Tags » Yes Band » Page 2

Does It Really Happen to You? To Me? To Chris Squire?

Prawacana

Di bawah ini adalah tulisan saya (yang bisa jadi akan sangat panjang) tentang album band Yes berjudul Drama, lagu-lagu kesukaan saya di album itu, dan semacam obituari untuk Chris Squire yang baru saja meninggalkan kita semua. 1,365 more words

Rants

شام کی خانہ جنگی کیا اسد حکومت قائم رہ پائے گی؟...رابرٹ فسک


شام کی جنگ نے خطرناک شکل اختیار کر لی ہے۔ آُ دمشق سے جتنے دو

ر جائیں اس حکومت اتنی کمزور دکھائی دینے لگتی ہے۔ اگر آپ حکومت کے زیر کنٹرول وسیع علاقے میں جائیں ﴿میں نے حال ہی یں پہاڑوں، صحراؤں اور جنگی محاذوں پر 1100 میل کا سفر مکمل کیا ہے ﴾ تو آپ کو احساس ہوگا کہ جنگ جاری رہے گی۔ اور بہت دیر تک۔ اگرچہ بعض اوقات شامی فوج کے اسلحے اور نفری کی مقدار اسلامسٹ دشمنوں کے مقابلے میں کم پڑ جاتی ہے، لیکن پسپا ہوتی نظر نہیں آتی۔

لیکن یہاں کچھ سنگین حقائق کا تذکرہ ناگزیر ہے۔ داعش اور جبہتہ النصرہ کے جنگجو شامی فوج پر خودکش ٹرکوں کی قطاروں کے ذریعے حملہ آور ہوتے ہیں اور محاذ اس قدر پھیلا ہوا ہے کہ بالعموم سرکاری فوج کی تعداد قلیل ہونے کے باعث انکے سامنے ٹھہر نہیں سکتی۔ باغیوں کا اسلحہ اور دوسرا جنگی سازوسامان شامی فوج سے بہت بہتر ہے، انکا کمیونیکیشن سسٹم بھی جدید ترین امریکی آلات سے لیس ہے۔ انکے پاس بکتر بند گاڑیوں کو تباہ کرنے والے سیکڑوں TOW اور اینٹی ٹینک میزائل ہیں، وہ ایک ایک شامی ٹینک کو تباہ کرنےکے لیے تین سے چار راکٹ فائر کرتے ہیں، جن سے اسکا فائر کنٹرول سرکٹ اڑ جاتا ہے، نتیجتا گولہ بارود پھٹنے سے ٹینک اور اس میں موجود فوجی آن کی آن میں خاکستر ہو جاتے ہیں۔

صوبہ حمص میں تدمر کے علاقے میں فوج کا داعش کے 1800-2000 جنگجوؤں سے تصادم ہو گیا۔ فوج حملے جاری نہ رکھ پائی البتہ پسپا ہونے سے دو دن پہلے یہ داعش کی صفوں میں گھس گئی۔ وہاں انہیں بہت بڑی مقدار میں جنگی لباس ، جدید ترین باڈی آرمر، تھرمل میزائل روسی زبان میں نماز کی کتب، ہر فوجی کیلئے دس ہزار گولیاں جسے وہ ساتھ لے کر چل سکتا ہے اور چاکلیٹ بارز کے انبار ملک۔ لگتا ہے داعش کے جنگجو معدہ کے بل پر پیش قدمی کرتے ہیں۔

امریکی ماہرین اب قدرے ہچکچاہٹ سے شامی فوجی کی منظم پسپائی کی باتیں کرتے ہیں کہ وہ کس طرح علویوں کے پہاڑوں کی جاب کوچ کرے گی اور دمشق سے حمص کے راستے بحیرہ روم تک کا سفر کھلا رکھے گی۔

دوسری جانب شامی ماہرین جو واشنگٹن کے تھنک ٹینکس سے تعلق رکھنے والے آدمیوں کے مقابلے میں جنگ کے بہت قریب ہیں ، زیادہ توجہ سیاسی حکمت عملی پر دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ حکومت کو بڑے شہروں پر کنٹرول مضبوط کرنا چاہیے۔ حلب سے حماء اور حمس سے دمشق کی پٹی اسکے ہاتھوں سے کسی صورت نہ نکلنے پائے۔ اسکے علاوہ داعش یا النصرہ کو شام میں دارالحکومت قائم نہ کرنے دیا جائے۔ اس وقت داعش کا دارالحکومت رقہ ہے جو شہر کا نواحی علاقہ ہے۔

تدمر کی علامتی اہمیت ضرور ہے لیکن اسے بڑے شہر کا درجہ حاصل نہیں ۔ ہاں، حلب کو جو دمشق کے بعد شام کا دوسرا بڑا شہر ہے، ایک دارالحکومت کا نام دیا جاسکتا ہے۔ یقینا حلب بہت اہم شہر ہے اور اسکی اہمیت صرف اس وجہ سے نہیں جہ یہ ضرور شامی حکومت کے پاس رہنا چاہیے بلکہ یہ اس بنا پر زیادہ اہم ہے کہ یہ دشمنوں کے ہاتھوں میں نہیں جانا چاہیے۔ النصرہ کی سربراہی میں مختلف اسلامسٹ گروپوں پر مشتمل جو نیا لشکر فتح تشکیل دیا گیا ہے، شامی حکومت کے لیے وہ خطرناک ترین ہے۔ یہ گروپ خودکش بم حملوں کی طرح قتل و غارت کو بھی بہت اہم سمجھتا ہے۔

دمشق میں فوجی ذرائع نے بتایا کہ تدمر کے سقوط کے بعد 250 فوجی خاندانوں کو قتل کے لیے لیجایا گیا۔ حکومت کے حامیوں میں سب سے آخر میں شہر چھوڑنے والے ایک شخص نے مجھ اپنے ٹیلی فون سے اتاری ہوئی ایک تصویر دکھائی۔، اس میں ایک آرمی آفیسر کی ایک چھوٹی سی ہنستی مسکراتی بیٹی تھی۔ اسنے کہا: ہم جانتے ہیں اس کے باپ کا گلا کاٹ دیا گیا ہے، لیکن ہم یہ نہیں جانتے کہ اس بچی کے ساتھ کیا ہوا۔ ایک شامی افسر نے پچھلے ہفتے مجھ سے باتیں کرتے ہوئے کہا: میں اپنے سپاہیوں سے کہتا ہوں ٹھیک ہے، داعش والے آپ لوگوں کو مار سکتے ہیں، لیکن آپ بھی انہیں قتل کرنے کی طاقت رکھتے ہو۔

شام کے جنگی محاذوں پر ایرانی فوجیوں کی موجودگی تعجب خیز نہیں ہے۔ میری اسی مہینے ان سے ملاقات ہوئی۔ وہ دو دو اور تین کی ٹولیوں میں گھومتے ہیں۔ وہ لڑتے نہیں، سکھاتے ہیں۔ بلاشبہ وہ ان جنگی چالوں سے اچھی طرح واقف ہیں جو 1980ء کی دہائی میں صدام حسین کے اسلامی جمہوریہ پر حملے کے بعد آٹھ سالہ ایران عراق جنگ کے دوران ان کے آباء نے آزمائی تھیں۔ نہایت پڑھے لکھے۔ ان میں سے ایک محاذ جنگ پر مجھ سے بات کر رہا تھا کہ ایک دھماکہ ہوا۔ اس نے مسکراتے ہوئے رواں انگریزی میں کہا غلط جگہ غلط وقت پر اور زور سے قہقہ مارا۔

لیکن ایرانی شام میں صحیح وقت پر بشار الاسد کی مدد کو آئے۔ افغان شیعہ جنگجو بھی ۔ گزشتہ ہفتے ان میں سے کچھ کو میں نے دمشق کی مسجد امیہ میں دیکھا۔ ان میں سے کئی نے فوجی وردیاں پہنی ہوئی تھیں۔ شام کے 50 ہزار فوجی جانبحق ہو چکے ہیں انہیں افرادی قوت درکار ہے۔ لام بند فوج کو مسلسل لڑنا پڑ رہا ہے۔ اگر یہ فوج نہ رہی تو کوئی بھی دوسری فورس شام کو مجتمع نہیں رکھ پائے گی۔ یہ بات تعجب خیز نہیں کہ صدر بشار الاسد اپنی تقاریر میں شامی فوج اور ہزاروں شہداء کی بے حد تعریف کرتے ہیں۔

اس صورت حال کے تناظر میں ضروری ہو گیا کہ دمشق میں وزارت خارجہ کی یاترا کی جائے۔ گزشتہ ہفتے وہاں میری ملاقات ڈاکٹر فیصل مقداد سے ہوئی جو میڈیکل ڈاکٹر اور نائب وزیر خارجہ ہیں۔ میں نے ان سے پوچھا کہ وہ ایرانیوں اور حزب اللہ کے متعلق کیا محسوس کرتے ہیں؟ اور امریکی ماہرین کے اس اندازے میں کتنی صداقت ہے کہ وہ شام دمشق اور لطاکیہ پر گرفت مضبوط رکھتے ہوئے ساحل کی جانب منظم پسپائی پر غور کر رہا ہے؟ انکے ساتھ ملاقات ایسے تھی جیسے کوئی دندان ساز کے پاس جائے۔ آپ کے دانت میں شدید درد ہو رہا ہو لیکن علاج کے بعد سکون مل جاتا ہے۔ وہ کہتے ہیں: جو بھی ہماری مدد کرنا چاہے ہم اسکا خیر مقدم کریں گے۔

دوسرا فریق دہشت گرد ہے اور اب ہمارے پاک معتبر اطلاع ہے کہ فرانسیسی اور برطانوی یورپی یونین کے پاس جائیں گے اور کہیں گے کہ النصرہ فرنٹ ایک اعتدال پسند گروپ ہے۔ وہ النصرہ کو کھڑا کرنے کی کوشش کریں گے حالانکہ یہ القاعدہ ہی کا ایک حصہ ہے۔ ایک چھوٹے سے گاؤں کو کھونا بھی ہمارا بڑا نقصان ہے۔ شام کا ہر انچ ہمارے لیے اہم ہے، لیکن حلب شام کا دوسرا بڑا شہر ہے اور اسے کھونا بہت بڑا نقصان ہوگا، لیکن ہم اپنے اجلاسوں میں کبھی اس شک میں مبتلا نہیں ہوئے کہ ہم اس سے محروم ہو جائیں گے۔ ہماری تما تر رزویراتی منصوبہ بندی کا مرکز و محور حلب ہماری افواج اسکا ہر قیمت پر دفاع کریں گی۔

شامی کابینہ میں حلب کا موضوع بحث بننا اسکی سیاسی اور فوجی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔

ہماری تماتر تزویراتی منصوبہ بندی ایک ڈرامائی محاورہ ہے جو کوئی بھی شامی وزیر بول سکتا ہے۔ میں نے کچھ ماہ قبل حلب کے شمال میں خطرناک مین سپلائی روٹ پر سفر کیا۔ دونوں طرف فائرنگ ہو رہی تھی۔ جنوب کی طرف جانے والی ہائی وے پر کسی بھی وقت حملہ کیا جا سکتا ہے النصرہ کے جنگجو پہاڑوں پر چلنے والی موٹر بائیکس استعمال کرتے ہوئے رات کے وقت چیک پوسٹوں پر حملے کرتے رہتے ہیں۔ ڈاکٹر مقداد نے شکوہ کیا: چند ماہ قبل ترکی سعودی عرب اور قطر کی طرف سے داعش اور النصرہ کو مدد فراہم کرنے سے پہلے ہم ایک تاریخی معرکہ سر کرنے والے تھے۔ ترکی کی براہ راست مدد کے بغیر عدلیب پر قبضہ نہیں ہو سکتا تھا۔ ہزاروں ترک، چیچن اور دوسری فورسز لائی گئیں جنہوں نے عدلیب اور جسر الشغور پر حملہ کر دیا۔ جب ہم عدلیب کو بازیاب کرنے کی کوشش کر رہے تھے، جسر الشغور ہمارے ہاتھ سے نکل گیا۔ ہمیں فتح اور شکست دونوں کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ آخر یہ جنگ ہے۔

وزرا اس طرح کی باتیں کرتے رہتے ہیں۔ بشار الاسد بھی ایسی کئی باتیں کر چکے ہیں لیکن ڈاکٹر مقداد نے جو اس سے آگے کہا اسکی جہت مختلف تھی۔ انہوں نے کہا۔ ایک چیز واضح ہے کہ آرمی کو نئی طاقت پہنچائے بغیر اسے از سرنو منظم کیے بغیر اور سنٹرل کمانڈ کو اپنے تمام فیصلوں پر عملدرآمد کے قابل بنائے بغیر ہم وہ حاصل نہیں کر سکیں گے جس کی ہم منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ وہ فوج کے لیے ہتھیاروں کی بات کر رہے تھے۔ اسے فرسودہ ٹینک بدلنے کی ضرورت ہے۔ لیکن ڈاکٹر مقداد صرف امیدوں کی بات کر رہے تھے۔ انہوں نے جدید ہتھیاروں کے حصول کیلئے کسی کنٹریکٹ کے بارے میں کچھ نہیں کہا۔ لیکن ہماری گفتگو میں ایک بار پھر حلب درآیا۔ انہوں نے کہا : جب آپ تزویراتی اور انسانی المیوں کے حوالے سے ہمارے شہروں کے بارے میں بات کرتے ہیں تو میں آپ سے اتفاق کرتا ہوں۔ جی ہاں، عدلیب اہم ہے، دیر الزور اہم ہے، رقہ کی اہمیت سے بھی انکار نہیں، لیکن وہ حلب جتنے اہم نہیں۔ بڑے شہروں میں مضبوط موجودگی برقرار رہے گی تو چھوٹے شہر بھی واپس آجائیں گے۔ اس کے لیے فوجی اور سیاسی دونوں طاقتیں بروئے کار لانا ہوں گی۔ لیکن جو علاقے ہماری ترجیح میں سب سے اوپر ہیں۔ ہم اسکا ایک ملی میٹر بھی کھونا گوارا نہیں کریں گے۔ ہم پراعتماد ہیں کہ اس کا دفاع کریں گے۔

حکومت کے لیے کیا اہم ہے، ڈاکٹر مقداد نے کہا: شام قائم رہے گا یا نہیں۔ بشار الاسد اپنے آپ کو پہلے نمبر پر نہیں رکھتے۔ وہ شام کے لیے کام کریں گے۔ اہم ترین چیز شام کا قائم رہنا ہے۔ یقینا یہ اہم پہلو ہے۔ ملک کی اصلاح سیاسی عمل کے ذریعے ہونے چاہیے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ اس میں کیا کیا شامل ہے۔ اگر ایسا نہ کیا گیا تو شام کا وجود قائم نہیں رہے گا۔ مجھے یقین ہے کہ حالات دوسرے آپشن کا رخ اختیار نہیں کریں گے۔ اگر ایسا ہوا تو پھر اس خطے کے بہت سے ملک اپنا وجود کھو بیٹھیں گے۔

بشار الاسد جنگ شروع ہونے کے وقت سے ہی یہ انتباہ کر رہے ہیں لیکن میں نے شام میں اپنے گزشتہ دنوں کے سفر کے نوٹس پر نظر ڈالی تو مجھے کئی انفرادی کہانیاں ملیں۔ چیک پوسٹوں پر خودکش حملے، صرف تین سو گز کے فاصلے سے چلائے گئے میزائل جن کی زد میں آنے والے فوجیوں کا بچنا محال ہوتا ہے۔ داعش کے خودکش جنگجو، جو آخری دم تک لڑتے لڑتے اپنے آپ کو اڑا لیتے ہیں، شام کے ایم آئی 35 ہیلی کاپٹر جنکا اسلحہ ختم ہو جاتا ہے اور وہ اپنے ہدف کو نشانہ نہیں بنا پاتے۔ ایک شامی افسر نے مجھ سے کہا: داعش کے جنگجو آپ کے قریب آجائیں تو انہیں مارنے مین دیر نہ کریں ورنہ آپ کو لے مرے گا۔

شام سے جانے کے بعد اسکی تباہی کی تھیوریاں زیادہ تصوراتی لگنے لگتی ہیں۔ امریکیوں نے روسیوں سے اسد کو ماسکو جلا وطن کرنے کی ڈیل کر رکھی ہے۔ اگر جوہری معاہدہ کامیابی سے طے پا گیا تو ایرانی شام کی جنگ بند کرا دیں گے۔ ایرانیوں کو شامی فوج پر اعتماد نہیں ہے۔ سب سے غیر معمولی سازشی تھیوری یہ ہے کہ اعتدال پسند باغی داعش اور بشار الاسد دونوں کو تباہ کر دیں گے۔ جنگ میں کسی فریق کے بارے میں رومانوی تصور قائم نہیں کیا جا سکتا۔

اگر آپ شامی حکومت کی ترجیحات کی فہرست مرتب کرنا چاہیں تو انکا تعین آئندہ ہفتوں اور مہینوں میں کرنا آسان ہوگا۔ اس میں بعث پارٹی شامل نہیں ہوگی اور صدر اسد بھی نہیں۔ آسان جو اب شامی فوج ہے۔ نئی بندوقیں نئے ٹینک اور حلب۔

رابرٹ فسک

بہ شکریہ روزنامہ دنیا

Pakistan