Tags » Writer » Page 2

Whoever sees him work as a car-guardian in Tetouan Morocco, cannot believe that Mohammed El Failali speaks and writes in four languages, he whom with an open heart accepted this modest job in order to support his little family. 252 more words

Random

I May Not Look Like My Future Now

I listened to a song and was motivated. I believe one or two more people might need this for one or two more reasons.

And here it goes: 47 more words

Writing

Count On Me.

I log the hours, minutes,seconds to my soul

Counting, countless moments

All etched in vein , trampled by pulse after pulse after pulse

I can sleep a billion nights and still feel tired… 93 more words

Poetry

Solid

Jumping Jesus jail Japanese howdy terrific

Blown stickler front misuse travel contain

Abuse ameliorate stalking needlework ain’t

Talented cannibal freeze Capital leisurely

Antisocial quietly concubine stalwart solid

"Unpoetry"

i dream of love

if i were

to have

waited

for that one

i heard

spoken of

in dreams

one who was

could be

perfect

mine

i do not… 165 more words

Writer

اورمنّو بھائی بھی ہم سے رخصت ہوگئے

(تحریر:۔۔ابو رجاءحیدر)  
ممتاز شاعرو صحافی ، شہرہ آفاق کالم نگار،ڈرامہ نویس منو بھائی جن کا اصل نام منیر احمد قریشی تھا شدید علالت کے بعد85برس کی عمر میں انتقال کر گئے، وہ کچھ عرصہ سے گردوں اوردل کے عارضہ میں مبتلا تھے اورہسپتال میں زیر علاج تھے جہاں ان کے ڈائیلائسز بھی کئے جاتے رہے۔ مرحوم منو بھائی 6فروری 1933کو محلہ شیشیانوالہ وزیر آباد میں پیدا ہوئے،ابتدائی تعلیم مشن ہائی سکول موتی بازارسے حاصل کی ،منو بھائی کے والد محکمہ ریلو ے مےں ملازم تھے،اسلئے ان کاخاندا ن راولپنڈی منتقل ہو گےا۔±ان کے سب سے پہلے کالم کا لوگو ’ا±لٹ پٹانک‘ تھا، بعدا ز ا ں ’پنڈی نامہ‘ کے نام سے کالم لکھتے رہے پھر جب پنڈی سے ملتان منتقل ہوئے تو ’ملتان نامہ‘ کے نام سے لکھتے رہے۔ جولائی 1970ءکو جب مساوات اخبار شروع ہوا تو ا±س میں کالم لکھنا شروع کردیا۔ مساوات اخبار میں کالم کا عنوان ’گریبان‘ رکھا جو مرتے دم تک ا±ن کے ساتھ چلتا رہا۔ ا±س کالم کا عنوان انہوں نے ایک شعر سے متاثر ہوکر رکھا تھا۔
راستے بند کیے دیتے ہو دیوانوں کے
ڈھیر لگ جائینگے بستی میں گریبانوں کے
ان کا کالم ”گریبان“ علمی ادبی حلقوں کے علاوہ عوام مےں بھی بےحد مقبول تھا۔ منوبھائی نے پاکستان ٹیلی ویژن کےلئے بہت سے ڈرا مے لکھے، ان کا سب سے مشہور ڈرامہ سونا چاندی ہے جبکہ دیگر مقبول ڈارموں میں آشیانہ‘، ’دشت‘، ’گمشدہ‘، ’خوبصورت‘، ’دروازہ‘ اور ’میری سادگی دیکھ‘ شامل ہیں۔2007ءمیں انہیں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی سے بھی نوازا گیا۔منو بھائی نے اپنی صحافتی زندگی کا آغاز روزنامہ تعمیرراولپنڈی سے کےا،پھر روزنامہ امروز جوائن کےا اور وہاںکالم لکھتے رہے ،بعد ازاں1981مےں رو ز نامہ جنگ سے منسلک ہوگئے۔ مرحوم کی نماز جنازہ ان کی رہائشگاہ کے قریب واقع گراﺅنڈ میں اداکی گئی اور میامی کے قبرستان میں ہزاروں سوگ واروں کی موجودگی میں سپرد خاک کر دیا گیا۔
منیر احمد قریشی نام کے بچے کو عوامی خدمت کی تڑپ اور انسانوں سے محبت نے منو بھائی بنا دیا،وہ نوجوان نسل کو امید اور جستجو کا پیغام دے کر رہنمائی کیلئے کوشاں رہے ‘ خون کے عارضہ کے شکار بچوں کےلئے سندس فاﺅنڈیشن منو بھائی کا صدقہ جاریہ ہے۔ ان کی وفات بہت بڑا سماجی اور قومی نقصان اورہرد دل رکھنے والے حساس انسان کیلئے بہت بڑا صدمہ ہے۔ ادب اورصحافت کے شعبے میں ا ن کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھاجائے گا۔ منو بھائی علم و ادب کا بلند مینارتھے۔
منو بھائی فرماتے تھے
جو ت±وں چاہنا ایں، او نئیں ہونا
ہو نئیں جاندا کرنا پیندا
عشق سمندر ترنا پیندا
حق دی خاطر لڑنا پیندا
سکھ لئی دکھ وی جھلنا پیندا
جیون دے لئی مرنا پیندا
وطن عزیزایک ایسی اہم ہستی سے محروم ہو گیا ہے جو پاکیزہ سا یہ تھا ، منیر احمد قریشی منّو بھائی کیسے بنے؟ اِس کے پیچھے احمد ندیم قاسمی کی محبت شامل تھی،انہیں امروز اخبار میں احمد ندیم قاسمی صاحب نے بطور ذمہ دار لکھنے کی اجازت دی تھی۔ یہ وہ وقت تھا جب دنیا منّو بھائی کو منیر احمد کے نام ہی سے جانتی تھی، مگر منیر احمد کی دو چھوٹی بہنیں ا±نہیں منّو کہہ کر پکارتی تھیں اور یہ بات احمد ندیم قاسمی جانتے تھے اور ا±نہیں یہ نام پسند بھی آیا لہٰذا ا±نہوں نے تحریر کو م±نیر احمد کے بجائے منّو بھائی کے نام سے چھاپ دی۔ یہ نام عوام کو بھی پسند آیا اور ا±س دن کے بعد سے منیر احمد صرف منّو بھائی بن گئے۔
منّو بھائی نے جس بھی شعبے میں کام کیا ا±س میں اپنی تمام تر تخلیقی صلاحیتوں کے خوب جوہر دکھائے۔ وہ ایک سیلف میڈ آدمی تھے۔ وہ سب سے پہلے بطور پروف ریڈر بھرتی ہوئے، پھر رپورٹنگ کی، ا±س کے بعد نیوز ایڈیٹنگ کی اور پھر کالم بھی تحریر کیے۔ جب ڈرامہ نگاری کی باری آئی تو ا±ن کا کہیں ثانی نظر نہیں آیا۔یہی نہیں بلکہ انہوں نے پنجابی شاعری کے لیے جو کام کیا ا±سے پنجابی لٹریچر میں انتہائی اہمیت حاصل ہے۔ منّو بھائی کو فلسطین کے موضوع پر فلم لکھنے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے انہیں فلسطین پر فلم لکھنے کےلئے آمادہ کیا۔ ا±س فلم کی شوٹنگ لاہور کے ’فلیٹیز ہوٹل‘ میں بھی کی گئی، لیکن لبنان جنگ کی وجہ سے فلم مکمل نہیں ہوسکی۔
مرحوم مختصر اور جامع بات کرنے کے قائل، عوامی طاقت پر ایمان کی حد تک یقین رکھتے اور جمہوریت کے علمبردار تھے۔ وہ جو کہنا چاہتے تھے ڈنکے کی چوٹ پر کہتے تھے اور جو ایک مرتبہ کہہ دیتے تھے تو ا±س سے پیچھے نہیں ہٹتے تھے۔ ضیاءالحق کا دور ا±ن کی زندگی کا مشکل ترین دور تھا۔ جس میں آزادی رائے کی بندش نے ان کو سخت صحبتیں برداشت کرنے کا عادی کردیا تھا لیکن وہ حق اور سچ لکھنے اور کہنے سے باز نہیں آئے ۔
منّو بھائی ہمیشہ سفید پوش اور مستحق لوگوں کی مدد کرنے کےلئے پیش پیش رہتے اور انسانی خدمت کے اِسی جذبے نے ا±نہیں سندس فاونڈیشن کے نام سے ایک خیراتی ادارہ بنانے پر آمادہ کیا، جہاں تھیلیسیمیا، ہیمو فیلیا، لیکومیا کے مریضوں کا مفت علاج ہوتا ہے۔ یہ ادارہ صحت مند اور اسکرین کیے ہوئے خون کے 30 ہزار سے زیادہ یونٹس فراہم کرچکا ہے اور آج کل یہ روزانہ 35 یونٹس مہیا کررہا ہے جو گجرانوالہ کی ضرورت کا 50 فیصد ہے۔
منّو بھائی دوراندیش اور معاملہ فہم شخصیت تھے۔ آپ ا±ن کی مثبت سوچ اور دور اندیشی کا اندازہ اِس بات سے لگا لیں کہ منّو بھائی نے اپنی زند گی میں ہی تمام کتابیں اور لٹریچر گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کو یہ کہہ کر عطیہ کردیے تھے کہ ’میں چاہتا ہوں میرے مرنے کے بعد میرا دل آپ کے ہاتھوں میں دھڑکتا رہے اور میری آنکھیں ہمیشہ آپ کی آنکھوں میں چمکتی رہیں۔
منّو بھائی کی مشہورِ زمانہ کتاب ’جنگل اداس ہے‘ میں انہوں نے بڑی خوبصورتی سے دنیا سے رخصت ہونےوالی شخصیات کی زندگی کا احاطہ کیا ہے۔
منّو بھائی کو ایک دن دنیا سے جانا تھا، انہیں بھی ماضی کا قصہ بننا تھا، لیکن وہ مرنے کے بعد بھی زندہ رہنا چاہتے تھے۔ وہ پاکستانی عوام کی زبان اور آنکھیں بننا چاہتے تھے اور کمال دیکھیے کہ وہ اِس خواہش کی تکمیل میں بھی کامیاب ہوئے۔منّو بھائی جانتے تھے ا±ن کا جسم بھی مٹی کےساتھ مٹی ہوجائے گا لیکن انہوں نے اپنے پیچھے ہمارے لیے بیش قیمتی اثاثہ چھوڑا ہے، اور وہ ہے ان کی تحریریں، کیونکہ وہ سچ لکھتے تھے۔ وہ آنےوا لے وقتوں کو سامنے رکھ کر لکھتے تھے، جو دل میں آئے وہ لکھتے تھے۔ وہ جانتے تھے انسان مرجاتے ہیں مگر تحریریں زندہ رہتی اور مرنےوالوں کو زندہ رکھتی ہیں۔
اسی دن کیلئے انہوں نے اپنا قلم اٹھایا اور قرطاس پر اپنے جذبات یوں تحریر کئے
او وی خوب دیہاڑے سن
ب±ھک لگدی سی، منگ لیندے ساں
مل جاندا سی، کھا لیندے ساں
نئیں سی ملدا، تے رو پیندے ساں
اے وی خوب دیہاڑے نیں
ب±ھک لگدی اے منگ نئیں سکدے
ملدا اے تے کھا نئیں سکدے
نئیں ملدا تے رو نئیں سکدے
نہ روئیے تے سوں نئیں سکدے

Litrature

Random Thoughts While Walking, With Bonus Material

I’m grateful that I was born a writer. I can’t imagine being born any other way. Maybe a painter, but that seems rather hard. My tools are very simple- pen and paper- and I only must need (I like must need. 606 more words

Life