Tags » Urdu

Licence - Saadat Hasan Manto

In this short-story, Manto, an Indian-Pakistani writer, explores religion, prostitution, and love. Licence is the story of a muslim driver of horse-drawn carriages, who falls in love with — and marries — a hindu girl. 427 more words

Writing

Jannat Ke Pattey..By Nemrah Ahmed

Kya Iss Ko Muqafate Amal Kehte Hain?

Kya Dusron ki Betiyon Par Ungliyan Uthane Walon Ke Apne Gharon Pe Wahi Ungliyan Laut Kar Aati Hain…?

पेन्सिल

रंगबेरंगी पेंसिलों

वो जो तुम

सफ़ेद पन्नों में

जो काले अक्षर लिखती हो

वो कालापन किसका है?

क्या वो तुम्हारे ख़ून का रंग है?

जो अब काला पड़ गया है

कि जिस दिन तुम्हें पकड़कर लिखने वाले

से तुम्हें अलग कर दिया गया था

तुमने आँसू बहाए और ख़ून काला कर लिया

और अब जब मैं तुम्हें पकड़कर लिखता हूँ

तो जमी हुई ख़ून से बनी तुम्हारी नोंक

आँसुओ में भीगकर

मुलायम और काफ़ी कमज़ोर हो गयी है

और लिखते ही टूट जाती है

बार-बार तुम्हें छीलकर

तुम्हारी हैसियत इतनी कम कर दी है

की तुम मौजूद तो हो पर किसी काम की नहीं

प से पोएट्री

جائز

میں نے بے حد اکتا کر اس کو دیکھا تھا۔ صاف ستھری چمکدار جلد پر کلینزنگ رگڑتی وہ مجھے زہر لگ رہی تھی۔

بس کردو یار۔ ۔ میں نے کرسی کی پشت پر سر ٹکایا۔

ابھی تو شروع کیا ہے۔ تڑاخ سے جواب آیا۔

شدید بیزار ہو کر میں نے آنکھیں بند کرلیں۔

کیا چل رہا ہے زندگی میں؟ چند لمحوں بعد اس کی مصروف سی آواز سنائی دی۔

میں نے آنکھیں کھولیں

مصروف ہوں جاب میں اپنی۔ سر اٹھانے کی بھی فرصت نہیں۔

اتنی مصروفیت کا حاصل؟ اس کی انگلیاں اب پرائمر کو بلینڈ کر رہی تھیں۔

تھک جاتی ہوں شدید۔ رات کو لیٹتے ہی آنکھیں بند ہو جاتی ہیں۔ میں نے اس کی انگلیوں کی حر کت سے نگاہ چرائی۔

مصروفیت بھی بہت بڑی نعمت ہے یار۔ وہ جلد سے ہم رنگ فاؤنڈیشن کو نقطوں کی صورت چہرے پر پھیلاتے ہوئے بولی۔

لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ تم آس پاس والوں کو بھول جاؤ۔ اس کی انگلیاں بے حد مہارت سے گولائی میں گھوم رہی تھیں۔ جلد ہموار اور داغ دھبوں سے مبرا ہوتی جا رہی تھیں۔

میری نگاہ بلا ارادہ اپنے چہرے کی طرف اٹھی۔ دھوپ سے سنولایا ہوا سا چہرہ۔ تھکن سے جھکی آنکھیں۔

میں آس پاس والوں کو نہیں بھولی۔ ہاں خود اپنے لئے وقت کچھ کم پڑنے لگا ہے۔ سادہ سی مسکراہٹ نے میرے لبوں کو چھوا۔

اس نے بڑا سا برش اٹھا کر لوز پاوڈر کو شائنر میں مکس کیا۔ ہونٹوں کو سیٹی کی سی گولائی میں لا کر گالوں کی ہڈیوں کے ابھار پر لگایا۔

اس کا ایک فائدہ خیر یہ بھی ہے کہ مجھے فضول سوچنے کا وقت نہیں ملتا۔ میں نے ریلکس ہو کر کرسی کی پشت پر سر ٹکایا اور بات جاری رکھی۔

اب کی بار اس نے جلد سے نسبتاً گہرا رنگ منتخب کر کے ناک کے اطراف لگایا۔ پیشانی اور گالوں کی ہڈیوں کے نیچے۔ جبڑے کے اطراف۔ برش پر پھونک ماری اور تیزی سے بلینڈنگ کرنے لگی۔

اک بات پوچھوں؟ اس نے آئینے میں جھلکتے میرے عکس پر نگاہ جمائی۔

بڑی دیر بعد مدعے پر آئی ہو۔ میں ہلکے سے ہنسی۔ وہ جھینپ گئی۔

تم جانتی ہو میں کیا پوچھوں گی۔ قدرے چھوٹا برش اٹھا کر اس نے بلش آن لگایا۔ کتنا اور بھاگو گی؟ بہت کم لوگ اتنے مخلص ہوتے ہیں کہ زندگی آپ کے انتظار میں گزار دیں۔جملہ مکمل ہوتے ہی نیچرل لپ اسٹک کی آؤٹ لائن ہونٹوں پر ابھرنے لگی تھی۔

اونہوں۔ میٹ لگاؤ۔ لیکویڈ لپ کلر۔ میں نے پیچھے کھڑے ہوکر اس کے بالوں میں پف بناتے ہوئے ٹوکا۔

بات نہیں بدلو۔ وہ اک دم سے تڑخی۔ خوش نصیب ہو جو کوئی آخر سانس تک نبھانے والا ملا ہے۔محبت کو انتظار نہیں کرواتے۔ وہ بے حد احتیاط سے پلکوں پر مسکارا لگا رہی تھی۔ بات کرتے ہوئے وقفہ دیتی تھی۔

میں نے اس کے بال فرنچ بریڈ میں گوندھ کر سائڈ پر گرائے۔

محبت تتلی ہے۔ تجسس میں چھو لیا تو کچے رنگ کی طرح دل سے اتر جائے گی۔

میں نے احتیاط سے پن میں موتی پروئے۔

قید کرو تو مر جائے گی۔ میرے ہاتھ چوٹی کے ہر بل میں موتی پروتے جا رہے تھے۔

تکریم دو تو باغ کا ہر پھول مہکا دیگی۔ اور تم نے ٹیپو سلطان کا قول بتاؤں؟ محبت اور جنگ میں سب کچھ جائز نہیں۔ بلکہ محبت اور جنگ میں وہ کرو جو جائز ہو۔

ہاتھ سے چہرہ ڈھانپ کر میں نے ہئیر اسپرے کیا۔

ایسے لوگ بہت مشکل سے ملتے ہیں جو آپ کے لئے اسٹینڈ لے سکیں۔ اس نے میری طرف چئیر گھما کر آئینے کی جانب پشت کی۔

میں نے مسکرا کر اسکا چہرہ چھوا۔ ۔

جو مشکل سے ملے اسکو بے صبری سے گنوانا نہیں چاہئے۔ جس نے دیا ہے وہ عزت سے ملوا بھی دیگا۔

جنگ میں لڑ چکی۔ میری محبت کو بھی بھلے صبر آزما سہی،مگر جائز رہنے دو!

Tahreem Writes

उसे भूला देना...Use Bhula Dena...

उसे भूला देना…

गुजरे वक़्त को रुखसत करना, उसे भूला देना
ग़म ए जहाँ को ना थामे रखना, उसे भूला देना

जलती यूँ मिरी क़ामयाबी पर बेरुखी ये दुनिया,
जुल्मों सितम करे संग दिल जमाना, उसे भूला देना

सहरा की गर्म रेत सी रूह, प्यासी चंद बूँदों की,
हो सके तो बरसना, ना तरसाना, उसे भूला देना

इन्सानी फ़ितरतों ने लिखा सफहों पर फ़साना,
माजी मुड़े पन्नों को मुड़े रखना, उसे भूला देना

कोई ना किसी का, मशगूल यहाँ सारा जहाँ,
आँसू आँखों में यूँ असीर करना, उसे भूला देना

इस रहगुज़र पर चलना आसान नही प्यारे,
दिखे नक्श ए पा का निशाना, उसे भूला देना

साकिया जब चल पड़ें कदम मदीने की ओर,
मैक़दा जाने इरादा ना करना, उसे भूला देना

जनाजा जो निकला, गोर पे कफ़न चढ़ा देना,
मुर्दा ए ग़म को वहाँ दफ़नाना, उसे भूला देना

डॅा नम्रता कुलकर्णी
बेंगलुरु
१८/१२/१६

Hindi

You'll probably never understand

हमारी मुस्कुराहटों के पीछे इक अलग जहां बसता है

आप परेशाँ आदिल इस जहां से हैं

Poetry