گذشتہ دنوں بزرگوں کے عالمی دن کے موقعے پر امریکی جیل میں قید ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی اور وطن واپسی کے لیے کراچی پریس کلب پر عافیہ موومنٹ اور سول سوسائٹی نے مظاہرہ کیا۔ عافیہ کی علیل والدہ عصمت صدیقی کا پیغام سنایا گیا جب کہ شہر قائد میں عافیہ موومنٹ کے رضاکاروں نے86  روزہ رہائی بھوک ہڑتال کیمپ بھی قائم کیا ہے۔ عافیہ موومنٹ کے تحت پورے ملک میں مظاہرے ہوتے ہیں اور سیاسی رہنماؤں نے انھیں قوم کی بیٹی کہا ہے۔ عافیہ کی رہائی اور وطن واپسی کے لیے اپیلیں کی جاتی ہیں تاہم موومنٹ کی روح رواں ڈاکٹر عافیہ کی بہن ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کا کہنا ہے کہ ان کی واپسی میں کسی قسم کے خوف کو رکاوٹ نہیں بننا چاہیے۔

واضح رہے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو ایک امریکی عدالت نے 86 برس کی سزا سنائی ہے، دوران اسیری ان سے متعلق افسوسناک خبریں میڈیا کی زینت بنیں، بعض ماہرین قانون نے اسے انصاف کا قتل قرار دیا تھا۔ ڈاکٹر عافیہ کے خلاف مقدمہ کے حوالے  سے کئی امریکی اور یورپی صحافیوں نے خامہ فرسائی کی ہے جس میں برطانوی نو مسلم صحافی اور مصنف ایوان رڈلی نے غیر معمولی تجزیاتی رپورٹیں لکھیں، انھوں نے حال ہی میں اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ عافیہ کیس میں امریکا سے زیادہ پاکستان کا کردار اہم ہے، میری تحقیقات کے مطابق امریکی عافیہ کو پاکستان کی تحویل میں دینے پر راضی ہیں۔ ایوان رڈلی انسانی حقوق جیسی تنظیم Cage  Prisoners کی سربراہ ہیں، ان کا کہنا ہے کہ ایف بی آئی کی ڈرٹی فائلز اور اس کے گھناؤنے طریقہ کار کی عافیہ ستم رسیدہ ہیں۔ ان کی تنظیم نے پرزنرز ٹرانسفر پروگرام کے تحت عافیہ کو پاکستانی حکام کی تحویل میں دینے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

یاد رہے ایوان رڈلی وہ برطانوی صحافی تھیں جو افغان صورتحال کی کوریج کے دوران طالبان کی گرفت میں آئیں اور قید سے رہائی کے بعد  انھوں  نے اسلام قبول کیا اور اب وہ پوری زندگی اسلام کے لیے وقف کرچکی ہیں ۔ عافیہ صدیقی کے بارے میں ’’گارجین‘‘ نے بھی ڈیکلن والش کی رپورٹ ’’ مسٹری آف عافیہ صدیقی‘‘ کے عنوان سے 2009  میں چھاپی تھی ۔ اب آیندہ وقت بتائے گا کہ عافیہ کو کب حقیقی انصاف ملے گا۔

ایڈیٹوریل ایکسپریس نیوز