Tags » Urdu

Nida Fazli - a humanist shayar!

‘Kabhi kisi to mukammal jahan nahin milta,

Kahin zameen to kahin aasman nahin milta’.

No, he wasn’t being pessimistic when he said that in a ‘matter-of-fact manner’ – it was just a doff to the human bondage that we all inherit.

441 more words
Random Thoughts

Gifts

Wow! It is really beautiful. I just got a surprise gift from a sweet friend.I wasn’t expecting so, it made me feel out of this world. 379 more words

English

نیویارک پبلک لائبریری

نیویارک بلند و بالا عمارات اور چکا چوند کر دینے والی روشنیوں کا شہر ہے۔ اس میں عام لوگوں کے لیے تقریباً ساڑھے چھے ہزار بڑے کتب خانے علم و دانش کی روشنی پھیلانے میں مصروف ہیں۔ ان کتب خانوں میں نیویارک کا پبلک کتب خانہ نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔ اس کتب خانے کا آغاز 1895ء میں ہوا۔ اس کی وسعت اور خدمات کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ نیویارک میں اس کتب خانے کی 61 شاخیں موجود ہیں۔ کتب خانے میں (نیویارک پبلک لائبریری) دنیا کی تقریباً ہر زبان میں چھپی ہوئی 45 لاکھ کتابیں موجود ہیں۔

ان میں صرف ہسپانوی زبان کی کتابوں کی تعداد سات لاکھ ہے۔ ان کے علاوہ چینی، ڈچ، فنش، فرانسیسی، جرمن، یونانی، ہنگری ، اطالوی، نارویجن، پولش، رومانین، سویڈش زبانوں کی کتابیں ہیں۔ عبرانی زبان میں بھی کافی تعداد میں کتابیں موجود ہیں۔ 45 لاکھ کتب کا یہ عظیم ذخیرہ خوبصورت الماریوں میں آراستہ کیا گیا ہے۔ ان الماریوں کی لمبائی 67 میل بتائی جاتی ہے۔

ہر شیلف اور کتاب پر اس کے شناخت نمبر لکھے گئے ہیں۔ کتب خانے میں عملے کی تعداد کا اندازہ اس طرح لگایا جا سکتا ہے کہ سات سو لائبریرین اور کلرک دن بھر اپنے فرائض کی انجام دہی میں مصروف رہتے ہیں اور تقریباً 10 ہزار سے زائد قارئین اور شائقینِ مطالعہ روزانہ کتب خانہ میں آتے ہیں۔ کتب خانے کی خوبصورت عمارت شہر کی مصروف شاہراہ پر واقع ہے۔ اس کے جنوب میں ایک سر سبز و شاداب پارک ہے ۔

یہاں موسم گرما میں لوگ درختوں کے سائے اور کھلی ہوا میں مطالعہ کرتے ہیں۔ کتب خانے میں دو نگار خانے ہیں جن میں تصویروں کے نادر نمونے سجائے گئے ہیں جب کہ ایک بڑے کمرے میں تمام ملکوں کے بڑے بڑے نقشے آویزاں ہیں۔ کتب خانے کے وسیع و عریض ہال میں مطالعہ کی میزیں آراستہ ہیں جن میں قارئین اور ریسرچ اسکالرز پر سکون ماحول میں بیٹھتے ہیںاور تحقیق و مطالعہ میں غرق ہو جاتے ہیں۔ مطالعہ کے کمروں کے چاروں اطراف حوالہ جاتی کتابوں کے شیلف آراستہ ہیں جن میں فہرست کتب، اشاریے وغیرہ رکھے گئے ہیں۔

مطالعہ کی میزوں کے ساتھ جدید آلات کی سہولیات بھی مہیا کی گئی ہیں۔ مائیکرو فلم اور مائیکرو فش پر محفوظ علمی مواد کے مطالعہ کی سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔ وقتِ ضرورت قاری اپنے مطلوبہ مواد کی فوٹو کاپی بھی حاصل کر سکتا ہے۔ کتب خانے کا انتظام ڈائریکٹروں کے ایک بورڈ کے سپردہے جن کا تقرر چنائو کے ذریعے ہوتا ہے۔ کتب خانے کا لائبریرین بورڈ کا ایگزیکٹو آفیسر ہوتاہے۔ لائبریریں سے کتابیں پندرہ یوم کے لیے جاری کی جاتی ہیں۔

اشرف علی

Urdu

عظیم شاعر، معلم، ادیب، نقاد، مترجم، مدیر، براڈ کاسٹر صوفی تبسمؔ

صوفی تبسم 4اگست 1899ء کو امرتسر (بھارت) میں پیدا ہوئے جہاں اُن کے بزرگ کشمیر سے آکر آباد ہوئے تھے۔ والد کا نام صوفی غلام رسول اور والدہ ماجدہ کا نام فاطمہ تھا۔ صوفی تبسم کا نام غلام مصطفی رکھا گیا۔ یہ ابھی معصوم بچے ہی تھے کہ اُن کی والدہ ماجدہ ایک دن اُنہیں دیوان خانے سے باہر صحن میں لیے بیٹھی تھیں کہ ایک فقیر کا اُدھر سے گزر ہوا ۔اُس نے بچے پر شفقت کا ہاتھ رکھا اور کہا اے بی بی یہ بچہ بڑی قسمت لے کر پیدا ہوا ہے۔

Urdu

انتظار حسین : ایک جادوگر افسانہ نگار

نئے سال 2016ء کے سلسلہ روز و شب میں بعض ایسے اہلِ قلم ہمیشہ ہمیشہ کے لئے اس دارِ فانی سے عالم جاودِانی کو کوچ کر گئے جو اپنی اپنی جگہ بھاری پتھر تھے راولپنڈی، اسلام آباد سے صاحب ِ فن بزرگ شاعر نیساں اکبر آبادی، جہلم سے مختار جاویدکراچی میں ترقی پسندانہ سوچ کی حامل، پنجابی نظم کی منفرد شاعرہ ریڈیو پاکستان خیر پور کی پہلی مسیحی خاتون اسٹیشن ڈائریکٹر، ڈپٹی کنٹرولر محترمہ نسرین انجم بھٹی،اپنے انداز کے سادہ و پُرکار کالم نگار ’’حالِ دل‘‘ کے حامل محمد مسعود بھسین پاکستان ٹی وی کے کامیاب ڈراما پروڈیوسر محمد عظیم ]برکت مسیح سے برکت عظیم اور برکت عظیم سے محمد عظیم تک کا سفر طَے کرنے والے[ پروگریسو شاعر اور ابتدائی طور پر صحافی و مُدیر بھی، اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔ رہے نام اللہ کا۔۔۔!

Urdu

Few More Black Quotes

Here some more black quotes of Hassan Nisar, a Pakistani columnist. I have translated them in English from Urdu to share it with you. … 132 more words

Thoughts & Feelings

Simplicity

shaam se aankh mein nami si hai
aaj phir aap ki kami si hai

– gulzar

Simplicity is also depth. Simplicity is to break away from the multiple entanglements of the world, and remember the truth about ourselves, about our lives.

Poetry