Tags » World

Justin Trudeau expected to ask Pope for official apology for residential schools

Prime Minister Justin Trudeau met with Pope Francis in private Monday afternoon at the Vatican.

It’s unclear what was said in the meeting, which lasted more than 30 minutes, but Trudeau was expected to discuss reconciliation with indigenous peoples, religious diversity and climate change. 229 more words

News

Melania Trump, in Supporting Role, Shows Subdued Star Power on Trip by MARK LANDLER

Mrs. Trump’s travels with the president were something of a coming-out party, which may offer clues to what kind of first lady she could become.. via NYT World http://nyti.ms/2sdvNjz

NYT

Melania Trump, in Supporting Role, Shows Subdued Star Power on Trip by MARK LANDLER

Mrs. Trump’s travels with the president were something of a coming-out party, which may offer clues to what kind of first lady she could become.. via NYT World http://nyti.ms/2sdvNjz

NYT

اداروں پر تنقید کیسے کریں ؟

سوشل میڈیا پر قومی اداروں پر تنقید اور اُن کی تضحیک کے خلاف ملک کے طول و عرض میں جاری آپریشن کا خیر مقدم۔ کاروائی کرنے والوں کے پیشہ ورانہ عزم کو سلام۔ نہ کوئی غائب ہوا، نہ کسی ان دیکھے ہاتھ نے کسی کی ٹانگیں توڑیں۔ باقاعدہ نوٹس، باقاعدہ پیشی۔ وقت پر تفتیش اور پھر اپنے اپنے گھر واپسی۔ کوئی ملک دشمن ہی ہو گا جو اِن اقدامات کی تعریف نہ کرے۔ کوئی ناعاقبت اندیش ہی ہوگا جو نہ مانے کہ یہ ماضی کے طریقوں سے بہتر ہے۔ مہذب معاشرے میں تاریک عقوبت خانوں سے اُٹھتی چیخوں کا بند ہونا ضروری ہے۔ ترقی کے لیے ضروری ہے کہ فائلوں کا پیٹ بھرا جائے، مشکوک افراد کو اپنی صفائی کا موقع دیا جائے۔ لیکن ۔ قوم واضح ہدایات کی منتظر ہے۔ گائیڈ لائن مانگتی ہے۔

اِس غبی قوم کو ابھی تک ٹھیک سے یہی پتہ نہیں کہ ہمارے اداروں، حساس اداروں اور نیم حساس اداروں کی توہین کہاں سے شروع ہوتی ہے، ہنسنا کِس بات پر منع ہے۔ احترام بجا لانے کا صحیح طریقہ کیا ہے۔ وُہ تو ابھی تک یہی تکا لگاتے پھر رہے ہیں کہ اداروں اور حساس اداروں میں فرق کیا ہے۔ تو واضح کیے دیتے ہیں کہ ادارہ فوج ہے اور اُس کا حساس حصہ وُہ ہے جو اندرون اور بیرون ملک جاسوسی یا اِس سے ملتے جلتے فرائض انجام دیتا ہے۔ نیم حساس اداروں میں جج، علما اور لٹھ بردار مذہبی لوگ شامل ہیں جو حساس اداروں کی حساسیت دیکھ کر اپنے اوپر نیم حساس ہونے کی کیفیت طاری کر لیتے ہیں۔ یہ پورا معاملہ اِنتہائی حساس ہے اِس لیے اِن تمام اداروں کی ناموس کے نئے نئے محافظ وزیر داخلہ سے درخواست کی جاتی ہے کہ وُہ واضح ہدایات جاری کریں اور کم از کم مندرجہ ذیل گُنجلک مسائل کے بارے میں اپنی رائے دیں تاکہ محب وطن لوگ اُن کے شروع کیے کار خیر میں اپنا حصہ بقدر جثہ ڈال سکیں۔

1: سب سے بڑا کنفیوژن حاضر سروس اور ریٹائرڈ فوجی افسران کے بارے میں ہے مثلاً کوئی نہیں جانتا کہ ٹی وی پر مستقل براجمان ریٹائرڈ جنرل، ائیروائس مارشل قِسم کے لوگوں کے فرمودات پر عوام روئیں یا نہیں؟

 جنرل اشفاق پرویز کیانی جیسے مدبر سپہ سالار کا نام لیتے ہوئے تو سب کو ڈرنا چاہیے لیکن کیا اُن کے مفرور بھائی پر تنقید جائز ہے؟

بعض ناعاقبت اندیش یہ کہتے پائے جاتے ہیں کہ فوجی ہمارے بھائی ہیں، اِس مٹی کی جم پل ہیں، جو خوبیاں خرابیاں ہم میں ہیں اُن میں بھی ہیں۔ جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت کے لیے جان دیتے ہیں لیکن جب نظریاتی سرحدوں کی بات کرتے ہیں تو لکیر دھندلا جاتی ہے کیا ایسے لوگوں کی بات کو سنجیدگی سے لینا چاہیے یا ایف آئی اے کا نمبر ملانا چاہیے؟

4: اگر کِسی کا بچہ فوجی کارن فلیکس کھانے سے انکار کرے تو کیا اُسے عاق کر دیا جائے یا ڈانٹ ڈپٹ سے کام چلایا جائے؟

کیا ایف آئی اے پر تنقید جائز ہے؟ پہلے تو جائز تھی کیونکہ یہ ایک سویلین ادارہ تھا لیکن اب چونکہ فوج کی ناموس کی حفاظت پر مقرر ہے تو اِس کے بارے میں کوئی واضح ہدایت جاری کی جائے۔ کیا ایف آئی اے کے سابق سربراہ رحمٰان ملک کے بارے میں بنائے گئے سارے لطیفے واپس لینے پڑیں گے؟

 کچھ ناہنجار قسم کے لوگ یہ کہتے پائے جاتے ہیں کہ کیا ہمارے اداروں اور حساس اداروں پہ یہ وقت آ گیا ہے کہ ایف آئی اے کے ٹُھلے اُن کی ناموس کی حفاظت کریں گے۔ ایسے لوگوں کی سرکوبی کے لیے خاص اِنتظام کیا جائے؟

ملک کے کچھ کھاتے پیتے طبقے جو ڈی ایچ اے میں پلاٹ لے کر کروڑوں کماتے ہیں لیکن پھر ناشکری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ڈی ایچ اے کی اِنتظامیہ پر تنقید کرتے ہیں جو کہ اِتفاق سے حاضر سروس فوجی افسر ہوتے ہیں۔ اِن ناشکروں سے نمٹنے کے لیے کوئی لائحہ عمل طے کیا جائے۔

 ہماری کئی نسلیں مرحوم کرنل محمد خان کی تحریریں پڑھ کے مزہ لیتی رہی ہے۔ کتاب انتہائی شستہ مزاح کا شاہکار ہے لیکن آخر میں اس میں ہیں تو فوج اور فوجیوں کے بارے میں لطیفے ہی۔ اُن کی کتابوں کے قابل اعتراض حصے یا تو حذف کیے جائیں یا پوری کتابیں ہی حذف کر دی جائیں۔

 حالیہ دنوں میں ہمارے نیم حساس اداروں کے جج، ادارے کے سابق سربراہ کے لیے وارنٹ جاری کرتے ہیں۔ جج بلاتے ہیں، جنرل صاحب فرماتے ہیں میں نہیں آتا ابھی موڈ نہیں ہے۔ یہ واضح کیا جائے کہ اِس معاملے میں تضحیک جج کی ہوئی جنرل کی، یا عوام کی؟

 چلتے چلتے یہ بھی واضح کر دیا جائے کہ اِس مادر پدر آزاد عوام پر تنقید اور اُن کی مسلسل تضحیک کا سدباب کیسے ہو گا ؟ کیا اِس دنیا میں کوئی اُمید رکھیں یا حضرت مولانا طارق جمیل سے آخرت میں ملنے والی برکتوں کا بیان سُن کر دِل بہلاتے رہیں؟

محمد حنیف
مصنف اور تجزیہ کار

World

کرسٹوفر کولمبس کی امریکہ دریافت کا حیرت انگیز سفر

کولمبس نے یورپ سے مشرق کی طرف بحری راستہ کھوجتے ہوئے، بے دھیانی ہی سے امریکہ کو دریافت کر لیا۔ اس دریافت نے اس کے اپنے اندازوں کی نسبت کہیں زیادہ شدت سے تاریخ عالم پر اپنے اثرات چھوڑے۔ اس کی دریافت نے نئی دنیا میں سیاحت اور کالونیاں قائم کرنے کے دور کا آغاز کیا۔ یہ واقعہ تاریخ میں ایک سنگ میل ثابت ہوا۔ اس نے یورپ کے لیے اپنی بڑھتی آبادی کی کھپت کے لیے دو براعظموں کے دورے کیے اور انہیں معدنیاتی دولت اور خام مواد کے ذخائر مہیا کیے، جنہوں نے یورپ کی معاشیات کو بدل کر رکھ دیا۔ اس دریافت نے امریکہ کے مقامی باشندوں کی تہذیب کو بھی پامال کیا۔

مجموعی طورپر اس نے مغربی کُرے میں اقوام کا ایک نیا مجموعہ تشکیل دیا، جو ان مقامی اقوام سے خاصا مختلف تھا جو ان علاقوں میں پہلے سے رہائش پذیر تھیں۔ دنیائے قدیم کی ان اقوام پر اس کے بڑے اثرات مرتب ہوئے۔ کولمبس کی کہانی کے بنیادی اجزا سے متعلق ہمیں معلومات حاصل نہیں ہیں۔ وہ اٹلی میں جنیوا میں 1451ء میں پیدا ہوا۔ جوان ہونے پر وہ ایک جہاز کا کپتان اور ایک کہنہ مشق ملاح بن گیا۔ اس کا خیال تھا کہ بحراوقیانوس میں مغرب کی سمت سفر کرنے سے مشرقی ایشیا تک بحری راستہ دریافت کیا جا سکتا ہے۔ اس نے بڑی شدومد سے اپنے اس خیال کو صراحت سے سمجھانے کی کوشش کی۔ بالآخر ملکہ ازیبلا اول اس کے اس مہماتی سفر کے لیے مالی امداد پررضامند ہو گئی۔ 3 اگست 1492ء میں اس کے جہاز سپین سے روانہ ہوئے۔

ان کا پہلا قیام افریقہ کے ساحل پر کینری جزیروں پر ہوا۔ 6 ستمبر کو وہ کینری جزیروں سے مغرب کی سمت چل دئیے۔ یہ طویل سفر تھا۔ ملاح خوفزدہ تھے اور واپسی پراصرار کرنے لگے۔ صرف کولمبس سفر جاری رکھنے پر مُصر تھا۔ 12 اکتوبر 1492ء کو خشکی دکھائی دی۔ اگلے برس مارچ میں کولمبس اسپین واپس گیا۔ فتح مند مہم جو کا بڑے طمطراق سے سواگت کیا گیا۔ اس نے جاپان یا چین تک پہنچنے کے سیدھے بحری راستے کی بے ثمر خواہش میں بحراوقیانوس میں تین مزید سفر کیے۔ کولمبس اپنے اس خیال پر مُصر تھا کہ اس نے مشرقی ایشیا کا بحری راستہ کھوج لیا تھا جبکہ طویل عرصہ تک بیشتر لوگوں نے اس کا یقین نہ کیا۔ ازیبلا نے کولمبس سے وعدہ کیا کہ وہ جس جزیرے کو دریافت کرے گا، اسے اس کا گورنر بنا دیا جائے گا۔ لیکن وہ بطور منظم اعلیٰ اس درجہ نااہل ثابت ہوا کہ بالآخر اسے سبکدوش کر دیا گیا۔ وہ پابہ سلاسل واپس اسپین پہنچا۔ جہاں فوراً ہی اسے آزادی تو مل گئی لیکن بعدازاں اسے کبھی کوئی انتظامی عہدہ نہ ملا۔

یہ عام افواہ کہ وہ کسمپرسی کی حالت میں چل بسا، بے بنیاد ہے۔ 1506ء میں اپنی موت کے وقت وہ خاصا دولت مند تھا۔ کولمبس کے پہلے سفر نے واضح طورپر یورپی تاریخ پر انقلاب انگیز اثرات مرتب کیے اور ان سے کہیں زیادہ گہرے امریکہ پر۔ ایک اعتراض تو یہ کیا جا سکتا ہے کہ کولمبس پہلا یورپی نہیں تھا جس نے اس نئی دنیا کو دریافت کیا۔ ایک وائکنگ ملاح لیف ایرکسن اس سے کئی صدیاں قبل امریکہ پہنچا۔ پھر یہ بھی حقیقت ہے کہ اس وائکنگ ملاح اورکولمبس کی درمیانی مدت میں متعدد مہم جو ملاحوں نے بحراوقیانوس کو عبور کیا۔ تاریخی اعتبار سے لیف ایرکسن ایک غیر اہم شخصیت تھی۔ اس کی دریافتوں کا احوال کبھی عام نہیں ہوا۔ نہ ہی یہ امریکہ یا یورپ میں کسی نوع کی تبدیلیاں پیدا کرنے میں کامیاب ہوئیں۔ دوسری جانب کولمبس کی دریافت کے قصص فوراً یورپ بھر میں پھیل گئے۔

اس کی واپسی کے بعد چند ہی برسوں میں اوراس کی دریافتوں کے براہ راست نتیجے کے طورپر اس نئی دنیا کی طرف متعدد مہم جُو جمعیتیں روانہ ہوئیں اوران نئے علاقوں کی فتوحات اورکالونیوں کی آباد کاری کا سلسلہ جاری ہوا۔ پندرہویں صدی عیسوی کا یورپ تو یوں بھی شدید جوش و جذبہ کی لپیٹ میں تھا۔ تجارت بڑھ رہی تھی، سو ایسی سیاحتی مہمات ناگزیر تھیں۔ درحقیقت پرتگیزی کولمبس سے بہت پہلے ’’انڈیز‘‘ تک بحری راستوں کی کھوج میں معرکے مار چکے تھے۔ یہ ا مر قرین قیاس ہے کہ امریکہ کو جلد یا بدیر یورپی ملاح دریافت کرہی لیتے۔

یہ بھی ممکن ہے کہ اس میں زیادہ دیر نہ لگتی۔ لیکن اگر امریکہ 1492ء میں کولمبس کی بجائے مثال کے طورپر 1510ء میں کسی فرانسیسی یا انگریز مہماتی ملاحوں کے ہاتھوں دریافت ہوتا، تو اس کے بعد جو ترقی ہوئی ہے، اس کی نوعیت مختلف ہوتی۔ ہر دو صورتوں میں کولمبس ہی بہرطور وہ شخص ہے جس نے امریکہ کو دریافت کیا۔ شخصی اعتبار سے کولمبس کے اوصاف کچھ قابل ستائش نہیں تھے۔ وہ غیرمعمولی طورپر حریص تھا۔ کولمبس کو ازیبلا سے مالی معاونت کے حصول کے لیے دشواری اس لیے پیش آئی کیونکہ اس کی شرائط بہت کڑی تھیں۔ ہر چند کہ اسے آج کے اخلاقی معیارات پرناپنا درست نہ ہو گا، لیکن یہ سچ ہے کہ امریکہ کے مقامی باشندوں سے اس کا رویہ نہایت سفاکانہ تھا۔

ولیم ہارٹ

World

فیس بک کی حیران کن "ان دیکھی" دنیا ؟

فیس بک ڈیٹا جمع کرنے کے لحاظ سے دنیا کے بااثر ترین اداروں میں سے ایک ہے۔ لیکن بہت کم لوگوں  کو معلوم ہے کہ اس کمپنی کے اندر کیا ہوتا ہے اور یہ کام کیسے کرتی ہے؟ دو برس قبل سربیا کے شہر بلغراد کے ولادان جوئلر اور ان کے دوستوں نے فیس بک کے اندرونی مکینزم کا کھوج لگانے کا بیڑا اٹھایا۔ ان کی ٹیم میں ڈیٹا ایکسپرٹ شامل ہیں اور وہ پروجیکٹ ‘شیئر لیب’ کے تحت فیس بک کی پرتیں الٹنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں: ‘اگر فیس بک ملک ہوتی تو اس کی آبادی چین سے زیادہ ہوتی۔’

فیس بک کے پاس اپنے تقریباً دو ارب صارفین کا 300 پیٹا بائٹ (1 پیٹا بائیٹ = 1000 ٹیرابائیٹ) ڈیٹا محفوظ ہے اور صرف 2016 ہی میں اس کی آمدن 28 ارب ڈالر سے متجاوز تھی۔ تاہم جوئلر کہتے ہیں کہ ان تمام باتوں کے باوجود ہم نہیں جانتے کہ فیس بک کام کیسے کرتی ہے، حالانکہ ہم صارف ہی اسے مفت میں یہ تمام ڈیٹا فراہم کر رہے ہیں۔ ‘ہم سب جب کوئی چیز اپ لوڈ کرتے ہیں یا لوگوں کو ٹیگ کرتے ہیں یا کسی پوسٹ پر تبصرہ کرتے ہیں تو دراصل ہم فیس بک کے لیے کام کر رہے ہوتے ہیں۔’

ہمارے ان تعاملات (انٹریکشن) کو فیس بک کے پیچیدہ ایلگوردم استعمال کر کے فیس بک کو چلاتے ہیں۔ جوئلر کے مطابق ہمارے رویے اسے ایک پروڈکٹ کی شکل میں ڈھال دیتے ہیں۔ لیکن اس سارے تانے بانے کا سرا ڈھونڈنا آسان کام نہیں۔ جوئلر کے مطابق : ‘ہم نے تمام ان پُٹس کی نقشہ بندی کرنے کی کوشش کی۔ ہم نے لائیکس، شیئرز، تلاش، اپ ڈیٹ سٹیٹس، تصاویر، دوست، نام شامل کرنے کے نقشے اور فلو چارٹ بنائے۔ یہ دیکھا کہ ہماری استعمال کردہ ڈیوائسز سے سے ہمارے بارے میں کیا پتہ چلتا ہے، ہم فیس بک کو ایپس کے ذریعے کیا کیا اجازتیں دے رہے ہیں، مثلاً فون سٹیٹس، وائی فائی کنکشن اور آڈیو ریکارڈ کرنے کی اجازت۔’

یہ چیزیں تصویر کا صرف ایک چھوٹا سا رخ ہیں، اس لیے جوئلر کی ٹیم نے یہ بھی دیکھا کہ فیس بک نے اب تک کون سی کمپنیاں خرید رکھی ہیں اور اس کے پیٹنٹ کیا کہانی سناتے ہیں۔ نتائج حیران کن تھے۔ ہم جو ڈیٹا دیتے ہیں ان کی مدد سے فیس بک ہمارے جنسی رویے، سیاسی ترجیحات، سماجی رتبے، سفر کے شیڈیول اور بہت سی دوسری بہت سی چیزوں کے بارے میں معلومات اکٹھی کرتی ہے۔ فیس بک پر ہم جو لنک شیئر کرتے ہیں یا جن چیزوں کو لائیک کرتے ہیں، وہ صرف فیس بک تک محدود نہیں رہتے بلکہ ایک بہت بڑے ایلگوردم کا حصہ بن جاتے ہیں جن میں انسٹاگرام، وٹس ایپ، اور دوسری ایسی سائٹیں شامل ہیں جو فیس بک کا لاگ ان استعمال کرتی ہیں۔

اس سارے عمل کے ذریعے فیس بک اپنے صارفین کے بارے میں دہشت زدہ کر دینے والی درستگی سے معلومات حاصل کرتی ہیں، مثلاً کیا ہمیں چائینیز کھانے پسند ہیں، ہمارے بچوں کی عمریں کیا ہیں یا پھر ہمیں گھر سے دفتر پہنچنے میں کتنا وقت لگتا ہے۔ جوئلر کا ایک اور فلو چارٹ بتاتا ہے کہ ہم فیس بک کو نادانستگی میں اجازت دے دیتے ہیں کہ وہ ہمارے ٹیکسٹ میسج پڑھ سکے، ہماری اجازت کے بغیر فائلیں ڈاؤن لوڈ کرے اور یہ جان سکے کہ ہم اس وقت کہاں ہیں۔
ان تمام چیزوں کو استعمال کیا جاتا ہے۔ جوئلر کہتے ہیں: ‘اگر آپ کُکیز، موبائل فون پر دی گئی اجازتوں، یا پھر (تصاویر) میٹا ڈیٹا کے بارے میں سوچیں۔ ان میں سے ہر چیز انتہائی دخل اندازی کرنے والی ہے۔’

فیس بک کہتی چلی آئی ہے کہ اس کے لیے صارفین کی پرائیویسی مقدم ہے۔ تاہم جوئلر کہتے ہیں کہ اس کے طویل مدتی مضمرات زیادہ تشویش ناک ہیں۔ یہ سارا ڈیٹا ایک ہی کمپنی کی مٹھی میں رہتا ہے۔ اگر فرض کیا کہ آج فیس بک چلانے والے قابلِ اعتماد ہیں، لیکن 20 سال بعد کیا ہو گا؟ اس وقت کمپنی چلانے والے لوگ کیسے ہوں گے؟ ماہرین کہتے ہیں کہ شیئر لیب کا کام قابلِ قدر ہے۔ کورنیل ٹیک کی ڈاکٹر جولیا پاؤلز کہتی ہیں: ‘میں نے اب تک جو کام دیکھے ہیں یہ ان میں سب سے جامع ہے۔ اس تحقیق سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہم صرف اپنے دوستوں سے رابطہ رکھنے کی خواہش میں کیا کچھ دے رہے ہیں۔’

ڈاکٹر پاولز کے مطابق: ‘ہم نے ٹیکنالوجی کمپنیوں کا تاریخی موازنہ نہیں کیا۔’ وہ کہتی ہیں کہ ان کی طاقت ایسٹ انڈیا کمپنی یا پھر سٹینڈرڈ آئل کی اجارہ داری سے بھی ‘کہیں بڑھ کر ہے،’ اور فیس بک ہماری لوگوں میں مقبول ہونے کی نفسیات سے فائدہ اٹھا رہی ہے۔ پاولز وہ نہیں سمجھتیں کہ شیئر لیب کے تحقیق سامنے آنے کے بعد لوگ بڑی تعداد میں فیس بک چھوڑنا شروع کر دیں گے۔ تاہم جوئلر کے نقشے بھی فیس بک کی طاقت کی مکمل تصویر پیش کرنے سے قاصر ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اس بات کی کوئی ضمانت نہیں ہے کہ ان کے علاوہ بہت سے خفیہ ایلگوردم بھی کام نہ کر رہے ہوں۔ ان کے خیال میں ‘اس کے باوجود یہ ہماری دنیا کی صورت گری کرنے والی سب سے بڑی طاقتوں میں سے ایک ہے۔’

بشکریہ بی بی سی اردو

جو ملر
نمائندہ برائے ٹیکنالوجی بزنس

World

برہان وانی کے دوست سبزار احمد کی نماز جنازہ سات مرتبہ ادا کی گئی

حزب المجاہدین کے کمانڈر سبزراحمد بٹ کے جنازے میں لاکھوں افراد نے شرکت کی اور جنازہ سات مرتبہ ادا کیا گیا۔عینی شاہدین کے مطابق جنازے میں پاکستان وآزادی کے حق میں اور بھارت کے خلاف شدید نعرے بازی، شہید کو پاکستانی جھنڈے میں لپیٹا گیا۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے ساتھ جھڑپ میں شہید ہونے والے حزب المجاہدین کے کمانڈر اور برہان وانی شہید کے قریبی دوست سبزراحمد بٹ کا نماز جنازہ پلوامہ کے علاقے تڑال میں ادا کیا گیا۔ کٹھ پتلی حکومت کی طرف سے پابندیوں اوربھارتی قابض فوج کی بھاری تعداد میں موجودگی کے باوجود عوام نے بڑی تعداد میں جنازے میں شرکت کی۔

عینی شاہدین کے مطابق شہید کمانڈر سبزار بٹ کے جنازے میں رش کے باعث سات مرتبہ جنازہ ادا کیا گیا۔ نمازجنازہ میں لاکھوں افراد نے شرکت کی۔ شہید کے میت کو پاکستانی جھنڈے میں لپیٹا گیا تھا جبکہ جنازے میں پاکستان اورآزادی کے حق اور بھارت کے خلاف شدید نعرے بازی کی گئی سبزراحمد بٹ کو شہداء کے قبرستان میں دفن کر دیا گیا۔ حریت رہنما وں سید علی گیلانی اور میر واعظ عمر فاروق کو گھروں میں نظر بند کرنے کے بعد بھارتی پولیس نے یاسین ملک کو گرفتار کر لیا۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق یاسین ملک کو ان کی رہائش گاہ سے گرفتار کر کے سری نگر کی سینٹرل جیل منتقل کیا گیا ہے۔

World