Tags » Urdu

What I can not find...

پارسا تو ملتے بہت، انساں نہیں ملتا

اس جیسے ملتے بہت، عثماں نہیں ملتا

 

روسیاہ ہی ہو گے راکھ کرید کے

جلتے ہوے گھر سے ساماں نہیں ملتا

Ghazal

جب ہو یار کا دھیان

جب ہو یار کا دھیان
پھر کہاں سنسار کا دھیان

سلسلہِ عشق چل نکلا ہے
اب نہیں گھر بار کا دھیان

سایہ مروا نہ دے کہیں
رکھنا دیوار کا دھیان

لایا ہوں خلوص بیچنے
پڑتا ہی نہیں خریدار کا دھیان

گُل چنتے ہیں سب ہی
کون کرے خار کا دھیان

دوستوں نے فراموش کیا تو
آیا بہت اغیار کا دھیان

ابنِ آدم ہی نہیں رکھتا…
بنتِ آدم کے پیندار کا دھیان

سانس کی یہ وجہ ہیں
کیا کرو اشجار کا دھیان

اہلِ سیاست کو عوام کا کہاں
ہے بس اقتدار کا دھیان

شاعری روٹی نہیں دیتی
کرو فخر روزگار کا دھیان

Fakharwasim

نہ کوئی جیتا نہ ہارا ,جاری ہے.

نہ کوئی جیتا نہ ہارا ,جاری ہے.
حُسن و عشق میں کھیل سا ,جاری ہے.

غالب کو جس نے نکما کر دیا…!
کام آج بھی وہ نکما ,جاری ہے.

موسم خشک سالی کا ہے مگر.
میری آنکھوں سے دریا جاری ہے.

زخم تو کب کا بھر چکا ہے.
درد کیوں بے انتہا جاری ہے.

مریضِ عشق سنبھلتے سنبھلتے سنبھلے گا.
درد, جاری ہے دوا ,جاری ہے.

کہنے کو تو صدیاں بیت گئیں.
خیر و شر میں کربلا ,جاری ہے.

داستانِ حیات فخر کیا تحریر کرتا.
بس یہی لکھ دیا, ,جاری ہے.

Fakharwasim

مر جائیں ہم پر, طرفداری چاہیئے.

مر جائیں ہم پر, طرفداری چاہیئے.
گر آپ کو زندگی ہماری چاہیئے.

معلوم ہے عشق مرضِ لادوا ہے.
دل کہتا ہے مگر مجھے بیماری چاہیئے.

شراب ہے حرام میں نہ پیئوں گا.
ان نشیلی آنکھوں کی خماری چاہیئے.

تکتے ہیں وہ بھی ترچھی نگاہ سے.
ان کو ذرا سی ہمت تمہاری چاہیئے.

پڑ چکی ہے دراڑ اس پتھر میں.
بس اک آخری ضربِ کاری چاہیئے.

یادیں رکھ کر تالا لگا دے بندا.
دل میں بھی ہونی اک الماری چاہیئے.

سانس نہ آئے تو پھر کیا بچے.
ہر سانس پر شکر گزاری چاہیئے.

تیری سادہ لوحی فخر ڈبو دے گی تجھے.
لوگ شاطر ہیں بہت ذرا ہوشیاری چاہیئے.

Fakharwasim

تلخیِ حیات پر آہ و بکا نہ کریں شاعری کر لیں

تلخیِ حیات پر آہ و بکا نہ کریں
شاعری کر لیں
قصہِ ماتِ دل سے سب کو آشنا نہ کریں شاعری کر لیں

شبِ تنہائی طویل بہت ہے کیسے سحر ہو گی.
کچھ وقت گزاری کا بہانہ کریں شاعری کر لیں

تعریفِ حسن کریں تو ٹوک کر کہتے ہیں وہ.
آپ ہم کو ایسے بنایا نہ کریں شاعری کر لیں

سرِ محفل بیوفائیِ جاناں کے چرچے کر کے
اس کو لوگوں میں رسوا نہ کریں شاعری کر لیں

الجھ کر غمِ روزگار میں کر رہے ہو زیاں ذوق کا
میری مانیں فخر آپ ایسا نہ کریں شاعری کر لیں

Fakharwasim

جیسے لوگ تھے

بوسیدہ پرانی تحریروں جیسے لوگ تھے.
ہم لوگ فقیروں جیسے لوگ تھے.

شہر بھر پر راج تھا خاموشی کا.
گونگی,چپ تصویروں جیسے لوگ تھے.

لگی پیاس تو ہو گیا دریا خشک…
ہم ایسی تقدیروں جیسے لوگ تھے.

عشق کے مرید ہوئے تو نکمے ٹھہرے
جو لوگ خود پِیروں جیسے لوگ تھے.

اس دل نے خاک کر ڈالے فخر….
ہائے …! کیا ہیروں جیسے لوگ تھے.

Fakharwasim

جیسے اندھے کو کوئی ہاتھ پکڑ کے راہ دِکھائے.

جیسے اندھے کو کوئی ہاتھ پکڑ کے راہ دِکھائے.
آئے کوئی تو مجھے بھی ایسے راہ دِکھائے.

جو گم ہو عشق کی بھول بھلیاں میں.
کوئی پھر اس گمشدہ کو کیسے راہ دِکھائے.

دل خود ہی چاہتا تھا اسیرِ محبت ہونا.
خِرد نے تو فرار کے بہترے راہ دِکھائے.

گھنےجنگل میں اماؤس کی رات گھپ اندھیرا
ایسے میں یوں بھی ہوا تیری یاد نے  راہ دِکھائے.

کبھی پُرخار رستے, کبھی وادیِ گُل کے سلسلے.
اے عشق, تیرا شکریہ کیسے کیسے راہ دِکھائے.

سرِ منزلِ دار میں سب سے پہلے پہنچافخر.
خیالِ وصالِ یار نے مجھے انوکھے راہ دِکھائے.

Fakhar