Tags » Vote

My First Year in Pollo-ticks (See what I did there?)

One way to get to know your neighbors is to volunteer for a committee on the Homeowners Board of Directors. And use your red-yellow-blue-black yard art as your platform. 181 more words

The choice for Never Trumpers is obvious, but not easy

(Source: www.vox.com)

Back before the 2016 election, it was easy to find so-called Never Trump Republicans (NTRs). They were thick on the ground, on every op-ed page and cable news show, raising dire warnings about the threat Donald Trump posed to American democracy. 1,629 more words

Lifestyle

NY Special Election is Today, Apr 24, 2018

Voters in New York head to the polls today for a special election to fill vacant seats in the state senate and assembly. Although most of the attention is focused on two state senate races to our south (Westchester County, and the Bronx), Some Columbia County residents also have the opportunity to select a new Assembly Member. 156 more words

News

You Picked...Simplicity 8175!

At the end of March, as part of The Monthly Stitch’s Miss Bossy theme for April, I asked the readers of my blog to vote on which skirt pattern I should make with the stretch cotton sateen I had on hand. 461 more words

Skirt

ووٹر کی عزت کیسے؟

تجزیہ: قدرت اللہ چودھری
جب سے ”ووٹ کو عزت دو“ کا نعرہ سامنے آیا ہے، کچھ لوگ کسی وجہ کے بغیر ہی اس بے ضرر سے نعرے سے الرجک نظر آتے ہیں اور انہوں نے اپنی خفت مٹانے کےلئے یہ فلسفہ سامنے لانا ضروری سمجھا ہے کہ ووٹ کی عزت اسی وقت ہوگی جب ووٹروں کی عزت ہوگی۔ جن لوگوں نے کبھی ووٹر کو عزت نہیں دی، وہ کیسے یہ نعرہ لگا سکتے ہیں۔ بعض لوگوں نے ”ووٹ کو عزت دو“ کے اندر چھپے ہوئے خطرے کو بھانپتے ہوئے اس کی تاویلات کو بہت دور تک پھیلانے کی کوشش کی ہے، حیرت ہے جن لوگوں کو ووٹ کو عزت دینے سے کوئی اختلاف بھی نہیں نہ وہ بظاہر اس کےخلاف ہیں انہوں نے بھی اپنے چہرے پر ہاتھ پھیر کر تنکے تلاش کرنے شروع کر دیئے ہیں۔ اس تجزیہ نگار کا خیال ہے ووٹ کی عزت بھی ہونی چاہئے اور ووٹر کی بھی، اس بحث میں پڑنے کی ضرورت نہیں پہلے کون سا کام کیا جائے کیونکہ اگر ایسا کیا گیا تو پھر بحث اس جانب چل پڑے گی انڈہ پہلے تھا یا ’مرغی‘ ہمارے خیال میں ووٹر قابل احترام ہوتے ہیں، لیکن جس طرح تحریک انصاف نے اپنے بیس ” و و ٹر وں“ کو پارٹی سے نکالنے کےلئے شوکاز نوٹس جاری کئے اگر کوئی ووٹر ایسا ہو گیا تو وہ لائق احترام تو نہیں ہو سکے گا۔ کچھ عرصے سے بحث نے ا یک نیا رخ بھی اختیار کر لیا ہے کہ الیکشن لڑنےوالے ووٹ لینے کےلئے تو ووٹروں کے نخرے برداشت کرتے ہیں لیکن انتخابات کے بعد اپنے حلقے کو بھول جاتے ہیں یا بھول کر بھی حلقے کا رخ نہیں کرتے، حالانکہ فطری بات تو یہ ہے الیکشن کے دنوں میں کوئی امیدوار جس طرح بار بار حلقے کا دورہ کرتا ہے، ووٹروں سے ملتا ہے، ان کی خاطر تواضع کرتا ہے، الیکشن کے بعد اس میں تھوڑا بہت فرق تو آ جاتا ہے اور یہ بات کوئی ز یا دہ حیران کن بھی نہیں۔ ہمارے ایک کالم نگار دوست مرحوم ڈاکٹر شیرافگن کا قصہ سناتے ہیں جو وزیر بھی رہے اور قومی اسمبلی کے رکن بھی، میا نوالی ان کا حلقہ انتخاب تھا جہاں سے اب ان کے صاحبزادے امجد خان تحریک انصاف کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے ہیں۔ ڈاکٹر شیر افگن کا معمول تھا وہ اپنے ڈیرے پر آنےوالوں کی تواضع چائے اور لڈوﺅں سے کرتے تھے، الیکشن ہو رہے ہوں یا نہ ہو رہے ہوں، وہ اگر میانوالی میں اپنے ڈیرے پر موجود ہوتے تو یہ ان کا معمول تھا، وقت کوئی بھی ہوتا، مہمان کوئی بھی ہوتا، اس کی تواضع انہی دو چیزوں سے ہوتی، ممکن ہے ایسے بہت سے معمولات ان لوگوں نے بھی اپنا رکھے ہوں جو الیکشن لڑتے ہوں، تواضع کا تعلق وسائل سے بھی ہوتا ہے، جن لوگوں کے پاس کشادہ وسائل ہیں اور وہ طبعاً کشادہ دست بھی ہیں، وہ اپنے ہاں آنےوالے مہمانوں کو ہرممکن طریقے سے شاد کام کرتے ہیں، چونکہ ایک حلقہ انتخاب لاکھوں ووٹروں پر مشتمل ہوتا ہے اور ایک رکن قومی اسمبلی کو بعض صورتوں میں ساٹھ ستر ہزار لوگوں نے ووٹ دے کر منتخب کیا ہوتا ہے اسلئے یہ تو ممکن نہیں کہ کوئی ایم این اے اتنے لوگوں کو مطمئن رکھ سکے۔ لازماً ان میں سے بعض لوگ اگر اس سے خوش ہوں گے تو کچھ ناراض بھی ہوں گے، پھر تھانہ کچہری کے مقدمات میں سارے لوگ ہمیشہ سچ پر نہیں ہوتے، بہت سے لوگوں کے مقدمات ناجائز بھی ہوتے ہیں۔ اس طرح کسی ایم این اے کے ووٹروں میں بھی ہر طرح کے لوگ ہوتے ہیں، اچھے بھی، برے بھی۔ بہت سے لوگوں پر مقدمات بھی ہوتے ہیں، درست بھی اور غلط بھی، اسلئے یہ تصور تو محال ہے کوئی ایم این اے یا ایم پی اے اپنے ہر ووٹر کو مطمئن کر سکے، نا ر ا ضگیاں بھی ہو جاتی ہیں اور ان ناراضگیوں کے نتیجے میں جو دھڑے بندیاں ہوتی ہیں، ان کی وجہ سے بعض اوقات انتخاب میں ہار جیت بھی ہو جاتی ہے، بہت سے ارکان اسمبلی بار بار منتخب ہوتے ہیں اور ایسے بھی ہوتے ہیں جنہیں منتخب کرنے کے بعد ووٹر پچھتاتے ہیں اور بعد ازاں ایسے امیدوار کو منتخب کرنے سے توبہ کر لیتے ہیں۔
یہ صرف ہمارے ہاں نہیں ، پوری دنیا میں ہے۔ امریکہ جیسے ملک میں کئی سینیٹر بار بار منتخب ہوتے ہیں۔ اسی طرح ایوان نمائندگان کے انتخا ب میں بھی کئی امیدوار بار بار کامیاب ہوتے ہیں، برطانیہ جیسے ملک میں بھی یہی ہے۔ ان دونوں ملکوں میں دو جماعتی جمہوری نظام ہے، کبھی ایک جماعت کی حکومت ہوتی ہے اور کبھی دوسری کی، برطانیہ میں کبھی لیبر پارٹی برسراقتدار ہوتی ہے تو کبھی کنزرویٹو پارٹی اور اگر کسی ایک جماعت کو اکثریت نہ ملے تو مخلوط حکومت بھی بن جاتی ہے، لیکن ”باریاں“ ان دو جماعتوں کی ہی لگی ہوئی ہیں۔ اس سسٹم کو وہاں تحسین کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے جبکہ ہمارے ہاں یہ بات ناپسندیدہ سمجھی جاتی ہے گویا جو چیز برطانیہ میں خوبی ہے وہ ہمارے ہاں خرابی ہے، لیکن ایک چیز مشترک ہے ووٹروں کا مزاج وہاں بھی ایسا ہے کہ وہ اپنے حلقے کے نمائندے سے ناراض بھی ہو جاتے ہیں۔ اس کا حل وہاں یہ سوچا گیا کہ حلقے کے ووٹروں کا دسواں حصہ اگر کسی بھی وقت اپنے نمائندے پر عدم اعتماد کر دے تو اس کی رکنیت ختم کی جا سکتی ہے، اگرچہ یہ ابھی تجویز ہے اور غور و فکر کے مرحلے میں ہے لیکن اگر پاکستان میں بھی ایسی کسی تجویز پر غور کرکے اس سلسلے میں باقاعدہ قانون سازی کر لی جائے تو یہ شکایت بڑی حد تک رفع ہو سکتی ہے کہ منتخب نمائندے انتخابات کے بعد اپنے ووٹروں کو بھول جاتے ہیں۔ ہمارے جن دوستوں کو آج کل ووٹروں کی عزت کا بڑا خیال ہے ان کی خدمت میں عرض ہے کہ وہ اس تجویز پر غور کریں اور اگر یہ پسند نہیں تو کوئی ایسی بہتر تجویز سامنے لائیں جس پر عمل کرکے ووٹروں کی عزت کا مستقل اہتمام کیا جا سکے۔ سیاسی جماعتوں کو بھی اس تجویز پر غور کرنا چاہئے اور ہو سکے تو پارلیمینٹ میں بھی اس پر بحث ہو سکتی ہے۔ اس صورت میں یہ ہوگا کہ منتخب نمائندہ اپنے حلقے کے ووٹروں کو بھول نہیں سکے گا کیونکہ یہ خوف اس کے سر پر سوار ہوگا کہ اس کے دس فیصد (یا کم و بیش) ووٹر اس کےخلاف بغاوت کرکے اسے پارلیمینٹ کی رکنیت سے محروم کر سکتے ہیں۔ ووٹ کی عز ت کےساتھ ووٹروں کے احترام کو یقینی بنانے کےلئے ہمارے خیال میں یہ ایک مناسب تجویز ہے لیکن جو لوگ صرف نعرے لگا رہے ہیں اور انہیں ووٹر کی عزت سے نہیں محض نعرے سے دلچسپی ہے وہ ممکن ہے اس جانب کسی پیش رفت کےلئے کوئی کردار ادا نہ کریں۔

Analysis

My Problem with Joe Donnelly

Senator Joe Donnelly was elected as a Democrat to represent the liberal voice in Indiana. So it goes without saying that the people who elected him should expect that he would take stances to represent our voices, especially being that out of eleven of Indiana’s representatives in the House and Senate, Democrats make up just three of them, leaving Hoosier liberals with roughly 27% of the voice for the entire state in the federal government.  355 more words

2018 Election

Color my World

I am resurrecting Trash to Treasure!

This particular project has to do with my

“Lipstick on a Pig Project.”

My building was built between Wadsworth and Broadway on 181st street in 1906. 279 more words

Romance