Tags » Wb

Social Media Short Sellers Grow More Selective

Social media has taken the world by storm, building virtual communities for anyone who has internet access and allowing people to connect and share across the globe. 328 more words

Media

New Poster and Stills from WONDER WOMAN Released 

Another poster for Wonder Woman has been spotted online and also stills from the film (courtesy of EW). The film’s embargo is lifted on May 31st but certain media outlets have taken to social media for the film with high praise. 15 more words

News

Learn everything you need to know about Injustice 2

For those who want to know what Injustice 2 can offer, the developers got you covered with an awesome video. 46 more words

General

پہلی سلک روڈ، اوبور اور بھارت کی جلن

چند روز قبل بک سٹور میں گھومتے ہوئے میری نظر ایک منفرد کوور والی ایک کتاب پر پڑی جس کا عنوان ہے “دا سلک روڈز، آ نیو ہسٹری آف دا ورلڈ”۔ اس کتاب کے مصنف پیٹر فرینکوپین ووسٹر کالج آکسفورڈ میں ایک سینئر ریسرچ فیلو اور سنٹر فار بائزنٹائن ریسرچ آکسفورڈ یونیورسٹی کے ڈائریکٹر ہیں۔ اس کتاب کے ابواب کی فہرست پر نظر ڈالی جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ اس میں سلک روڈز یعنی شاہرات ریشم پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے دنیا کی تاریخ کا جائزہ لینے کی کوشش کی گئی ہے اور صرف یہی نہیں بلکہ چند ابواب پڑھتے ہی یہ بات بہت اچھی طرح واضح ہو جاتی ہے کہ سلک روڈز صرف تجارت کے حوالے سے ہی اہمیت کے حامل نہیں تھے بلکہ ان کے استعمال سے آئیڈیاز، ثقافت، مذہب، زبانوں، رہن سہن کے طریقے، صنعت، فنون لطیفہ، ٹیکنالوجی اور فن تعمیر غرضکہ زندگی کے ہر شعبے پر اثرات مرتب ہوتے تھے۔ تجارت کے فروغ کے لئے بحیرہ روم کے مشرق اور مغرب، دونوں اطراف کی سلطنعتیں جنمیں، یونانی، رومن، چائنیز اور پرشین شامل ہیں کے درمیان اکثر کشمکش اور جنگ و جدل رہتا تھا۔ اور اس سب کی وجہ تھی سلک روڈز پر قبضہ۔ کیونکہ سلک روڈز دنیا کے بڑے خطوں کو آپس میں ملاتی تھیں اور تجارتی ترقی کے لیے شہ رگ گردانی جاتی تھیں۔۔

دنیا کی سب سے پہلی سلک روڈ کی بنیاد ایک سو انیس قبل مسیح میں چین کی ہان ڈائنسٹی نے اس وقت رکھی جب وہ ” شینگنو نومیڈز” جو کہ درندگی کی حد تک جنگجو تھے، کے ساتھ امن قائم رکھنے کی خاطر کئی سالوں تک ریشم، کرنسی کی صورت میں دیتے تنگ آگئے اور فیصلہ کیا کہ اب شینگنو کی بدمعاشی برداشت نہیں کی جائے گی، ان کو شکست دینے کے بعد ہان ڈائنسٹی نے ان کے علاقے شینگ پر قبضہ کر لیا۔ چونکہ شینگ کا علاقہ ہان ڈائنسٹی کے شمال میں واقع تھا لہذا وہاں کا موسم اور حالات ہان فوجیوں کے لئے مشکلات کا باعث بن گئے۔ ان کی خوراک اور دیگر مال و اسباب کم پڑنے لگے اور اس دوران بچے کھچے زور کے بل بوتے پر شینگنو خانہ بدوشوں نے ان کے لئے ایسے تمام ذرائع بند کرنے کے لئے پہ در پہ کوشیشیں بھی کیں لیکن وقت کے ساتھ شینگنو اپنی پہچان تک کھو بیٹھے۔ وہ وقت تھا کہ ہان ڈائنسٹی نے ان ذرائع کے حصول کے لئے مغرب میں واقع پامر کے پہاڑوں کے اس پار نظر ڈالی اور انسانی تاریخ کا پہلا سلک روڈ قائم کیا۔

اس سلک روڈ کا رخ مغرب یعنی صحرائے گوبی، صرائےٹکالامکان اور بالآخر یورپ کی طرف تھا۔ اس سلک روڈ پر صرف ریشم ہی نہیں بلکہ دیگر چیزیں جن میں، سونا، چاندی، شیشہ، قیمتی پتھر، مور کے پر، گھوڑے اور اونٹ شامل ہیں کی تجارت ہوتی تھی۔ اس تجارت میں اونٹ کو خاص اہمیت حاصل تھی کیونکہ اونٹ صحرائے گوبی اور ٹکالامکان کے بیچو بیچ گزرنے والے راستوں کے لئے موزوں ترین جانور تھا۔ اونٹ جس کو صحرائی جہاز بھی کہا جاتا ہے اس کی سب پہلی وجہ اس کی صحرائی ریت اور گرمی میں پھرتی اور رفتار تھی۔ اور یہی نہیں بلکہ اونٹ کو ایک سمجھدار جانور بھی سمجھا جاتا تھا اور اس کی وجہ تھی کہ وہ صحرا میں طوفان سے پہلے بھانپ لیتا تھا کہ طوفان آنے کو ہے لہذا رک جاتا تھا اس طرح اس کے مالک اور قافلے کو پتہ چل جاتا تھا اور وہ گرد اور طوفان سے بچنے کے لئے اپنے منہ کپڑوں سے ڈھانپ لیتے تھے۔

سلک روڈز ایشیا کو یورپ سے ملاتی تھیں اور دونوں اطراف کے درمیان ہونے والی تجارت سے زندگی کے ہر شعبے میں ترقی ہوئی۔ انہیں شاہراہوں کے مرہون منت مختلف مذاہب ایک سے دوسرے خطے میں منتقل ہوئے جن میں عیسایت اور بدھ ازم سر فہرست ہیں۔ سلک روڈز کی تاریخ بہت پرانی اور لمبی ہے۔ اس طویل سفر اور تاریخ کو تفصیل میں جاننے اور سمجھنے کے لئے کئی مضامین درکار ہیں اور گاہے بگاہے قارئین کی نذر کرتا چلا جاؤں گا۔ اس مضمون میں سلک روڈز کے حوالے سے ہونے والی سب سے نئی اور اہم پیش رفت کا جائزہ مقصود ہے۔

اس لیے ایک سو انیس قبل مسیح سے ڈائریکٹ دو ہزار سترہ پر جمپ کرتے ہوئے چین کے دارالحکومت بیجنگ میںو اس سال کے دنیا میں ہونے والے سب سے بڑے ایونٹ کا ذکر کرنا ضروری ہے۔ بیلٹ اینڈ روڈ فورم بیجنگ میں چودہ مئی سے پندرہ مئی تک جاری رہے گا جس میں انتیس ممالک کے سربراہان مملکت و حکومت شرکت کر رہے ہیں، ان میں چین خود، روس، ترکی اور پاکستان قابل ذکر ہیں۔ صرف یہی نہیں بلکہ درجنوں ممالک کے وزارتی اور اعلی افسران پر مشتمل وفود بھی شرکت کر رہے ہیں۔ دنیا کی سب سے بڑی آرگنائزیشن یعنی اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انٹونیو گتاخیش کے ساتھ ساتھ آئی ایم ایف کی ایم ڈی کرسٹین لیگارڈ اور ورلڈ بنک کے ڈائریکٹر جم یانگ کم بھی شریک ہیں۔ یہاں تک کہ دنیا کی سب سے بڑی معیشت امریکہ جس کا ون بیلٹ ون روڈ سے براہ راست تعلق نہیں اس کا ایک وفد بھی اس فورم میں شامل ہے۔ اور اگر ایک بڑا ملک شامل نہیں تو وہ ہے بھارت۔

بھارت اتنے بڑے ایونٹ میں شریک کیوں نہیں ہوا؛ یہ سوال بین الاقوامی تعلقات پر نظر اور ان میں دلچسپی رکھنے والے ہر ایک ذہن میں گونج رہا ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ جو زہن میں آتی ہے وہ ہے پاکستان دشمنی۔ بھارت کی جانب سے چین کی مدد سے بننے والے سی پیک منصوبے جو ون بیلٹ ون روڈ کا سب سے اہم ترین حصہ ہے پر مسلسل تنقید کی جارہی ہے۔ اور شاید یہی وجہ ہے بھارت نے پچھلے کچھ عرصے میں کشمیر میں پہلے سے زیادہ بربریت کا مظاہرہ کیا ہے اور آئے روز لائن آف کنٹرول پر سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بلا اشتعال فائرنگ کا سلسلہ شروع کیا ہوا ہے جس کے نتیجے میں کئی معصوم جانیں ضائع ہو چکی ہیں۔ صرف یہی نہیں بھارت افغانستان کی سر زمین کو اپنی ایجنسی را کے ذریعے استعمال کرتے ہوئے پاکستان کا امن برباد کرنے کے لئے دہشت گرد تنظیموں کی پشت پناہی اور فنڈنگ کر رہا ہے۔ سیہون اور لاہور میں ہونے والے دہشت گردی کی بزدلانہ کاروائیوں کے تانے بانے افغانستان اور را سے جا ملے۔ اور بلوچستان سے بھارتی حاضر سروس نیول افسر اور را کے ایجنٹ کلبھوشن یادیو کی گرفتاری اور اس کا پاکستان میں دہشت گردی اور جاسوسی کی کاروائیوں میں ملوث ہونے کا اقرار بھارتی جارحیت، امن دشمنی اور پاکستان میں فساد پھیلانے کے مضموم مقاصد کا کھلا ثبوت ہے۔

بھارتی ایکسٹرنل افیرز منسٹری کے ترجمان گوپال باگلے نے بیلٹ اینڈ روڈ فورم سے ایک روز قبل اپنے بیان میں کہا کہ یہ منصوبہ یکطرفہ ہے اس سے بھارت کی خود مختاری اور سالمیت کو خطرہ ہے لہذا بھارت اس فورم میں شرکت نہیں کرے گا۔ دوسری جانب بیجنگ میں فورم کے افتتاحی سیشن سے اپنی ابتدائیہ تقریر میں چین کے صدر شی جن پنگ نے واضح طور پر کہا کہ یہ منصوبہ خطے میں موجود ممالک کے باہمی تعلق کو مضبوط تر کرنے کے لیے ہے اور ہم ملکر اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ کسی بھی ملک کی خودمختاری متاثر نہ ہو بلکہ یہ سب کے لیے ایک “ون ون کوآپریشن” ہو۔

اس کے ساتھ باگلے کا کہنا تھا کہ اس کنیکٹیویٹی منصوبے سے قرضے بڑھیں گے، اور گورننس اور ماحولیات پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔بھارت کے اس بات کو غلط ثابت کرنے کے لئے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اینٹونیو گتاخیش کے بیلٹ اینڈ روڈ فورم پر کی گئی تقریر ہی کافی ہے۔ انہوں نے چین کے اس منصوبے کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ منصوبہ “پوسٹ ٹونٹی ففٹین ڈیولپمنٹ ایجنڈے” کے تحت وضع کیے گئے سترہ ” سسٹین ایبل ڈیویلپمنٹ گولز” یعنی پائیدار ترقی کے اہداف کے عین مطابق ہے اور اس سے خطے میں بسنے والوں کے حالات زندگی بہتر ہوں گے۔

وزیراعظم نواز شریف نے اپنے خطاب میں یہ بات واضح کی کہ اس منصوبے کا مقصد تقسیم نہیں بلکہ باہمی اشتراک ہے اور پاکستان ہمیشہ خطے میں امن و سلامتی کا خواہاں رہا ہے اور چاہتا ہے کہ اس منصوبے سے جڑے تمام ممالک پوری طرح مستفید ہوں۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے کے تحت سنٹر آف گریویٹی تنازعات سے نکل کر تعاون کی جانب ہونا چاہیے۔

یہ تمام تقاریر بھارتی موقف کو غلط ثابت کرتی ہیں۔ اب جہاں ترقی کے اس بڑے منصوبے سے تین بر اعظموں؛ ایشیا، یورپ اور افریقہ جن کی کل آبادی پوری دنیا کی آدھی ہے کے کم سے کم پینسٹھ ممالک جو اس راہدری پر یا اردگرد واقع ہیں سمجھتے ہیں کہ منصوبہ اس صدی کا سب سے بڑا ترقی کا منصوبہ ہے اور جس کی تائید اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے بھی کی ہے، بھارت کو برداشت نہیں۔ بھارت اکیلا ہی منہ سجائے اپنی بے پرکی اڑانے میں لگا ہوا ہے۔ بھارت کو تاریخ سے کچھ سبق سیکھنا چاہیے ورنہ وہ جو پاکستان کو بین الاقوامی برادری میں تنہا کرنے میں لگا ہوا تھا، جس طرح آج خود تنہا ہوا ہے تو ویسے ہی ہمیشہ کی طرح ہو جائے گا۔ اور اگر بدمعاشی کرے گا تو اس کا حال شینگنو خانہ بدوشوں جیسا بھی ہو سکتا ہے۔

پیٹر فرینکوپین اپنی کتاب میں لکھتے ہیں “آج ہم گلوبلائزیشن کو ایک منفرد رجحان سمجھتے ہیں مگر دو ہزار سال قبل بھی یہ ایک حقیقت تھی جس نے مواقع بھی پیدا کیے اور مسائل بھی اور ساتھ ساتھ تکنینی ترقی کی حوصلہ افزائی بھی کی۔” آج کی دنیا دو ہزار سال قبل کی دنیا سے زیادہ ترقی یافتہ اور عقلمند ہے لہذا ون بیلٹ ون روڈ کی افادیت اور اہمیت کو سمجھتے ہوئے دنیا کو مسائل پر قابو پانے کے لیے اس سے بھرپور مستفید ہونا چاہیے تاکہ نئی نسلوں کا مستقبل روشن ہو۔
(جاری ہے۔۔۔۔تحریر احمد جواد)

Pakistan

'Injustice 2 Mobile' Now Available

Written By: Thomas Brewington

If you’re chomping at the bit to start playing Injustice 2 on consoles, the newly released mobile version might just make the wait a little easier. 188 more words

News

F.R.I.E.N.D.S: The side-Character that I love.

I am a hard-core FRIENDS lover, I can recite episodes like Sheldon Cooper can recite the periodic table and I’m proud of it.

I wanted to dedicate this post to… 223 more words

All Blogs.

Little Cormorant

Santragachi, West Bengal, India