Tags » US Drone Strikes

ڈرون حملے کیسے کیے جاتے ہیں؟ وائٹ ہائوس نے اوباما کی ڈرون حملوں کی پالیسی جاری کردی

امریکی حکومت نے ڈرون حملوں کے اہداف کے انتخاب اور ان کے فیصلے سے متعلق ایک خفیہ پالیسی دستاویز جاری کردی ہے۔ اس کو ”پلے بُک” کا نام دیا جاتا ہے اور اس میں واضح کیا گیا ہے کہ حکام جنگ زدہ علاقوں سے باہر ڈرون حملوں کے اہداف کا کس طرح انتخاب کرتے ہیں اور اس انتخاب سے حملے تک صدر کا اس تمام عمل میں کیا بنیادی اور اہم کردار ہے۔ امریکی شہری آزادیوں کی یونین (امریکن سول لبرٹیز یونین اے سی ایل یو) نے ہفتے کے روز اٹھارہ صفحات کو محیط صدارتی پالیسی رہ نمائی ( پی پی جی) کے عنوان سے یہ دستاویز جاری کی ہے۔ اس میں ڈرون حملوں سے متعلق امریکی حکومت کی جانب سے ماضی میں جاری کردہ تفصیل سے کہیں زیادہ انکشافات کیے گئے ہیں۔

اس میں کہا گیا ہے کہ ”دہشت گرد قرار پائے اہداف کے خلاف مہلک اقدام سمیت اقدامات جہاں تک ممکن ہو مختصر اور امتیازی ہونے چاہییں”۔ روایتی طور پر صدر براک اوباما کو ذاتی طور پر جنگ زدہ علاقوں سے باہر مقیم مشتبہ دہشت گردوں کے خلاف حملوں کے منصوبے کی منظوری دینی چاہیے۔ جنگ زدہ علاقوں سے باہر ممالک میں پاکستان ،لیبیا ،صومالیہ اور یمن شامل ہیں۔ جنگ زدہ علاقوں جیسے عراق ،شام اور افغانستان میں ڈرون حملوں کا کنٹرول امریکی فوج کے پاس ہے۔ ہر کیس کا قانونی جائزہ لیا جاتا ہے۔ پھر اس کو قومی سلامتی کونسل اور پھر صدر کے پاس منظوری کے لیے بھیجا جاتا ہے۔

پالیسی دستاویز یہ کہتی ہے کہ ” غیرمعمولی حالات کی عدم موجودگی میں ایک اعلیٰ قدری اہمیت کے حامل ہدف پر یہ یقین کرلینے کے بعد ڈرون حملہ کیا جائے گا کہ اس میں کوئی اور عام شہری ہلاک نہیں ہوگا”۔ اس میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکا کو ڈرون حملے کرتے وقت کسی دوسری قوم کی خود مختاری کا احترام کرنا چاہیے۔ اے سی ایل یو نے امریکی حکومت کے خلاف ایک قانونی عذر داری میں کامیابی کے بعد یہ دستاویز جاری کی ہے۔ امریکی محکمہ انصاف کے وکلاء نے جمعے کی شب یہ دستاویز اے سی ایل یو کے حوالے کی تھی۔ اس یونین کے ڈپٹی ڈائریکٹر لیگل جمیل جعفر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ”اس پی پی جی دستاویز سے ان پالیسیوں کے بارے میں اہم معلومات فراہم ہوئی ہیں جن کے نتیجے میں ہزاروں افراد کی اموات ہوئیں اور ان میں غیر لڑاکا لوگ بھی شامل تھے۔ ان کے علاوہ اس سے افسر شاہی کے بارے میں بھی پتا چلا ہے جس کو اوباما انتظامیہ نے ان پالیسیوں پر عمل درآمد اور ان کی نگرانی کے لیے مقرر کیا ہوا تھا”۔

اوباما انتظامیہ نے گذشتہ ماہ بتایا تھا کہ 2009ء سے 2015ء تک جنگ زدہ ملکوں کے علاوہ دوسرے غیر جنگی علاقوں میں کل 473 ڈرون حملے کیے گئے تھے۔امریکی حکام نے دعویٰ کیا تھا کہ بغیر پائیلٹ جاسوس طیاروں کے ان حملوں میں 64 سے 116 تک عام شہری مارے گئے تھے۔ 2581 جنگجو ہلاک ہوئے تھے لیکن ناقدین مسلسل یہ کہتے رہے ہیں کہ امریکی حکومت ڈرون حملوں میں مارے گئے شہریوں کی تعداد کو گھٹا کر پیش کررہی ہے اور شہریوں کی اس سے کہیں زیادہ تعداد میں ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ امریکا کی قومی سلامتی کونسل کے ترجمان نیڈ پرائس نے دعویٰ کیا ہے کہ پی پی جی سے شہریوں کے تحفظ کی کوشش کی جاتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ اگر کسی جگہ یقین کی حد تک ہدف موجود ہو اوریہ کہ غیر لڑاکا افراد ہلاک نہیں ہوں گے تو پھر ہی ڈرون حملہ کیا جاتا ہے اور یہی ایک اعلیٰ معیار ہے جو ہم مقرر کرسکتے تھے۔

انھوں نے کہا کہ صدر اوباما یہ زور دے چکے ہیں کہ ”امریکی حکومت کو انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں اور ان کے نتائج کے معاملے میں جہاں تک ممکن ہو ،امریکی عوام کے ساتھ شفاف ہونا چاہیے”۔ مسٹر نیڈ پرائس نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ ”ہمارے انسداد دہشت گردی کے اقدامات مؤثر اور قانونی ہیں۔ ان کے قانونی جواز کا بہترین مظہر یہ ہے کہ عوام کو ان اقدامات کے بارے میں زیادہ سے زیادہ باخبر رکھا جاتا ہے اور دوسری اقوام کی پیروی کے لیے بھی ایک معیار مقرر کیا گیا ہے”۔ پی پی جی میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر کوئی مشتبہ دہشت گرد پکڑا جاتا ہے تو پھر اس کے ساتھ کیا معاملہ کیا جانا چاہیے۔اس میں اس بات پر زوردیا گیا ہے کہ کسی زیر حراست شخص کو کسی بھی صورت میں امریکا کے کیوبا میں واقع جزیرے گوانتا نامو بے میں قائم فوجی جیل میں منتقل نہیں کیا جائے گا۔ واضح رہے کہ صدر اوباما اپنے وعدے کے باوجود اپنے آٹھ سالہ دور حکومت میں اس بدنام زمانہ حراستی مرکز کو بند کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

واشنگٹن ۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ ،ایجنسیاں

World

اوباما بیرون ملک کارروائیوں کی اجازت کیسے دیتے ہیں؟

کئی سال تک صیغہ راز میں رہنے کے بعد حال ہی میں سامنے آنے والی ایک اہم ترین دستاویز میں اس بات سے پردہ اٹھایا گیا ہے کہ امریکی صدر باراک اوباما بیرون ملک دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں کی اجازت کیسے دیتے تھے۔ خاص طور پر ایسے ملکوں میں جہاں جنگ نہیں ہوتی اور نہ ہی وہاں امریکی فوج موجود ہوتی، اس کے باوجود صدر اوباما وہاں پر دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں کی اجازت دیتے۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق خفیہ دستاویز میں کہا گیا ہے کہ دہشت گردوں کو نشانہ بنانے کے لیے انٹیلی جنس اداروں کی طرف سے متعین کردہ اہداف پر حملوں کی منظوری صدر کے لیے ناگزیر ہوتی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے سامنے جب بھی کسی کارروائی کے لیے کوئی ٹارگٹ رکھا گیا تو انہوں نے وہاں حملے کی منظوری دی۔ چند ایک واقعات ایسے بھی ہوں گے جہاں صدر کی طرف سے حملے کی اجازت نہ ملی ہو۔ بیرون ملک دنیا کے کسی بھی مقام پر ہونے والے حملوں میں ڈرون اور دیگر ہھتیاروں کے ذریعے حملے بھی شامل ہیں۔ ڈرون سمیت جتنے حملے اب تک ہوچکے ہیں انہیں صدر امریکا کی طرف سے باقاعدہ منظوری دیے جانے کے بعد عمل میں لایا گیا تھا۔

میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ بیرون ملک بغیر جانچ پڑتال کے بڑے پیمانے پر کیے گئے حملوں اور صدر کی طرف سے حملوں کی منظوری کے معاملے پر امریکا کے اندر اور باہر نہ صرف ایک نئی بحث شروع ہوگئی ہے بلکہ اوباما کی پالیسی پر کڑی تنقید کی جا رہی ہے۔ تنقید کے دو پہلو ہیں۔ اول یہ کہ بیرون ملک کی جانے والی تمام عسکری کارروائیوں میں کہیں نا کہیں انسانی حقوق کی پامالیاں ہوئی ہیں اور بے گناہ شہری مارے جاتے رہے ہیں۔ دوسرا پہلو دوسرے ملکوں میں موجود امریکی باشندوں کو دہشت گردی کے شبے میں ہلاک کرنے کے لیے کارروائیاں ہیں کیونکہ امریکی دستور کسی امریکی شہری کو ماورائے عدالت قتل کی اجازت نہیں دیتا۔ صدر اور خفیہ ادارے ماورائے قانون کسی بھی امریکی شہری کو کیسے ہلاک کرسکتے ہیں۔ دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ نظریہ ضرورت کے تحت بیرون ملک کی جانے والی عسکری کارروائیوں کی امریکی عدالتوں کی طرف سے بھی توثیق کرائی گئی تھی۔‘‘استعمال کی دلیل’’ کا مطلب یہ لیا گیا کہ عدالتوں کے سامنے ڈرون طیاروں کے ذریعے حملوں کی اجازت کا معاملہ پیش کیا گیا۔ عدالتوں کی طرف سے منظوری کے بعد صدر سے منظوری لی گئی۔ البتہ کچھ واقعات ایسے بھی ہیں جن میں صدر کی منظوری بھی حاصل نہیں کی گئی۔

ڈرونز

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق 18 صفحات پر مشتمل ‘پلے بک’ کئی سال تک امریکا میں تیاری کے بعد بھی صیغہ راز میں رہی۔ تاہم سنہ 2013ء کو واشنگٹن سے اسی دستاویز کا ایک مختصر خلاصہ جاری کیا گیا جس میں یہ تسلیم کی گئی کہ امریکا بیرون ملک محدود آپریشن اور سرجیکل طرز کی کارروائیوں کے لیے بغیر پائلٹ کے ڈرونز طیارے استعمال کرتا ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا کہ بیرون ملک کی جانے والی عسکری کارروائیوں کو امریکی انتظامیہ کے سامنے پیش کیا جاتا ہے۔ حکومت کی منظوری کے بعد کوئی بھی آپریشن کیا جاتا۔

پالیسی دستاویز یہ کہتی ہے کہ ” غیرمعمولی حالات کی عدم موجودگی میں ایک اعلیٰ قدری اہمیت کے حامل ہدف پر یہ یقین کرلینے کے بعد ڈرون حملہ کیا جائے گا کہ اس میں کوئی اور عام شہری ہلاک نہیں ہوگا”۔اس میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکا کو ڈرون حملے کرتے وقت کسی دوسری قوم کی خود مختاری کا احترام کرنا چاہیے۔ اس دستاویز میں اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ بیرون ملک کی جانے والی کسی بھی کارروائی کو عالمی قوانین کے مطابق ہونا چاہیے۔ الخصوص ڈرونز کے ذریعے کی جانے والی عسکری کارروائیوں کے نتیجے میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے واقعات سے بچنے کی کوشش کی جانی چاہیے۔

واضح معیارات

امریکا کی قومی سلامتی کونسل کے ترجمان نیڈ پرائس نے دعویٰ کیا ہے کہ پی پی جی سے شہریوں کے تحفظ کی کوشش کی جاتی ہے۔انھوں نے کہا کہ اگر کسی جگہ یقین کی حد تک ہدف موجود ہو اوریہ کہ غیر لڑاکا افراد ہلاک نہیں ہوں گے تو پھر ہی ڈرون حملہ کیا جاتا ہے اور یہی ایک اعلیٰ معیار ہے جو ہم مقرر کرسکتے تھے۔ انھوں نے کہا کہ صدر اوباما یہ زور دے چکے ہیں کہ ”امریکی حکومت کو انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں اور ان کے نتائج کے معاملے میں جہاں تک ممکن ہو ،امریکی عوام کے ساتھ شفاف ہونا چاہیے”۔

مسٹر نیڈ پرائس نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ ”ہمارے انسداد دہشت گردی کے اقدامات مؤثر اور قانونی ہیں۔ ان کے قانونی جواز کا بہترین مظہر یہ ہے کہ عوام کو ان اقدامات کے بارے میں زیادہ سے زیادہ باخبر رکھا جاتا ہے اور دوسری اقوام کی پیروی کے لیے بھی ایک معیار مقرر کیا گیا ہے”۔ پی پی جی میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر کوئی مشتبہ دہشت گرد پکڑا جاتا ہے تو پھر اس کے ساتھ کیا معاملہ کیا جانا چاہیے۔ اس میں اس بات پر زوردیا گیا ہے کہ کسی زیر حراست شخص کو کسی بھی صورت میں امریکا کے کیوبا میں واقع جزیرے گوانتا نامو بے میں قائم فوجی جیل میں منتقل نہیں کیا جائے گا۔ واضح رہے کہ صدر اوباما اپنے وعدے کے باوجود اپنے آٹھ سالہ دور حکومت میں اس بدنام زمانہ حراستی مرکز کو بند کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

اوباما انتظامیہ نے گذشتہ ماہ بتایا تھا کہ 2009ء سے 2015ء تک جنگ زدہ ملکوں کے علاوہ دوسرے غیر جنگی علاقوں پاکستان، افغانستان، یمن ، صومالیہ اور لیبیا میں کل 473 ڈرون حملے کیے گئے تھے۔ امریکی حکام نے دعویٰ کیا تھا کہ بغیر پائیلٹ جاسوس طیاروں کے ان حملوں میں 64  سے 116 تک عام شہری مارے گئے تھے۔ 2581 جنگجو ہلاک ہوئے تھے لیکن ناقدین مسلسل یہ کہتے رہے ہیں کہ امریکی حکومت ڈرون حملوں میں مارے گئے شہریوں کی تعداد کو گھٹا کر پیش کررہی ہے اور شہریوں کی اس سے کہیں زیادہ تعداد میں ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

World

Drone Attack exposes US Dirt and Hypocrisy on Human Rights

The U.S. drone strike strategy has once again exposed its hypocritical double standard on human rights. The Obama administration, concerned only about minimizing the casualties of U.S. 491 more words

Obama's Drone Legacy

In the waning months of his presidency, the Obama administration has finally released an assessment of civilians killed in its drone strikes outside areas of “active hostilities.” An… 1,076 more words

ڈرون حملے : وہ جو تاریک راہوں میں مارے گئے

21 مئی 2016 کو بلوچستان کے علاقے نوشکی میں ایک ڈرون حملہ ہوا اور اس
میں افغان طالبان کمانڈر مُلا اختر منصور مارے گئے۔ یہ پاکستان کے قبائلی علاقوں سے باہر پاکستانی سرزمین پر دوسرا ڈرون حملہ تھا۔ اس سے پہلے خیبر پختونخواہ کے علاقے ٹل میں 2014 میں ایک حملہ ہو چکا ہے۔ نوشکی ڈرون حملے کے بعد پاکستان کا احتجاج سرکاری سطح پر شدید تر تھا اور ابھی تک یہ سلسلہ جاری ہے یہاں تک کہ امریکہ کو پاکستان کو منانے کے لیے پانچ رکنی سفارتی وفد بھیجنا پڑا۔ نوشکی حملے سے پہلے پاکستان کے قبائلی علاقوں خصوصاً وزیرستان میں 400 سے زائد ڈرون حملے ہو چکے ہیں جن میں ہزاروں پاکستانی شہری مارے جا چکے ہیں لیکن حیران کن طور پر کسی عام اور بےگناہ شہری کو حکومت کا وہ احتجاج نصیب نہیں ہوا جو مُلا اختر کے حصے میں آیا۔ ڈرون حملوں کا زیادہ تر نشانہ شمالی وزیرستان کا علاقہ بنا جس میں ہزاروں گمنام شہری مارے گئے اور سینکڑوں زخمی ہوئے۔

وزیرستان میں ڈرون کا شکار بننے والے شہریوں کا المیہ شاید صرف ڈرون کی حد تک نہیں بلکہ اس کے بعد کے حالات و واقعات سے بھی ہے۔ ڈرون حملوں میں مارے جانے والے شہری صرف اس وقت قابل توجہ سمجھے جاتے ہیں جب یا تو وہ کسی شدت پسند تنظیم کے اعلیٰ منصب پر ہوں یا کسی مغربی ملک کے باشندے ہوں۔ عام شہری کی موت توگمنامی کے اندھیروں میں ہی دبی رہتی ہے۔ ان حملوں میں بچ جانے والوں کی مشکلات بھی الگ قصہ ہیں جن کی ایک جھلک ہمیں صدا اللہ کی کہانی میں ملتی ہے۔

سات ستمبر 2009 کو وزیرستان کے گاؤں مچی خیل میں ہونے والے ڈرون حملے میں صدا اللہ کے خاندان کے تین افراد ہلاک اور خود صدا اللہ شدید زخمی ہوئے۔

اس حملے میں ان کی دونوں ٹانگیں کٹ گئیں۔ مناسب علاج نہ ملنے کی وجہ سے صدا اللہ کے زخم کبھی نہ بھر سکے۔ انھیں ایک خیراتی ادارے کی مدد سے مصنوعی ٹانگیں تو مل گئیں لیکن سخت لکڑی کی ان ٹانگوں کی وجہ سے ان کے زخم ناسور بن گئے اور 2013 میں وہ چل بسے۔ صدا اللہ سے ملتی جلتی کہانی فہیم قریشی کی بھی ہے جو 23 جنوری 2009 کو ہونے والے ڈرون حملے کا نشانہ بنے اور وقت ان کی عمر صرف 14 سال تھی۔ اس حملے میں ان کے خاندان کے سات افراد مارے گئے۔ فہیم زخمی ہونے کے بعد تقریباً ایک سال تک ملک کے مختلف ہسپتالوں میں زیرِ علاج رہے۔ اس حملے میں فہیم کی یاداشت اور ایک آنکھ بھی متاثر ہوئی۔

اکتوبر 2012 میں وزیرستان کے علاقے ٹپی میں 65 سالہ ممانا بی بی کھیتوں میں کام کر رہی تھیں کہ ڈرون حملے کا نشانہ بن گئیں۔ اس حملے کی عینی شاہد نو سالہ نبیلہ نے اپنی دادی کو راکھ کا ڈھیر بنتے دیکھا اور وہ خود اپنے دیگر بہن بھائیوں کے ساتھ کافی عرصہ تک بنوں اور بعد میں پشاور میں زیرِ علاج رہی۔

ان اور ان جیسے دیگر واقعات میں کچھ چیزیں مشترک ہیں۔ فہیم، صدا اللہ اور نبیلہ کو آج بھی یہ ثابت کرنا پڑتا ہے کہ وہ بےگناہ تھے۔ ان سب کو انتہائی غربت کے عالم میں دوسروں کے رحم و کرم پر رہ کر علاج کروانا پڑا اور یہ ’سہولت‘ شاید ان جیسے بہت سے متاثرین کو تو نصیب بھی نہیں ہو سکی۔ وزیرستان میں علاج کی سہولتیں نہ ہونے کے برابر ہیں۔ ڈرون حملوں میں صرف وہی زخمی زندہ بچتے ہیں جو قریبی شہروں کے ہسپتالوں تک پہنچ سکتے ہیں۔

پاکستان کے قبائلی علاقوں خصوصاً وزیرستان میں 400 سے زائد ڈرون حملے ہو چُکے ہیں لیکن سب سے افسوس ناک حقیقت یہ ہے کہ ان سینکڑوں ڈرون حملوں پر ریاست محض خاموش تماشائی کا کردار ادا کرتی رہی ہے۔ وہ ریاست جس پر اپنے شہریوں کی حفاظت کی آئینی ذمہ داری ہے اس نے نوشکی حملے پر کیے گئے احتجاج کے مقابلے میں ذرہ برابر احتجاج بھی ڈرون حملوں میں شہریوں کی ہلاکت پر نہیں کیا۔ جب ایک ریاست اپنے بےگناہ شہریوں کے قتل عام پر خاموش رہتی ہے تو پھر وہ اپنی حدود میں ایک غیر ملکی شدت پسند کی ہلاکت پر واویلا کرنے کا اخلاقی جواز نہیں رکھتی۔ اگر ریاست نے اپنے شہریوں کے خونِ ناحق کا معاملہ اسی جوش و جذبے سے اٹھایا ہوتا تو شاید معاملات نوشکی کے حملے تک نہ پہنچتے۔ پاکستانی ڈرون متاثرین سے یہ تفریقی رویہ صرف ان کی اپنی ریاست کی جانب سے ہی نہیں۔

امریکی حکومت بارہا افغانستان اور یمن میں ڈرون حملوں میں مارے جانے والے شہریوں کے خاندانوں کو زرِ تلافی ادا کر چکی ہے لیکن آج تک امریکیوں نے ایک بھی ایسے کسی پاکستانی کو زرِ تلافی ادا نہیں کیا۔ یہ حقیقت ہے کہ زرِ تلافی مکمل انصاف کے تقاضوں کو پورا نہیں کر سکتا لیکن حقیقی معنوں میں یہ غریب متاثرین کے زخموں کے لیے مرہم کا کام کر سکتا ہے۔ ڈرون متاثرین کو انصاف کی فراہمی سے پاکستانی حکومت کسی طرح بھی پہلو تہی نہیں کر سکتی کیونکہ بنیادی ذمہ داری آج بھی اسی کی ہے۔ ریاست کی کامیابی اس کے شہریوں کے حقوق کے تحفظ سے منسلک ہے۔ اگر عام شہری محفوظ نہیں اور انصاف جیسی سہولت سے محروم ہیں تو وہ ریاست بین الاقوامی سطح پر نہ صرف ناکام تصور ہوگی بلکہ غیر فعال بھی اور نہ ہی وہ اپنے مفادات کا تحفظ کرنے میں کامیاب ہو سکے گی۔


بشکریہ بی بی سی اردو

شہزاد اکبر

اسلام آباد

Pakistan

ڈرون حملے : جنرل صاحب فیصلہ تو آپ کو ہی کرنا ہے

پاکستان کی بری فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے کہا ہے کہ پاکستان کے پاس شدت پسندی کے خلاف جنگ میں ناکامی کا کوئی آپشن نہیں ہے اور شدت پسندی کے خلاف جنگ میں حاصل کی گئی کامیابیوں کو برقرار رکھنا بہت اہم ہے۔

پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے صدر مملکت کے خطاب کے بعد قومی اسمبلی کے سپیکر کے چیمبر میں بدھ کو میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ قبائلی علاقوں کو اس بات کی یقین دہانی کروائی گئی ہے کہ آپریشن ضرب عضب کے خاتمے کے بعد شدت پسند اس علاقے کا رخ نہیں کرسکیں گے۔

جنرل راحیل شریف کا کہنا تھا کہ رواں سال ملک میں شدت پسندی کے خاتمے کا سال ہوگا اور ضرب عضب بھی اس سال مکمل ہوگا۔ انھوں نے کہا کہ ضرب عضب مکمل ہونے کے بعد فاٹا میں ایک نظام وضح کیا جائے تاکہ جو لوگ شدت پسندوں کے خلاف جنگ کی وجہ سے اپنا علاقہ چھوڑ گئے تھے انھیں واپسی پر کوئی مشکلات پیش نہ آئیں۔ بری فوج کے سربراہ نے کہا کہ امریکی ڈرون حملے پاکستان کی سلامتی اور خود مختاری پر حملہ ہے جسے کسی طور پر بھی برداشت نہیں کیا جا سکتا۔

انھوں نے کہا کہ ڈرون حملوں کی مذمت بہت چھوٹا لفظ ہے اور اس معاملے کو تمام متعقلہ فورمز پر بھرپور انداز میں اٹھایا جا رہا ہے۔ راحیل شریف کا کہنا تھا کہ اس طرح کے واقعات سے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات متاثر ہو سکتے ہیں۔

چین پاکستان اقتصادی راہداری کا ذکر کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ یہ منصوبہ ہر حال میں مکمل کیا جائے گا۔ صدر مملکت کے پارلیمان کے اجلاس سے خطاب کے بعد آرمی چیف نے سپیکر لاونج میں صدر مملکت اور مختلف سیاسی رہنماوں سے بھی ماقاتیں کیں۔

Pakistan