک لمحے کو سوچیے کیا آپ کے والدین کے ساته ایسا نہیں ہو سکتا؟

کیا ان کی زبان کبهی نہیں لڑکهڑائی ہوگی؟

وہ کبهی نہیں بهولے ہوں گے؟

کیا وہ کبهی نہیں گرے ہوں گے؟

کیا انہیں کسی جگہ بیٹهے بیٹهے نیند نہیں آتی ہوگی؟
اگر تو ایسا ہے کہ دنیا کا ہر انسان مندرجہ بالا خامیوں سے پاک نہیں تو آپ کا کوئی حق نہیں بنتا کہ آپ ایک بزرگ شخص پر ان کے نظریات اور مخالف پارٹی کی وجہ سے ذاتیات کے تیر چلائیں یا ان کا مذاق بنائیں نہ تو اس کی اجازت ہمارا مذہب دیتا ہے اور نہ ہی اس چیز کو ایک باشعور معاشرہ قبول کرتا ہے.
“اولڈ ہومز” کو لعنت کہنے والے جب اپنے ہی بزرگوں پر فقرے کسنے لگ جائیں تو کہیں نہ کہیں انگریز سچا لگنے لگتا ہے جس نے معاشرے کو “اولڈ ہوم” جیسی نعمت سے نوازا. میں یہاں نہ تو قائم علی شاہ کے سیاسی نظریات پر بات کررہا ہوں اور نہ ہی ان کی پارٹی کے حق میں کوئی دلائل دے رہا ہوں پارٹی سے میرے اختلافات بدرجہ اتم موجود ہیں لیکن ایک بزرگ کا صرف سیاسی بیک گراونڈ دیکه کر مذاق اڑانا غلط ہے تو غلط ہے

تہذیبی پہلو مد نظر رکها جائے تو بهی ہماری اخلاقیات واپس مڑ کر ہمارے ہی منہ پر تهوکنے لگتی ہے کیونکہ آج سے صدیوں پہلے کے انسان اور آج کے انسان میں فرق یہ ہے کہ وہ بزرگوں سے سخت کام کروا کر اذیت دیتے تهے اور ہم انہیں سخت الفاظ کہ کر اذیت دیتے ہیں
فطرتی پہلو کو دیکها جائے تو بهی ہمارا اپنا منہ ہی کالا نظر آنے لگتا ہے ہمیں اپنے باپ اور بهائی پر کسا ہوا جملہ تو تیر لگتا ہے لیکن وہی جملے کسی اور فرد کے لیے استعمال کرتے ہوئے ذرا بهر شرم نہیں آتی
مذہبی پہلو دیکها جائے تو وہاں بهی ہمیں سب سے پہلے اخلاقیات کا درس ملتا ہے. حضور اکرم(ص) کوڑا پهینکنے والی کو معاف کردیتے ہیں اور ہم کوڑے پهینکنے والی کے ساته کس حد تک جاسکتے ہیں اس سب کا ہمیں اچهی طرح اندازہ ہے.
جینڈر بیسڈ دیکها جائے تو بهی ہماری اندرونی سطح پر “کائی” کی صورت جمی عورت درمیان میں آجاتی ہے کتنی عجیب بات ہے کہ عورت کو خوش رکهنے کے لیے مرد ہی مرد کا مذاق بناتا ہے اور مرد کو ہنسانے کے لیے عورت بهی یہی ٹرمینالوجی استعمال کرتی ہے. ورنہ ماہ نور بلوچ کچه کم بوڑهی نہیں ہے.
قائم علی شاہ وہ سیمبل ہے جو ہمارے اجتماعی اخلاقیات کے قبرستان کی ہر قبر پر کتبے کی صورت لگا ہمارا منہ چڑا رہا ہے.
قائم علی شاہ وہ تهپڑ ہے جو ہماری ازلی بے حسی اور ہمارے رویوں کے منہ پر روز پڑتا ہے.
قائم علی شاہ وہ پانی ہے جو ہماری شرم و حیاء کو ایک ہی ریلے میں بہا دیتا ہے
قائم علی شاہ وہ بدنصیب ہے جسے عمر کے آخری حصے میں قوم کے ان بدترین سپوتوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جن سے اس سے بے انتہا امیدیں لگا رکهی تهیں
قائم علی شاہ وہ مست دهنی ہے جو خود پر لگے کسی کیچڑ کی پرواہ کیے بغیر چلے جارہا ہے
چرچل نے کہا تها “راہ میں بهونکنے والے ہر کتے پر پتهر اٹهاو گے تو منزل تک نہیں پہنچ پاو گے” قائم علی شاہ نے ثابت کرکے دکها دیا
تف ہے تف ہے تف ہے ہماری اخلاقی گرواٹ پر اور سلام ہے سلام ہے سلام ہے قائم علی شاہ کی برداشت اور مستقل مزاجی پر…
عامر راہداری

سائیں قائم علی شاہ دنیا کے سب سے عمر رسیدہ وزیر اعلی کے منصب پر فائض ہیں،  سائیں جب پہلی بار آزاد کشمیر کے انتخابات میں کامیاب ہوۓ تو انکی عمر 45 برس تھی، وہ صرف ایک سیاستدان ہی نہیں بلکہ ایک ماہر قانون بھی ہیں، جی ہاں اس ملک کو 1973  کا آئینی دستور دینے والوں میں بھٹو کے ساتھ 11 افراد شریک تھے جن میں سائیں قائم علی شاہ بھی تھی آج سائیں واحد شخصیت ہیں جو زندہ ہیں باقی دس انتقال کر گئے. مزے کی بات ہے سائیں سرکار کو نااہل کہا جاتا ہے جو حقیقت میں ہے بھی لیکن اس میں سائیں کا قصور نہیں انکے وزراء کا ہے. کے پی کے کا وزیر اعلی پرویز خٹک پر کرپشن انکے نامز کردہ احتساب بیورو کے چیف نے ثابت کی، وزیر اعلی پنجاب پر کروڑوں روپے میٹرو بس کی آڑ میں ہڑپ کر جانے کا الزام ہے لیکن سائیں کے اوپر کوئی الزام نہیں، کیا آپ لوگ پیپلز پارٹی کو بیوقوف سمجھتے ہیں؟ کیا وہ کسی دوسرے فرد کو وزیر اعلی کا قلمدان نہیں دے سکتے؟ ایسا ہرگز نہیں. سندھ میں سائیں سے زیادہ قانون اور سیاست سمجھنے والا کوئی نہیں..  آج ان پر مختلف قسم کے  لطائف اور تضحیک آمیز پوسٹس کا سلسلہ چل نکلا ہے، لیکن سائیں نے کبھی کوئی جواب نہیں دیا.  جس شخص نے اس ملک کو آئین دیا اسکی تو عزت کرو.
(نوٹ: مجھے پیپلز پارٹی سے کوئی ہمدردی نہیں لیکن وہ انسان سر آنکھوں پر جنہوں نے اس ملک کو دنیا کا نایاب آئین دیا جو بیک وقت اسلامی بھی ہے اور سیاسی بھی  اور ایسا آئین دنیا کے کسی ملک میں نہیں)

عامر راہداری

فن

بڑھاپا

بوڑها ہونا بڑا دلچسپ کام ہے لیکن اس میں خرابی یہ ہے کہ اس کے لیے بہت ویٹ کرنا پڑتا ہے. بڑهاپے میں ویسے تو کئی ایسی بیماریاں ہیں جو اپنا گهر سمجه کے پاس رہنے آجاتی ہیں لیکن نصیحت ان میں سب سے خطرناک بیماری ہے جو خودبخود لگ جاتی ہے. اگر کوئی بوڑها نصیحتیں نہیں کرتا تو یقین کریں یا تو وہ بوڑها نہیں ہے یا پهر اس کی زبان نہیں ہے. ویسے دیہاتی بوڑهے تو اتنے ٹیلنٹڈ ہیں کہ اشاروں سے بهی نصیحتیں کرلیتے ہیں. بالکہ ان کے پاس تو اتنا تجربہ ہے کہ آنکهوں آنکهوں میں ہی پوری بات کہ دیتے ہیں. مجهے بوڑهوں سے ایک ہی شکوہ ہے کہ یہ خود ساری زندگی تجربات کرتے رہتے ہیں اور جب ان تجربات کے بولنے کا وقت آتا ہے تب ان کی یا تو زبان ساته نہیں دیتی یا پهر سانس. یورپین عوام کے خوش وخرم رہنے کی ایک وجہ یہ بهی ہے کہ یہ بزرگوں کو اولڈ ہومز میں چهوڑ آتے ہیں تاکہ انہیں ہر روز صبح دوپہر شام نصیحتوں کے کیپسول نہ نگلنے پڑیں. ویسے ایک بات سمجه نہیں آئی کہ بوڑهے لوگ بچوں کی طرح حرکتیں کرنے لگتے ہیں تو یہ بچے لوگ بوڑهوں جیسی حرکتیں کیوں نہیں کرتے میرا مطلب ہے یہ کہیں آرام سے کیوں نہیں بیٹه سکتے.. ویسے ہماری ذاتی تحقیق کے مطابق بے بی سے بابا بننے کے درمیانی عرصے کو زندگی کہتے ہیں یعنی “ی” سے “الف” تک سفر، ہمارے ہاں اکثر گهروں میں بزرگ اس لیے رکهے جاتے ہیں تاکہ وقتا فوقتا ان کے مشوروں کے مخالف کام کیا جائے،

پچهلے دنوں ہمارے ایک پیارے سے دوست جو ابهی شدید بزرگ ہیں مجه سے بولے کہ
“میں ایک تنظیم بنانا چاہتا ہوں جو حقوق بزرگاں کے لیے کام کرے گی جس میں سب 70 سال سے اوپر والے بزرگ ہوں گے اور کسی جوان کو ہمارے پاس آنے کی اجازت نہیں ہوگی”
میں نے بهی بول دیا
“بابا جی لیکن اگر کسی بزرگ کو واش روم آگیا تو کیا کریں گے”
وہ دن اور آج کا دن بابا جی ہزار بار بار معافی مانگنے کے باوجود مجه سے نہیں بولے..
پہلے مجهے دو قسم کے بزرگ اچهے لگتے تهے ایک سگریٹ حقہ پینے والے دوسرے پیار محبت کی باتیں کرنے والے، اب مجهے ایک ہی قسم کے بزرگ اچهے لگتے ہیں سگریٹ پیتے ہوئے پیار محبت کی باتیں کرنے والے…
میں نے سنا ہے عورتیں بهی بوڑهی ہوتی ہیں لیکن آج تک کوئی بوڑهی عورت میں نے دیکهی نہیں. عورتوں کے بوڑها نہ ہونے کی ایک وجہ یہ بهی ہے یہ کبهی مانتی ہی نہیں کہ بوڑهی ہو گئی ہیں. ان کے بس میں ہو تو کفن بهی پسندیدہ رنگ کا لے کر قبر میں جائیں.

عامر راہداری

فن