Tags » Urdu Article

Feminism in Urdu.

کتنی ہی عجیب بات ہے کہ حقوق نسواں کے لئے اردو میں کوئی مروجہ اصطلاح موجود نہیں ہے۔ یعنی ایک شخص پاکستان میں رہ کے پاکستانی کہلاتا ہے، اسلام قبول کر کے مسلمان ہو جاتا ہے، کرکٹ کھیل کے اسکو کرکٹر کا لقب مل جاتا ہے۔ مگر اگر کوئی حقوق نسواں کا علم بردار بننا چاہتا ہو تو اسکو انگریزی زبان کی طرح \’فیمنسٹ\’ نہیں کہا جاتا۔ اردو میڈیا میں زیادہ تر \’لبرل\’ اور \’موم بتی مافیا\’ سے کام چلا لیا جاتا ہے۔

Archive

قدیر خان سائنٹسٹ نہیں بلکہ نئے دعوے نے سب کو حیران کردیا

رفیع رضا اردو شعر اور پیشہ کے اعتبار سے

انسٹرومینٹ ٹیکنیشن ہیں وہ کئی عرصہ سے کینڈا

میں مقیم ہیں وہ فیسبک پر ایکٹو رہتے ہیں آج اُن

کی ایک پوسٹ جو یہاں پیش کی جارہی تو چلیئے

پوسٹ کی طرف آتے ہیں –

قدیر خان کی اہلیت کے بارے میں عرض کردُوں کہ

یہ تاریخی حقائق ہیں۔۔۔ کہ اپریل چھہتر میں غلام

دستگیر عالم جو فزکس کے ماہر تھے، انہوں نے پہلے

سنٹری فیوج کو 30000 آر پی ایم پر گُھمانے میں

کامیابی حاصل کی تھی۔۔۔ اس میں ڈاکٹر قدیر کا

کوئی ہاتھ نہ تھا۔۔۔ کامیابی کی اطلاع ملنے پر ڈاکٹر

قدیر نے بھٹو سے درخواست کی کہ غلام دستگیر

عالم کی رہنمائی، اُن کو چاہیے۔۔۔ غلام دستگیر عالم

ہی وُہ بنیادی سائنسدان تھے جنہوں نے بُنیادی کام

خود ڈیزائن کیا اور کامیابی حاصل کی۔۔۔

غلام دستگیر عالم نے ہی، ڈفرینشیل مساوات، کے

ذریعے مرکز مائل قوتوں اور زاویاتی دھچکوں کی ماہیت پر کام کیا۔۔۔

چار جون اٹھتر کو فزودگی پروگرام کے کامیاب عمل

کے دوران، ڈاکٹر عالم نے 235 یُو اور 238 یُو آئسو

ٹوپس کو علیحدہ کیا۔۔۔

ڈاکٹر قدیر، حقیقتاً کبھی بھی ذاتی طور پر نیوکلیئر

ہتھیاروں، سائنسی حسابات، اور فزکس کے تجربات

اور تھیوریز میں، کوئی حصہ نہیں لے سکے۔۔۔
۔۔۔ کیونکہ اُن کی تعلیم ہی اس سے مطابقت نہ

رکھتی تھی۔۔۔ ان کا ورکنگ فیلڈ ھمیشہ میٹلرجی

ھی رھا۔۔۔ ھالینڈ میں انکی تعلیم صرف مطالعہ تک

محدود تھی۔۔۔ کسی ایٹمی پلانٹ میں عام ٹیکنیشن

کی کوئی ڈیزائیننگ حیثیت نہیں ھوتی۔۔۔۔

میرے کئی دوست اسوقت کینیڈٓا میں نیوکلیئر

پلانٹ پر ٹیکنیشن ھیں۔۔۔ مَیں ذاتی طور پر خود

انسٹرومینٹیشن سے وابستہ ھوں اس لئے میں عملی

اطلاق کو خوب جانتا ھُوں۔

میں نے ایف 16, سمیت امریکی ڈرونز اور ائیر

لائنرز پر کام کیا ھے۔۔۔ سب سے بڑے جہاد اے تھری

ایٹی کی پاور سپلائی اور ڈرون طیارے کا سٹارٹر

یونٹ اپنے ھاتھ سے اکیلے اسمبل کیا ھے۔۔۔۔ میں

وھاں سے کچھ ڈیزائین چوری کر سکتا تھا۔۔ یہ

کوئی بڑی بات نہیں۔

جس پر قدیر خان کو ھیرو بنای اجائے۔۔

اخلاقی طور پر گرے ھوئے معیار کے معاشروں کر

ھیرو بھی گھٹیا ھوتے ھیں

ملٹری نے ڈاکٹر قدیر کو بتائے بغیر خفیہ ایٹمی

تجربات کئے۔۔۔ جن میں کولڈ ٹیسٹ آف ویپنز شامل

تھا۔۔۔ نہ تو قدیر خان کو بُلایا گیا نہ بتایا گیا۔۔۔ کہ

نئے خفیہ کوڈ۔۔۔”کِرانا ایک”۔۔۔ کے نام سے۔۔۔ مارچ

تراسی۔۔۔ میں۔۔۔ منیر احمد خان کے احکامات و زیر

نگرانی پی اے ای سی میں کوئی تجربہ کیا ہے۔

اسی لئے ہمیشہ سے قدیر خان کو منیر احمد سے دُشمنی رہی،

حقیقت میں سینئر سائنسدان غلام دستگیر عالم کو

قدیر خان کی فزکس اور حساب کے کُلیوں کو

سمجھنے کی صلاحیت پر شدید اعتراض اور شُبہ

تھا۔۔۔ اُنہوں نے بارہا اس خدشے کا اظہار کیا۔ ریسرچ

پروجیکٹ کے تمام سائینسدانوں کو قدیر خان کی

علمی صلاحیت پربہت پریشانی رہتی تھی۔

سائینس دانون نے ضیا سے کہہ دیا تھا کہ چونکہ

ڈاکٹر قدیر خان کو بنیادی ریاضی کا بھی مکمل علم

نہیں ھے اس لئے وُہ سائینسی میٹنگز میں مت آیا

کریں۔۔۔ چاھے ڈٓائیریکٹر بنے رھیں۔۔۔۔

اس سے بڑا ثبوت اور کیا ھوگا کہ قدیر خان ایک سائینسدان ھرگز نہیں تھے۔۔

عبد القدیر خان کو بُنیادی طور پر ایک شو مَین کے

طور پر رکھا گیا تھا یہ تمام سائنسدانوں کو معلوم

تھا کہ غرض و غایت یہ تھی کہ ادارے کے سربراہ

کو خود بھی علم نہ ہو اس طرح غیر مُلکی

جاسوس، پاکستانی پروگرام کا سُراغ نہ لگا پائیں۔۔۔

لیکن جتنی بھی دسترس قدیر خان کو تھی اُس کا

فائدہ اُٹھا کر قدیر خان نے بعد میں ایٹمی نقشے اور

راز وغیرہ غیر مُلکوں کو بیچنے کی کوشش کی۔۔۔

چونکہ ڈاکٹر قدیر ہمیشہ سے پلانٹ کے سائنسدانوں

میں بڑبولے کے طور پر مشہور تھے جس میں اپنی

کسی ذرا سی بات کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنا لازم

ہے۔ اسی لئے ڈاکٹر قدیر سے ریسرچ کے بے شمار سوالات اور تجربات چُھپا کر رکھے جاتے تھے۔۔۔

سکیپ گوٹ۔۔۔ یعنی قُربانی کے بکرے کے طور پر،

ڈاکٹر قدیر کو بالآخر اس کا علم ہُوا تو اُنہوں نے

بہت واویلہ کیا اور بُنیادی طور پر اب بھی روز بروز

واویلہ کرتے رہتے ہیں۔۔۔
یہ ہیں وُہ بنیادی حقائق جو ہماری قوم کو معلوم

نہیں۔۔۔ اور ڈاکٹر قدیر کو ہیرو سمجھتی ہے۔۔۔ سمجھتی رہے کیا فرق پڑتا ہے۔۔۔ ؟

لیکن ایک راز کی بات بتاتا چلوں کہ 1998 میں

ایٹمی دھماکوں کے بعد اعزازی ٹکٹ کس عظیم

پاکستانی سائنسدان کے نام پر جاری ہُوا؟ جو اصل

میں پاکستان کے تمام سائینسی اور ایٹمی ادراوں کا

1974 تک سربراہ تھا؟۔۔۔ حیرت تو ہو گی۔۔۔ لیکن یہ

تھے۔۔۔ ڈاکٹر عبد السلام ۔۔۔۔۔۔۔ !!!!

رفیع رضا