Tags » War On Poverty

Tomgram: William Astore, "Hi, I'm Uncle Sam and I'm a War-oholic"

War, in short, is the great simplifier — and it may even work when you’re fighting existential military threats (as in World War II).  But it doesn’t work when you define every problem as an existential one and then make war on complex societal problems (crime, poverty, drugs) or ideas and religious beliefs (radical Islam).

2,778 more words
Corporate Empire

Better Charity will not Cure Poverty

We are bombarded daily by political speeches that declare that our country must improve its help for poor people. We must do more to provide food, clothing, shelter, medicine, cars, phones and internet access for poor people. 2,359 more words

Religion In The Culture

VOA News: Video: Janet Weinstein: Activists- Higher US Minimum Wage Still Not High Enough

VOA News: Video: Janet Weinstein: Activists- Higher US Minimum Wage Still Not High Enough

The so-called conservative economist in this piece, said something that is simply false and perhaps even insulting to minimum wage workers, that I have to correct, or I don’t think I would be doing my job. 446 more words

Public Assistance

VOA News: Video: Janet Weinstein: Activists- Higher US Minimum Wage Still Not High Enough

The so-called conservative economist in this piece, said something that is simply false and perhaps even insulting to minimum wage workers, that I have to correct, or I don’t think I would be doing my job. 446 more words

Public Assistance

بھوک سے لاکھوں لوگ کیوں مر رہے ہیں؟

بھوک اور افلاس سے بلکتے ہوئے لاکھوں انسان ہر ماہ اس کرہ ارض میں دم توڑ رہے ہیں۔ زندگی کو زندہ لاش سمجھ کر زندگی سے تنگ آکر لاکھوں لوگ خود کشیاں کر رہے ہیں۔ بیگانگی ذات کے باعث صرف پاکستان میں 50 لاکھ (سرکاری اعداد و شمار) افراد ہیروئن کے عادی ہوچکے ہیں۔ برصغیر میں لاکھوں خواتین غذائیت کی کمی کی وجہ سے زچگی کے دوران جان سے جا رہی ہیں۔ عدم علاج اور ادویات خریدنے سے قاصر ہونے کی وجہ سے اس دنیا میں لاکھوں انسان موت کے منہ میں جا رہے ہیں۔ صاف پانی نہ ملنے اور ملاوٹ کی غذا کے استعمال سے لاکھوں غریب لقمہ اجل ہو رہے ہیں۔

جنگ، گھات لگا کر مارنا، جائیداد کی چھینا جھپٹی اور ملکیت کی اجارہ داری کے لیے لڑتے ہوئے لاکھوں انسان قتل ہو رہے ہیں۔ عالمی جنگ اول اور دوئم میں صرف خطوں کے وسائل پر قبضے کے لیے 5 کروڑ انسان مارے گئے۔ جب کہ اسی دنیا کے وسائل میں بے شمار اضافہ ہوا ہے۔ گزشتہ 50 برسوں میں اگر آبادی دگنی ہوئی ہے تو وسائل میں 200 گنا اضافہ ہوا ہے۔ پہلے لکڑی اور کوئلے سے کھانا پکتا تھا مگر آج گیس استعمال ہو رہی ہے۔ کل تانگے اور بیل گاڑی چلتی تھی تو آج ریل، جہاز اور بسیں چلتی ہیں۔ اس کے استعمال کے لیے لاکھوں بیرل تیل روز پیدا ہوتا ہے۔ پہلے اگر ایک ایکڑ زمین سے 100 من دھان پیدا ہوتا تھا تو آج 500 من پیدا ہورہا ہے۔

معدنیات آج سے 100 سال قبل نہ ہونے کے برابر دریافت ہوئی لیکن آج لوہا، تانبا، کرومائین، پیتل، گرینائیٹ، کوئلہ، سونا، سلفر، فاسفورس، ہیرا اور چاندی کی ہزاروں کانوں سے کروڑوں میٹرک معدنیات نکالی جا رہی ہیں۔ 200 سال قبل سارے دن میں کھڈی سے اگر ایک ساڑھی بنتی تھی تو آج جدید آلات کی دریافت سے ایک لاکھ ساڑھیاں بنتی ہیں۔ لاطینی امریکا میں 300 اقسام کے آلو پیدا ہوتے ہیں تو آسٹریلیا، ہالینڈ، انگلینڈ اور امریکا میں ایک گائے 30/30 کلو دودھ دیتی ہے، ایک کدو 20/20 کلو کا اور ایک آلو آدھا کلو کا پیدا ہورہا ہے۔ برطانیہ میں گوبر سے فی گھنٹہ 165 کلو کی رفتار سے تیز بسیں چلتی ہیں۔ 50 ہزار پاکستانی روپے سے اپنی چھت پر شمسی توانائی کے ذریعے بجلی کی ضرورت پوری کی جاسکتی ہے۔

پودوں سے توانائی حاصل کی جا رہی ہے۔ کچروں سے بجلی حاصل ہو رہی ہے۔ پانی اور ہوا کو ملا کر ڈیزل بن رہا ہے۔ بجلی سے گاڑیاں چل رہی ہیں اور ساری دنیا میں چلائی جاسکتی ہیں۔ امریکا میں بجلی سے کم لاگت میں کار چلانے کا فن دریافت کرلیا گیا لیکن تیل کمپنیوں کے مالکان، حکومت اور نوکر شاہی نے اسے سبوتاژ کیا۔ جس کے جواب میں ہالی ووڈ نے ایک فلم بنائی جس کا نام ہے “who killed the electronic car” (کس نے بجلی کی کار کو قتل کیا؟) اس فلم میں حکمرانوں اور سرمایہ داروں کو بے نقاب کیا گیا ہے۔

ہمارے ملک میں ٹی وی چینل پر درجنوں مصنوعات پر بلاناغہ اشتہارات چلائے جاتے ہیں لیکن شمسی توانائی سستے داموں چلائے جانے کا کوئی اشتہار نہیں آتا۔ موٹر وے، ماڈل ٹاؤن، ماڈل اسکول اور میٹروبس تو محدود پیمانے پر چلتی ہیں لیکن کسی معذور یا بیمار شہری کے علاج پر کوئی توجہ نہیں۔ جیساکہ حال ہی میں کچھ ایسی خبریں آئیں جسے باآسانی حل کیا جاسکتا ہے۔ نگلیریا کے مرض سے بچاؤ کے لیے کلورین کے استعمال کی کمی کے باعث 7 افراد مر گئے۔ سرمایہ دارانہ نظام میں منافع کے لیے سب کچھ کیا جاتا ہے ناکہ ضرورتیں پوری کرنے کے لیے۔ اس دنیا میں اتنی پیداوار ہو رہی ہے کہ 7 ارب تو کیا 10 ارب انسانوں کا پیٹ بھر کر بھی غذا بچ سکتی ہے۔

پھر کیوں انسان ان نعمتوں سے محروم ہوکر بلک بلک کر رو رہا ہے۔ کیوں بھوک، افلاس، بیماریاں، بے روزگاریاں اور ناخواندگیوں نے انسان کا گھیرا کر رکھا ہے؟ کیوں اس دنیا میں ہر ماہ ڈیڑھ لاکھ لوگ زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں؟ اس لیے کہ وسائل پر 7 ارب کی آبادی میں صرف چند لاکھ لوگ نہ صرف قابض ہیں بلکہ دنیا کی تمام تر عیاشیوں سے لطف اندوز ہو رہے ہیں، باقی لوگوں کی زندگی ایک موت کا کنواں ہے۔اس کے علاوہ غیر پیداواری اخراجات اور وسائل پر قبضے کے لیے اسلحے کی پیداوار نے اس دنیا کو ملکوں ، قوموں اور خطوں میں تقسیم کر رکھا ہے۔ امریکا کی صنعتی پیداوار کا 70 فیصد اسلحہ پیدا ہوتا ہے۔ پاکستان کے بجٹ میں دفاعی (جنگی) پیداوار میں اضافے، اس کی تجارت اور استعمال کے لیے مسلسل اضافہ کیا جاتا ہے۔

اس بار 772 ارب روپے کے دفاعی بجٹ کی تجویز کی گئی ہے اس کے برعکس صحت کے بجٹ میں 25 فیصد کی کمی کی جا رہی ہے، جب کہ 2014 میں صحت کا بجٹ کل بجٹ کا 0.8 فیصد تھا اور دفاعی بجٹ 700 ارب روپے۔ دنیا کی 10 بڑی اسلحہ پیدا کرنے والی کمپنیوں میں سے 7 امریکا کی ہیں۔ اور ان اسلحوں کے استعمال کے لیے ہاتھوں کی ضرورت ہوتی ہے اور میدان جنگ بھی چاہیے، جس کے لیے وقتاً فوقتاً میدان جنگ تخلیق کیے جاتے ہیں۔ کبھی ہندو چین، کبھی جنوبی افریقہ، کبھی مشرق وسطیٰ، کبھی کوریا اور کبھی پاک افغان۔ یہی وجہ ہے کہ جب کسی ملک میں فوجی حکومت آتی ہے تو امریکا امداد بڑھا دیتا ہے اور سول حکومت آتی ہے تو گھٹا دیتا ہے۔ جیساکہ الجزائر، مصر، پاکستان، بنگلہ دیش، کولمبیا وغیرہ میں کرتی آرہی ہے۔ پاکستان کو ہی لے لیں۔

ہم 120 ایٹم بم بناسکتے ہیں لیکن تھرپارکر، سرگودھا اور فیصل آباد میں مرتے ہوئے بچوں کو بچا نہیں سکتے ہیں۔ اس دنیا میں اتنے وسائل ہیں کہ ہمیں 10/12 گھنٹے کام کرنے کی ضرورت نہیں صرف 1/2 گھنٹے کام کرنا کافی ہے، باقی اوقات میں تخلیقی اور تحقیقی کام کرسکتے ہیں اور زندگی کی نعمتوں سے لطف اندوز ہوسکتے ہیں۔ یہ جو ہم 10/12 گھنٹے کام کرتے ہیں یہ صرف سرمایہ داروں کے منافع میں اضافے کے لیے۔

اس دنیا کو بھوک ، بیماری اور ماحولیات کی پراگندگی سے نکال کر ایک خوشحال، سبز و شاداب پھلوں سے لدی ہوئی اور پھولوں کی خوشبو سے معطر دنیا تشکیل دی جاسکتی ہے۔ اس کے لیے خود غرضی کو خیرباد اور اجتماعی خوشیوں کو لبیک کہنا ہوگا۔ سب سے پہلے اسلحہ پیدا کرنے والی تمام فیکٹریوں، کارخانوں، ورک شاپوں اور کمپنیوں کو فوری طور پر اسلحے کی پیداوار بند کردینی ہوگی۔ پھر دنیا میں موجود ایٹم بموں، میزائلوں، ٹینکوں، جنگی طیاروں، سب میرینوں، تارپیڈوں اور مہلک کیمیائی ہتھیاروں اور گیس بموں کو تباہ کرنا ہوگا۔ اس کے بعد ہر قسم کے اسلحوں، بندوقوں اور پستولوں کو اس کرہ ارض سے ناپید کرنا ہوگا۔ جب اسلحوں کی پیداوار بند ہوجائے گی تو ان پیسوں سے دوائیں، پینے کا صاف پانی، ہر فرد کو شمسی اور ہوا کی توانائی فراہم کی جاسکتی ہے۔ پھر فوج اور سرحدوں کی ضرورت باقی نہیں رہے گی۔ کہا جاتا ہے کہ فوج اور سرحدیں نہیں ہوں گی تو ملک نہیں ہوگا پھر ہم کہاں ہوں گے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آج سے 50 ہزار سال قبل ملکوں کا وجود ہی نہیں تھا۔ جب ملکوں کا وجود نہیں تھا تو پہریدار بھی نہیں تھے۔ آج بھی اس دنیا میں ساڑھے چار کروڑ انسان جنگلوں، پہاڑوں، برفوں اور ریگستانوں میں رہتے ہیں۔ جن کی کوئی سرحدیں نہیں ہیں، کوئی ملک ہے اور نہ کوئی قوم۔ آپ انھیں وحشی معصوم انسان ضرور کہہ سکتے ہیں لیکن یہ خودغرض نہیں اور نہ ملکیت کے مالک۔ سوئٹزرلینڈ میں کوئی فوج نہیں ہے پھر اس کا خاتمہ بالخیر کیوں نہیں ہوا۔ جب ریاستیں ختم ہوجائیں گی تو اس کا متبادل ادارے لوگ خود تشکیل دیں گے۔

اگر کھربوں روپے اسلحے کی پیداوار پر خرچ ہوتے ہیں تو کاسمیٹکس پر بھی اربوں ڈالر خرچ ہوتے ہیں۔ بڑی عمارتیں، بڑی قیمتی گاڑیاں، خلائی تحقیق، حکمرانوں اور صاحب جائیداد طبقات کی عیاشیوں اور پروٹوکول پر بھی اربوں ڈالر خرچ ہوتے ہیں۔ اس دنیا میں اتنے وسائل ہیں کہ اگر ملکوں کی سرحدیں ختم کردی جائیں، ملکیت ختم ہوجائے، دنیا کی ساری دولت سارے لوگوں کی ہوجائے تو کوئی بھوکا نہیں مرے گا، کوئی گداگری نہیں کرے گا۔ کوئی قتل نہیں ہوگا، کوئی بے گھر نہیں رہے گا، کوئی عصمت فروشی نہیں ہوگی اور نہ کوئی بے روزگار ہوگا۔

زبیر رحمٰن

Pakistan

POLICE

I remember when the so-called “War On Poverty” was initiated by prexy LBJ. Although it wasn’t labeled then as “a liberal progressive agenda,” it fit the definition as it promised we would tackle the roots of dissension, disenfranchisement, fatherless families and other ills resulting in reservations in our inner cities known as “ghettos.” We would use the federal government’s vast resources to restructure our cities. 331 more words

Social Commentary

Eagle Forum: Blog: Phyllis Schlafly Governor Paul LePage Requires Work for Food Stamps


Eagle Forum: Blog: Phyllis Schlafly Governor Paul LePage Requires Work for Food Stamps

I have no problem with requiring anyone who receives public assistance to have to look for work, take jobs they’re qualified for and even finish and further their education while they’re receiving taxpayer assistance to pay their bills. 305 more words

Economic Freedom